کینیڈا کے صوبے اور ریاستیں

قیصرانی

لائبریرین
خاموش انقلاب

ماوریس ڈپلیسز اور ان کی جماعت یونین نیشنل رومن کیتھولک چرچ کی حمایت سے 1944 سے 1960 تک برسر اقتدار رہے۔ پیئری ایلیوٹ تروڈیاؤ اور دیگر لبرل نے مل کر ایک چالاک حزب اختلاف بنائی تاکہ جین لیسیج کی زیر سربراہی خاموش انقلاب کے لئے راہ ہموار کی جا سکے۔خاموش انقلاب کا دور معاشرتی اور سیاسی تبدیلیوں کے حوالے سے ڈرامائی تھا۔ کیوبیک کی معیشت میں انگریزی اثر ، رومن کیتھولک چرچ کا اثر و رسوخ کم ہوا، پن بجلی کی کمپنیوں کو ہائیڈور کیوبیک کے تحت قومیایا گیا اور خود مختاری کی تحریک شروع ہوئی۔

فرنٹ ڈی لبریشن ڈو کیوبیک

1963 کے آغاز سے ایک دہشت گرد گروہ فرنٹ ڈی لبریشن ڈو کیوبیک کے نام سے مشہور ہوا۔ اس گروہ نے اپنی دس سالہ بم پھاڑنے، لوٹ مار اور حملوں کا آغاز کیا۔ ان حملوں کا براہ راست شکار برطانوی النسل افراد تھے۔ ان میں کم از کم پانچ افراد مارے گئے۔ 1970 میں یہ سرگرمیاں اپنے عروج کو پہنچیں جب انہوں نے ایک برطانوی ٹریڈ کمشنر کو ایک مقامی وزیر اور نائب پریمئر کے ہمراہ اغوا کر لیا۔ اس واقعے کو اکتوبر کا بحران کہتے ہیں۔ برطانوی تاجر کا نام جیمس کراس تھا۔ بعد ازاں مقامی وزیر پیئری لاپورٹے کو ان کے ہار کی مدد سے گلہ گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ تحریری طور پر اس دہشت گرد گروہ نے کہا کہ "بورسا، پریمئر کو آنے والے سال میں نئی حقیقتوں کا سامنا کرنا ہوگا یعنی ایک لاکھ انقلابی مسلح اور تربیت یافتہ اراکین"۔

پریمئر کی درخواست پر وزیر اعظم نے جنگی اقدامات کا ایکٹ نافذ کیا۔ مزید یہ کہ ایک فرد کو عوامی شکایات سننے اور ان کے ازالے کے لئے بھی متعین کیا گیا۔ کیوبیک کی حکومت نے کیوبیک کے اندر کسی بھی غیر قانونی گرفتاری کی صورت میں معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا۔ 3 فروری 1971 کو جان ٹرنر، کینیڈا کے وزیر دفاع نے بیان کیا کہ کینیڈا بھر سے 497 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں 435 رہا کر دیئے گئے ہیں۔ بقیہ 62 پر الزام عائد کئے گئے اور ان میں سے 32 افراد جو سنگین جرائم میں ملوث تھے، کی ضمانت لینے سے عدالت نے انکار کر دیا۔ چند ہفتے بعد یہ بحران اس وقت ختم ہوا جب پیئری لاپور کو اغوا کنندگان نے ہلاک کر دیا۔ اس بحران کے بعد اس دہشت گرد تنظیم کو اراکین اور عوامی مدد سے ہاتھ دھونے پڑے۔

پارٹی کیوبیکوئس اور آئینی بحران

1977 میں پارٹی کیوبیکوئس کی نئی منتخب کردہ حکومت کی طرف سے رینے لیوسکی نے فرانسیسی زبان کا چارٹر متعارف کرایا۔ اسے عرف عام میں بل 101 بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت کیوبیک کی حدود میں صرف فرانسیسی زبان کو سرکاری درجہ دیا گیا۔

1970 اور 1973 کے انتخابات میں لیوسکی اور ان کی جماعت کا انتخابی منشور کیوبیک کو کینیڈا سے آزاد کرانا تھا۔ تاہم جماعت کو دونوں ہی بار قومی اسمبلی میں اکثریت نہ مل سکی اور لیوسکی دونوں بار ہی ہار گئے۔ پہلے انتخابات سے دوسرے تک پارٹی کی حمایت 23 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد ہوگئی۔ 1976 کے عام انتخابات میں لیوسکی نے اپنی پالیسی کو تھوڑا سا نرم کیا اور کہا کہ وہ انتخاب جیتنے کی صورت میں صوبے کی براہ راست علیحدگی کی بجائے ایک ریفرنڈم کرائیں گے۔ اس کے تحت کیوبیک کینیڈا سے کافی امور میں آزادی حاصل کر لے گا تاہم چند امور جیسا کہ مشترکہ کرنسی وغیرہ ویسے ہی رہے گی۔ 15 نومبر 1976 کو لیوسکی اور پارٹی کیوبیکوئس نے پہلی بار صوبائی حکومت قائم کی۔ 1980 کے ریفرنڈم میں علیحدگی کی بابت سوال پیش کیا گیا۔ مہم کے دوران وزیر اعظم پیئری ٹراڈیو نے وعدہ کیا کہ ریفرنڈم کی مخالف میں دیا جانے والا ووٹ کینیڈا میں اصلاحات کا سبب بنے گا۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ برطانیہ کے آئین سے کینیڈا کے آئین کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ برٹش نارتھ امریکہ ایکٹ جو کہ موجودہ آئینی دستاویز ہے، میں کینیڈا کی پارلیمان کی درخواست پر برطانیہ کی پارلیمان ہی ترمیم لا سکتی ہے۔

ساٹھ فیصد لوگوں نے ریفرنڈم کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ انگریز نسل اور تارکین وطن لوگوں نے مخالفت میں جبکہ کیوبیک کے باسیوں نے حمایت اور مخالفت میں برابر ووٹ دیئے۔ عمر رسیدہ افراد زیادہ تر مخالفت اور نوجوان حمایت میں سرگرم رہے۔ ریفرنڈم میں ناکامی کے بعد پریمئر اوٹاوا چلے گئے تاکہ وفاقی وزیر انصاف اور دیگر نو پریمئروں کے ساتھ نئے آئین پر بات چیت میں حصہ لے سکیں۔ لیوسکی کا اصرار تھا کہ کیوبیک کو مستقبل میں ہونے والی کسی بھی آئینی ترمیم کو مسترد کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیئے۔ جلد ہی مذاکرات رک گئے۔

4 نومبر 1981 کی رات کو وفاقی وزیر انصاف نے لیوسکی کے سوا دیگر تمام پریمئروں سے اس دستاویز پر دستخط کرائے جو بعد میں کینیڈا کا آئین بنا۔ اگلی صبح انہوں نے یہ نوشتہ دیوار لیوسکی کے سامنے رکھا۔ تاہم لیوسکی نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا اور واپس کیوبیک چلے گئے۔ 1982 میں برطانوی پارلیمان نے اسے کیوبیک کے دستخط کی غیر موجودگی کے باوجود منظور کر لیا۔ کیوبیک نے ابھی تک اس پر دستخط نہیں کئے۔ کینیڈا کی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ آئین میں ترمیم کے لئے ہر صوبے کی اجازت درکار نہیں۔

اگلے چند سالوں میں کیوبیک سے آئین پر دستخط لینے کے لئے دو کوششیں ہوئین۔ پہلی کوشش میچ لیک اکارڈ تھی جو 1987 میں شروع ہوئی اور 1990 میں اسے ختم کر دیا گیا کیونکہ مینی ٹوبہ کے صوبہ نے اسے مقررہ وقت میں منظور نہیں کیا تھا۔ دوسری کوشش 1992 میں چارلیٹ ٹاؤن اکارڈ کے نام سے ہوئی جسے ساڑھے چھپن فیصد سے زائد کینیڈین اور ستاون فیصد کیوبیک کے لوگوں نے مسترد کیا۔

30 اکتوبر 1995 کو پارٹی کیوبیکوئس جو کہ دوبارہ 1994 میں اقتدار میں آئی تھی، نے دوسرا ریفرنڈم کرایا۔ اس بار پچاس اعشاریہ چھ فیصد نے مخالفت اور انچاس اعشاریہ چار فیصد نے حمایت میں ووٹ دیا۔ اس بار فرانسیسی بولنے والے کیوبیک کے افراد نے واضح طور پر علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا۔

