اقتباسات حیرت انگیز قرآن -پروفیسرگیری ملر

حیرت انگیز قرآن
تحریر: پروفیسرگیری ملر
اساک یونی ورسٹی، ترکی
ترجمہ: ذکی الرحمن غازی ندوی
‘‘قرآن حیرت انگیز کتاب ہے ’’۔اس بات کا اعتراف صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیرمسلم حضرات حتیٰ کہ اسلام کے کھلے دشمن بھی کرتے ہیں۔ عموماً اس کتاب کو پہلی با ر باریکی سے مطالعہ کرنے والوں کو اس وقت گہرا تعجب ہوتا ہے جب ان پر منکشف ہوتا ہے کہ یہ کتاب فی الحقیقت ان کے تمام سابقہ مفروضات اور توقعات کے برعکس ہے۔ یہ لوگ فرض کیے ہوتے ہیں کہ چونکہ یہ کتاب چودہ صدی قبل کے عربی صحراء کی ہے اس لیے لازماً اس کا علمی اور ادبی معیار کسی صحراء میں لکھی گئی قدیم، مبہم اور ناقابلِ فہم تحریر کا سا ہوگا۔ لیکن اس کتاب کو اپنی توقعات کے خلاف پاکر ان کو گہرا تعجب ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے پہلے سے تیار مفروضہ کے مطابق ایسی کتاب کے تمام موضوعات اور مضامین کا بنیادی خیال یا عمود صحراء اور اس کی مختلف تفصیلات مثلاً صحرائی مناظر کی منظر کشی، صحرائی نباتات کا بیان،صحرائی جانوروں کی خصوصیات وغیرہ ہو نا چاہیے۔ لیکن قرآن اس باب میں بھی مستثنیٰ ہے۔ یقیناً قرآن میں بعض مواقع پر صحرا ء اور اس کے مختلف حالات سے تعرض کیا گیا ہے، لیکن اس سے زیادہ بار اس میں سمندر کی مختلف حالتوں کا تذکرہ وارد ہوا ہے، خاص طور سے اس وقت جب سمندرآندھی، طوفان، بھنور وغیرہ اپنی ساری تباہ کاریوں کے ساتھ جلوہ نما ہوتا ہے۔
ٹورنٹو میں مقیم ایک جہاز راں تاجر(Marine Merchant)کا قصہ
اب سے کچھ سال پہلے ہم نے ٹورنٹو میں مقیم ایک جہاز راں تاجر(Marine Merchant) کا قصہ سنا۔ اس تاجر نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ سمندر میں گزارا تھا، کسی مسلمان ساتھی نے اس کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کے لیے دیا۔اس جہاز راں تاجر کو اسلام یا اسلامی تاریخ سے کچھ واقفیت نہ تھی، لیکن اس کو یہ ترجمہ بہت پسند آیا۔ قرآن لوٹاتے ہوئے اس نے مسلمان دوست سے پوچھا :یہ محمد کوئی جہاز راں تھے؟گویااس کو قرآن کی جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ سمندر اور اس کے طوفانی حالات سے متعلق قرآن کا سچا اور باریک بیں تبصرہ اور مسلمان کا یہ بتا دینا کہ’‘‘‘ در حقیقت محمدﷺ ایک صحرا نشیں انسان تھے‘‘اس تاجر کے اسلام لانے کے لیے کافی ثابت ہوا۔ اس جہاز راں کا بیان تھا کہ وہ بذاتِ خود اپنی زندگی میں بارہا سمندر کے نامساعد حالات کا سامنا کر چکا ہے اور اسے کا مل یقین ہے کہ قرآن میں مذکور سمندر کے طوفانی حالات کی منظر کشی صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو براہ راست اس کا مشاہدہ کر چکا ہو۔ ورنہ ان حالات کا ایساخاکہ کھینچنا انسانی تخیل کے بس کی بات نہیں :
أَوْکَظُلُمَاتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَغْشَاہُ مَوْجٌج مِّن فَوْقِہِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِہِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ اِذَا أَخْرَجَ یَدَہُ لَمْ یَکَدْ یَرَاہَا (النور: ۴۰)
‘‘ا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اُس کے اوپر بادل، تاریکی پر تاریکی مسلط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے۔’’
