اردو محفل کی ترویج بذریعہ نثر

واقعی بہت گھمبیر مسئلے ہیں، پہلے تلاش کرو پھر پڑھو
چلو ایک کام ہم کر لیتے ہیں۔۔۔پڑھنے والا۔۔۔تلاش کرنے کا کام کوئی اور کر کے یہاں لنک دے دے۔
چنگے انصاری او جناب! اپنی مدد دوجیاں توں کراندے او، دوجیاں دی کیہ مدد کرو گے۔
 
خاص طور پر جناب ابن سعید کی توجہ چاہوں گا۔ آپ کی بات کے تسلسل میں میری کچھ گزارشات ہیں۔
اول: لکھاری اپنی نثری کاوش تنقید و تبصرہ کے لئے یا اصلاح کی غرض سے پیش کرے تو اس امر کا واضح طور پر اعلان کرے۔ یہ اعلان نہ ہو تو میرے جیسا شخص اصلاح یا تنقید کے لحاظ سے بات کرنے سے گریز کرتا ہے اور پسند آوری یا رسمی تعریف کر کے چپکا ہو جاتا ہے۔
دوم: اصلاح کے طالب لکھاری پر بھی لازم آتا ہے کہ اس کی کاوش پر جو بھی گفتگو ہو، اسے خندہ پیشانی سے قبول کرے۔ اصلاح دینے والے سے یہ مطالبہ نہ کرے کہ آپ نے ایسا کس بنا پر کہا وغیرہ۔ اصلاح چاہنے والا ایک بار ماتھے پر بل ڈالے گا تو اصلاح دینے والا اگلی بار اسے نظر انداز کر دے گا۔ یہ بھی فطری امر ہے۔
سوم: ایک شخص تین چار پانچ (ٹائپ کئے ہوئے) صفحات پوری باریکی سے پڑھتا ہے، اس پر تفصیلی گفتگو کرے تو اسے شاید دس صفحے ٹائپ کرنے پڑیں۔ میرے جیسا بوڑھا آدمی اتنی طویل مشقت سے کیوں کر گزرے گا، اس امر کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔
چہارم: شاعری کے ضمن میں بھی بعض معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ ایک شاعر کی دس بارہ پندرہ غزلوں پر مختلف نکات اور زاویوں سے تفصیلی بات ہوئی مگر اس کی اگلی آنے والی غزل میں پھر وہی یا ویسی ہی اغلاط بدستور موجود ہیں۔ ایسے میں اصلاح دینے والے کا بددل ہو جانا عین فطری عمل ہے۔
پنجم: لکھاری کو بھی چاہئے کہ کسی ایک فن پارے پر جو نکات اٹھائے گئے ہیں ان کو اسی ایک تک محدود نہ کرے، اپنے دیگر فن پاروں کو بھی ان مشوروں کے مطابق (اگر اسے قابلِ قبول ہیں، تو) اپنے طور پر نکھارنے سنوارنے کی خود سعی کرے۔
ششم: بالمشافہ گفتگو اور فاصلاتی گفتگو کا بنیادی فرق سب کو پتہ ہے، اس کو ملحوظ رکھا جائے۔
ہفتم: اپنے ایک مخصوص فن پارے سے ہٹ کر دیگر احباب کے فن پاروں پر جو گفتگو ہوئی ہو، اس میں بہت کچھ سیکھنے کو مل جاتا ہے۔ لکھاری کو چاہئے کہ ان سے بھی استفادہ کرے۔ قابلِ لحاظ بات ہے کہ سیکھنے والوں کے لئے یہی ایک فورم نہیں بہت سارے اور ذرائع بھی میسر ہیں۔ کتابیں دستیاب ہیں، انٹرنیٹ پر بھی، بازار میں بھی، لائبریریوں میں بھی اور دوست احباب کے پاس بھی۔ پڑھنے کی عادت ہو تو بہت سارے مسائل از خود حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ہشتم: مصطلِح اور مصلَح دونوں کو معلوم ہوتا ہے کہ نقائص کا ادراک، نشان دہی اور تدارک یہ سب اصلاح کے مرحلے ہیں۔ مصلح کے لئے نقاص جیسے الفاظ برتے جائیں گے تو اسے کیا پڑی ہے کہ وہ "گھروں گھر گواوے تے باہروں بھڑوا وی اکھواوے"۔
نہم: کوئی سیکھنے والا اپنی کوئی تحریر پیش ہی نہ کرے، تو سکھانے والا کیوں کر ذمہ دار ہوا؟ یہ بھی مناسب نہیں لگتا کہ گفتگو کے ایک دور کی تکمیل پر وہی چیز پھر پیش کر دی جائے کہ جی اب پھر دیکھیں۔ اور پھر وہی سلسلہ کہ جی وہ ہو گیا، یہ رہ گیا، فلاں کوشش میں فلاں نقص اور پیدا ہو گیا۔ اتنا وقت کون دے پائے گا، ممکن ہی نہیں، سب کو اپنی دال روٹی کا بھی کچھ کرنا ہوتا ہے۔
وغیرہ وغیرہ
 
