نظریہ ارتقاء پر اعتراضات اور ان کے جواب

زیک

مسافر
لیکٹوز کو ہضم کرنے کی صلاحیت ہر انسا ن میں شروع سے موجود رہی ہے، انسان کا بچہ ہمیشہ سے اپنی ماں کا دودھ پیتا آیا ہے، کسی عہد میں لوگوں نے شیر خواری کی عمر کے بعد اس کو استعمال نہیں کیا تو یہ صلاحیت ختم نہیں ہوئی، اور نہ ہی اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے سے صلاحیت دوبارہ سے پیدا ہوئی۔
یہ صلاحیت انسان میں بچپن کے بعد نہیں رہتی۔ آج بھی دنیا کی آدھی آبادی میں ایسا ہی ہے۔
 
اگرچہ آپ لوگوں کو ایک معروف تجربے کا علم تو ہو گا لیکن یاد دہانی کے لیے بتائے دیتا ہوں کہ ایک سائنسدان نے مسلسل کئی نسلوں تک چوہوں کی دُم کاٹی لیکن آنے والی نسلوں میں کوئی "ارتقا" نہیں ہوا۔
https://en.wikipedia.org/wiki/August_Weismann
اگلی نسل میں تبدیلی کے لئے ڈی این اے میں تبدیلی ضروری ہے :)
عثمان اور حاتم راجپوت بھائی سے سوال ہے کہ مختلف علاقے کے میں پائی جانی والی انسانی نسلیں جیسے یورپین ، چائنیز جنوبی ایشیائی وغیرہ کی آنکھوں میں اور جلد کی رنگت وغیرہ یعنی جسمانی ساخت میں جو فرق ڈی این اے کے فرق سے پایا جاتا ہے۔ سب کے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہونے کے باوجود ۔ تو اس فرق کے آنے کو کیا "انسانی ارتقاء" کی ایک شکل قرار دیا جا سکتا ہے؟ جو بظاہر ماحول اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوا؟ یعنی ماحول اور آب و ہوا انسان کے ڈی این اے پر اثر انداز ہوئے اور انسان کی جسمانی ساخت بلکہ اس پوری نسل کی ساخت کسی حد تک بدل گئی؟
 

زیک

مسافر
اگلی نسل میں تبدیلی کے لئے ڈی این اے میں تبدیلی ضروری ہے :)
عثمان اور حاتم راجپوت بھائی سے سوال ہے کہ مختلف علاقے کے میں پائی جانی والی انسانی نسلیں جیسے یورپین ، چائنیز جنوبی ایشیائی وغیرہ کی آنکھوں میں اور جلد کی رنگت وغیرہ یعنی جسمانی ساخت میں جو فرق ڈی این اے کے فرق سے پایا جاتا ہے۔ سب کے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہونے کے باوجود ۔ تو اس فرق کے آنے کو کیا "انسانی ارتقاء" کی ایک شکل قرار دیا جا سکتا ہے؟ جو بظاہر ماحول اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوا؟ یعنی ماحول اور آب و ہوا انسان کے ڈی این اے پر اثر انداز ہوئے اور انسان کی جسمانی ساخت بلکہ اس پوری نسل کی ساخت کسی حد تک بدل گئی؟
جی ہاں یہ ارتقاء ہی ہے۔
 
لیکن یہ ارتقا کیسے ہوا ؟ ایک ازخود پراسس جو کسی بھی سمت جا سکتا ہے، کیونکر ایک ماحول سے مطابقت دینے کے لیے شروع ہو گا ؟ میوٹیشن کا عمل کسی جاندار کی مرضی سے شروع ہوتا ہے ، نہ اس کے اختیار میں ہوتا ہے ،کہ وہ کسی خاص صلاحیت کو حاصل کرنے کے لیے میوٹیشن کا عمل شروع کر دے۔ میں یہاں پھر سے سمندر میں سانس لینے کے لیے گلپھڑے کی میوٹیشن کی مثال دوں گا۔
اور جہاں تک لیکٹوز کی بات ہے تو میوٹیشن اور ارتقا میں ہم ان صلاحیتوں کی بات کر رہے ہیں جو اس میں پہلے سے نہیں تھیں اور ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے ارتقائی عمل کے ذریعے آ گئیں۔ لیکٹوز کو ہضم کرنے کی صلاحیت ہر انسا ن میں شروع سے موجود رہی ہے، انسان کا بچہ ہمیشہ سے اپنی ماں کا دودھ پیتا آیا ہے، کسی عہد میں لوگوں نے شیر خواری کی عمر کے بعد اس کو استعمال نہیں کیا تو یہ صلاحیت ختم نہیں ہوئی، اور نہ ہی اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے سے صلاحیت دوبارہ سے پیدا ہوئی۔

نظریۂ ارتقا یا کائنات میں ہونے والا ہر مشاہدہ ایک نان لینئیر ڈائنامکل سسٹم کا حصہ ہے۔ ایسے میں انسان کسی بھی چیز کا انکار نہیں کرسکتا جو بظاہر نا ممکن بھی نظر آتی ہے اور مشاہدے میں ہے۔ لیکن ممکن ہو بھی سکتی ہے۔ اس صورت میں موافق حالات، کافی مصالحہ (Sufficient material) اور دوسری چیزوں کی دستیابی ایک ثانوی حیثیت میں چلی جاتی ہیں۔
البتہ یہ سوال ضرور رہتا ہے کہ ارتقا کے ذریعے پایا جانے والا شعور کس حد تک مستند ہے۔ دماغی الجھنوں کی اور اسی کی سلجھنوں کی خارج میں بھی کوئی حیثیت ہوگی یا نہیں یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔ ممکن ہے کہ ہم جو سوچتے ہیں، سمجھتے ہیں، دیکھتے وہ بالکل ویسا نہیں، بالکل الٹ ہے۔
ارتقا یا زمین پر ظاہر ہونے والی زندگی کی مثال ایسی ہے کہ اوپر اچھالا ہوا ایک سکہ جو گرنے کے بعد نہ سیدھا رہا نہ الٹا، بلکہ گر کر کھڑا ہوگیا ہے۔ یہ واقعی تعجب کی بات ہے۔ لیکن ایسا ہوگیا ہے اور اس سکے کو کھڑے اب قریب چار ارب سال ہوچکے ہیں۔ دیکھیں کب ہوا کا کوئی جھونکا آتا ہے اور یہ سکہ گر جاتا ہے۔ :) :) :)
 