مذکور بالا قرآنی نقشہ کسی ایسے ذہن کی پیداوار نہیں ہو سکتا جو عملی طور پر ان حالات کو برت نہ چکا ہو اور جس کو تجربہ نہ ہو کہ سمندری طوفان کے گرداب میں پھنسے انسانوں کے احساسات اور جذبات کیا ہوتے ہیں۔ یہ ایک واقعہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ قرآن کو کسی خاص زمانہ یا مقام سے مقید و مربوط نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر اس کے علمی مضامین اور آفاقی سچائیاں چودہ سو سال پہلے کے کسی صحرا نشیں ذہن کی تخلیق ہرگز نہیں ہو سکتی ہیں۔
ایٹم(ذرہ) کے متعلق ایک معروف نظریہ
بعثتِ محمدی ﷺ سے بہت پہلے دنیا میں ایٹم(ذرہ) کے متعلق ایک معروف نظریہ (Theory of Atom) موجود تھا۔ اس نظریہ کی تشکیل میں یونانی فلاسفہ خصوصاً ڈیموکرائیٹس (Democritus) کی کاوشوں کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ تا آنکہ بعد میں آنے والی نسلوں میں اس نظریہ کو مسلم الثبوت واقع کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ وہ نظریہ کیا تھا ؟یونانی فلسفہ کی رو سے ہر مادی شے کچھ چھوٹے چھوٹے اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے۔یہ اجزاء (ذرات) اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ہماری قوتِ بینائی ان کا ادراک نہیں کر پاتی، اور یہ ناقابلِ تقسیم ہوتے ہیں۔ عربوں کے یہاں بھی ایٹم کا یہی تصور رائج تھا، اور حقیقت یہ ہے کہ آج بھی عربی زبان میں ذرہ کے لفظ کاکسی بھی مادی شے کے ادنیٰ ترین جز پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ لیکن جدید سائنس کی رو سے کسی بھی شے کا چھوٹے سے چھوٹا جز (ذرہ)بھی عنصری خصوصیات کا حامل ہوا کرتا ہے۔ یہ جدید نظریہ جس کے واقعاتی شواہد موجود ہیں دورِ حاضر کی پیداوار ہے، اور عصرِ حاضر سے پہلے اس کا وجود علمی دنیا میں ناپید تھا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ موجودہ دور کی اس دریافت(Discovery) کا تذکرہ چودہ صدی قبل نازل شدہ قرآن مجید میں پایا جاتا ہے:
وَمَا یَعْزُبُ عَن رَّبِّکَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ فِیْ السَّمَاء وَلاَ أَصْغَرَ مِن ذَلِکَ وَلا أَکْبَرَ اِلاَّ فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ (یونس:۶۱)
‘‘کوئی ذرہ برابر چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے، نہ اس سے چھوٹی نہ بڑی، جو تیرے رب کی نظر سے پوشیدہ ہو اور ایک صاف دفتر میں درج نہ ہو۔’’
اس میں شک نہیں کہ چودہ صدی قبل کے عرب باشندے جو کہ کسی شے کے ادنیٰ ترین جز کو ذرہ کے نام سے جانتے تھے، ان کو قرآن کی یہ تصریح بڑی غیر فطری اور غیر مانوس معلوم ہوئی ہوگی۔لیکن در حقیقت یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ زمانہ اپنی تیز رفتاری کے باوجود قرآن پر سبقت نہیں لے جا سکتا۔
صحتِ عامہ اور متداول طریقہ ہائے علاج