محترمہ نور سعدیہ شیخ کا پہلا شکوہ تھا کہ جی مجھے توجہ نہیں ملی۔ حالانکہ ان کو اسی فورم پر بھرپور توجہ ملی ہے؛ میں نے کچھ لنک بھی پیش کئے تھے۔ ایسے شکووں کا حاصل حصول کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آپ سلسلہ شروع کیجئے اور جو سینئر لکھاری، ناقد، استاد (جو بھی نام اسے دے دیں) اصلاح کے عمل میں جتنا حصہ ڈال سکتا ہے مصطلِح اس پر توجہ دے اور جو باتیں اچھی لگ جاتی ہیں ان کو مستقل طور پر (اپنی ہر کاوش میں) اپنائے۔
 
اسی فورم پر وقتاً فوقتاً کچھ سوال نامے جاری کئے گئے، انٹر ویو لئے گئے، ان میں بہت کام کی باتیں ہوئیں اور ایسے امور پر بھی مفید اور راہ نما آراء ملیں جو کسی بھی ادب پارے (نظم، غزل، افسانہ، کہانی، مضمون) کو نکھارے میں ممد و معاون ہو سکتے ہیں۔ ان سلسلوں سے استفادہ کیا جائے تو یہاں اسی فورم پر بہت مواد میسر ہے۔ تلاش البتہ کرنا پڑے گا اور انہیں پڑھنا بھی پڑے گا، اور اچھی لگنے والی باتوں کو اپنانا بھی پڑے گا۔ اطلاق خود لکھاری کو کرنا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ خود تنقیدی کے عمل سے بھی گزرنا ہے۔ جب تک میں اپنے لکھے کو حرفِ آخر سمجھتا رہوں گا، کچھ بھی نہیں سیکھ پاؤں گا۔
 

نور وجدان

لائبریرین
محترمہ نور سعدیہ شیخ کا پہلا شکوہ تھا کہ جی مجھے توجہ نہیں ملی۔ حالانکہ ان کو اسی فورم پر بھرپور توجہ ملی ہے؛ میں نے کچھ لنک بھی پیش کئے تھے۔ ایسے شکووں کا حاصل حصول کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آپ سلسلہ شروع کیجئے اور جو سینئر لکھاری، ناقد، استاد (جو بھی نام اسے دے دیں) اصلاح کے عمل میں جتنا حصہ ڈال سکتا ہے مصطلِح اس پر توجہ دے اور جو باتیں اچھی لگ جاتی ہیں ان کو مستقل طور پر (اپنی ہر کاوش میں) اپنائے۔
آپ نے جب پہلے بات کی میں آپ کی بات سمجھ گئ تھی. یہ ایک تجویز تھی صرف. میری طرف سے غلطی کوتاہی جو بھی ہوئی اسکی معذرت چاہتی ہوں. گو کہ آپ کا ادب ہمیشہ دل سے کیا ہے۔۔اللہ تعالی آپ کے تخیلات کی بشمول آپ کے لمبی عمر دے اور آپ کی سخن آرائیاں کو جاوداں کر دے .اور کوئی الفاظ نہیں پاس میرے. اک خیال دل میں آیا تھا. میں آپ کو ٹیگ کر دوں گی جب بھی لکھا. آپ کا۔مشورہ معقول ہے واقعی ہی ڈھونڈنے والوں کو خدا مل جاتا ہے. دعاّوؤں کی طالب!
واسلام علیکم یا معلم!
 