حاتم راجپوت

لائبریرین
اگلی نسل میں تبدیلی کے لئے ڈی این اے میں تبدیلی ضروری ہے :)
عثمان اور حاتم راجپوت بھائی سے سوال ہے کہ مختلف علاقے کے میں پائی جانی والی انسانی نسلیں جیسے یورپین ، چائنیز جنوبی ایشیائی وغیرہ کی آنکھوں میں اور جلد کی رنگت وغیرہ یعنی جسمانی ساخت میں جو فرق ڈی این اے کے فرق سے پایا جاتا ہے۔ سب کے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہونے کے باوجود ۔ تو اس فرق کے آنے کو کیا "انسانی ارتقاء" کی ایک شکل قرار دیا جا سکتا ہے؟ جو بظاہر ماحول اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوا؟ یعنی ماحول اور آب و ہوا انسان کے ڈی این اے پر اثر انداز ہوئے اور انسان کی جسمانی ساخت بلکہ اس پوری نسل کی ساخت کسی حد تک بدل گئی؟
جی درست ہے۔ تقریباً سبھی فائدہ مند میوٹیشنز اڈیپٹ ٹُو سروائیو کے نتیجے ہی میں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ جلد کی رنگت کا تبدیل ہونا الٹرا وائلٹ شعاعوں یا سولر ریڈی ایشن سے بچنے کی ایک کوشش بھی ہے۔
 
آخری تدوین:
ڈارون کا نظریہٴ ارتقاء ایک دھوکہ ایک فریب

جب ڈارون نے ارتقاء کے حوالے سے اپنے مفروضات پیش کئے تو اس وقت جینیات (Genetics)، خرد حیاتیات (Microbiology) اور حیاتی کیمیا (Biochemistry) جیسے مضامین موجود ہی نہیں تھے۔ اگر یہ موضوعات، ڈاروِن کے زمانے میں موجود ہوتے تو با آسانی پتہ چل جاتا کہ ڈاروِن کا نظریہ غیر سائنسی ہے اور اس کے دعوے بے مقصد ہیں۔ کسی نوع کا تعین کرنے والی ساری معلومات پہلے ہی سے اس کے جین (Genes) ڈی این اے میں موجود ہوتی ہیں۔ فطری انتخاب کے ذریعے، جین میں تبدیلی کرکے کسی ایک نوع سے دوسری نوع پیدا کرنا قطعاً ناممکن ہے۔

جس وقت ڈاروِن کی مذکورہ بالا کتاب (جسے اب ہم مختصراً ’’اصلِ انواع‘‘ کہیں گے) اپنی شہرت کے عروج پر تھی، اسی زمانے میں آسٹریا کے ایک ماہر نباتیات، گریگر مینڈل نے 1865ء میں توارث (Inheritance) کے قوانین دریافت کئے۔ اگرچہ ان مطالعات کو انیسویں صدی کے اختتام تک کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوسکی۔ مگر 1900ء کے عشرے میں حیاتیات کی نئی شاخ ’’جینیات‘‘ (Genetics) متعارف ہوئی اور مینڈل کی دریافت بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگئی۔ کچھ عرصے بعد جین کی ساخت اور کروموسوم (Chromosomes) بھی دریافت ہوگئے۔ 1950ء کے عشرے میں ڈی این اے (DNA) کا سالمہ دریافت ہوا، جس میں ساری جینیاتی معلومات پوشیدہ ہوتی ہیں۔ یہیں سے نظریہ ارتقاء میں ایک شدید بحران کا آغاز ہوا کیونکہ اتنے مختصر سے ڈی این اے میں بے اندازہ معلومات کا ذخیرہ کسی بھی طرح سے ’’اتفاقی واقعات‘‘ کی مدد سے واضح نہیں کیا جاسکتا تھا۔

ان تمام سائنسی کاوشوں سے ہٹ کر، تلاشِ بسیار کے باوجود، جانداروں کی ایسی کسی درمیانی شکل کا سراغ نہیں مل سکا جسے ڈاروِن کے نظریہ ارتقاء کی روشنی میں لازماً موجود ہونا چاہیے تھا۔

اصولاً تو ان دریافتوں کی بنیاد پر ڈاروِن کے نظریہ ارتقاء کو ردّی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ کیونکہ بعض مخصوص حلقوں نے اس پر نظرِ ثانی، اس کے احیأ، اور اسے سائنسی پلیٹ فارم پر بلند مقام دیئے رکھنے کا اصرار (اور دباؤ) جاری رکھا۔ ان کوششوں کا مقصد صرف اسی وقت سمجھا جاسکتا ہے جب ہم نظریہ ارتقاء کے پیدا کردہ نظریاتی رجحانات (Ideological Intensions) کو محسوس کریں، نہ کہ اس کے سائنسی پہلوؤں کا جائزہ لیں۔

نظریہ ارتقاء پر یقین کو قائم و دائم رکھنے کی پوری کوششوں کے باوجود یہ حلقے جلد ہی ایک بند گلی میں پہنچ گئے۔ اب انہوں نے ایک نیا ماڈل پیش کردیا جس کا نام ’’جدید ڈارونزم‘‘ (Neo-Darwinism) رکھا گیا

اس نظریئے کے مطابق انواع کا ارتقاء، تغیرات (Mutations) اور ان کے جین (Genes) میں معمولی تبدیلیوں سے ہوا۔ مزید یہ کہ (ارتقاء پذیر ہونے والی ان نئی انواع میں سے) صرف وہی انواع باقی بچیں جو فطری انتخاب کے نظام کے تحت موزوں ترین (Fittest) تھیں۔

مگر جب یہ ثابت کیا گیا کہ جدید ڈارونزم کے مجوزہ نظامات درست نہیں، اور یہ کہ نئی انواع کی تشکیل کے لئے معمولی جینیاتی تبدیلیاں کافی نہیں ہیں،
ارتقاء سے ایک نوع میں کسی حد تک تبدیلیاں واقع ہوئی (جین میں تبدیلی کی وجہ سے) لیکن ایک نوع سے دوسری نوع کی تشکیل کا ہونا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ثبوت موجود ہے
تو ارتقاء کے حمایتی ایک بار پھر نئے ماڈلوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ اب کی بار وہ ایک نیا دعویٰ لے کر آئے جسے ’’نشان زد توازن‘‘(Punctuated Equilibrium) کہا جاتا ہے، اور اس کی بھی کوئی معقول سائنسی بنیاد نہیں ہے۔