عام طور پر کسی قدیم تاریخی کتاب کا مطالعہ کرنے والا اس بات کی بجا طور پر توقع رکھتا ہے کہ اس کے مضامین و فرمودات کے ذریعہ وہ اس زمانے کی صحتِ عامہ اور متداول طریقہ ہائے علاج کے متعلق کافی معلومات اکٹھا کر سکے گا۔دوسری تاریخی کتابوں مثلاً بائبل، وید، اوستھا وغیرہ میں واقعۃً ایسا ہے بھی، لیکن قرآن یہاں بھی یکتا ومنفرد ہے۔ یقیناً متعدد تاریخی مصادر میں ہمیں اس بات کا تذکرہ ملتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺنے صحت و صفائی کی بعض ہدایتیں اور نصیحتیں عنایت فرمائی ہیں۔ لیکن ان کا تفصیلی تذکرہ قرآن میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ بادی النظر میں غیر مسلموں کو یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مفید طبی معلومات کو کتابِ محفوظ میں کیوں شامل نہیں فرما دیا؟
بعض مسلم دانشوروں نے اس مسئلے کی اس طرح تشریح کی ہے:اگرچہ طب سے متعلق اللہ کے رسولﷺ کے ارشادات اور ہدایتیں مبنی بر صحت اور قابلِ عمل ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم و حکمت میں یہ بات تھی کہ آئندہ زمانوں میں سائنس اور میڈیسن (Medicine)کے میدانوں میں بے مثال ترقی ہوگی جس کے نتیجے میں روایتی طبی ہدایتیں پرانی اور فرسودہ (Outdated) سمجھی جانے لگیں گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صرف اسی قسم کی معلومات کو درج فرمایا جو تغیرِ زمانہ سے متاثر نہ ہو سکیں۔ میری ناقص رائے میں اگر ہم قرآنی حقائق کو وحی الٰہی مان کر چلیں تو زیرِ بحث موضوع درست طریقے سے سمجھا جا سکے گا اور مذکورہ بالا بحث اور مناقشے کی غلطی بھی واضح ہو جائے گی۔
قرآن اللہ کی وحی ہے،
سب سے پہلے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ قرآن اللہ کی وحی ہے، اس لیے اس میں وارد تمام معلومات کا سرچشمہ بھی وہی ذاتِ برحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو اپنے پاس سے وحی کیا اور یہ اس کلامِ الٰہی میں سے ہے جو تخلیقِ کائنات سے پہلے بھی موجود تھا۔اس لیے اس میں کوئی اضافہ، کمی اور تبدیلی ممکن نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کریم تو محمدﷺ کی ذات اور آپ کی ہدایات و نصائح کے وقوع پذیر ہونے سے بہت پہلے وجود میں آ کر مکمل ہو چکا تھا۔اور ایسی تمام معلومات جو کسی متعین عہد یا مقام کے خاص طرزِ فکر و طرزِ حیات سے متعلق ہوں کلامِ الٰہی میں داخلہ نہیں بنا سکتیں۔کیونکہ ایسا ہونا واضح طور پر قرآن کے مقصدِ وجود کے منافی ہے اور یہ چیز اس کی حقانیت، رہتی دنیا تک کے لیے اس کی رہنمائی کی صلاحیت،بلکہ اس کے خالص وحی الٰہی (Pure Divine Revelation)ہونے پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر سکتی ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن ایسا کوئی نسخۂ علاج (Home Remedies)تجویز نہیں کرتا جو مرورِ ایام کے ساتھ اپنی افادیت کھو دے، اور نہ اس میں اس ٹائپ کی کوئی رائے ذکر کی جاتی ہے کہ فلاں غذا افضل ہے یا فلاں دوا اس اس مرض میں شفا بخش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن نے صرف ایک چیز کو طبی علاج کے ضمن میں ذکر کیا ہے اور میری معلومات کی حد تک آج تک کسی نے اس کی مخالفت بھی نہیں کی ہے۔ قرآن نے صراحت کے ساتھ شہد(Honey) کو شفا قرار دیا ہے اور میری معلومات کی حد تک کسی نے آج تک اس کا انکار بھی نہیں کیا۔ اگر کوئی یہ مفروضہ رکھتا ہے کہ قرآن، کسی انسانی عقل کا کارنامہ ہے، تو بجا طور پر ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ ہم اس کتاب کے تالیف کرنے والے کے فکری و عقلی رجحانات کا کچھ نہ کچھ پر تو (Reflection) اس میں ضرور ڈھونڈ نکالیں گے۔