آخری تدوین:

عبد الرحمن

لائبریرین
وعلیکم السلام!

آپ کی بات ٹھیک ہے نور! اصلاح ہونی چاہیے اور میرے خیال سے اصلاح ہوتی بھی ہے۔ محفل میں افسانوں اور دیگر ادبی تحریروں پر مشتمل بہت سے ایسے پرانے دھاگے ملیں گے جن میں اساتذہ کے فرمودات اور قیمتی تجاویز جگمگارہی رہیں۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ بعض اوقات ذاتی مصروفیات کی بنا پر طوالت پر مبنی تحاریر کو وہ توجہ حاصل نہیں ہو پاتی جس کی وہ محتاج ہوتی ہیں۔ یہ نشیب و فراز تو چلتا رہتا ہے۔ لیکن بحیثیت مجموعی اگر جائزہ لیا جائے تو کام چل رہا ہے رکا نہیں ہے۔

سال گزشتہ میں نثری نشست کے انعقاد پر جن خوش نصیب محفلین نے پہلے پہل اپنی تخلیقات پوسٹ کی تھیں وہ اصلاح کے دریا سے جی بھر کر سیراب ہوئے تھے۔ البتہ آخر میں آنے والے قلم کار وقت کی قلت کے باعث اس سلسلے سے مستفید نہیں ہوپائے تھے۔ تاہم اس مرتبہ کوشش ہوگی کہ اصلاح کا یہ سلسلہ حسبِ سہولت مستقل بنیادوں پر جاری رہے۔ویسے میری ذاتی رائے اس حوالے سے یہ ہے کہ اگر کسی لکھاری کی دو تین تحریروں کا بھی خوب اچھی طرح سے پوسٹ مارٹم ہوجاتا ہے تو وہ رہنما اصول اس کو اپنی ہر نئی تحریر میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ خیر یہ کوئی لگا بندھا اصول نہیں ہے۔ اس کے برخلاف بھی ممکن ہے۔ لیکن کم از کم میرا تجربہ یہی کہتا ہے۔

بہرحال بطور خلاصہ وہی بات مکرر عرض ہے کہ اصلاح کے عمل سے کسی کو بھی استثناء حاصل نہیں۔ خصوصا نو آموز اور مبتدی قلم کاروں کی اصلاح وقتا فوقتا ہوتی رہنی چاہیے۔

خوش رہیے! :)
 

خرم انصاری

محفلین
چنگے انصاری او جناب! اپنی مدد دوجیاں توں کراندے او، دوجیاں دی کیہ مدد کرو گے۔
سوچتا ہوں۔۔۔کیا کہوں اور کیا جواب دوں۔۔۔خلف الرشید ہونے کا دعویٰ کر کے پوری فورم کی مدد کا بارِ گراں نازک کندھوں پر اٹھا لوں یا۔۔۔یا۔۔۔ناخلف ہونے کا کہہ کر عہدہ برآ ہو بیٹھوں ۔۔۔یا۔۔۔ ان دونوں سے قطع نظر ۔۔۔جہت تبدیل کر کے یہ تمام بوجھ حضرت آسی صاحب دام ظلہ کے طاقت ور کندھوں پر ہی ڈال دوں۔۔۔سوچ رہا ہوں اور سوچ کی پنہائیوں میں کھو رہا ہوں۔۔۔سوچتے سوچتے۔۔۔سوچتے سوچتے۔۔۔اچانک۔۔۔سوچ کی رو پلٹتی ہے اور پاس ہی ایک کرن ۔۔۔مضبوط ومستحکم کرن۔۔۔دکھائی دیتی ہے۔۔۔یہ ایک آس ہے ۔۔۔آس۔۔۔جو آسی صاحب کے دامن سے لپٹی ہوئی ہے۔۔۔۔لیکن نہیں۔۔۔۔سوچ کی رو ایک بار پھر پلٹی۔۔۔کہیں آسی صاحب برا ہی نہ منا جائیں۔۔۔لیکن۔۔۔لیکن۔۔۔وہ برا کیوں منائیں گے۔۔۔۔سوچ رہا ہوں۔۔۔سوچ رہا ہوں۔۔۔اور سوچ کی پنہائیوں میں کھو رہا ہوں۔
 

