بے حس اور بے فیض جمہوریت

زرقا مفتی

محفلین
37287_27520492.jpg

http://e.dunya.com.pk/colum.php?date=2014-09-20&edition=LHR&id=37287_27520492
 

سید زبیر

محفلین
یہ جمہوریت کے باعث نہیں بلکہ قومی بے حسی کے باعث ہے ۔کیا فوجی آمریت میں ایسا بالکل نہیں تھا ۔ ہر شہر میں ترقیاتی کام ہو رہے تھے ۔ کارخانے لگ رہے تھے ۔ غریب آدمی کی حکمرانوں تک رسائی تھی ۔ ایسا خوشحال طبقہ جو غریب لوگوں کی سیاست نہیں کرسکتا تھا جو کالے شیشے کی گاڑیوں اور عینکوں سے عوام سے نظریں چراتا ہے ۔ جو ٍغریب مزدور سے دس فٹ کے فاصلے سے بات کرتا ہے فوجی آمریت کے سہارے ملک کو خوشحال بنانے میں سرگرم عمل تھا ۔
سب سے زیادہ پاکستان کے دولتمند طبقے ، سیٹھوں ، کارخانے داروں ، نے غریبوں کو لوٹا ہے اور اس مقصد کے لئے کاٹھ کے سیاسی خچروں ، آمروں اور خوشامدی ضمیر و قلم فروشوں کو استعمال کیا ہے قوم کو لوٹا اور سرمایہ ملک سے باہر لے گئے اس مقصد کے لئے اپنی منشا کے قوانین بنائے یہ اسی کے ثمرات ہیں۔ نذیر ناجی بھی اُن میں سے ایک ہیں جو سورج کے چڑھنے اور ڈوبنے پر اپنے قلم کی قیمت بڑھاتے رہتے ہیں ۔ جب پر ویز مشرف نے اقتدار پر ڈاکہ مارا تھا یہ شخص وزیر اعظم ہاوس میں نواز شریف کی تقریریں لکھتا تھا یہ اُس وقت وزیر اعظم ہاوس ہی میں تھا ۔
 

زرقا مفتی

محفلین
کیا کالم کے مندرجات جھوٹ ہیں؟
کیا جمہوریت ناکام نہیں ہوئیِ؟
کیا جمہوریت کے نام پر اقتدار سنبھالنے والوں کے رویے آمرانہ نہیں تھے؟
کیا ان رویوں کے باعث عوام ان سیاستدانوں سے متنفر نہیں ہوئی؟

کیا پندرہ سال میں کسی انسان کے خیالات نہیں بدل سکتے ؟
 

سید زبیر

محفلین
تبدیلی جب آئے گی جب عوام شخصیت پرستی کی بجائے نظریات کے علمبردار بن جائیں۔ اگر اپنا قائد بھی حق بات نہ کرے تو اس کی بھی بھرپور مخالفت کی جائے ۔ جب تک قائد کی ہر اوٹ پٹانگ بات کو مان لیا جائے گا تو استحصالی طبقہ اپنے بول بچن سے اسی طرح غریبوں کا استحصال کرتا رہے گا قائد ذاتی جہازوں میں پھر کرسٹیٹس کو کے خلاف غریب عوام کو اپنے مفاد کے لئےاستعمال کرتے رہیں گے۔ یہ بہروپئیے فلاحی کاموں کے نام پر عوام سے چندہ اور کھالیں جمع کرتے ہیں 60 فیصد ادارے پر اور 40 فیصد اپنی ذات پر خرچ کرتے ہیں ما سوائے ستار ایدھی اور چھیپا کے ۔ جو کبھی چیخ چیخ کر اپنے کارنامے نہیں گنواتے ۔ ان کی شناخت ان کے قول و عمل کے تضاد سے ظاہر ہو جاتا ہے ۔
 

زرقا مفتی

محفلین
ہم شخصیت پرستی کے قائل نہیں ہم ملک میں ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جو عوام کی فلاح کے لئے کام کرے پارلیمان میں بیٹھی انجمن بقائے باہمی کے لئے نہیں۔ ایسی جمہوریت کسی ایسے راہنما کے زیر سایہ ہی پنپ سکتی ہے جو ایماندار ہو ۔ لالچی اور مفاد پرست نہ ہو۔ ملک سے مخلص ہو یہ سب خوبیاں عمران میں موجود ہیں
 
ایک عرصے سے ملکی حالات کو دیکھ کر میں کیا ہر پاکستانی افسردہ ہے۔۔۔ایسے حالات جس میں ہر انسان کی ساری امیدیں ٹوٹتی دیکھایٰ دے رہی ہیں
جان و مال عزت آبرو کچھ بھی تو محفوظ نہیں۔۔
سب کچھ لٹا کر ہوش میں آئے تو کیا۔۔۔!

بس ۔۔بس۔۔اب بھی وقت ہے ۔۔ہم سب کے پاس ۔۔۔
سب سے امیدیں ہٹا لیں۔۔
اپنے اللہ سے معافی مانگ لیں۔۔جسطرح بھی ممکن ہو اس کو منا لیں۔۔
جتنا بڑا سودہ کرنا پڑے کر لیں اپنے اللہ کو منا لیں۔
وہ بڑا کریم ہے ۔بڑا معاف کرنے والا ہے۔۔ہم کو معاف کر دے گا۔۔۔
بس ۔۔۔
اس کی معافی کی دیر ہے ۔۔۔
پھر دنیا دیکھے گی۔۔۔حالات کیسے بدلتے ہیں۔۔نظام کیسے بدلتے ہیں۔۔
سب کچھ اسہی کے ہاتھ میں ہے۔
اے اللہ ہم سب کو معاف فرما دے
ہم سب کو ایسی ہدایت دے جس کے بعد گمراہی نہ ہو۔۔
آمین ثمہ آمین
 
پاکستان کی مین سٹریم سیاسی پارٹیوں میں ماسوائے جماعت اسلامی کے باقی تمام سیاسی پارٹیاں شخصیات کے اردگرد موجود ہیں۔ اوپر والے ایک یا دو بندے نکالیں اورباقی پارٹی کا حشر دیکھ لیں۔
جب تک قائد کی ہر اوٹ پٹانگ بات کو مان لیا جائے گا
ہمارے ہاں حالت یہ ہو گئی ہے کہ ہم اپنے راہنماؤں کی حماقتوں میں سے بھی حکمتیں نکالنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں
 
آخری تدوین:
Top