اس ماڈل کی رُو سے جاندار کوئی ’’درمیانی شکل‘‘ اختیار کئے بغیر، اچانک ہی ایک سے دوسری انواع میں ارتقاء پذیر ہوگئے۔ باالفاظِ دیگر یہ کہ کوئی نوع اپنے ’’ارتقائی آباؤ اجداد‘‘ کے بغیر ہی وجود میں آگئی۔

اگر ہم یہ کہیں کہ انواع کو ’’تخلیق‘‘ کیا گیا ہے (یعنی ان کا کوئی خالق ضرور ہے) تو ہم بھی وہی کہہ رہے ہوں گے جو نشان زد توازن میں کہا گیا ہے۔ لیکن ارتقاء پرست، نشان زد توازن کے اس پہلو کو قبول نہیں کرتے (جو خالق کی طرف اشارہ کررہا ہے)۔ اس کے بجائے وہ حقیقت کو ناقابلِ فہم منظر ناموں سے ڈھانپنے کی کوشش کرنے لگے۔ مثلاً یہ کہ دنیا کا پہلا پرندہ اچانک ہی، ناقابلِ تشریح انداز میں، رینگنے والے کسی جانور یعنی ہوّام (Reptile) کے انڈے سے پیدا ہوگیا۔ یہی نظریہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ زمین پر بسنے والے گوشت خور جاندار کسی (ناقابلِ فہم) وجہ سے، زبردست قسم کے جینیاتی تغیرات کا شکار ہوکر، دیو قامت وہیل مچھلیوں میں تبدیل ہوگئے ہوں گے۔ یہ دعوے جینیات، حیاتی طبیعیات اور حیاتی کیمیا کے طے شدہ قواعد و ضوابط سے بری طرح متصادم ہیں اور ان میں اتنی ہی سائنسی صداقت ممکن ہے جتنی مینڈک کے شہزادے میں تبدیل ہوجانے والی جادوئی کہانیوں میں ہوسکتی ہے۔

ان تمام خرابیوں اور نقائص کے باوجود، جدید ڈارونزم کے پیش کردہ نتائج اور پیدا شدہ بحران سے عاجز آئے ہوئے کچھ ارتقاء پرست ماہرینِ معدومیات (Paleontologists) نے اس نظریئے (نشان زد توازن) کو گلے سے لگا لیا جو اپنی ذات میں جدید ڈارونزم سے بھی زیادہ عجیب و غریب اور ناقابلِ فہم ہے۔

اس نئے ماڈل کا واحد مقصد صرف یہ تھا کہ رکازی ریکارڈ میں خالی جگہوں کی موجودگی (یعنی زندگی کی درمیانی شکلوں کی عدم موجودگی) کی وضاحت فراہم کی جائے، جنہیں واضح کرنے سے جدید ڈارونزم بھی قاصر تھا۔ مگر ریکارڈ کی عدم موجودگی کے ثبوت میں یہ کہنا ’’رینگنے والے جانور کا انڈا ٹوٹا اور اس میں سے پرندہ برآمد ہوا‘‘ بمشکل ہی معقول دلیل سمجھا جائے گا۔

وجہ صاف ظاہر ہے۔ ڈراوِن کا نظریہ ارتقاء خود کہتا ہے کہ انواع کو ایک سے دوسری شکل میں ڈھلنے کے لئے زبردست اور مفید قسم کا جینیاتی تغیر درکار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کوئی جینیاتی تغیر بھی، خواہ وہ کسی بھی پیمانے کا ہو، جینیاتی معلومات کو بہتر بناتا ہویا ان میں اضافہ کرتا ہوا نہیں پایا گیا۔

تغیرات (تبدیلیوں) سے توجینیاتی معلومات تلپٹ ہوکر رہ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’’مجموعی تغیرات‘‘ (Gross Mutations) جن کا تصور نشان زد توازن کے ذریعے پیش کیا گیا ہے، صرف جینیاتی معلومات میں کمی اور خامی کا باعث ہی بن سکتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ’’نشان زد توازن‘‘ کا نظریہ بھی محض تخیلات کا حاصل ہے۔

اس کھلی ہوئی سچائی کے باوجود ارتقاء کے حامی اس نظریئے کو ماننے سے بالکل نہیں ہچکچاتے۔ وہ جانتے تھے کہ رکازات کے ریکارڈ کی عدم موجودگی، ڈاروِن کے نظریہ ارتقاء سے ثابت نہیں کی جاسکتی لہٰذا وہ نشان زد توازن کو ماننے پر مجبور ہوگئے۔

مگر خود ڈاروِن کا کہنا تھا کہ انواع کا ارتقاء بتدریج ہوا تھا (یعنی وہ تھوڑی تھوڑی کرکے تبدیل ہوئی تھیں)، جس کے باعث یہ اشد ضروری تھا کہ آدھا پرندہ/ آدھا ہوّام، یا آدھی مچھلی/ آدھا چوپایہ جیسے عجیب الخلقت جانداروں کے رکازات دریافت کئے جائیں۔ تاہم اب تک، ساری تحقیق و تلاش کے بعد بھی ان ’’درمیانی (انتقالی) شکلوں‘‘ کی ایک مثال بھی سامنے نہیں آسکی۔ حالانکہ اس دوران لاکھوں رکازات، زمین سے برآمد ہوچکے ہیں۔ ارتقاء پرست صرف اس لئے نشان زد توازن والے ماڈل سے چمٹ گئے ہیں تاکہ رکازات کی صورت میں ہونے والی اپنی شکست فاش کو چھپا سکیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ نشان زد توازن کو کسی باضابطہ ماڈل کی حیثیت سے اختیار نہیں کیا گیا، بلکہ اسے تو صرف ان مواقع پر راہِ فرار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں تدریجی ارتقاء سے بات واضح نہیں ہو پاتی۔ آج کے ماہرینِ ارتقاء یہ محسوس کرتے ہیں کہ آنکھ، پر، پھیپھڑے، دماغ اور دوسرے پیچیدہ اعضاء علی الاعلان تدریجی ارتقائی ماڈل کو غلط ثابت کررہے ہیں۔ بطورِ خاص انہی نکات پر آکر وہ مجبوراً نشان زد توازن والے ماڈل میں پناہ لینے دوڑے آتے ہیں سو یہ ہے ڈارون کے نظریہ ٴ ارتقاء کا خلاصہ ،جو اس وقت بھی صرف ایک نظریہ ہی تھا اور آج بھی نظریہ سے آگے نہیں بڑھ سکا ۔اس نظریہ کو کوئی ایسی ٹھوس بنیاد مہیا نہیں ہوسکی جس کی بناء پر یہ نظریہ سائنس کا قانون (Scientific Law)بن سکے
 
