زبانِ عذب البیانِ فارسی سے متعلق متفرقات

طالب سحر

محفلین
امیر خسرو دیباچہ غرۃ الکمال (تقریباً 1315ء) میں لکھتے ہیں:

اس سے قبل شاہان ِسخن میں سے کسی کے بھی تین دیوان نہیں تھے، بجز میرے کہ میں ممالکِ سخن کا خسرو ہوں- مسعود سعد سلمان کے بھی اگرچہ تین دیوان ہیں لیکن وہ تین زبانوں میں ہیں، عربی، فارسی اور ہندوئی- فارسی میں سوائے میرے کسی نے اپنے کلام کو تین دواوین میں تقسیم نہیں کیا، اس اعتبار سے اس فن میں بھی عادل تقسیم کرنے والا ہوں-

(ترجمہ: پروفیسر لطیف اللہ)
 

حسان خان

لائبریرین
افغان فارسی میں 'ماوراءالنہر' کے لیے 'پاردریا' کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے، یعنی '(آمو) دریا کے پار (کا علاقہ)'۔ ظاہراً یہ 'پار' اردو سے اخذ کردہ لفظ ہے، کیونکہ فارسی کا 'پار'، 'سالِ گذشتہ' کا معنی رکھتا ہے۔
ذہن میں رہے کہ ایرانی فارسی اور کہنہ ادبی فارسی کے اکثر موارد میں لفظِ 'دریا' کا معنی 'بحر' ہے۔ 'نہر' کے معنی میں یہ لفظ افغانستان اور ماوراءالنہر کی فارسی میں استعمال ہوتا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
تہرانی گفتاری فارسی سیکھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ایران کے عالی و برتر سینما تک رسائی ممکن ہو جا تی ہے۔ ابھی دو روز قبل ہی سالانہ کین فلم جشنوارے میں اصغر فرہادی کی فلم 'فروشندہ' نے بہترین فلم نامے اور بہترین مرد اداکار کے دو انعام حاصل کیے ہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
دیوبندی مکتبۂ فکر کے معروف عالمِ دین مولانا اشرف علی تھانوی نے مولوی رومی کی مثنویِ معنوی کی اردو میں 'کلیدِ مثنوی' کے نام سے شرح لکھی تھی جس کی ساری چوبیس جلدیں یہاں دستیاب ہیں۔ تمام محبانِ ادبیاتِ فارسی کو فارسی ادب کے ایک متفق فیہ شاہکار کی اِس تفسیر سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے اور اِس علمی و ادبی خدمت پر اِن فارسی دان و فارسی شناس عالم کو اپنی دعاہائے خیر میں یاد رکھنا چاہیے۔
فارسی کسی دیگر کی نہیں، ہماری اپنی زبان ہے اور فارسی ادب کسی دیگر کا نہیں، ہمارا اپنا ادب ہے۔
 
حزیں کی پوری غزل کا ترجمہ کرنے کی میں نے کوشش کی ہے۔ دیوان کی پہلی غزل ہے اس لیے حمدیہ ہے۔ کس حد تک درست ہے؟

بحر: مفعول مفاعلن فعولن

اے نامِ تو زینتِ زبانھا
حمدِ تو طرازِ داستانھا

اے (خدا) تیرا نام زبانوں کی زینت ہے اور تیری حمد داستانوں کو خوبصورت بنانے والی ہے۔