ریفرنڈم پر بحث شروع ہوگئی۔ وفاق پسندوں نے شکایت کی کہ ریفرنڈم کی مخالفت میں پڑنے والے ووٹوں کی بہت بڑی تعداد یعنی گیارہ فیصد سے بھی زیادہ کو مسترد قرار دیا گیا جو کہ ایک سال پہلے کے انتخاب میں صرف ایک اعشاریہ سات فیصد تھی۔ یہ دھاندلی زیادہ تر یہودی اور یونانی اکثریتی آبادی میں ہوئی۔ تاہم چیف الیکٹرول آفیسر کو تحقیقات سے براہ راست کسی دھاندلی کا ثبوت نہیں ملا۔ صوبائی حکومت نے وفاق پر الزام لگایا کہ ریفرنڈم سے قبل وفاق نے بہت بڑی تعداد میں نئے مہاجرین کو کیوبیک بھیجا تاکہ وہ وہاں جا کر وفاق کے حق میں ووٹ دے سکیں۔ اسی طرح ریفرنڈم کے سلسلے میں ہونے والے اخراجات میں بھی وفاقی حکومت صوبائی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی تھی۔ دس سال بعد یہ اخراجات کے حوالے سے ایک بڑا مالیاتی سکینڈل بنا اور اس سے لبرل پارٹی کو بہت نقصان پہنچا۔ 1988 سے 1998 تک سالانہ طور پر اوسطاً 21733 افراد کیوبیک میں بھیجے جاتے تھے تاہم 1995 میں یہ تعداد 43850 افراد تھی۔

ریفرنڈم کی رات کو ہی ناراض پریمئر جو کہ علیحدگی کے حق میں تھے، نے اعلان کیا کہ ناکامی کی وجہ پیسہ اور لسانی ووٹ تھے۔ پہلے سے طے شدہ اعلان کے مطابق پریمئر کو مستعفی ہوا پڑا۔ لوشین بوچارڈ نئے پریمئر بنے۔

وفاق پرستوں نے الزام لگایا کہ ریفرنڈم میں پوچھا گیا سوال مبہم، بے معنی اور بہت طویل تھا۔ اس کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے:

"کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ کیوبیک کینیڈا کے ساتھ 12 جون 1995 میں ہونے والے معاہدے کے تحت نئی معاشی اور سیاسی شراکت کی پیش کش کے بعد خودمختار ہو جائے جو اس بل کی حدود میں ہوں جو کیوبیک کے مستقبل کے بارے تھا؟"

1998 میں اگلے انتخابات جیتنے کے بعد بوچارڈ نے سیاست سے 2001 میں علیحدگی اختیار کر لی۔ برنارڈ لانڈری کو پارٹی کیوبیکوئس کا رہنما اور کیوبیک کا پریمئر بنا دیا گیا۔2003 میں پارٹی انتخابات ہار گئی۔ 2005 میں لانڈری نے رہنما کا عہدہ چھوڑ دیا۔ نئے امیدواروں کی کثرت سے آندرے بوئسکلئیر کو چن لیا گیا۔ 2007 میں دوبارہ شکست سے آندرے بھی مستعفی ہو گئے۔ پارٹی کا اعلان ہے کہ اگر وہ دوبارہ حکومت میں آئے تو ایک اور ریفرنڈم کرائیں گے۔

کیوبیک بطور قوم

کینیڈا بھر میں کیوبیک کی ثقافت اور فرانسیسی رحجان کے باعث یہ بحث جاری رہتی ہے کہ کیوبیک کے لوگ جزوی یا مجموعی طور پر کیا ہیں؟ کئی بار کینیڈا کے آئین میں کیوبیک کو الگ معاشرہ کہنے کی ترامیم لانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں کیونکہ صوبے کا قانون، زبان اور ثقافت بقیہ ملک سے مختلف ہے۔ تاہم وفاقی حکومت نے بعد ازاں کیوبیک کو ایک بے نظیر معاشرہ تسلیم کیا۔ 30 اکتوبر 2003 میں کیوبیک کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر کہا کہ "کیوبیک ایک الگ قوم کی حیثیت رکھتی ہے"۔ 27 نومبر 2006 کو ہاؤس آف کامنز میں وزیر اعظم سٹیفن ہارپر نے اعلان کیا کہ "کیوبیک متحدہ کینیڈا میں ایک الگ قوم ہے"۔ تاہم اس بات پر پھر بحث چھڑ گئی ہے کہ اس سے کیا مراد تھی۔

اس وقت قوم پرستی کا صوبائی سیاست پر گہرا اثر ہے اور تینوں ہی بڑی صوبائی سیاسی جماعتیں کیوبیک کو زیادہ خود مختاری اور کیوبیک کے لوگوں کو بطور الگ قوم منوانے پر زور دیتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں کینیڈا کے دیگر حصوں کے ساتھ کیوبیک کے فرق کو ظاہر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس وقت صوبہ علیحدگی اور خودمختاری کے حق میں اور مخالفت میں یکساں بٹا ہوا ہے۔ جو افراد حق میں ہیں وہ یا تو مکمل علیحدگی اور خود مختار جمہوریہ بنانا چاہتے ہیں یا پھر ان کے خیال میں جیسے یورپی یونین کے رکن ممالک کی طرح وہ بہت معمولی طور پر وفاق سے جڑے ہوں گے۔ مخالفت کرنے والے کیوبیک کو کینیڈا کا صوبہ ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔

کیوبیک کے معاشرے کی اقدار اور بنیادیں

8 فروری 2007 کو کیوبیک کے پریمئر جین چارلسٹ نے اعلان کیا کہ کیوبیک کی معاشرتی اقدار کے حوالے سے وہ ایک کمیشن بنا رہے ہیں۔ ان کی تقریر کے تین اہم نقاط تھے:

*مرد اور عورت کی برابری
*فرانسیسی زبان کو ترجیح
*مذہب اور حکومت کو علیحدہ کرنا

مزید براں کیوبیک ایک آزاد اور جمہوری ریاست ہے جو قوانین کی پاسداری کرتی ہے۔

آبادی

2007 میں شرح پیدائش ایک اعشاریہ چھ پانچ ہونے کی وجہ سے کیوبیک کینیڈا کی شرح پیدائش سے تھوڑا سا زیادہ لیکن اوسط شرح پیدائش یعنی دو اعشاریہ ایک فیصد سے کافی کم ہے۔1960 سے قبل کیوبیک میں شرح پیدائش کسی بھی دیگر صنعتی معاشرے کی نسبت سب سے زیادہ تھی۔ اگرچہ کیوبیک میں کینیڈا کی کل آبادی کا تقریباً چوبیس فیصد حصہ رہتا ہے، یہاں دوسرے ممالک سے بچے گود لینے کی شرح کینیڈا بھر میں سب سے بلند ہے۔ 2001 میں کینیڈا میں گود لئے جانے والے بچوں میں سے 42 فیصد کیوبیک میں گود لئے گئے۔

لسانی گروہ

کینیڈین 60فیصد سے زائد، فرانسیسی تقریباً 29 فیصد، آئرش ساڑھے پانچ فیصد، اطالوی چار فیصد، انگریز تین اعشاریہ تین فیصد، شمالی امریکی انڈین تین فیصد، سکاٹش دو اعشاریہ سات فیصد، کویبیکوئس تقریبا دو فیصد، جرمن ایک اعشاریہ آٹھ فیصد، چینی ایک اعشاریہ دو فیصد، ہیٹی ایک اعشاریہ دو فیصد، ہسپانوی ایک فیصد، یہودی ایک فیصد جبکہ یونانی، پولش، لبنانی، پرتگالی، بیلجئن، ایسٹ انڈین، رومانین اور روسی، سب کی تعداد ایک ایک فیصد سے کم ہے۔ سروے میں وہ گروہ شامل ہیں جن کی تعداد کل آبادی کا کم از کم صفر اعشاریہ پانچ فیصد ہے۔

واضح اقلیتیں

کیوبیک میں اقلیتوں کی کل تعداد 654355 ہے جو کل آبادی کا آٹھ فیصد ہیں۔ ان میں سیاہ فام اڑھائی فیصد، عرب ڈیڑھ فیصد، لاطینی امریکی ایک اعشاریہ دو فیصد، چینی ایک اعشاریہ ایک فیصد، جنوبی ایشیائی ایک فیصد اور جنوب مشرقی چینی اعشاریہ سات فیصد ہیں۔نصف فیصد سے کم تعداد والی اقلیتوں کو نہیں ظاہر کیا گیا۔