آخری تدوین:

قیصرانی

لائبریرین
ڈارون کا نظریہٴ ارتقاء ایک دھوکہ ایک فریب

جب ڈارون نے ارتقاء کے حوالے سے اپنے مفروضات پیش کئے تو اس وقت جینیات (Genetics)، خرد حیاتیات (Microbiology) اور حیاتی کیمیا (Biochemistry) جیسے مضامین موجود ہی نہیں تھے۔ اگر یہ موضوعات، ڈاروِن کے زمانے میں موجود ہوتے تو با آسانی پتہ چل جاتا کہ ڈاروِن کا نظریہ غیر سائنسی ہے اور اس کے دعوے بے مقصد ہیں۔ کسی نوع کا تعین کرنے والی ساری معلومات پہلے ہی سے اس کے جین (Genes) ڈی این اے میں موجود ہوتی ہیں۔ فطری انتخاب کے ذریعے، جین میں تبدیلی کرکے کسی ایک نوع سے دوسری نوع پیدا کرنا قطعاً ناممکن ہے۔

جس وقت ڈاروِن کی مذکورہ بالا کتاب (جسے اب ہم مختصراً ’’اصلِ انواع‘‘ کہیں گے) اپنی شہرت کے عروج پر تھی، اسی زمانے میں آسٹریا کے ایک ماہر نباتیات، گریگر مینڈل نے 1865ء میں توارث (Inheritance) کے قوانین دریافت کئے۔ اگرچہ ان مطالعات کو انیسویں صدی کے اختتام تک کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوسکی۔ مگر 1900ء کے عشرے میں حیاتیات کی نئی شاخ ’’جینیات‘‘ (Genetics) متعارف ہوئی اور مینڈل کی دریافت بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگئی۔ کچھ عرصے بعد جین کی ساخت اور کروموسوم (Chromosomes) بھی دریافت ہوگئے۔ 1950ء کے عشرے میں ڈی این اے (DNA) کا سالمہ دریافت ہوا، جس میں ساری جینیاتی معلومات پوشیدہ ہوتی ہیں۔ یہیں سے نظریہ ارتقاء میں ایک شدید بحران کا آغاز ہوا کیونکہ اتنے مختصر سے ڈی این اے میں بے اندازہ معلومات کا ذخیرہ کسی بھی طرح سے ’’اتفاقی واقعات‘‘ کی مدد سے واضح نہیں کیا جاسکتا تھا۔

ان تمام سائنسی کاوشوں سے ہٹ کر، تلاشِ بسیار کے باوجود، جانداروں کی ایسی کسی درمیانی شکل کا سراغ نہیں مل سکا جسے ڈاروِن کے نظریہ ارتقاء کی روشنی میں لازماً موجود ہونا چاہیے تھا۔

اصولاً تو ان دریافتوں کی بنیاد پر ڈاروِن کے نظریہ ارتقاء کو ردّی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ کیونکہ بعض مخصوص حلقوں نے اس پر نظرِ ثانی، اس کے احیأ، اور اسے سائنسی پلیٹ فارم پر بلند مقام دیئے رکھنے کا اصرار (اور دباؤ) جاری رکھا۔ ان کوششوں کا مقصد صرف اسی وقت سمجھا جاسکتا ہے جب ہم نظریہ ارتقاء کے پیدا کردہ نظریاتی رجحانات (Ideological Intensions) کو محسوس کریں، نہ کہ اس کے سائنسی پہلوؤں کا جائزہ لیں۔

نظریہ ارتقاء پر یقین کو قائم و دائم رکھنے کی پوری کوششوں کے باوجود یہ حلقے جلد ہی ایک بند گلی میں پہنچ گئے۔ اب انہوں نے ایک نیا ماڈل پیش کردیا جس کا نام ’’جدید ڈارونزم‘‘ (Neo-Darwinism) رکھا گیا

اس نظریئے کے مطابق انواع کا ارتقاء، تغیرات (Mutations) اور ان کے جین (Genes) میں معمولی تبدیلیوں سے ہوا۔ مزید یہ کہ (ارتقاء پذیر ہونے والی ان نئی انواع میں سے) صرف وہی انواع باقی بچیں جو فطری انتخاب کے نظام کے تحت موزوں ترین (Fittest) تھیں۔

مگر جب یہ ثابت کیا گیا کہ جدید ڈارونزم کے مجوزہ نظامات درست نہیں، اور یہ کہ نئی انواع کی تشکیل کے لئے معمولی جینیاتی تبدیلیاں کافی نہیں ہیں،
ارتقاء سے ایک نوع میں کسی حد تک تبدیلیاں واقع ہوئی (جین میں تبدیلی کی وجہ سے) لیکن ایک نوع سے دوسری نوع کی تشکیل کا ہونا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ثبوت موجود ہے
تو ارتقاء کے حمایتی ایک بار پھر نئے ماڈلوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ اب کی بار وہ ایک نیا دعویٰ لے کر آئے جسے ’’نشان زد توازن‘‘(Punctuated Equilibrium) کہا جاتا ہے، اور اس کی بھی کوئی معقول سائنسی بنیاد نہیں ہے۔

اس ماڈل کی رُو سے جاندار کوئی ’’درمیانی شکل‘‘ اختیار کئے بغیر، اچانک ہی ایک سے دوسری انواع میں ارتقاء پذیر ہوگئے۔ باالفاظِ دیگر یہ کہ کوئی نوع اپنے ’’ارتقائی آباؤ اجداد‘‘ کے بغیر ہی وجود میں آگئی۔

