شعر و شاعر (اشعار اور خالق)

طارق شاہ

محفلین

چاہت میں ہمارا جِینا مرنا
آپ اپنی مِثال ہو گیا ہے

پہلے بھی مُصیبتیں کچھ آئیں
پر ، اب کے کمال ہو گیا ہے

میراجی
 

طارق شاہ

محفلین

کرچُکے سب اپنی اپنی حِکمتیں
دَم نِکلتا ہو، تو ہمدم کیا کریں


تُندخُو ہے کب سُنے وہ دِل کی بات !
اور بھی، برہم کو برہم کیا کریں

داؔغ دہلوی
 

طارق شاہ

محفلین

وقفِ فریاد بھی نہیں رہتا
دِل مگر شاد بھی نہیں رہتا

ایک وہ ہے، کہ بُھولتا ہی نہیں
اور کُچھ یاد بھی نہیں رہتا

باقؔر زیدی
 

طارق شاہ

محفلین

مُجھے یہ آسماں ہے سر چُھپانے کے لیے کافی
در و دِیوار ہیں میرے، نہ کوئی بام رکھتا ہُوں

یہ کارِ عاشقی بھی، آ پڑا ہے یُونہی رستے میں !
وگرنہ مَیں تو اپنے کام ہی سے کام رکھتا ہُوں

ظفؔر اقبال
 

طارق شاہ

محفلین

وہ دیکھتے ہیں تبسّؔم مِرے لبوں کی ہنسی
جو میرے دِل پہ گُزرتی ہے ، کوئی کیا جانے

صُوفی غُلام مُصطفٰی تبسّم
 

طارق شاہ

محفلین

بیٹھا تِرے خیال سے ہُوں انجُمن کئے
اے کاش پھر سے لوٹیں نہ تنہائیاں وہی

جاتی ہیں عادتیں کہیں پُختہ رہیں خلؔش!
چاہے نہ کب یہ دل، کہ ہو نادانیاں وہی

قوّت کہاں ہے دِل میں سہے پھر سے اب، خلؔش !
آئیں جو لوٹ کر مِری ناکامیاں وہی

شفیق خلؔش
 

طارق شاہ

محفلین

رات ہم نے بھی یُوں خوشی کر لی
دِل جَلا کر ہی روشنی کر لی

ہم نے اُن سے نظر مِلا کے مُشؔیر
کتنی بے چین ز ند گی کر لی

مُشؔیر کاظمی
 

طارق شاہ

محفلین

دِلِ وِیراں میں تابؔش! کیوں تمنّائیں بساتے ہو
بڑے ناداں ہو، صحرا بھی کوئی آباد کرتا ہے

تابؔش دہلوی

(مسعُود الحسن)
 
Top