مذہب

کیوبیک میں نو آبادیاتی دور سے لے کر اب تک رومن کیتھولک افراد کی واضح اکثریت رہی ہے۔

2001 کی مردم شماری میں تقریباً ساڑھے تراسی فیصد افراد کامذہب کیتھولک عیسائی، چار اعشاریہ سات فیصد پروٹسٹنٹ عیسائی، ایک اعشاریہ چار فیصد آرتھوڈکس عیسائی، اعشاریہ آٹھ فیصد دیگر عیسائی جبکہ ڈیڑھ فیصد مسلمان، ایک اعشاریہ تین فیصد یہودی، اعشاریہ چھ فیصد بدھ مت کے پیروکار، اعشاریہ تین فیصد ہندو اور اعشاریہ ایک فیصد سکھ ہیں۔پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد لادین ہیں۔

زبان

کیوبیک کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔ کیوبیک کینیڈا کا واحد صوبہ ہے جہاں آبادی کی اکثریت فرانسیسی بولتی ہے جو کل آبادی کا 79 فیصد ہے۔ 95 فیصد افراد فرانسیسی بول سکتے ہیں۔

کیوبیک کے قانون کے مطابق انگریزی کو سرکاری درجہ حاصل نہیں۔ تاہم انگریزی اور فرانسیسی کو آئین کے تحت قانونی درجہ حاصل ہے اور کوئی بھی منتخب رکن قومی اسمبلی اور کیوبیک کی عدالتوں میں انگریزی یا فرانسیسی میں سے کسی بھی زبان میں بات کر سکتا ہے۔قومی اسمبلی کا ریکارڈ ہمیشہ دونوں زبانوں میں رکھا جاتا ہے۔

2006 کی مردم شماری کے مطابق سات اعشاریہ سات فیصد افراد نے انگریزی کو مادری زبان قرار دیا۔ دس فیصد نے کہا کہ وہ گھر میں زیادہ تر انگریزی ہی بولتے ہیں جبکہ تقریباً تیرہ فیصد افراد نے انگریزی کو بطور سرکاری زبان استعمال کیا۔ انگریزی بولنے والے افراد کو ان کے علاقوں میں انصاف، صحت اور تعلیم انگریزی زبان میں ہی دی جاتی ہے۔ اسی طرح جہاں انگریزی بولنے والے افراد نصف سے زیادہ ہوں، ان میونسپلٹیوں میں انہیں انگریزی میں سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔

ایسے افراد جن کی مادری زبان نہ تو انگریزی ہے اور نہ فرانسیسی، کل آبادی کا تقریباً بارہ فیصد ہیں۔

صوبے میں چالیس فیصد سے زیادہ افراد فرانسیسی اور انگریزی جانتے ہیں۔ مانٹریال کے جزیرے میں یہ شرح ساٹھ فیصد ہے۔ کینیڈا کے دیگر حصوں میں یہ شرح محض دس فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔ پورے ملک میں مجموعی طور پر سترہ فیصد سے کچھ زیادہ افراد دونوں زبانیں جانتے ہیں۔

اشتہارات میں فرانسیسی کے علاوہ دیگر زبانیں اس وقت لکھی جا سکتی ہیں جب کہ فرانسیسی بہت واضح طور پر موجود ہو۔ تاہم اس اصول کی بنیاد پر کافی لے دے ہوتی رہتی ہے۔

مادری زبان

مادری زبان کے لئے ہونے والے 2006 کے سروے کے مطابق کل 7435905 افراد نے حصہ لیا۔ ان میں سے 7339495 افراد نے ایک مادری زبان چنی۔ نتیجہ کچھ ایسے رہاَ

فرانسیسی 80 فیصد سے زائد، انگریزی تقریباً آٹھ فیصد، اطالوی ایک اعشاریہ سات فیصد، ہسپانوی ڈیڑھ فیصد، عربی ڈیڑھ فیصد جبکہ چینی، کریول، یونانی ، پرتگالی، رومانین، ویت نامی، روسی، جرمن، پولش، آرمینین، فارسی، کری، پنجابی، تگالگ، تامل، اردو، بنگالی، انکتی تت، مونٹاگنیز نسکاپی، خمر، یڈیش، ہنگری، گجراتی، ترکی، یوکرائینی، اٹیکامکو، بلغارین، لاو، بربر، ہیبرو، کورین اور ولندیزی یعنی ڈچ زبانوں میں سے ہرزبان کے بولنے والے ایک فیصد سے کم افراد تھے۔

کئی دیگر زبانیں بھی موجود ہیں لیکن صرف ان زبانوں کو شمار کیا گیا ہے جن کے بولنے والے کم از کم تین ہزار یا اس سے زیادہ افراد ہوں۔

معیشت

سینٹ لارنس کے دریا کی وادی زرخیز زرعی علاقہ ہے جہاں ڈیری کی مصنوعات، پھل، سبزیاں، فوا گرا (زبردستی خوراک کھلا کر موٹی کی جانے والی بطخوں کی کلیجی)، میپل کا رس (کیوبیک دنیا میں سب سے زیادہ میپل کا رس پیدا کرتا ہے) اور مویشی بھی پالے جاتے ہیں۔ سینٹ لارنس دریا کے شمال میں کیوبیک کا حصہ زیادہ تر کونی فیرس جنگلات، جھیلوں اور دریاؤں سے پٹا پڑا ہے اور پلپ، کاغذ، لمبر اور پن بجلی ابھ یبھی صوبے کی اہم ترین صنعتیں ہیں۔

مانٹریال کے ارد گرد ہائی ٹیک صنعتیں موجود ہیں جن میں فضائی کمپنیاں جیسا کہ ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی بمبارڈئیر، جیٹ انجن کمپنی پراٹ اینڈ وٹنی، فلائٹ سمولیٹر سی اے ای اور ڈیفنس کنٹریکٹر لاک ہیڈ مارٹن، کینیڈا شامل ہیں۔ وڈیو گیم کمپنیاں جیسا کہ الیکٹرونک آرٹس اور اوبی سافٹ بھی مانٹریال میں سٹوڈیو رکھتی ہیں۔

حکومت

لیفٹینٹ گورنر ملکہ الزبتھ دوم کی طرف سے ریاست کے سربراہ کا کام کرتا ہے۔ حکومت کا سربراہ وزیر اعظم ہوتا ہے جو یک ایوانی قومی اسمبلی کی اکثریتی پارٹی سے ہوتا ہے۔ اسی اسمبلی کے اراکین سے وفاقی کابینہ اور وزراٗ چنے جاتے ہیں۔

1968 تک کیوبیک کی مقننہ دو ایوانی تھی یعنی قانون ساز کونسل اور قانون ساز اسمبلی۔ 1968 میں قانون ساز کونسل کو ختم کر دیا گیا اور قانون ساز اسمبلی کو قومی اسمبلی کا نام دے دیا گیا۔ قانون ساز کونسل کو ختم کرنے والا کیوبیک آخری صوبہ ہے۔

کیوبیک کی حکومت نے نیشنل آرڈر آف کیوبیک متعارف کرایا ہے۔ یہ آرڈر فرانسیسی لیجن آف آنر سے متائثر ہو کر بنایا گیا ہے اور یہ کیوبیک میں پیدا ہونے والے یا رہنے والے مرد و عورتوں کو ان کی بے مثال کارکردگی پر دیا جاتا ہے۔ اس میں ایسے افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں جو کیوبیک کے باشندے نہیں۔

انتظامی سب ڈویژن

کیوبیک میں علاقائی، سپرالوکل اور مقامی سطحوں پر سب ڈویژن موجود ہیں۔ مقامی لوگوں کے لئے مختص علاقوں کو چھوڑ کر دیگر علاقے یہ ہیں:

علاقائی سطح پر
• 17 انتظامی علاقے
سپرالوکل سطح پر
• 86 رینجل کاؤنٹی میونسپلٹیاں
• دو میٹرو پولیٹن کمیونٹیاں
مقامی سطح پر
• 1117 مختلف اقسام کی مقامی میونسپلٹیاں
• 11 اگلومیریشن جو ان مقامی 42 میونسپلٹیوں سے مل کر بنے ہیں
• 8 مقامی میونسپلٹیوں کے اندر 45 بروف