اگر ہم یہ کہیں کہ انواع کو ’’تخلیق‘‘ کیا گیا ہے (یعنی ان کا کوئی خالق ضرور ہے) تو ہم بھی وہی کہہ رہے ہوں گے جو نشان زد توازن میں کہا گیا ہے۔ لیکن ارتقاء پرست، نشان زد توازن کے اس پہلو کو قبول نہیں کرتے (جو خالق کی طرف اشارہ کررہا ہے)۔ اس کے بجائے وہ حقیقت کو ناقابلِ فہم منظر ناموں سے ڈھانپنے کی کوشش کرنے لگے۔ مثلاً یہ کہ دنیا کا پہلا پرندہ اچانک ہی، ناقابلِ تشریح انداز میں، رینگنے والے کسی جانور یعنی ہوّام (Reptile) کے انڈے سے پیدا ہوگیا۔ یہی نظریہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ زمین پر بسنے والے گوشت خور جاندار کسی (ناقابلِ فہم) وجہ سے، زبردست قسم کے جینیاتی تغیرات کا شکار ہوکر، دیو قامت وہیل مچھلیوں میں تبدیل ہوگئے ہوں گے۔ یہ دعوے جینیات، حیاتی طبیعیات اور حیاتی کیمیا کے طے شدہ قواعد و ضوابط سے بری طرح متصادم ہیں اور ان میں اتنی ہی سائنسی صداقت ممکن ہے جتنی مینڈک کے شہزادے میں تبدیل ہوجانے والی جادوئی کہانیوں میں ہوسکتی ہے۔

ان تمام خرابیوں اور نقائص کے باوجود، جدید ڈارونزم کے پیش کردہ نتائج اور پیدا شدہ بحران سے عاجز آئے ہوئے کچھ ارتقاء پرست ماہرینِ معدومیات (Paleontologists) نے اس نظریئے (نشان زد توازن) کو گلے سے لگا لیا جو اپنی ذات میں جدید ڈارونزم سے بھی زیادہ عجیب و غریب اور ناقابلِ فہم ہے۔

اس نئے ماڈل کا واحد مقصد صرف یہ تھا کہ رکازی ریکارڈ میں خالی جگہوں کی موجودگی (یعنی زندگی کی درمیانی شکلوں کی عدم موجودگی) کی وضاحت فراہم کی جائے، جنہیں واضح کرنے سے جدید ڈارونزم بھی قاصر تھا۔ مگر ریکارڈ کی عدم موجودگی کے ثبوت میں یہ کہنا ’’رینگنے والے جانور کا انڈا ٹوٹا اور اس میں سے پرندہ برآمد ہوا‘‘ بمشکل ہی معقول دلیل سمجھا جائے گا۔

وجہ صاف ظاہر ہے۔ ڈراوِن کا نظریہ ارتقاء خود کہتا ہے کہ انواع کو ایک سے دوسری شکل میں ڈھلنے کے لئے زبردست اور مفید قسم کا جینیاتی تغیر درکار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کوئی جینیاتی تغیر بھی، خواہ وہ کسی بھی پیمانے کا ہو، جینیاتی معلومات کو بہتر بناتا ہویا ان میں اضافہ کرتا ہوا نہیں پایا گیا۔

تغیرات (تبدیلیوں) سے توجینیاتی معلومات تلپٹ ہوکر رہ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’’مجموعی تغیرات‘‘ (Gross Mutations) جن کا تصور نشان زد توازن کے ذریعے پیش کیا گیا ہے، صرف جینیاتی معلومات میں کمی اور خامی کا باعث ہی بن سکتے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ’’نشان زد توازن‘‘ کا نظریہ بھی محض تخیلات کا حاصل ہے۔

اس کھلی ہوئی سچائی کے باوجود ارتقاء کے حامی اس نظریئے کو ماننے سے بالکل نہیں ہچکچاتے۔ وہ جانتے تھے کہ رکازات کے ریکارڈ کی عدم موجودگی، ڈاروِن کے نظریہ ارتقاء سے ثابت نہیں کی جاسکتی لہٰذا وہ نشان زد توازن کو ماننے پر مجبور ہوگئے۔

مگر خود ڈاروِن کا کہنا تھا کہ انواع کا ارتقاء بتدریج ہوا تھا (یعنی وہ تھوڑی تھوڑی کرکے تبدیل ہوئی تھیں)، جس کے باعث یہ اشد ضروری تھا کہ آدھا پرندہ/ آدھا ہوّام، یا آدھی مچھلی/ آدھا چوپایہ جیسے عجیب الخلقت جانداروں کے رکازات دریافت کئے جائیں۔ تاہم اب تک، ساری تحقیق و تلاش کے بعد بھی ان ’’درمیانی (انتقالی) شکلوں‘‘ کی ایک مثال بھی سامنے نہیں آسکی۔ حالانکہ اس دوران لاکھوں رکازات، زمین سے برآمد ہوچکے ہیں۔ ارتقاء پرست صرف اس لئے نشان زد توازن والے ماڈل سے چمٹ گئے ہیں تاکہ رکازات کی صورت میں ہونے والی اپنی شکست فاش کو چھپا سکیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ نشان زد توازن کو کسی باضابطہ ماڈل کی حیثیت سے اختیار نہیں کیا گیا، بلکہ اسے تو صرف ان مواقع پر راہِ فرار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جہاں تدریجی ارتقاء سے بات واضح نہیں ہو پاتی۔ آج کے ماہرینِ ارتقاء یہ محسوس کرتے ہیں کہ آنکھ، پر، پھیپھڑے، دماغ اور دوسرے پیچیدہ اعضاء علی الاعلان تدریجی ارتقائی ماڈل کو غلط ثابت کررہے ہیں۔ بطورِ خاص انہی نکات پر آکر وہ مجبوراً نشان زد توازن والے ماڈل میں پناہ لینے دوڑے آتے ہیں سو یہ ہے ڈارون کے نظریہ ٴ ارتقاء کا خلاصہ ،جو اس وقت بھی صرف ایک نظریہ ہی تھا اور آج بھی نظریہ سے آگے نہیں بڑھ سکا ۔اس نظریہ کو کوئی ایسی ٹھوس بنیاد مہیا نہیں ہوسکی جس کی بناء پر یہ نظریہ سائنس کا قانون (Scientific Law)بن سکے
آپ کاپی پیسٹ کرنے کی بجائے، کوشش کریں کہ اپنے الفاظ میں اپنی بات پوری کریں۔ ورنہ اس طرح تو محض جنک مواد جمع ہو رہا ہے
 