خرم انصاری

محفلین
محترم یعقوب آسی صاحب سے سوالات:
  1. شعر کی طرح کیا نثر ماپنے کا بھی کچھ معیار مقرر ہے یا یہ محض ذووقِ سلیم پر منحصر ہے؟
  2. اچھی نثر کے لیے کیا کیا چیزیں ضروری ہیں؟
  3. افسانہ ناول وغیرہ نثر کتنی اقسام میں تقسیم کی جاتی ہے اور ان میں فرق کیا ہے؟
اس قسم کے اور بھی سوالات ہیں، ممکن ہے فورم پر پہلے کہیں ان کا بیان ہو چکا ہو اگر ایسا ہے تو محض خبردار کر دیجئے تلاش کر کے مطالعہ خود کر لوں گا نیز اس حوالے سے کوئی اچھی کتاب معلومات میں خزانے میں جمع ہوں تو محض پتا بتا دیجئے خزانہ میں خود لوٹ لوں گا۔
طبیعت میں قدرے مزاح کی رمق موجود ہے اس لیے سنجیدہ بات کرتے کرتے بھی کچھ مزاح در آتا ہے۔ امید ہے برا نہ منائیں گے۔
والسلام مع الاکرام
 
سوچتا ہوں۔۔۔کیا کہوں اور کیا جواب دوں۔۔۔خلف الرشید ہونے کا دعویٰ کر کے پوری فورم کی مدد کا بارِ گراں نازک کندھوں پر اٹھا لوں یا۔۔۔یا۔۔۔ناخلف ہونے کا کہہ کر عہدہ برآ ہو بیٹھوں ۔۔۔یا۔۔۔ ان دونوں سے قطع نظر ۔۔۔جہت تبدیل کر کے یہ تمام بوجھ حضرت آسی صاحب دام ظلہ کے طاقت ور کندھوں پر ہی ڈال دوں۔۔۔سوچ رہا ہوں اور سوچ کی پنہائیوں میں کھو رہا ہوں۔۔۔سوچتے سوچتے۔۔۔سوچتے سوچتے۔۔۔اچانک۔۔۔سوچ کی رو پلٹتی ہے اور پاس ہی ایک کرن ۔۔۔مضبوط ومستحکم کرن۔۔۔دکھائی دیتی ہے۔۔۔یہ ایک آس ہے ۔۔۔آس۔۔۔جو آسی صاحب کے دامن سے لپٹی ہوئی ہے۔۔۔۔لیکن نہیں۔۔۔۔سوچ کی رو ایک بار پھر پلٹی۔۔۔کہیں آسی صاحب برا ہی نہ منا جائیں۔۔۔لیکن۔۔۔لیکن۔۔۔وہ برا کیوں منائیں گے۔۔۔۔سوچ رہا ہوں۔۔۔سوچ رہا ہوں۔۔۔اور سوچ کی پنہائیوں میں کھو رہا ہوں۔

ارے واہ! آپ کے قلم میں تو بہت قوت اور روانی ہے! آپ سے بات کر کے لطف آئے گا۔ اور آپ کے جواہر سے مزید شناسائی بھی ہو گی۔ ان شاء اللہ۔
خوش و خرم رہئے۔
 
  • شعر کی طرح کیا نثر ماپنے کا بھی کچھ معیار مقرر ہے یا یہ محض ذووقِ سلیم پر منحصر ہے؟

ذوقِ سلیم تو بنیاد ہے، اس کے بغیر لکھنا (نظم ونثر) تو درکنار لکھے ہوئے کو پا لینا بھی مشکل ہے۔
رہی بات معیار کی! تو صاحب، جمالیات بجائے خود ایک معیار ہے۔ اور یہاں کوئی ایسا سائنسی فارمولا نہیں بنایا جا سکتا جو معیاری اور غیرمعیاری کا تعین یا اس کی شرح مقرر کر سکے۔ میرے اور آپ کے معاشرے کی عمومی معروف اقدار معیار ہیں؛ اس میں تاثیر بھی شامل کر لیجئے۔ "اپنا اپنا معیار" طے ہو گیا! اب یہ "اپنے اپنے" جتنے زیادہ لوگوں میں مقبول ہوں گے وہی عمومی معیار قرار پائے گا۔ اس میں کہاں کہاں کتنی لچک اور کتنی گنجائش ہے یا ہو سکتی ہے؛ یا اس کے کتنے ہزار انداز ہو سکتے ہیں؛ یہ وہی آپ کا کہا آپ کی طرف لوٹنے والی بات ہے۔