سرکاری علامات

1939 میں کیوبیک کی حکومت نے سیاسی تاریخ کے حساب سے اپنے سرکاری علامات کا اعلان کیا۔ فرانسیسی راج کو نیلے پس منظر پر سنہری للی، برطانوی راج کو سرخ پس منظر پر ببر شیر اور کینیڈین راج کو میپل کے پتوں اور ان کے نیچے کیوبیک کا مقولہ لکھا ہوا ہے۔

مقولہ

1883 میں پہلی بار کیوبیک کی پارلیمان کی عمارت پر یہ کھدایا گیا جس کا مطلب ہے "مجھے یاد ہے"۔ 1978 سے یہ سرکاری نشان کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔ اس سے قبل کا مقولہ تھا "خوبصورت صوبہ"۔ اس مقولے کو آج بھی اکثر سیاح صوبے کے عرف کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

جھنڈا

فرانسیسی بادشاہت کا پرانا نشان 1534 میں یہاں پہنچا۔ 1900 میں کیوبیک کو اپنا جھنڈا بنانے کی اجازت مل گئی۔ 1903 میں موجودہ جھنڈے کی ابتدائی شکل تیار ہوئی۔

فیٹ نیشنل

1977 میں پریمئر رینے لیوسکی نے اعلان کیا کہ 24 جون کو کیوبیک کی قومی تعطیل منائی جائے گی۔ اس سے قبل یہ دن کیوبیک کے پہلے سینٹوں میں سے ایک سینٹ جان دی بیپٹسٹ کے حوالے سے تعطیل کا دن تھا۔

انگریزی وکی پیڈیا سے اردو وکی پیڈیا کے لئے ترجمہ و تلخیص
 

قیصرانی

لائبریرین
ساسکچیوان

ساسکچیوان کا صوبہ کینیڈا کا ایک پریری صوبہ ہے جس کا کل رقبہ 588276 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی کل آبادی 1010146 افراد ہے جو زیادہ تر صوبے کے جنوبی نصف حصے میں آباد ہیں۔ ان میں سے 233923 صوبے کے سب سے بڑے شہر ساسکاٹون میں جبکہ 194971 افراد صوبائی دارلخلافہ ریگینا میں آباد ہیں۔ دوسرے بڑے شہر پرنس البرٹ، موز جا، یارک ٹاؤن، سوئفٹ کرنٹ اور نارتھ بیٹل فورڈ ہیں۔ صوبے کا نام ساسکچیوان دریا کے نام سے نکلا ہے جس کے معنی تیز بہنے والے دریا ہے۔

جغرافیہ

بہت زیادہ بلندی سے دیکھا جائے تو ساسکچیوان کا صوبہ ایک چوکور شکل کا دکھائی دیتا ہے تاہم ایسا ہے نہیں۔ اس کی سرحدیں دو جگہوں پر بالکل سیدھی نہیں بلکہ تھوڑی سی خم دار ہیں۔ ساسکچیوان کے مغرب میں البرٹا، شمال میں نارتھ ویسٹ ٹیریٹوری، مشرق میں مینی ٹوبہ اور جنوب میں امریکی ریاستیں مونٹانا اور نارتھ ڈکوٹا ہیں۔ ساسکچیوان کینیڈا کا وہ واحد صوبہ ہے جس کی سرحدیں کسی طبعی خد و خال سے نہیں بنتیں۔ چاروں طرف سے خشکی سے گھرے کینیڈا کے دوصوبوں میں البرٹا اور ساسکچیوان شامل ہیں۔

یہاں دو بڑے قدرتی علاقے ہیں۔ کینیڈین شیلڈ شمال میں اور جنوب میں انٹیرئر پلینز۔ شمالی ساسکچیوان زیادہ تر بوریل جنگلات سے بھرا ہوا ہے تاہم جھیل اتھابسکا کے تیل کے میدان خالی ہیں۔ 58 درجے شمال سے اوپر دنیا کی سب سے بڑی متحرک ریتلی پہاڑیاں بھی یہاں موجود ہیں۔ جنوبی ساسکچیوان میں گرینڈ سینڈ ہلز موجود ہیں جو تین سو مربع کلومیٹر پر مشتمل ہیں۔سائپرس ہلز جو جنوب مغربی کونے میں واقع ہیں اور کل ڈئیر بیڈ لینڈز صوبے کے وہ علاقے ہیں جو پچھلے برفانی دور میں گلیشئر نہیں بن سکے تھے۔ صوبے کا سب سے بلند مقام 1468 میٹر بلند اور سائپرس ہلز میں ہے۔ صوبے میں جھیل اتھابسکا کا کنارہ 213 میٹر اور نشیبی ترین علاقہ ہے۔ صوبے میں چودہ بڑے پانی کی نکاسی کے نظام ہیں جو مختلف دریاؤں اور آبی ذخیروں سے مل کر بنے ہیں۔ یہ آرکٹک سمندر، ہڈسن بے اور خلیج میکسیکو میں گرتے ہیں۔

موسم

چونکہ ساسکچیوان کسی بڑے آبی ذخیرے سے دور ہے اس لئے یہاں جنوبی اور جنوب مغربی حصوں میں نسبتاً نم اور کم گرم موسم گرما ہوتا ہے۔ صوبے کے شمالی حصے لا رونگے سے شمال کی طرف سب آرکٹک موسم رکھتے ہیں۔ سردیاں بہت گرم بھی ہو سکتی ہیں جب کہ درجہ حرارت 32 ڈگری تک پہنچ جائے۔ ہوا میں نمی کا تناسب شمال مغرب سے جنوب مشرق کی طرف کم ہوتا جاتا ہے۔ گرم جنوبی ہوائیں امریکہ سے چلتی ہیں اور یہ جولائی اور اگست کے مہینوں میں ادھر پہنچتی ہیں۔ یہاں سردیاں ٹھٹھرا دینے والی ہوتیہ یں اور درجہ حرارت منفی 17 ڈگری یا اس سے بھی کم کئی ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔ اکثر چینیوک ہوائیں مغرب سے چلتی ہیں اور موسم کو کم شدید بنا دیتی ہیں۔ سالانہ بارش کی مقدار 30 سے 45 سم یعنی 12 سے 18 انچ تک ہوتی ہے اور زیادہ تر بارش جون، جولائی اوراگست میں ہوتی ہے۔

تاریخ

یورپیوں کی آمد سے قبل یہاں بہت سارے مقامی قبائل آباد تھے جن میں اتھابسکا، الگونکوئن، اسٹینا، کری، سالٹیاکس اور سیوکس شامل ہیں۔ پہلے یورپی جو اس علاقے میں آئے ہنری کیلسے تھے جو 1690 میں ساسکچیوان دریا کے کنارے کنارے سفر کرتے ہوئے یہاں اس امید سے آئے کہ یہاں کے مقامیوں سے کھالوں کی تجارت شروع کی جا سکے۔ پہلی یورپین آبادی یہاں 1774 میں ہڈسن بے کمپنی کی تھی جو کمبرلینڈ ہاؤس میں سیموئل ہارنے کی زیر قیادت ہوئی۔

1850 کے اواخر اور 1860 کے اوائل میں یہاں کئی سائنسی مہمیں جان پالیسر اور ہنری یول ہنڈ کی زیر قیادت یہاں صوبے کے پریری علاقوں کو چھاننے آئیں۔

1870 میں کینیڈا کی حکومت نے نارتھ ویسٹ ٹیریٹوری بنائی تاکہ برٹش کولمبیا اور مینی ٹوبہ کے درمیان موجود وسیع زمین کی دیکھ بھال کی جاسکے۔ علاقے میں موجود لوگوں کے ساتھ حکومت نے کئی معاہدے کئے۔

1885 میں الحاق کے بعد کنیڈا کی پہلی بحری جنگ ساسکچیوان میں لڑی گئی جب میٹس کے علاقے میں ایک دخانی جہاز شمالی امریکہ کی بغاوت کی جنگ میں شریک ہوا۔

علاقے کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ وہ ہوا جب 1874 میں وفاقی حکومت نے گھڑ سوار پولیس کو مغرب کی جانب مارچ کرنے کا حکم دیا۔ بیکار اسلحے اور کم خوراک کے باوجود پولیس اپنی منزل مقصود تک پہنچی اور یہاں حکومت کی موجودگی کو یقنی بنایا۔ تاریخ داں اس مہم کو ناکام بتاتے ہیں کیونکہ اگر یہ مہم ناکام رہتی تو امریکہ کو اپنے توسیع پسند عزائم کی وجہ سے اس علاقے میں قبضہ کرنا آسان لگتا۔ اگر ایسا نہ بھی ہوتا تو بھی کینیڈین پیسیفک ریلوے کی تعمیر چند دہائیوں کے لئے لازماً ملتوی ہو جاتی یا پھر اس کے لئے زیادہ شمال سے راستہ تلاش کرنا پڑتا۔ اس طرح برانڈن، ریگینا، میڈیسن ہٹ اور کیلگری کی ترقی رک جاتی یا پھر یہ شہر کبھی آباد بھی نہ ہو پاتے۔ اس ریلوے کی تعمیر میں ناکامی کے سبب برٹش کولمبیا امریکہ سے الحاق کر لیتا۔