قیصرانی

لائبریرین
ارتقاء کی مخالفت کرنے والے احباب سے چند سوالات:

1۔ ارتقاء کیا ہے؟ کیا آپ نے اسے بذاتِ خود پڑھا ہے یا دیگر مصنفین کی مذہبی و دیگر تصانیف کو اٹھا کر ان کے نظریات یہاں پیش کر رہے ہیں؟ برادرم ناصر علی مرزا اس کی اچھی مثال ہیں کہ وہ کاپی پیسٹ کئے جا رہے ہیں جبکہ اپنی رائے ان کی نہ ہونے کے برابر ہے
2۔ ڈی این اے، آر این اے اور کروموسوم کی رپلیکیشن کیسے ہوتی ہے؟
3۔ میوٹیشن کیا ہے اور اس سے بچاؤ کا قدرتی نظام کیا ہے؟
 

عثمان

محفلین
اگلی نسل میں تبدیلی کے لئے ڈی این اے میں تبدیلی ضروری ہے :)
عثمان اور حاتم راجپوت بھائی سے سوال ہے کہ مختلف علاقے کے میں پائی جانی والی انسانی نسلیں جیسے یورپین ، چائنیز جنوبی ایشیائی وغیرہ کی آنکھوں میں اور جلد کی رنگت وغیرہ یعنی جسمانی ساخت میں جو فرق ڈی این اے کے فرق سے پایا جاتا ہے۔ سب کے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہونے کے باوجود ۔ تو اس فرق کے آنے کو کیا "انسانی ارتقاء" کی ایک شکل قرار دیا جا سکتا ہے؟ جو بظاہر ماحول اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوا؟ یعنی ماحول اور آب و ہوا انسان کے ڈی این اے پر اثر انداز ہوئے اور انسان کی جسمانی ساخت بلکہ اس پوری نسل کی ساخت کسی حد تک بدل گئی؟
آنکھوں ، بالوں ، جلد کی رنگت ، قد کاٹھ میں فرق یہ سب انسانی ارتقاء کی ہی مثالیں ہیں۔ ان پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں ماحول اور آب و ہوا کے ساتھ ساتھ جنسی انتخاب، اور سماجی کشمکش بھی شامل ہے۔ :)
 
اس نوع کی تحقیق اور جستجو، کیا عام آدمی کا میدان ہے ؟،کیا ہر نوع کا علم حاصل کرنا ہر انسان کے لیے لازمی اور ممکن ہے؟ تحقیق سے منع نہیں ہے لیکن بغیر اہلیت کے تحقیق کا کیا معنی ہو گا اور کس طرح کے گل کھلیں گے ؟
جس نے یہ لڑی شروع کی اس کا بھی اس قسم کی تحقیقی میدان سے کوئی تعلق نہیں اور جنہوں نے دونوں اطراف سے ایسی مستند حوالے دیے کے دونوں اطراف کے حامی دوسری طرف کی بات میں وزن اور اہلیت اور دلیل کے قائل ہوئے ان کا بھی اس قسم کی تحقیق سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں لیکن جنہوں نے تحقیق کی ہے ان کے بارے میں یہاں عام آدمی ہی اپنی اہلیت کے مطابق جاننے کی کوشش کر رہا ہے اور دلائل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جب ایسی بحث ہی حرام قرار پائے گی تو علم کہاں جائے گا؟؟
 
میرا تو مشاہدہ ہے کہ اس قسم کی بحثوں کا فیصلہ ہوتے ہوتے بندوں میں دو چار جینیاتی تبدیلیاں آ ہی جاتی ہیں۔ چنانچہ حوصلہ رکھیے اور بحث جاری رکھیے۔ مجھ میں چونکہ اتنا حوصلہ نہیں ہے تو میں کوئی اور کام کر لیتا ہوں۔ :eat:
او ہو یہ تبدیلی تو فیصلے سے پہلے ہی آگئی ہے ;)
 
یعنی آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بیرونی حالات مثلاً کھینچ کر کسی عضو کو لمبا کرنے سے کرومو سوم اور ڈی این اے میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے ؟ جیسا کہ زرافے کی گردن لمبی کرنے والے کیس میں ہوا ؟؟؟
زرافے کی گردن لمبی کرنے والا نہیں بلکہ ہونے والا کیس :)

کیوں کہ زرافے کی گردن لمبی کرنے کا دعویٰ کسی نے نہیں کیا :ROFLMAO:
 
اگرچہ آپ لوگوں کو ایک معروف تجربے کا علم تو ہو گا لیکن یاد دہانی کے لیے بتائے دیتا ہوں کہ ایک سائنسدان نے مسلسل کئی نسلوں تک چوہوں کی دُم کاٹی لیکن آنے والی نسلوں میں کوئی "ارتقا" نہیں ہوا۔
https://en.wikipedia.org/wiki/August_Weismann
یار حیرت ہے مجھے اس سائنسدان کا نہیں پتہ تھا اب پتہ چل گیا :) کہ سائنسدان ایسی حرکتیں بھی کر سکتے ہیں :p
 
آپ کاپی پیسٹ کرنے کی بجائے، کوشش کریں کہ اپنے الفاظ میں اپنی بات پوری کریں۔ ورنہ اس طرح تو محض جنک مواد جمع ہو رہا ہے

میرے ذہن میں ایک سوال آ رہا تھا کہ اگر یہ ارتقاء جاری عمل ہے تو بندر اور انسان کے بیچ کے مرحلے کی مخلوق تو اب بھی ہونی چاہیے تھی، ارتقاء تو مسلسل جاری ہے نا؟ تو بیچ کی نسلیں کہاں ہیں؟؟ یا ہم یہ سمجھیں کہ جب پہلے ایک آدھ بندر ارتقاء کے مرحلے سے انسان بنے تو اس کے بعد بندروں میں ارتقاء رک گئی لیکن انسانوں میں جاری رہی؟