عناصر کی بات البتہ ہو سکتی ہے۔ سب سے پہلا عنصر زبان و بیان، املاء و تلفظ کا درست اور معتبر علم اور اس کا اطلاقی سطح پر واقع ہونا ہے۔ ادیب اس پر سمجھوتا نہیں کر سکتا۔ پھر نفسِ مضمون ہے، لکھنے کا مدعا اور مقصد ہے (بغیر مقصد کے تو کچھ بھی نہیں ہوتا)۔ پھر سلیقہ ہے، شائستگی ہے، شستگی ہے، محاورہ اور ضرب المثل ہے، تشبیہ و استعارہ، الفاظ کی نشست و برخاست، جملے کی چستی اور افادیت، معنی آفرینی ۔۔ ۔۔ ۔۔ کھلا آسمان ہے، اڑتے چلے جائیے۔ نثر میں بھی یہی ہے نظم میں بھی یہی ہے۔ نظم میں شاعر کچھ اضافی پابندیاں قبول کرتا ہے تو ان سے تعلق رکھنے والی فنیات (اوزان، قوافی، ردائف، ہئیت کا انتخاب وغیرہ) بھی اپنا عمل دخل تو رکھیں گی۔
 
  • اچھی نثر کے لیے کیا کیا چیزیں ضروری ہیں؟

سب سے پہلے تو فکر کا اچھا ہونا ضروری ہے۔ باقی امور جزوی طور پر اوپر بیان ہو چکے، مختصراً عرض کر دوں:
شائستگی اور شستگی نثر کو سجاتے ہیں۔ جملوں کو فطری انداز میں وارد ہونے دیجئے اور بعد میں ایک نظر دیکھ لیجئے کہ جملے کی غیرضروری طور پر طویل نہ ہوں (یہاں لفظ "غیرضروری" بہت اہمیت رکھتا ہے)۔ آپ کا اندازِ تحریر (لفظیات کا بہاؤ) آپ کے نفسِ مضمون کے مطابق ہونا چاہئے۔ بہت زیادہ پھیلاؤ سے گریز کیجئے۔ عربی کا یہ مشہور مقولہ کم و بیش ہر جگہ صادق آتا ہے: "خیر الکلام ما قلّ و دلّ"۔ اپنے مزعومہ موضوع کو منطقی طور پر اور فطری انداز میں مختلف حصوں میں بانٹ لیجئے اور ان پر ترتیب وار لکھتے چلے جائیے۔ آپ کی تحریر فطرت کے جتنی قریب ہو گی، اتنی ہی کشش رکھے گی۔ یاد رہے کہ نثر سننے سے کہیں زیادہ پڑھنے کی چیز ہوتی ہے، اور کشش کے بغیر پڑھا نہیں جاتا (کورس کی کتابوں کی بات اور ہے، کشش اگرچہ وہاں بھی ہوتی ہے کہ نمبر کتنے آتے ہیں)۔
یہ امر سامنے رکھئے کہ جو کچھ آپ نے لکھا ہے، کسی اور نے لکھا ہوتا اور آپ اس کو پڑھتے تو کیسا لگتا! میرے نزدیک مقصد اولین چیز ہے، وہ نہ ہو تو بس یوں ہی ہے سب کچھ۔ اپنے مقصد سے دور نہ جائیے، تاکہ تحریر کی اکائی قائم رہے۔ سب سے اہم بات! ادیب کو زبان و بیان اور دیگر لسانی عناصر میں غلطی کرنے کی اجازت نہیں۔ آپ کا زبان کا مطالعہ اور علم ہی آپ کا اعتبار ہے۔
 