کینیڈین پیسیفیک ریلوے کی تعمیر کے ساتھ ہی یہاں آبادکاری کا سیلاب آ گیا۔ یہ ریلوے 1880 میں تعمیر ہوئی اور کینیڈا کی حکومت نے اسے ڈومینن لینڈ سروے کی مدد سے زمین کے ٹکڑے ٹکڑے کئے اور اسے خواہش مند آباد کاروں میں مفت تقسیم کرنا شروع کر دیا۔

نارتھ ویسٹ گھڑ سوار پولیس نے ساسکچیوان میں کئی چوکیاں اور قلعے تعمیر کئے جن میں سائپرس ہلز میں موجود فورٹ والش اور وڈ ماؤنٹین پوسٹ جو کہ جنوب وسطی علاقے میں امریکی سرحد کے نزدیک تھی، شامل ہیں۔

1876 میں لٹل بگ ہوم کی جنگ میں جو لکوٹا کے سردار سٹنگ بل نے کئی ہزار افراد کو وڈ ماؤنٹین پھر بھیج دیا۔ وڈ ماؤنٹین ریزرو 1914 میں قائم ہوا۔بہت سارے میٹس لوگ جو معاہدے میں شامل نہیں ہوئے، ساؤتھ برانچ سیٹلمنٹ اور پرنس البرٹ چلے گئے جو آج کے ساسکاٹون کے شمال میں ہے۔ 1880 کے اوائل میں کینیڈا کی حکومت میٹس لوگوں کی پریشانی کو نہ سمجھ سکی جو زمینوں کے استعمال پر پریشان تھے۔ آخر کار میٹس لوگوں نے 1885 میں لوئس ریل کی زیر قیادت نارتھ ویسٹ بغاوت کر دی اور اپنی صوبائی حکومت کا اعلان کر دیا۔ انہیں کینیڈا کی ملیشیا نے شکست دی جو نئی کینیڈا پیسیفک ریلوے کی مدد سے ادھر لائے گئے تھے۔ ریل نے ہتھیار ڈال دیئے اور اسے بغاوت کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔ اسے 16 نومبر 1885 کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

ریلوے کی وجہ سے جوں جوں مزید آباد کار آتے گئے، آبادی بڑھتی گئی اور ساسکچیوان کو یکم ستمبر 1905 میں صوبے کا درجہ دے دیا گیا۔ اس کی رسم افتتاح 4 ستمبر کو ہوئی۔

ہوم سٹیڈ ایکٹ کے تحت ہر آباد کار کو چوتھائی مربع میل کی زمین دی گئی ۔ اگر وہ اس پر آباد ہوتے تو انہیں مزید چوتھائی مربع میل زمین مویشیوں کے باڑے کے لئے دے دی جاتی۔ 1910میں امیگریشن اپنے عروج پر تھی اور دیہاتی زندگی، شہروں سے دوری، کچے گھروں، کمر توڑ محنت کے باوجود یہاں ایک خوشحال معاشرہ وجود میں آ گیا۔

1913 میں ساسکچیوان سٹاک گروورز ایسوسی ایشن قائم ہوئی۔ 1913 میں قیام کے وقت تین اہم مقاصد بیان کئے گئے جو کہ کچھ ایسے ہیں۔ اول، مویشی پالنے والوں کے مفادات کو ہر ممکنہ طور پر باعزت اور قانونی طریقے سے پیش کیا جائے اور پارلیمان کو تجاویز دی جائیں تاکہ وہ بدلتی ہوئی صورتحال اور ضروریات کے مطابق قوانین بنا سکیں۔کاشت کاری کے حوالے سے ساسکچیوان گرین گروؤرز ایسوسی ایشن تھی جو 1920 کی دہائی تک اہم سیاسی قوت رہی۔ اس کے قریبی تعلقات حکومتی لبرل پارٹی سے رہے۔

1970 میں کینیڈین ویسٹرن کی پہلی ایگریبین ریگینا میں منعقد ہوئی۔یہ فارم انڈسٹری شو جس میں جانوروں پر زیادہ زور دیا گیا تھا، شمالی امریکہ کی پہلی پانچ مویشیوں کی نمائشوں میں سے ایک ہے۔ دوسری چار ہوسٹس، ڈینوور، لوئزولے اور ٹورنٹو میں ہوئی تھیں۔

آبادی

2006 کی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کا سب سے بڑا لسانی گروہ جرمن ہیں جو کل آبادی کا تیس فیصد ہیں۔ ان کے بعد انگریز 26 فیصد سے کچھ زیادہ، سکاٹس 19 فیصد سے کچھ زیادہ،آئرش 15 فیصد سے زیادہ، یوکرائنی ساڑھے تیرہ فیصد سے زیادہ، فرانسیسی 12 فیصد سے زیادہ، مقامی قبائل 12 فیصد سے زیاہد، نارویجئن 7 فیصد سے زائد، میٹس 4 فیصد سے زائد، ولندیزی یعنی ڈچ ساڑھے تین فیصد سے کچھ زیادہ، روسی افراد بھی ڈچ افراد جتنے اور سوئڈش افراد ساڑھے تین فیصد تھے۔ اٹھارہ فیصد سے زیادہ افراد نے خود کو کینیڈین ظاہر کیا۔

مذہب

2001 کی مردم شماری کے تحت یہاں کا سب سے بڑا مذہب رومن کیتھولک چرچ کے پیروکاروں کا تھا جو کل آبادی کا تیس فیصد ہیں۔ یونائٹڈ چرچ آف کینیڈا کے پیروکار بیس فیصد اور لوتھیرین آٹھ فیصد ہیں۔

معیشت

ساسکچیوان کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تاہم اب یہاں زراعت کے ساتھ ساتھ جنگلات، فشنگ اور شکار مل ملا کر ساڑھے چھ فیصد سے کچھ زیادہ بنتے ہیں۔ساسکچیوان میں کینیڈا کا پینتالیس فیصد غلہ اگتا ہے۔گندم یہاں کی اہم فصل ہے اور اس صوبے کی شناخت بھی۔ تاہم کینولا، فلیکس، رائی، اوٹس،مٹر، دالیں، کناری بیج اور جو بھی یہاں پیدا ہوتے ہیں۔ بڑے گوشت کے لئے جانوروں کی پیداوار بھی البرٹا سے بڑھ گئی ہے۔ کان کنی بھی صوبے کی اہم صنعت ہے۔دنیا بھر میں ساسکچیوان پوٹاش اور یورینیم کی پیداور کے لئے مشہور ہے۔ صوبے کے شمال میں جنگلات اہم صنعت کا درجہ رکھتے ہیں۔

تیل اور قدرتی گیس بھی یہاں کی معیشت کا اہم حصہ ہیں تاہم تیل کا حصہ زیادہ بڑا ہے۔ تیل کی کل پیداوار میں صرف البرٹاساسکچیوان سے زیادہ ہے۔ بھاری خام تیل لائڈز منسٹر، کیروبرٹ، کنڈرسلے علاقوں سے نکلتا ہے جبکہ ہلکا خام تیل کنڈرسلے سوئفٹ کرنٹ کے علاقے سے اور وے برن ایسٹیوان سے نکلتا ہے۔ قدرتی گیس صوبے کے تقریباً سارے مغربی حصے میں پائی جاتی ہے۔

ساسکچیوان میں قائم شاہی اداروں میں ساسکچیوان گورنمنٹ انشورنس، ساکس ٹیل، ساسکس انرجی اور ساسک پاور اہم ہیں۔ بمبارڈئیر موز جا کے نزدیک ناٹو کے فلائنگ ٹرینگ سینٹر کے پندرہویں ونگ کو چلاتا ہے۔ بمبارڈر کو 1990 کی دہائی کے آخر میں دو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کے وفاقی حکومت کے معاہدے سے نوازا گیا جس کی مدد سے وہ اس ادارے کو چلائے رکھنے کے لئے فوجی جہاز خریدتا۔