دراصل میں ایک عام انسان ہوں، جاننا چاہتا ہوں اس لیے میں مزید کھوجنا چاہتا ہوں، کیوں کہ میں کسی حتمی نتیجے کے قریب تلک نہیں، انسان ابھی اس ضمن میں جاننے کے مراحل میں ہے اور جان رہا ہے اس لیے ہر طرف کی بات کہیں سے بھی آئی ہوئی کو پڑھنے سے یہ ہوتا ہے کہ ہم دوسری رائے رکھنے والوں کے رکش میں رکھے تیروں اور ان کی نوعیت سے بھی واقفیت حاصل کر لیتے ہیں عین ممکن ہے کہ اس میں کوئی ایک آدھ سوال ایسا بھی نکل آئے جس کا جواب ہم بھی کہیں سے پڑھ کر اور پھر سمجھ کر یہاں لکھ پائیں۔
جو اب تک کی صورتِ حال ہے اس میں دونوں طرفین ایک دوسرے کے مخالف گامزن ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی سوچ اور ان دونوں طرفین کے بیچ کی خلیج اس وجہ سے ہے کہ انسان ابھی جان رہا ہے اور کھوج رہا ہے اور اس سلسلے میں تلاش اور سوالوں کے جوابات کے حصول کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔ مکمل نہیں جان پایا اس لیے الجھ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے جب وہ حقیقت جان جائے تو پتہ چلے کہ یہ خلیج تو کبھی تھی ہی نہیں اور مذہب، قدرت اور سائنس میں تو ارتقاء کو لے کر کوئی فرق کبھی تھا ہی نہیں بس اس تلاش کے دوران اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کی وجہ سے یا سیکھنے کے مرحلے کی وجہ سے جو بھی ادھ سیکھی سیکھ (نظریہ یا دلیل) ملی اسے باقی لوگوں کی جانب سے آخری بات اور نچوڑ سمجھ کر فتویٰ لگایا جاتا رہا جبکہ ہنوز دلی دور است۔
 

حاتم راجپوت

لائبریرین
یار حیرت ہے مجھے اس سائنسدان کا نہیں پتہ تھا اب پتہ چل گیا :) کہ سائنسدان ایسی حرکتیں بھی کر سکتے ہیں :p
جی ہاں بالکل کرتے رہے ہیں۔ اگر وہ سائنسدان ان چوہوں کیلئے ایسا ماحول بناتا کہ جس میں انہیں دم کی ضرورت نہ رہتی بلکہ دم ان چوہوں کیلئے وبال جان بنتی تو اسی ماحول میں پھر بھی کئی نسلوں کے بعد جا کر ممکن تھا کہ ایسی میوٹیشن ہو جاتی یا اس کے آثار نظر آنے لگتے لیکن اس کیلئے بھی یہ جاننا ضروری ہوتا کہ چوہے کو دم کی ضرورت کیوں ہے۔دم کن افعال میں استعمال ہوتی ہے۔ اگر ان افعال کو ساقط کر دیا جاتا تو بھی ایسا ممکن ہو سکتا تھا۔ :)
 

arifkarim

معطل
مختلف علاقے کے میں پائی جانی والی انسانی نسلیں جیسے یورپین ، چائنیز جنوبی ایشیائی وغیرہ کی آنکھوں میں اور جلد کی رنگت وغیرہ یعنی جسمانی ساخت میں جو فرق ڈی این اے کے فرق سے پایا جاتا ہے۔ سب کے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہونے کے باوجود ۔ تو اس فرق کے آنے کو کیا "انسانی ارتقاء" کی ایک شکل قرار دیا جا سکتا ہے؟ جو بظاہر ماحول اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوا؟ یعنی ماحول اور آب و ہوا انسان کے ڈی این اے پر اثر انداز ہوئے اور انسان کی جسمانی ساخت بلکہ اس پوری نسل کی ساخت کسی حد تک بدل گئی؟
آپکو پہلے بھی اوپر کئی بار یہ باور کر وایا جا چکا ہے کہ یہ سائنسی بحث ہے۔ اسمیں دین و مذہب کے حوالے مت شامل کریں لیکن آپ پھر اوپر حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر لیکر آ گئےہیں۔ آپ شاید یہ بھول رہے ہیں کہ انسان کے ارتقاء کے دوران ہم جیسے اور بہت سے انواع و اجناس موجود تھے جو کہ رفتہ رفتہ خود ہی ناپید ہوتے گئے۔ ان میں Neanderthal کاذکر قابل غور ہے جو کہ بعض سائنسدانوں کے مطابق ہمارے اباؤاجداد کیساتھ ایک لمبا عرصہ تک زندہ رہے اورجسکی معدومیت کے بعد جدید انسان یعنی Homo sapiens باقی بچے:
Humanevolutionchart.png


یاد رہے کہ یہ جدید انسانی ارتقاء کم از کم 2 لاکھ سال قبل افریقہ میں وقوع پذیر ہوا جسکے بعد یہ نسل انسانی ہجرت کرتی ہوئی تمام براعظموں میں پھیل گئی۔ اب آتے ہیں آپکے اصل سوال کی جانب۔ میں جہاں رہتا ہوں یہاں کی 100فیصد مقامی آبادی سفید فام ہے۔ جبکہ قریباً 90 فیصد کے پاس نیلی آنکھیں اور کم و بیش 60 فیصد کے ہاں سفید یا ہلکے بھورے بال ہیں۔ سائنسی ریسرچ یہ بتاتی ہے کہ جدید انسان کے ارتقاء کے وقت اسکی جلد کالی، بال بھی کالے جبکہ آنکھیں مکمل بھورے رنگ کی تھیں۔ لیکن پھر افریقہ کے گرم علاقوں کو چھوڑ کر یورپی اور ایشیائی منجمد علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے انسان ہزاروں سال کےارتقاءکے بعد ماحول دوست جینیاتی تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہو گئے۔ جیسے اسفید جلدوالی تبدیلی قریباً دس ہزار سال قبل رونما ہوئی۔ اسی طرح ہلکے بھورے بال یا blonde جین کا ارتقاء بھی یہیں یورپ میں 11000 سال قبل رونما ہوا۔ اور سب سے آخر میں نیلی آنکھوں کی جینیاتی تبدیلی محض 6000سال قبل بحیرہ اسود کے اردگرد صرف ایک انسان میں اجاگر ہوئی۔ یوں موجودہ تمام نیلی آنکھوں والوں کا مشترک مورث اعلیٰ ایک ہی شخصیت ہے۔ گو کہ نیلی آنکھیں ہر رنگ کی چمڑی والے میں پائیں جاتی ہیں البتہ سفید فام لوگوں میں اسکا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ یہ شاید اسلئے کہ یہ تینوں میوٹیشن (سفید جلد، ہلکے بھورے بال اور نیلی آنکھیں) ایک ہی علاقے یعنی وسطی ایشیا و مشرقی یورپ میں وقوع پزیر ہوئی ہیں۔