واقعہ یہ ہے کہ متعدد انسائیکلو پیڈیاز (Encyclopedias) اور نام نہاد علمی کتابوں میں بھی قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وارد ہونے والے خیالات و توہمات (Hallucinations)کی پیداوار بتایا گیا ہے۔ (العیاذ باللہ) چنانچہ ضروری ہے کہ ہم خود قرآن میں اس دعوے کی صحت و عدمِ صحت کے ثبوت و دلائل تلاش کریں۔ لیکن کیا قرآن میں ایسے دلائل یا اشارے موجود ہیں ؟یہ جاننے سے پہلے یہ جاننا بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ معینہ اشیاء کیا ہیں جو صاحبِ کتاب کے ذہن و دماغ میں ہر آن گردش کرتی رہتی تھیں ؟اس کے بعد ہی ہم فیصلہ کر سکیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کن کن افکار نے قرآن میں اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
مضمون میں چند باتیں قابل اعتراض ہیں، جیسا کہ:
اب سے کچھ سال پہلے ہم نے ٹورنٹو میں مقیم ایک جہاز راں تاجر(Marine Merchant) کا قصہ سنا۔ اس تاجر نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ سمندر میں گزارا تھا، کسی مسلمان ساتھی نے اس کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کے لیے دیا۔اس جہاز راں تاجر کو اسلام یا اسلامی تاریخ سے کچھ واقفیت نہ تھی، لیکن اس کو یہ ترجمہ بہت پسند آیا۔ قرآن لوٹاتے ہوئے اس نے مسلمان دوست سے پوچھا :یہ محمد کوئی جہاز راں تھے؟گویااس کو قرآن کی جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ سمندر اور اس کے طوفانی حالات سے متعلق قرآن کا سچا اور باریک بیں تبصرہ اور مسلمان کا یہ بتا دینا کہ’‘‘‘ در حقیقت محمدﷺ ایک صحرا نشیں انسان تھے‘‘اس تاجر کے اسلام لانے کے لیے کافی ثابت ہوا۔ اس جہاز راں کا بیان تھا کہ وہ بذاتِ خود اپنی زندگی میں بارہا سمندر کے نامساعد حالات کا سامنا کر چکا ہے اور اسے کا مل یقین ہے کہ قرآن میں مذکور سمندر کے طوفانی حالات کی منظر کشی صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو براہ راست اس کا مشاہدہ کر چکا ہو۔ ورنہ ان حالات کا ایساخاکہ کھینچنا انسانی تخیل کے بس کی بات نہیں :
یہ تو براہ راست کہا جا رہا ہے کہ قرآن پاک نعوذ باللہ نبی پاک ص کا کلام ہے
اس میں شک نہیں کہ چودہ صدی قبل کے عرب باشندے جو کہ کسی شے کے ادنیٰ ترین جز کو ذرہ کے نام سے جانتے تھے، ان کو قرآن کی یہ تصریح بڑی غیر فطری اور غیر مانوس معلوم ہوئی ہوگی۔لیکن در حقیقت یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ زمانہ اپنی تیز رفتاری کے باوجود قرآن پر سبقت نہیں لے جا سکتا۔
یہ تو وہی نظریہ ہے جو قبل مسیح سے چلا آ رہا ہے۔ یہ اسی تسلسل کو جاری رکھنے والی بات ہوئی
میری معلومات کی حد تک آج تک کسی نے اس کی مخالفت بھی نہیں کی ہے۔ قرآن نے صراحت کے ساتھ شہد(Honey) کو شفا قرار دیا ہے اور میری معلومات کی حد تک کسی نے آج تک اس کا انکار بھی نہیں
یہ معلومات پرانی ہو چکی ہیں۔ شوگر کے مریض کے لئے شہد بھی اسی طرح نقصان دہ ہو سکتا ہے جیسا کہ چینی
مذکور بالا قرآنی نقشہ کسی ایسے ذہن کی پیداوار نہیں ہو سکتا جو عملی طور پر ان حالات کو برت نہ چکا ہو اور جس کو تجربہ نہ ہو کہ سمندری طوفان کے گرداب میں پھنسے انسانوں کے احساسات اور جذبات کیا ہوتے ہیں