حکومت اور سیاست

بہت سالوں سے ساسکچیوان کینیڈا کے لبرل ترین صوبوں میں ایک ہے۔ شاید یہ شہریوں کی اندرونی خواہش ظاہر کرتاہے کہ انہیں بڑے کیپیٹل سے کوئی لینا دینا نہیں۔ 1944 میں ٹومی ڈوگلس صوبے کے پہلے اعلانیہ سوشلسٹ پریمئر بنے۔ ان کی اسمبلی کے زیادہ تر اراکین دیہی اور چھوٹے علاقوں کی نمائندگی کرتے تھے۔ ان کی کواپریشن کامن ویلتھ فیڈریشن حکومت کے تحت ساسکچیوان میڈی کئیر دینے والا پہلا صوبہ بنا۔ 1961 میں ڈوگلس نے صوبائی سیاست کو چھوڑ کر وفاقی نیو ڈیمو کریٹک پارٹی کے پہلے رہنما کا عہدہ سنبھال لیا۔

ساسکچیوان کی صوبائی سیاست پر نیو ڈیمو کریٹس اور ساسکچیوان پارٹی کا گہرا اثر ہے۔ صوبائی انتخابات میں چھوٹی چھوٹی کئی جماعتیں حصہ لیتی ہیں جن میں لبرل پارٹی،گرین پارٹی اور پروگریسیو کنزرویٹور پارٹی اہم ہیں تاہم ان میں سے اس وقت کوئی بھی ساسکچیوان کی قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی نہیں رکھتی۔ نیو ڈیمو کریٹک حکومت کے 16 سال بعد، جس دوران رائے رومن ناؤ اور لورن کالورٹ پریمئر رہے، 2007 کے انتخابات میں ساسکچیوان پارٹی کو کامیابی ملی جن کے لیڈر براڈ وال ہیں۔

وفاقی سطح پر صوبے میں نیو ڈیموکریٹک پارٹی کا گہرا عمل رہا ہے تاہم موجودہ انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو اکثریت ملی ہے۔ ساسکچیوان کی 14 وفاقی نشستوں میں سے بارہ کنزرویٹیو پارٹی نے 2006 میں جیتی ہیں جبکہ 2004 میں کنزرویٹو نے تیرہ نشستیں جیتی تھیں۔ وفاقی نیو ڈیمو کریٹک پارٹی کو مسلسل دو بار انتخابات میں کوئی سیٹ نہیں ملی۔ جیری میراسٹی کے ہاؤس آف کامنز سے استعفٰی کے بعد سے لبرل پارٹی کا ایک ممبر باقی رہ گیا ہے جو سابقہ وزیر خزانہ رالف گوڈالے ہے۔

سیاسی طور پر یہ سارا صوبہ شہری دیہاتی حصوں میں منقسم ہے ۔ صوبائی نیو ڈیمو کریٹک پارٹی شہروں میں غالب ہے جبکہ ساسکچیوان پارٹی اور وفاقی کنزرویٹو پارٹی دیہاتی علاقوں میں زیادہ مضبوط ہے۔ ساسکاٹون اور ریگینا کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ انہیں مختلف حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ وہ دیہاتی حصوں کے برابر نمائندگی ظاہر کر سکیں۔

تعلیم

یہاں تعلیم کا آغاز مقامی قبائل کے گھروں کے اندر یا اولین بسنے والے کھالوں کے تاجروں کے گھروں سےہوا۔ یہاں گنے چنے ہی مشنری یا سکول تھے۔

1886 میں یہاں پہلی بار نارتھ ویسٹ ٹیریٹوری کے 76 سکولوں اور ان کے بورڈوں کی میٹنگ ہوئی۔ نئے نئے اقتصادی عروج کے باعث یہاں مختلف زبانوں کے باشندوں کی آبادیاں قائم ہونے لگیں۔ یہ لوگ اپنے بچوں کے لئے اپنے آبائی علاقوں جیسے سکول چاہتے تھے۔ درختوں کے تنوں سے بنی عمارتیں ان لوگوں کے لئے سکولوں، رہائش گاہوں اور میل جول کے مراکز بن گئیں۔

بیسویں صدی کے اقتصادی عروج اور کامیاب گلہ بانی کے سسب لوگوں نے اپنے پیسے اکٹھے کر لئے کہ ان کی مرضی کے مطابق تعلیم کا حصول ممکن ہوگیا۔ درسی کتب، عام سکول، تربیت یافتہ اساتذہ، سکولوں کا نصاب، جدید ترین عمارتوں پر مشتمل سکول صوبے بھر میں پھیل گئے۔ انگریزی کے ذریعہ تعلیم ہونے کےسبب عام زندگی اور تجارتی روابط آسان ہو گئے کہ سب کام ایک ہی زبان سے طے ہونے لگا۔ ایک کمرے پر مشتمل سکولوں کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ گئی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک کمرے کے سکولوں کو بتدریج نسبتاً بڑے اور زیادہ سہولیات والے سکولوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ تاہم سکولوں کی کل تعداد گھٹ گئی۔ یہاں تکنیکی تعلیم بھی عام دی جانے لگی۔ سکولوں کی بسیں، شاہراہیں اور خاندانوں کی اپنی گاڑیوں کے سبب لوگ آسانی سے بڑے شہروں اور قصبوں میں منتقل ہونے لگے۔ کمائنڈ ہارویسٹر اور ٹریکٹروں سے کاشت کاروں کو بہت سہولت ملی اور وہ زیادہ منافع بخش فصلیں اگانے لگے۔

سکول واؤچروں کی مدد سے مسابقت کا رحجان بڑھا اور دیہی کواپریٹیو سکولوں کا قیام عمل میں آیا۔

صوبائی علامات

جھنڈا

ساسکچیوان کا جھنڈا سرکاری طور پر 22 ستمبر 1969 میں لہرایا گیا۔ سرکاری نشان کو جھنڈے کے اوپر رکھا گیا ہے جس کے ساتھ پریری للی کا پھول لہرا رہا ہے۔ اوپری سبز حصہ شمالی ساسکچیوان کے جنگلات کو اور نچلا سنہرا رنگ جنوبی علاقے کے گندم کے کھیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ جھنڈے کو بنانے کے لئے صوبے بھر میں مقابلہ ہوا تھا جس میں 4000 سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔ جیتنے والے امیدوار کا نام انتھونی ڈریک تھا جو اس وقت ہاج ولے میں رہ رہے تھے۔

روزمرہ استعمال

ساسکچیوان کو جدید دور میں کارنر گیس اور لٹل ماسک ان پریری میں دکھایا گیا ہے۔ دونوں ہی پروگرام کینیڈا کے ٹی وی پر چلتے ہیں اور چھوٹے شہروں میں بنائے گئے ہیں۔ ڈبلیو او مچل، سنکلیئر راس، فریڈرک فلپ گروو، گائے وانڈرہاف، مائیکل ہیلم اور گیل باؤن نے بھی اپنے ناولوں میں ساسکچیوان کا بکثرت تذکرہ کیا ہے۔

مشہور انگریز نیچرلسٹ گرے آؤل یعنی بھورا الو نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ یہاں موجود ور کے ساسکچیوان میں گذارا اور یہیں تعلیم پائی۔

157 میں لونی ٹونز میں علی بابا خرگوش نے حسن کا کردار ادا کیا جس میں وہ کھل جا سم سم کے الفاظ بھول جاتا ہے۔ مختلف الفاظ ادا کرتے کرتے ایک بار وہ کھل جا سکچیوان کہہ جاتا ہے۔

کیوبیک کا مشہور موسیقار گروہ لیس ٹروئس اکارڈز کا فرانسیسی میں ایک گانا ساسکیچوان کے متعلق ہے جو ان کے پہلے البم کا تیسرا گانا ہے۔اس گانے کو مناسب حد تک فرانسیسی کینیڈا میں مقبولیت ملی۔

انگریزی وکی پیڈیا سے اردو وکی پیڈیا کے لئے ترجمہ و تلخیص
 

قیصرانی

لائبریرین
يوكون

یوکون (انگریزی نام: Yukon) کینیڈا کا ایک شمال مغربی علاقہ ہے۔ یہ رقبے کے لحاظ سے کینیڈا کے تین چھوٹے ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس کا نام “یوکون“ ہونے کی وجہء تسمیہ “دریائے یوکون“ ہے، جس کے معنی گوچ زبان میں عظیم دریا ہیں۔