  1. افسانہ ناول وغیرہ نثر کتنی اقسام میں تقسیم کی جاتی ہے اور ان میں فرق کیا ہے؟

آپ کا سوال خاصا نصابی نوعیت کا ہے۔ مجھے جن چیزوں میں دل چسپی رہی ہے ان کی فہرست بنا دیتا ہوں: افسانہ، کہانی، تلخیص، انشائیہ، فکاہیہ، لطائف (یاد رہے کہ لطیفہ ہنسنے کی چیز نہیں، لطافت والی بات ہے، جس میں کوئی لطیف معانی ہوں)، تنقید، تقریظ، لسانیات۔ ناول معروف صنف ہے، اگر میں ایک کہانی یا کتاب کے ساتھ پندرہ بیس دن نہیں رہ سکتا تو وہ بات ہی اور ہے۔ جدید دور کی ایک چیز کالم ہے۔
یہ ساری اقسام نفسِ مضمون سے زیادہ تعلق رکھتی ہیں بہ نسبت لسانی تنوع کے۔ زبان اور مضمون دونوں حوالوں سے ایک جداگانہ قسم صحافت ہے؛ وغیرہ وغیرہ۔
 
یہ ساری اقسام نفسِ مضمون سے زیادہ تعلق رکھتی ہیں بہ نسبت لسانی تنوع کے۔ زبان اور مضمون دونوں حوالوں سے ایک جداگانہ قسم صحافت ہے؛ وغیرہ وغیرہ۔

نثرنگار کی اپنی شخصیت، اس کی پسندیدہ لفظیات، اس کا بات سے بات نکالنے یا ملانے کا انداز؛ وغیرہ ۔۔ اس کے لئے آپ کو پڑھنا پڑے گا، کہ کون کیا ہے اور دوسروں سے کیوں کر نمایاں ہے۔ یہ ضرور ہے کہ نثر نگار اپنی علمی سطح کو چھپانا بھی چاہے تو چھپا نہیں سکتا۔
 

خرم انصاری

محفلین
ارے واہ! آپ کے قلم میں تو بہت قوت اور روانی ہے! آپ سے بات کر کے لطف آئے گا۔ اور آپ کے جواہر سے مزید شناسائی بھی ہو گی۔ ان شاء اللہ۔
خوش و خرم رہئے۔
ذرہ نوازی ہے حضور کی ورنہ "من آنم کہ من دانم"
آپ کے یہ الفاظ پڑھ کر یوں مسرت کا احساس ہوا جیسے کسی سزائے موت کے لائق مجرم کو امید کے برخلاف رہائی مل جائے ساتھ ہی ساتھ انعام واکرام سے بھی نوازا جائے۔ اللہ عزوجل آپ کو شاد وآباد فرمائے۔ آمین
 

خرم انصاری

محفلین
شائستگی اور شستگی نثر کو سجاتے ہیں۔ جملوں کو فطری انداز میں وارد ہونے دیجئے اور بعد میں ایک نظر دیکھ لیجئے کہ جملے کی غیرضروری طور پر طویل نہ ہوں (یہاں لفظ "غیرضروری" بہت اہمیت رکھتا ہے)۔ آپ کا اندازِ تحریر (لفظیات کا بہاؤ) آپ کے نفسِ مضمون کے مطابق ہونا چاہئے۔ بہت زیادہ پھیلاؤ سے گریز کیجئے۔ عربی کا یہ مشہور مقولہ کم و بیش ہر جگہ صادق آتا ہے: "خیر الکلام ما قلّ و دلّ"۔ اپنے مزعومہ موضوع کو منطقی طور پر اور فطری انداز میں مختلف حصوں میں بانٹ لیجئے اور ان پر ترتیب وار لکھتے چلے جائیے۔ آپ کی تحریر فطرت کے جتنی قریب ہو گی، اتنی ہی کشش رکھے گی۔
بہت خوب---الفاظ نہیں ہے تعریف کے لیے۔
افسانہ، کہانی، تلخیص، انشائیہ، فکاہیہ، لطائف
ان میں باہم فرق کہاں اور کس کتاب سے معلوم ہو سکتا ہے؟
کون کیا ہے اور دوسروں سے کیوں کر نمایاں ہے
بہت اہم اور لطیف نکتہ بیان فرمایا۔
 
Top