براہ کرم، یہ میری اپیل ہے کہ سائنس کو کھینچ تان کر مذہب پر فٹ کرنے کی کوشش نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے
 
مضمون میں چند باتیں قابل اعتراض ہیں، جیسا کہ:
یہ تو براہ راست کہا جا رہا ہے کہ قرآن پاک نعوذ باللہ نبی پاک ص کا کلام ہے
یہ تو وہی نظریہ ہے جو قبل مسیح سے چلا آ رہا ہے۔ یہ اسی تسلسل کو جاری رکھنے والی بات ہوئی

یہ معلومات پرانی ہو چکی ہیں۔ شوگر کے مریض کے لئے شہد بھی اسی طرح نقصان دہ ہو سکتا ہے جیسا کہ چینی

براہ کرم، یہ میری اپیل ہے کہ سائنس کو کھینچ تان کر مذہب پر فٹ کرنے کی کوشش نہ ہی کی جائے تو بہتر ہے
1-آپ کا اور میرا ایمان تو درست عقیدے پر ہے نہ ، اور یہ غیر مسلم کی رائے ہےواقعہ یہ ہے کہ متعدد انسائیکلو پیڈیاز (Encyclopedias) اور نام نہاد علمی کتابوں میں بھی قرآن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وارد ہونے والے خیالات و توہمات (Hallucinations)کی پیداوار بتایا گیا ہے۔ (العیاذ باللہ)
2-اگر ایک بات حقیقت ہے تو اس کے تسلسل میں کیا قباحت ہے
3-ابھی بھی میرے علم کے مطابق شوگر کے مریض کو شہد سے منع نہیں کیا جاتا ہے پھر میڈیکل سائنس تو ارتقاء پزیر ہے - حتمی رائے تو قرآن کی ہے ہمارے نزدیک -
4-اگر مطابقت ہو تو اس کو بیان کرنے میں کیا حرج ہے -
 

قیصرانی

لائبریرین
اگر مطابقت ہو تو اس کو بیان کرنے میں کیا حرج ہے -
دیکھئے محترم، سائنس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اس میں کوئی بھی بات حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ اب آج جو کچھ مطابقت ہے، اگر کل کو وہ غلط ثابت ہوئی تو کیا نتیجہ نکلے گا؟
 
دیکھئے محترم، سائنس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اس میں کوئی بھی بات حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ اب آج جو کچھ مطابقت ہے، اگر کل کو وہ غلط ثابت ہوئی تو کیا نتیجہ نکلے گا؟
کوئی بھی میں سب شامل نہیں ہیں ، کچھ حقائق اٹل ہوتے ہیں
 

قیصرانی

لائبریرین
کوئی بھی میں سب شامل نہیں ہیں ، کچھ حقائق اٹل ہوتے ہیں
چلئے اگر آپ قرآن پاک کو سائنس کی کتاب سمجھنے پر آمادہ ہیں تو قرآن پاک سے مجھے کلوننگ کا عمل لا کر دکھائیے
قرآن پاک میں آسمانوں کی تعداد دیکھئے اور سائنس کے مطابق آسمان کی تعداد دیکھئے اور پھر دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر دیکھئے

ایسی بے شمار باتیں آپ کو مل جائیں گی کہ سائنس اور قرآن ایک دوسرے کے متضاد دکھائیں دیں گے۔ کیا آپ قرآن پاک کو جھٹلائیں گے کہ سائنس کو؟ حالانکہ ایک کتاب آپ کی اصلاح کے لئے ہے اور دوسرا علم آپ کو بالکل ہی الگ طرف لے جاتا ہے
 