تا دام گشاد چینِ زلفت
افتاد خراب آشیانھا

جب تک کہ تیری چینِ زلف کا دام کھلے آشیانے خراب اور برباد ہو جاتے ہیں۔

در رقص بود بہ گردِ شمعت
فانوسِ خیالِ آسمانھا

آسمانوں کے فانوسِ خیال تیری شمع کے گرد رقص میں ہیں۔

بگشای نقاب تا بر آیند
از قالبِ جسم جانھا

نقاب کو کھول تا کہ جانیں جسم کے ڈھانچے سے باہر آجائیں۔

مقصد توئی از سلوکِ عالم
شوقِ تو دلیلِ کارونھا

سلوکِ عالم کا مقصد تو ہی ہے۔ تیرا شوق قافلوں کی دلیل ہے۔

در وصفِ کمالِ کبریایت
ابکم شدہ کلکِ نکتہ دانھا

تیری کبریائی کے کمالوں کے وصف بیان کرنے میں نکتہ دانوں کی کلکیں گونگی ہوئی ہیں۔

خاموش حزیں کہ بر نتابد
افسانہء عشق را زبانھا

حزیں خاموش ہو کہ زبانیں افسانہء عشق کی تاب نہیں رکھتیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
حزیں کی پوری غزل کا ترجمہ کرنے کی میں نے کوشش کی ہے۔ دیوان کی پہلی غزل ہے اس لیے حمدیہ ہے۔ کس حد تک درست ہے؟

بحر: مفعول مفاعلن فعولن

اے نامِ تو زینتِ زبانھا
حمدِ تو طرازِ داستانھا

اے (خدا) تیرا نام زبانوں کی زینت ہے اور تیری حمد داستانوں کو خوبصورت بنانے والی ہے۔

تا دام گشاد چینِ زلفت
افتاد خراب آشیانھا

جب تک کہ تیری چینِ زلف کا دام کھلے آشیانے خراب اور برباد ہو جاتے ہیں۔

در رقص بود بہ گردِ شمعت
فانوسِ خیالِ آسمانھا

آسمانوں کے فانوسِ خیال تیری شمع کے گرد رقص میں ہیں۔

بگشای نقاب تا بر آیند
از قالبِ جسم جانھا

نقاب کو کھول تا کہ جانیں جسم کے ڈھانچے سے باہر آجائیں۔

مقصد توئی از سلوکِ عالم
شوقِ تو دلیلِ کارونھا

سلوکِ عالم کا مقصد تو ہی ہے۔ تیرا شوق قافلوں کی دلیل ہے۔

در وصفِ کمالِ کبریایت
ابکم شدہ کلکِ نکتہ دانھا

تیری کبریائی کے کمالوں کے وصف بیان کرنے میں نکتہ دانوں کی کلکیں گونگی ہوئی ہیں۔

خاموش حزیں کہ بر نتابد
افسانہء عشق را زبانھا

حزیں خاموش ہو کہ زبانیں افسانہء عشق کی تاب نہیں رکھتیں۔
ریحان بھائی، اولاً تو آپ میری طرف سے تحسین و آفرین قبول کیجیے کہ اتنی کم عمری میں اور صرف چند مہینوں کی فارسی آموزی کے بعد آپ کی فارسی دانی کی سطح اِس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب آپ خود ہی غزلوں کا درست ترجمہ کرنے لگے ہیں۔ مجھے آپ کی فارسی میں پیش رفت سے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ آپ جیسے فارسی دوست و ادبیات شناس نوجوانوں کو دیکھ کر ادبی حلقوں میں فارسی ذوق کے دوام اور فارسی ثقافت کے احیا کی میری امید قوی ہو جاتی ہے۔
ماشاءاللہ! آپ کی فارسی دانی میں روز بروز اضافہ ہوتا رہے!
 

حسان خان

لائبریرین
تا دام گشاد چینِ زلفت
افتاد خراب آشیانھا

جب تک کہ تیری چینِ زلف کا دام کھلے آشیانے خراب اور برباد ہو جاتے ہیں۔
تصحیح: جیسے ہی تیری چینِ زلف نے دام کھولا آشیانے خراب اور برباد ہو گئے۔
'تا'، 'جیسے ہی'، 'جب' اور 'جب سے' وغیرہ کے معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
از قالبِ جسم جانھا
تصحیح: از قالبِ جسمِ تیرہ جان ہا
تصحیح: کاروان ہا
مقصد توئی از سلوکِ عالم
آپ نے اس مصرعے کا ترجمہ درست کیا ہے۔ لیکن یہ چیز ذہن میں رکھنی چاہیے کہ فارسی میں 'توئی' کا لفظی معنی'تم ہی ہو' نہیں، بلکہ 'تم ہو' ہوا کرتا ہے۔
یہ نکتہ صرف اطلاع کے لیے عرض کیا ہے، ورنہ ترجمے میں غلطی نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
آموختن
فارسی میں یہ فعل 'سیکھنا' اور 'سکھانا' دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ سیاق و سباق اور جملے کی ساخت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی جگہ پر اس فعل سے کون سا معنی مراد ہے۔
مثلاً:
او خوش‌نویسی را از پدرش آموخت۔
اُس نے خطاطی کو اپنے والد سے سیکھا۔
معلم به تو چه آموخت؟
معلم نے تمہیں کیا سکھایا؟