یوکون کو ریاست یوکون بھی کہا جاتا ہے لیکن مقامی افراد اس پر ناراض ہوتے ہیں۔ 2003 میں وفاقی حکومت نے یوکون ایکٹ کے ذریعے ریاست کا نام ریاست یوکون سے بدل کر یوکون رکھ دیا ہے۔

یوکون کا پہاڑ لوگن 5959 میٹر بلند ہے جو کہ کلایون نیشنل پارک اینڈ ریزرو میں ہے۔ یہ پہاڑ اس ریاست کا سب سے بلند مقام ہے اور شمالی امریکہ میں دوسرا بلند ترین مقام۔

جغرافیہ

یہ انتہائی کم آباد علاقہ برفیلے پانیوں کی جھیلوں اور سارا سال برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقے کا موسم اگرچہ برفانی اور نیم برفانی اور انتہائی خشک ہے۔ یہاں سردیاں طویل اور سرد ہوتی ہیں۔ گرمیوں کے مختصر عرصے میں لمبے دنوں کی وجہ سے سبزیوں اور پھولوں کی مختصر فصلیں پیدا ہوتی ہیں۔

یہ ریاست ایک زاویہ قائمہ مثلث کی مانند ہے جس کے سرے امریکی ریاست الاسکا سے مغرب میں، شمال میں نارتھ ویسٹ ریاست اور جنوب میں برٹش کولمبیا سے ملتے ہیں۔ اس کے شمالی ساحل پر بیوفورٹ سمندر ہے۔ اس کی غیر ہموار مشرقی سرحد یوکون بیسن اور میکنزی دریا کے درمیان سرحد کا کام کرتی ہے۔ اس کا دارلخلافہ وائٹ ہارس ہے۔

کینیڈا کا بلند ترین مقام یعنی ماؤنٹ لوگن اسی ریاست کے جنوب مغربی حصے میں موجود ہے۔ ماؤنٹ لوگن اور یوکون کے جنوب مغرب کا بڑا حصہ کلوآن نیشنل پارک اینڈ ریزرو کا حصہ ہیں جو یونیسکو کی طرف سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دئے گئے ہیں۔

ریاست کا زیادہ تر حصہ دریائے یوکون میں ہے۔ یوکون کے جنوبی حصے میں گلیشئر سے بننے والی جھیلوں کی کثرت ہے جو بڑی لمبی اور تنگ ہر قسم کی ہیں۔ ان کی اکثریت یوکون دریا سے جا ملتی ہے۔ بڑی جھیلوں میں تیسلین، آٹلن، ٹاگیش، مارش، لبیرگ، کساوا اور کلوآن جھلیں ہیں۔ بینیٹ جھیل ناریس جھیل سے جا ملتی ہے اور اس کا زیادہ تر رقبہ یوکون میں موجود ہے۔

پانی کے دوسرے ذرائع میں میکنزی دریا اور السیک ٹاٹشینشینی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سارے دیگر چھوٹے چھوٹے دریا بیوفورٹ سمندر میں جا گرتے ہیں۔ یوکون کے دو بڑے دریا لیارڈ اور پیل شمالاً جنوباً بہتے ہوئے میکنزی سے جا ملتے ہیں۔

دارلخلافہ وائٹ ہارس یہاں کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔ یہاں ریاست کی دو تہائی آبادی رہتی ہے۔ دوسرا بڑا شہر ڈاسن شہر ہے جو 1952 تک یہاں کا دارلخلافہ تھا۔

تاریخ

یورپئین لوگوں کی آمد سے قبل وسطی اور شمالی یوکون برفانی دور میں جمنے سے بچا رہا۔ یاہں انسانی رہائش کی نشانیاں اولڈ کرو کے علاقے میں ملتی ہیں جو کہ شمالی امریکہ میں قدیم ترین باقیات ہیں۔ 800 عیسوی میں الاسکا کے قیرب ماؤنٹ چرچل میں آتش فشانی سے جنوبی یوکون میں راکھ کی تہہ جم گئی جو ابھی بھی کلونڈیک ہائی وے کے آس پاس دیکھی جا سکتی ہے۔ ساحلی اور اندرونی مقامی قبائل یہاں پہلے سے تجارتی جال بچھا چکے تھے۔ یہاں انیسویں صدی میں یورپیئوں کی آمد شروع ہوئی جو کھالوں کی تجارت سے وابستہ تھے۔ ان کے بعد مشنری اور ویسٹرن یونین ٹیلی گراف کی مہمیں آئیں۔ بعد میں انیسویں صدی کے اختتام پر سونے کی تلاش کی دوڑ شروع ہوئی۔ اس وجہ سے آبادی اتنی بڑھ گئی کہ یہاں پولیس تعینات کرنی پڑی۔ 1897 میں کلونڈیک گولڈ رش کی وجہ سے آبادی اتنی بڑھی کہ اس علاقے کو الگ کر کے ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔

آبادی

اقوام

2001 کے کینیڈین مردم شماری کے مطابق یوکون میں انگریز آبادی کا تناسب 27 فیصد سے زیادہ، قدیم قبائل 22 فیصد سے زیادہ، سکاٹش تقریباً 22 فیصد، آئرش تقریبا 19 فیصد، جرمن تقریبا 14 فیصد اور فرانسیسی 13 فیصد تھے۔ اگرچہ ایک چوتھائی نے خود کو کینیڈین ظاہر کرنے پر ترجیح دی۔

زبان

2006 کی مردم شماری میں کل آبادی 30372 افراد تھی۔ ان میں سے 29940 نے رائے شماری میں حصہ لیا اور تقریباً پچاسی فیصد افراد نے اپنی مادری زبان انگریزی اور تین فیصد سے کچھ زائد نے فرانسیسی کو مادری زبان کہا۔

یوکون کے لینگوئج ایکٹ میں مقامی زبانوں کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے تاہم قانون، عدالتی اور مقننہ کے لئے صرف انگریزی اور فرانسیسی ہی استعمال ہوتی ہیں۔

مذہب

2001 کی مردم شماری کے مطابق رومن کیتھولک چرچ کے پیروکاروں کی تعداد 5985 تھی جو کل آبادی کا 21 فیصد ہے۔ دوسرے نمبر پر انگلیکن چرچ آف کینیڈا تھا جس کے پیروکار 3795 یعنی کل آبادی کا تیرہ فیصد تھے۔ تیسرے نمبر پر کینیڈا کا متحدہ چرچ ہے جس کے پیروکار 2105 یعنی سات فیصد ہیں۔

معیشت

تاریخی اعتبار سے یوکون کی اہم صنعت کان کنی ہے جو سیسہ، زنک، چاندی، سونا، ایس بیس ٹاس اور تانبے پر مشتمل ہے۔ 1870 میں حکومت نے ہڈسن بے کمپنی سے زمین حاصل کر کے اسے 1898 میں نارتھ ویسٹ ریاست سے الگ کر دیا تاکہ سونے کی تلاش میں آنے والے لوگوں کی آباد کاری آسان ہو سکے۔

سونے کے متلاشی افراد ہزاروں کی تعداد میں ریاست پہنچے۔ اس ابتدائی دور کی یادیں اور رائل کینیڈین گھڑ سوار پولیس کے اوائل کے دن اور ریاست کے خوبصورت قدرتی مناظر وغیرہ مل کر سیاحت کو یہاں کی دوسری بڑی صنعت بناتے ہیں۔

مینوفیکچرنگ میں بشمول فرنیچر، ملبوسات اور ہینڈی کرافٹ کے ساتھ ساتھ پن بجلی بھی شامل ہے۔ روایتی طور پر جانور اور مچھلی پکڑنے کی صنعتیں زوال کا شکار ہیں۔ اس وقت حکومت سب سے ملازمتیں مہیا کر رہی ہے۔ اس وقت 12500 افرادی قوت میں سے 5000 افراد براہ راست حکومت کے لئے کام کرتے ہیں۔

سیاحت

یوکون کی سیاحت کا موٹو ہے "زندگی سے بھی بڑا"۔ یوکون کی سب سے بڑی کشش اس کی فطری خوبصورتی ہے۔ سیاحت کا دارومدار بھی اسی بات پر ہے اور بہت سارے پیشہ ور گائیڈ شکاریوں اور مچھلی کے شکار کے شوقینوں اور فطری ماحول سے محبت کرنے والوں کی رہنمائی کے لئے موجود رہتے ہیں۔ کھیل کود کے شائقین کے لئے جھیلوں اور دریاؤں میں میں کشتی رانی کے مواقع ہیں۔ پیدل چلنا ہو یا سکی کی مدد سے یا سنو بورڈ کی مدد سے، برف پر چلنے والی گاڑیوں پر سفر ہو یا اونچی چوٹیاں سر کرنی ہوں، یا پھر برف پر پھسلنا ہو یا کتوں والی برف گاڑی پر سفر، ہر چیز ممکن ہے۔