زیک

مسافر
ٹورنٹو میں مقیم ایک جہاز راں تاجر(Marine Merchant)کا قصہ
اب سے کچھ سال پہلے ہم نے ٹورنٹو میں مقیم ایک جہاز راں تاجر(Marine Merchant) کا قصہ سنا۔ اس تاجر نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ سمندر میں گزارا تھا، کسی مسلمان ساتھی نے اس کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کے لیے دیا۔اس جہاز راں تاجر کو اسلام یا اسلامی تاریخ سے کچھ واقفیت نہ تھی، لیکن اس کو یہ ترجمہ بہت پسند آیا۔ قرآن لوٹاتے ہوئے اس نے مسلمان دوست سے پوچھا :یہ محمد کوئی جہاز راں تھے؟گویااس کو قرآن کی جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ سمندر اور اس کے طوفانی حالات سے متعلق قرآن کا سچا اور باریک بیں تبصرہ اور مسلمان کا یہ بتا دینا کہ’‘‘‘ در حقیقت محمدﷺ ایک صحرا نشیں انسان تھے‘‘اس تاجر کے اسلام لانے کے لیے کافی ثابت ہوا۔ اس جہاز راں کا بیان تھا کہ وہ بذاتِ خود اپنی زندگی میں بارہا سمندر کے نامساعد حالات کا سامنا کر چکا ہے اور اسے کا مل یقین ہے کہ قرآن میں مذکور سمندر کے طوفانی حالات کی منظر کشی صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو براہ راست اس کا مشاہدہ کر چکا ہو۔ ورنہ ان حالات کا ایساخاکہ کھینچنا انسانی تخیل کے بس کی بات نہیں :
أَوْکَظُلُمَاتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَغْشَاہُ مَوْجٌج مِّن فَوْقِہِ مَوْجٌ مِّن فَوْقِہِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ اِذَا أَخْرَجَ یَدَہُ لَمْ یَکَدْ یَرَاہَا (النور: ۴۰)
‘‘ا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اُس کے اوپر بادل، تاریکی پر تاریکی مسلط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے۔’’
مذکور بالا قرآنی نقشہ کسی ایسے ذہن کی پیداوار نہیں ہو سکتا جو عملی طور پر ان حالات کو برت نہ چکا ہو اور جس کو تجربہ نہ ہو کہ سمندری طوفان کے گرداب میں پھنسے انسانوں کے احساسات اور جذبات کیا ہوتے ہیں۔ یہ ایک واقعہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ قرآن کو کسی خاص زمانہ یا مقام سے مقید و مربوط نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر اس کے علمی مضامین اور آفاقی سچائیاں چودہ سو سال پہلے کے کسی صحرا نشیں ذہن کی تخلیق ہرگز نہیں ہو سکتی ہیں۔
اس لاجک کو دوسرے انداز سے بھی لیا جا سکتا ہے (جیسے کرون اور کک) کہ قرآن صحرا میں نہیں لکھا گیا بلکہ ایسی جیسا وجود مین آیا جہاں جہازرانی عام تھی۔
 

arifkarim

معطل
4-اگر مطابقت ہو تو اس کو بیان کرنے میں کیا حرج ہے -

بھائی میں آپکو ایک اور پوسٹ میں بیان کر چکا ہوں کہ سائنس ایک تاریخی ارتقائی عمل ہے اور اس سے حاصل شدہ حقائق و دلائل انسانی مشاہدات، تجربات اور واقعات میں تبدیلی کے بعد بدلتے رہتے ہیں۔ آپ جن سائنسی علوم کو اسلامی و دینی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کل کلاں کو اگر وہ تبدیل ہو گئے تو پھر آپ کہاں منہ چھپاتے پھریں گے؟ یا انہی آیات و احادیث کے متراجم اور تشریحات کو نئی سائنسی سمجھ بوجھ کے مطابق تبدیل کردیں گے؟ :D
http://en.wikipedia.org/wiki/History_of_science
 

arifkarim

معطل
کوئی بھی میں سب شامل نہیں ہیں ، کچھ حقائق اٹل ہوتے ہیں

ہاہاہا۔ سائنس میں کوئی چیز اٹل نہیں ہے۔ سائنس میں کوئی بھی نظریہ صرف اسی وقت تک قائم رہتا ہے جب تک اسکو تجربات، مشاہدات کی رو سے غلط ثابت نہ کر دیا جائے۔ آجکل کی جدید سائنس اگلے سو سالوں یا ہزار سالوں کی سائنس کے سامنے محض ایک لطیفہ ہوگی۔ :D
 

arifkarim

معطل
حالانکہ ایک کتاب آپ کی اصلاح کے لئے ہے اور دوسرا علم آپ کو بالکل ہی الگ طرف لے جاتا ہے

درست۔ ابھی تک کسی ایک بھی سائنسی ایجاد یا تھیوری کا سہرا قرآنی آیات کو نہیں دیاگیا ہے۔ لیکن اس حقیقت کے باوجودآجکل کے بعض ممتاز نام نہاد عالم دین اور اسکالرز اس بات پر مسر ہیں کہ سائنس اور اسلام میں کوئی شے متضاد نہیں ہے یوں بجائے اسکے کہ لوگوں کو سائنس پڑھنے سمجھنے کی ترغیب دی جائے الٹا بندے کو سوڈو سائنس یعنی جعلی سائنس کی فیلڈ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس بارہ میں پاکستانی پروفیسر ہود بھائی کا یہ بیان قابل غور ہے:
http://en.wikipedia.org/wiki/Scient...d_texts#Criticism_of_pseudoscientific_thought
 