اگر کوئی ابہام سے بچنا چاہے تو اِس کی بجائے 'یاد گرفتن' (سیکھنا) اور 'یاد دادن' (سکھانا) جیسے افعالِ مرکب استعمال کر سکتا ہے۔

امّا 'آموزاندن' صرف سکھانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
عَذْب‌ُالبیان
اس ترکیب کا مفہوم 'شیریں بیان و خوش بیان' ہے۔
اگرچہ یہ ترکیب اردو میں بھی استعمال ہوئی ہے لیکن میں نے اولین بار اس کا استعمال پدرِ صحافتِ افغانستان علامہ محمود طرزی کی کتاب مجموعۂ اخلاق (۱۳۰۵ه/۱۸۸۸ء) میں دیکھا تھا:
"...لسان عذب‌البیان ترکی را آموختم و کتبی که به این لسان طبع و نشر گردیده مطالعه نمودم..."
ترجمہ: "۔۔۔۔میں نے زبانِ عذب البیانِ ترکی کو سیکھا اور جو کتب اِس زبان میں طبع و نشر ہوئی ہیں اُن کا مطالعہ کیا۔۔۔۔"
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ایک ۲۳ زبانیں جاننے والے امریکی سے جب ٹی وی مصاحبے میں پوچھا گیا کہ اُس کی پسندیدہ ترین زبان کون سی ہے تو اُس نے جواب دیا کہ فارسی اُس کی پسندیدہ ترین زبانوں میں سے ہے اور پھر اُس نے فارسی شاعری کے نمونے کے طور پر حافظ کا یہ شعر پڑھا:
زاهدِ خلوت‌نشین دوش به میخانه شد
از سرِ پيمان گذشت بر سرِ پيمانه شد
ویڈیو دیکھیے۔
 

حسان خان

لائبریرین
"ایرانی اور افغانی فارسی: یہاں رفقائے سفر میں سے پروفیسر ہادی اور سرور خاں گویا میں ایرانی اور افغانی فارسی کی باہمی فضیلت پر ایک دلچسپ گفتگو ہوئی پروفیسر صاحب ایرانی فارسی کے مداح تھے اور گویا اپنی مادری افغانی فارسی کے دیر تک مباحثہ رہا۔ گویا کا دعویٰ تھا کہ فارسی اصل میں ہماری زبان ہے ہم نے بخارا میں (سامانیوں کے عہد میں) اس کو پیدا کیا اور غزنین میں غزنوی شعرا کے ہاتھوں اس کو نشو و نما بخشا، رودکی سے لے کر غضائری، عسجدی، اسدی، دقیقی، فردوسی، عنصری، سلمان اور سنائی وغیرہ ہمارے تھے اور انہیں کی سخنورانہ کوششوں کا نام ادبیاتِ فارسی ہے پروفیسر صاحب متوسطین سعدی حافظ اور متاخرین کے نام پیش کرتے تھے۔
سرور خاں گویا نے ایرانیوں کی متکلمانہ زبان کا وہ خاکہ اُڑایا کہ ہم لوگ ہنستے ہنستے لوٹ گئے انہوں نے کہا ہم کو اگر آپ کا شکریہ ادا کرنا ہے تو صاف شکریہ اور سپاس ادا کریں گے، ایرانیوں کی طرح جھوٹی بناوٹ کے ساتھ بجانِ شما اور بسرِ شما اور قربانت شوم نہیں کہیں گے ایران اور افغانستان میں فارسی کا جو جدید لٹریچر پیدا ہوا ہے اس کی نسبت کہا کہ ہم نے ادبیاتِ جدّی اور سنجیدہ لٹریچر پیدا کیا ہے اور انہوں نے صرف تفریحی، ادبی، آخر میں لہجہ پر گفتگو آئی ایرانی اس لفظ کو جس کے آخر میں الف نون ہو واو نون پڑھتے ہیں مثلاً ہمان کو ہمون اور آن کو اون (نون کے اظہار کے ساتھ) سرور خان نے جل کر کہا "آقا! درست است دوکانِ شما ۔۔۔۔۔ است و زبانِ شما زبون" اس پر سب نے قہقہہ لگایا۔"
(سیرِ افغانستان، سید سلیمان ندوی)
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ایرانی اس لفظ کو جس کے آخر میں الف نون ہو واو نون پڑھتے ہیں مثلاً ہمان کو ہمون اور آن کو اون
ایرانی گفتاری فارسی میں صرف 'آن' کی آواز والے الفاظ ہی 'اُون' نہیں ہو جاتے بلکہ 'آم' کی آواز والے الفاظ بھی 'اُوم' میں مبدٌل ہو جاتے ہیں۔
ایک ایرانی نغمے سے مثال:
اگه یه روزی نُومِ تو تُو گوشِ من صدا کنه
دوباره باز غمت بیاد که منو مبتلا کنه
اگر کسی روز تمہارا نام میرے گوش میں صدا کرے