سردیوں میں جب رات کو آسمان صاف ہو تو آرورا دیکھنے کے لئے بہت لوگ باہر نکلتے ہیں۔

ذرائع نقل و حمل

جدید ذرائع نقل و حمل سے قبل دریا اور پہاڑی درے ہی مقامی لوگوں کے راستے تھے۔ پہلے پہل یورپیوں نے بھی انہیں اختیار کیا۔

گولڈ رش سے لے کر 1950 تک یوکون دریا میں کشتیاں چلتی رہیں جو زیادہ تر وائٹ ہارس اور ڈاسن شہر کے درمیان تھیں۔ چند ایک آگے الاسکا اور بیرنگ سمندر تک بھی جاتی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر کشتیاں برٹش یوکون نیویگیشن کمپنی کی ملکیت تھیں۔ یہ کمپنی ایک نیرو گیج ٹرین بھی چلاتی تھی جو سکاگوے، الاسکا اور وائٹ ہارس کو ملاتی تھی۔ 1980 میں اس ٹرین کو فارو کی کان کے ساتھ ہی بند کر دیا گیا۔ آج کل یہ گرمیوں میں سیاحت کی غرض سے چلائی جاتی ہے اور کارکراس تک چلتی ہے۔

آج اہم زمینی راستوں میں الاسکا ہائی وے، کلونڈیک ہائی وے، ہینز ہائی وے اور ڈیمپسٹر ہائی وے تمام کی تمام ماسوائے ڈیمپسٹر، پختہ ہیں۔ دیگر ہائی وے جہاں کم ٹریفک ہوتی ہے میں رابرٹ کیمپبل ہائی وے کارمک کو واٹسن لیک سے ملاتی ہے۔اولڈ کرو کے علاقے میں آباد لوگوں تک رسائی کا واحد راستہ ہوائی جہاز ہے۔

وائٹ ہارس انٹرنیشنل ائیرپورٹ اس علاقے کے ذرائع نقل و حمل کا مرکز ہے۔ یہاں سے براہ راست پروازیں وینکوور، کیلگری، ایڈمنٹن، فئیربینکس اور فرینکفرٹ کے لئے چلتی ہیں۔ فرینکفرٹ صرف گرمیوں میں پروازیں چلتی ہیں۔ یوکون میں موجود ہر شہر میں ائیرپورٹ موجود ہے۔ ڈاسن سٹی، اولڈ کرو، انوویک کے لئے ائیر نارتھ کی باقاعدہ سروس ہے۔ ائیر چارٹر بزنسز بھی اس علاقے میں سیاحت اور کان کنی کے مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

حکومت اور پالیسیاں

انیسویں صدی میں یوکون ہڈسن بے کمپنی کا ایک حصہ تھی جو نارتھ ویسٹرن ٹیریٹوری کا انتظام سنبھالے ہوئی تھی ۔ 1895 میں اسے پہلی بار قابل ذکر مقامی حکومت دی گئی جب اسے نارتھ ویسٹ ٹیریٹوری کے ضلع سے الگ کیا گیا۔ 1898 میں اسے الگ ریاست کا درجہ دے کر اس میں کمشنر کا تقرر کر دیا گیا۔

1979 سے قبل تک ریاست کا انتظام کمشنر کے پاس ہوتا تھا جو وفاقی وزارت برائے انڈین افیئرز اینڈ ناردرن ڈیلویلپمنٹ مقرر کرتی تھی۔ کمشنر ریاست کی ایگزیکٹو کونسل کی تقرری کرتا تھا اور ان کے سربراہ کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس کے علاوہ اسے ریاست کی حکومت میں روز مرہ کام بھی سرانجام دینے ہوتے تھے۔ 1979 میں وفاقی وزارت اور کمشنر سے کافی سارے اختیارات لے کر انہیں ریاستی کونسل کو دے دیا گیا۔

یوکون ایکٹ جسے یکم اپریل 2003 میں منظور کیا گیا تھا، نے ریاستی حکومت کو زیادہ اختیارات دیئے گئے ہیں۔ 2003 سے ریاستی حکومت کے پاس ما سوائے جرائم کے خلاف، دیگر تمام اختیارات وہی ہیں جو دیگر صوبائی حکومتوں کو حاصل ہیں۔ کسی حد تک کمشنر کا کردار صوبائی لیفٹیننٹ گورنر سے ملتا جلتا ہے تاہم کمشنر کو وفاقی حکومت تعینات کرتی ہے جبکہ لیفٹییننٹ گورنر کو ملکہ کی نمائندگی کا شرف حاصل ہوتا ہے۔

1978 میں پہلی بار ذمہ دار حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئی ہیں اور انہوں نے یوکون کی مقننہ کے لئے اپنے امیدوار مقرر کئے۔پروگریسو کنزرویٹو نے ان انتخابات کو جیت لیا اور یوکون کی حکومت جنوری 1979 میں سنبھالی۔ یوکون نیو ڈیموکریٹک پارٹی نے 1985 سے 1992 تک حکومت بنائے رکھی۔اس کے بعد 1996 سے 2000 تک ان کی حکومت رہی۔ کنزرویٹیو کی واپسی 1992 میں ہوئی۔ انہوں نے اپنا نام بدل کر یوکون پارٹی رکھ دیا۔

اگرچہ یوکون کو کینیڈا کا گیارہواں صوبہ بنانے کے بارے بات ہوتی رہی ہے تاہم اس کی قلیل آبادی کی بناٗ پر اس تجویز پر عمل ہونا محال ہے۔

وفاقی سطح پر اس پارٹی کا ایک پارلیمانی ممبر اور ایک سینیٹر ہے۔ یوکون کے باشندوں کو دیگر صوبوں کے باشندوں کی طرح یکساں حقوق ملے ہوئے ہیں اور اسی طرح پارلیمنٹ میں ان کے اراکین کو بھی یکساں حقوق ہیں۔ یوکون کا ایک رکن پارلیمان ایک بار ڈپٹی پرائم منسٹر رہ چکا ہے اور دوسرا ممبر وفاقی نیو ڈیمو کریٹک پارٹی کا صدر بھی۔

یوکون ان نو علاقوں میں سے ہے جہاں ہم جنس شادیوں کی اجازت ہے۔

قدیم قبائل کی حکومتیں

ریاست کی زیادہ تر آبادی مقامی قبائل پر مشتمل ہے۔ امبریلا لینڈ کلیم معاہدے کے تحت، جس میں چودہ مختلف قبائل کے 7000 اراکین نے اپنی رائے دی، پر وفاقی حکومت نے 1992 میں دستخط کئے۔ دسمبر 2005 تک ان چودہ میں سے گیارہ قبائل اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔

انگریزی وکی پیڈیا سے اردو وکی پیڈیا کے لئے ترجمہ و تلخیص شدہ
 

عثمان

محفلین
قیصرانی صاحب۔۔
اہل کینیڈا کی طرف سے اس خوبصورت مضمون کا ترجمہ کرنے پر شکریہ قبول فرمائیے۔ :zabardast1::great::good:
 

عثمان

محفلین
افواج کینیڈا میں فرینچ کنیڈئین اچھی خاصی تعداد میں ہیں۔ بلکہ ابتدائی فوجی تربیت کا ملٹری سکول بھی کیوبیک میں ہے جہاں فرینچ کنیڈئین انسٹرکٹرز کی اکثریت کی زیرنگرانی تربیت دی جاتی ہے۔
فرینچ کنیڈئین کی افواج کینیڈا میں اتنی اچھی انٹیگریشن دیکھ کر لگتا نہیں کہ کیوبیک نیشنلزم کا وہ اثر ہے جو عموماً تصور کیا جاتا ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین

ڈی نہیں بلکہ دء یا دَ۔ دا زیادہ لمبا ہو جائے گا۔

ویسے آپ نے یہاں انگریزی اور فرانسیسی تلفظ کو مکس کیا ہے۔ یا تو پورا نام فرنچ تلفظ میں لکھیں یا اس کا انگریزی نام دے دیں۔

مجھے فرانسیسی بالکل بھی نہیں آتی، اس لئے زیک کی بتائی ہوئی اصلاحات کو لاگو کر لیجئے :)
 
Top