آخری تدوین:
محترم arifkarim صاحب ،قیصرانی صاحب ابھی تک آپ کی باتوں سے چند نقاط / سوالات سامنے آ ئے ہیں ( اگر آ پ ان نقاط میں کسی غلطی کی تصحیح کرنا چاہتے ہیں توبہتر) تو میں کوشش کروں گا اس پر بات کر سکوں ، انشااللہ آپ کو اپنی ناقص رائے دوں گا آپ میرے سے زیادہ باعلم با شعور ہیں اور پھربات کا مقصد افہام و تفہیم ہے ( ہار جیت اور انا کا مسئلہ نہیں) آپ بھی اس بارے میں موضوع کے مطابق اگر کچھ مزید آگاہی فراہم کر سکیں تو نوازش ہو گی

قرآن کا سائنس / علم پر کیا بیان ہے؟
آجکل کی سائنس اور قرآن میں متضاد حقائق ہیں متفق ( لیکن کیا مکمل غیر مطابقت ہے؟)
تو(متضادحقائق پر) بطور مسلم ہمارا کیا موقف ہوگا ؟اور کیوں؟
کیا قرآن کا کوئی دعوی آج تک غلط ثابت کیا گیا ہے؟
سائنس میں کوئی چیز اٹل نہیں ہے ؟ کیا بنیادی حقائق بھی تغیر پذیر ہیں یا سائنس کے تمام تصوارت تغیر پذیرہیں ؟
جن افراد نے کسی جدید سائنسی حقیقت کو۱۴۰۰ سال قبل نازل کردہ قرآ ن میں پایا تو اس کا کیا ردعمل تھا ؟
جن سائنسی علوم کو اسلامی و دینی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کل کلاں کو اگر وہ تبدیل ہو گئے تو پھر ہمارا کیا موقف ہوگا؟
 

قیصرانی

لائبریرین
درست۔ ابھی تک کسی ایک بھی سائنسی ایجاد یا تھیوری کا سہرا قرآنی آیات کو نہیں دیاگیا ہے۔ لیکن اس حقیقت کے باوجودآجکل کے بعض ممتاز نام نہاد عالم دین اور اسکالرز اس بات پر مسر ہیں کہ سائنس اور اسلام میں کوئی شے متضاد نہیں ہے یوں بجائے اسکے کہ لوگوں کو سائنس پڑھنے سمجھنے کی ترغیب دی جائے الٹا بندے کو سوڈو سائنس یعنی جعلی سائنس کی فیلڈ میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس بارہ میں پاکستانی پروفیسر ہود بھائی کا یہ بیان قابل غور ہے:
http://en.wikipedia.org/wiki/Scient...d_texts#Criticism_of_pseudoscientific_thought
اوہو، جنات والا دھاگہ تو اب کوئی اور ہی رنگ اختیار کر جائے گا کہ ایٹمی توانائی جنات کا کرشمہ ہے :)
 

قیصرانی

لائبریرین
محترم arifkarim صاحب ،قیصرانی صاحب ابھی تک آپ کی باتوں سے چند نقاط / سوالات سامنے آ ئے ہیں ( اگر آ پ ان نقاط میں کسی غلطی کی تصحیح کرنا چاہتے ہیں توبہتر) تو میں کوشش کروں گا اس پر بات کر سکوں ، انشااللہ آپ کو اپنی ناقص رائے دوں گا آپ میرے سے زیادہ باعلم با شعور ہیں اور پھربات کا مقصد افہام و تفہیم ہے ( ہار جیت اور انا کا مسئلہ نہیں) آپ بھی اس بارے میں موضوع کے مطابق اگر کچھ مزید آگاہی فراہم کر سکیں تو نوازش ہو گی