دوبارہ تمہارا غم آ جائے تاکہ مجھے مبتلا کرے
یہاں 'نُوم' در اصل 'نام' کی گفتاری شکل ہے۔۔
× اگه (age) = اگر
× یه (ye) = یک
× نُوم = نام
× تُو = در
× کنه (kone) = کند
× بِیاد = بیاید
× منو (mano) = من را، مرا


اِسی طرح 'آرام' اور 'تمام' بھی ایرانی گفتاری فارسی میں بالترتیب 'آرُوم' اور 'تمُوم' ہو جاتے ہیں وعلیٰ ہذا القیاس۔

یہ کہنے کی حاجت نہیں ہے کہ میں معیاری فارسی کے مقابلے میں گفتاری فارسیوں کو - چہ ایرانی، چہ افغان و چہ تاجک - کو پست و ہیچ سمجھتا ہوں اور تحریری سطح پر اِن کے رواج کا حامی بالکل نہیں ہوں، لیکن فارسی تفریحی ذرائعِ ابلاغ سے مستفید ہونے اور فارسی گو ممالک کی ثقافتوں اور روزمرہ زندگیوں سے مکمل طور پر آشنا ہونے کے لیے گفتاری فارسی زبانچے سیکھنا ضروری ہے۔ اور اگرچہ یہ چیز میرے شخصی ذوق کے خلاف ہے لیکن کئی جدید فارسی ناولوں اور نمائش ناموں وغیرہ میں بھی مکالموں کے لیے گفتاری زبانچوں کے عناصر استعمال ہوتے ہیں۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
السنۂ شرقیہ و اسلامیہ کے متبحر عالم اور مستشرق وِیلر تھیکسٹن نے اپنی کتاب 'کہنہ فارسی شاعری کے ہزار سال' کا آغاز اِن جملوں کے ساتھ کیا ہے:
"ایک ہزار سال تک کہنہ فارسی شعری روایت کی مسلسل اور بے توقف شکوفائی جاری رہی ہے۔ اِس کا آغاز وسطی ایشیا کے عظیم شہری مراکز بخارا اور سمرقند میں ہوا تھا؛ اور صدیوں تک کُل وسطی ایشیا، ایران، آذربائجان، عراق، اناطولیہ اور برِ صغیرِ ہند کے تمام شمالی حصے کی ثقافتِ عالیہ پر اِس کا غلبہ رہا۔ یہ زر سے لکھی گئی ہے؛ صرف ایک شعرِ برمحل پر شعراء کے دہن قیمتی جواہرات سے بھر دیے گئے ہیں؛ اور غیرمتمدنوں نے اپنی تمدن میں پیشرفت کو اپنی فارسی شاعری اقتباس کرنے کی صلاحیت سے ناپا ہے۔"