آنکھوں ، بالوں ، جلد کی رنگت ، قد کاٹھ میں فرق یہ سب انسانی ارتقاء کی ہی مثالیں ہیں۔ ان پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں ماحول اور آب و ہوا کے ساتھ ساتھ جنسی انتخاب، اور سماجی کشمکش بھی شامل ہے۔ :)
درست لیکن پچھلے کچھ سو سال سے منجمد علاقوں میں رہنے والے سفید فام اور تپتے علاقوں والے سیاہ فام لوگوں نے ایک دوسرے کے روایتی بر اعظموں میں نقل مکانی کر لی ہے۔ جسکے بعد یہاں نت نئی اقسام کی جینیاتی تبدیلیاں ہو سکتی تھیں لیکن شاید اب ایسا ممکن نہیں کیونکہ ہمارا جدید رہن سہن ہمارے اباؤاجداد کی سخت ماحول مخالف زندگی سے بالکل مختلف ہے۔ روزمرہ کے معمولات زندگی میں نہ ہمیں گرمی کی شدت کا خوف ہے نہ سردی سے بچاؤ کیلئے کسی بڑی مشکل کا سامنا۔ یوں ہمنے جدید سائنس کی مدد سے اپنے اجسام کو ماحول دوست بنانے کی بجائے اپنے ماحول کو انسان دوست بنا دیا ہے ۔ لیکن بعض سائنسدانوں کے مطابق ہمارا جدید ٹیکنالوجی سے بڑھتا ہوا رجحان کچھ لاکھ سالوں میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں کر سکتا ہے:
Human-face-in-100000-year-009.jpg

http://www.theguardian.com/science/2013/sep/18/human-faces-in-the-future
 
آخری تدوین:

عثمان

محفلین
میرے ذہن میں ایک سوال آ رہا تھا کہ اگر یہ ارتقاء جاری عمل ہے تو بندر اور انسان کے بیچ کے مرحلے کی مخلوق تو اب بھی ہونی چاہیے تھی، ارتقاء تو مسلسل جاری ہے نا؟ تو بیچ کی نسلیں کہاں ہیں؟؟ یا ہم یہ سمجھیں کہ جب پہلے ایک آدھ بندر ارتقاء کے مرحلے سے انسان بنے تو اس کے بعد بندروں میں ارتقاء رک گئی لیکن انسانوں میں جاری رہی؟
قدیم Apes محض دو شاخوں؛ انسان اور بندر میں ہی تقسیم نہیں ہوئے بلکہ متعدد شاخیں دریافت شدہ ہیں۔ مثلاً تمام انسانی انواع میں سے صرف جدید انسان ہی اب تک زندہ بچا ہے۔ انسانوں کی باقی انواع مثلا نینڈرتھال وغیرہ معدوم ہوتے چلے گئے۔
جبکہ "بندروں" کی بہت سی اقسام معدوم ہوئیں اور بہت سی اب بھی زندہ ہیں۔ جن میں چمپینزی انسان کے قریب تر ہے۔

"بیچ کی مخلوق" سے آپ کی کیا مراد ہے ؟
 
میرے ذہن میں ایک سوال آ رہا تھا کہ اگر یہ ارتقاء جاری عمل ہے تو بندر اور انسان کے بیچ کے مرحلے کی مخلوق تو اب بھی ہونی چاہیے تھی، ارتقاء تو مسلسل جاری ہے نا؟ تو بیچ کی نسلیں کہاں ہیں؟؟ یا ہم یہ سمجھیں کہ جب پہلے ایک آدھ بندر ارتقاء کے مرحلے سے انسان بنے تو اس کے بعد بندروں میں ارتقاء رک گئی لیکن انسانوں میں جاری رہی؟

دراصل میں ایک عام انسان ہوں، جاننا چاہتا ہوں اس لیے میں مزید کھوجنا چاہتا ہوں، کیوں کہ میں کسی حتمی نتیجے کے قریب تلک نہیں، انسان ابھی اس ضمن میں جاننے کے مراحل میں ہے اور جان رہا ہے اس لیے ہر طرف کی بات کہیں سے بھی آئی ہوئی کو پڑھنے سے یہ ہوتا ہے کہ ہم دوسری رائے رکھنے والوں کے رکش میں رکھے تیروں اور ان کی نوعیت سے بھی واقفیت حاصل کر لیتے ہیں عین ممکن ہے کہ اس میں کوئی ایک آدھ سوال ایسا بھی نکل آئے جس کا جواب ہم بھی کہیں سے پڑھ کر اور پھر سمجھ کر یہاں لکھ پائیں۔
جو اب تک کی صورتِ حال ہے اس میں دونوں طرفین ایک دوسرے کے مخالف گامزن ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی سوچ اور ان دونوں طرفین کے بیچ کی خلیج اس وجہ سے ہے کہ انسان ابھی جان رہا ہے اور کھوج رہا ہے اور اس سلسلے میں تلاش اور سوالوں کے جوابات کے حصول کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔ مکمل نہیں جان پایا اس لیے الجھ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے جب وہ حقیقت جان جائے تو پتہ چلے کہ یہ خلیج تو کبھی تھی ہی نہیں اور مذہب، قدرت اور سائنس میں تو ارتقاء کو لے کر کوئی فرق کبھی تھا ہی نہیں بس اس تلاش کے دوران اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کی وجہ سے یا سیکھنے کے مرحلے کی وجہ سے جو بھی ادھ سیکھی سیکھ (نظریہ یا دلیل) ملی اسے باقی لوگوں کی جانب سے آخری بات اور نچوڑ سمجھ کر فتویٰ لگایا جاتا رہا جبکہ ہنوز دلی دور است۔

homino_tree_old.gif


میرے خیال میں یہ کافی واضح شجرہ ہے۔
 
Top