اِس کا آغاز وسطی ایشیا کے عظیم شہری مراکز بخارا اور سمرقند میں ہوا تھا
اِن دو شہروں کا نام زبان پر آتے ہی میرا دل عقیدت سے سرشار ہو جاتا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
سپیده
یہ لفظ بطورِ نام ایرانی خواتین میں بہت مقبول ہے اور مجھے بھی شخصاً یہ نام خوب لگتا ہے۔ اِس لفظ کا معنی 'افقِ مشرق پر طلوعِ آفتاب سے قبل ظاہر ہونے والی کم رنگ سفید روشنی' ہے اور یہ لفظ ادبیاتِ فارسی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

چو از کوهساران سپیده دمید
فروغِ ستاره ببُد ناپدید
(فردوسی طوسی)

جب کوہساروں سے سفیدۂ صبح پھوٹا تو ستاروں کا فروغ ناپدید ہو گیا۔

"دمیده در شبِ آخرزمان سپیدهٔ حشر"
(خاقانی شروانی)

شبِ آخر زمان میں صبحِ حشر کا سفیدہ ظاہر ہو گیا۔۔۔


"دیشب چراغِ دیدهٔ من تا سپیده سوخت"
(رهی معیّری)

کل شب میرا چراغِ دیدہ سفیدہ دم تک جلا۔۔۔

"پیش از سپیدهٔ بامداد بیدار می‌شد و در انتظار می‌نشست."
وہ سفیدۂ صبح سے قبل بیدار ہو جاتا تھا اور انتظار میں بیٹھ جاتا تھا۔

ویسے تو 'سپیدہ' بھی اردو لغت ناموں کا حصہ ہے، لیکن اردو میں اِسی لفظ کا گُونۂ دیگر 'سفیدہ' زیادہ استعمال ہوا ہے۔

ایرانی اِس لفظ کا تلفظ sepide کرتے ہیں، جبکہ افغانوں اور تاجکوں میں اِس لفظ کو sapeda پڑھا جاتا ہے۔ مجھے ایرانی تلفظ زیادہ پسند ہے۔ :)
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
"کہنہ فارسی کی ایک ممتازترین خصوصیت اُس کی قدامت پسندی و مُحافظہ کاری ہے، نہ صرف ادبی روایت کے لحاظ سے، بلکہ لسانی لحاظ سے بھی۔ صرف ایک اہم دستوری تبدیلی ('را' کا استعمال) کے ساتھ، شاعری کی زبان، حتیٰ ایک ہزار سال قبل کی، معاصر زندہ زبان سے اِس قدر نزدیک ہے کہ کوئی بھی تعلیم یافتہ فارسی گو شخص اُسے آسانی سے پڑھ اور سمجھ سکتا ہے۔ اِس کے برخلاف، رودکی کی ہم عصر انگریزی ہمارے لیے المانی اور ولندیزی زبانوں سے بھی زیادہ اجنبی ہے اور اُسے کسی بھی غیرملکی زبان کی طرح سیکھنا پڑتا ہے۔"
(کہنہ فارسی شاعری کے ہزار سال، وِیلر تھیکسٹن)


× مُحافظہ کاری = کنزرویٹزم
× المانی = جرمن

× ولندیزی = ڈچ
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
اردو میں عموماً صرف عاشق و معشوق ہی ایک دوسرے کو 'جان' کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ لیکن فارسی گو معاشروں میں دو قریبی دوست بھی اُنس و صمیمیت ظاہر کرنے کے لیے ایک دوسرے کے لیے اِس لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً اگر میں اپنے محترم دوست اریب آغا کو اریب جان کہہ کر پکاروں تو فارسی گو معاشروں میں یہ ایک بالکل عام بات سمجھی جائے گی۔
 

حسان خان

لائبریرین
فارسی کے دوست داروں کو واضح کرتے رہنا چاہیے کہ فارسی صرف شعر و شاعری یا سستے مشاعروں کی زبان نہیں ہے بلکہ عصرِ حاضر میں یہ زندگی کے ہر اُس شعبے میں رائج ہے جن شعبوں میں چینی، جاپانی، روسی اور عربی جیسی دیگر توانا و باعزت زبانیں رائج ہیں۔
 
Top