قرآن کا سائنس / علم پر کیا بیان ہے؟
آجکل کی سائنس اور قرآن میں متضاد حقائق ہیں متفق ( لیکن کیا مکمل غیر مطابقت ہے؟)
تو(متضادحقائق پر) بطور مسلم ہمارا کیا موقف ہوگا ؟اور کیوں؟
کیا قرآن کا کوئی دعوی آج تک غلط ثابت کیا گیا ہے؟
سائنس میں کوئی چیز اٹل نہیں ہے ؟ کیا بنیادی حقائق بھی تغیر پذیر ہیں یا سائنس کے تمام تصوارت تغیر پذیرہیں ؟
جن افراد نے کسی جدید سائنسی حقیقت کو۱۴۰۰ سال قبل نازل کردہ قرآ ن میں پایا تو اس کا کیا ردعمل تھا ؟
جن سائنسی علوم کو اسلامی و دینی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کل کلاں کو اگر وہ تبدیل ہو گئے تو پھر ہمارا کیا موقف ہوگا؟
قرآن کا سائنس یا علم کے بارے ایک ہی عمومی رویہ ہے، تحقیق کرو۔۔۔
متضاد حقائق پر ہمیں بطور مسلمان سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کہ حقیقت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ غلط فہمیاں اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ ہم حقائق کو اپنی مرضی سے منتخب یا رد کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسلامی نکتہ نظر سے بھی حق کو جاننے کے بعد اس کا انکار کفر کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات یاد رہے کہ اگر ہم مکمل یا ادھوری مطابقت کی بات کرتے ہیں تو لازمی طور پر ہمیں یہ بھی ضمانت دینی ہوگی کہ اگر سائنس نے ایک چیز ثابت کر دی ہے تو اسے محض اس وجہ سے رد کر دیا جائے کہ وہ ہمارے مذہبی عقائد کے خلاف ہے؟
قرآن کے دعویٰ کو کسی نے اگر غلط ثابت کر دیا تو کیا آپ اس کی زندگی کی ضمانت دے سکتے ہیں؟ میرا ایک کزن جو کہ بہت ہی زیادہ جہادی رہ چکا ہے، وہ بتا رہا تھا کہ قرآن کے مطابق کوئی نہیں جانتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے، آج کل تھری ڈی الٹرا سانو گرافی اور دیگر تکنیک سے آپ بچے کو پوری طرح دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح بارش کو رحمت سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جہاں اللہ چاہے، برسا دے۔ آج مصنوعی بارش ایک حقیقت بن چکی ہے اور بہت سارے ممالک اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میرا کزن ان امور پر اسی وجہ سے بات نہیں کر پاتا کہ اگر اس نے یہ دو باتیں عام پبلک میں کر دیں تو اس کی موت یقینی ہے۔ اسی طرح دل سے سوچنا یا دل کا اچھا یا برا ہونا بھی ہے۔ آپ نے اگر معمولی سی بھی سائنس پڑھی ہوگی تو جانتے ہوں گے کہ دل کا کیا کام اور دماغ کا کیا کام؟ اسی طرح اگر آپ مزید چاہیں تو اس موضوع پر ایک اور پوسٹ کر سکتا ہوں
سائنس کے تقریباً تمام ہی نظریات ایسے ہیں جن پر بات ہوتی ہے اور چاہے جتنے بڑے یا جتنی بنیادی نظریئے کی مخالفت میں بات کر لیں، اگر آپ کے پاس دلیل اور ثبوت ہیں تو آپ کی بات درست ہوگی، چاہے وہ پوری دنیا کی سائنس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو
1400 سال قبل نازل کردہ قرآن کی ابتدائی آیت کی تھی؟ اقراء، یعنی پڑھ۔۔۔
علوم کو کسی مذہب کے نکتہ نظر سے نہ دیکھئے۔ اس سے محض الجھنیں پیدا ہوں گی اور اس سے آپ آگے نہیں بڑھ سکیں گے

کیا آپ ان نکات پر اپنی رائے دے سکتے ہیں؟ اس طرح بات کو آگے بڑھانے میں آسانی رہے گی
 
یہ تو براہ راست کہا جا رہا ہے کہ قرآن پاک نعوذ باللہ نبی پاک ص کا کلام ہے
ایسا نہیں ہے، اصل میں مضمون نگار نے یہ مثال دیکر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قرآن پاک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف نہیں ہے۔۔۔دلیل اسکی یہ ہے کہ سمندر ی طوفان کی جو منظر کشی قرآن میں کی گئی ہے وہ وہی کر سکتا ہے جو اس تجرے سے گذرا ہو، جکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ساری زندگی انہوں نے سمندر کا سفر نہیں کیا ۔۔۔ صحرائی علاقے میں ہی زندگی گذاری۔۔۔چنانچہ مضمون نگار اس نتیجے پر پہنچا کہ قرآن مجید حضور پاک کی تصنیف نہیں ہے
 
آپ کا بیان - متضاد حقائق پر ہمیں بطور مسلمان سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کہ حقیقت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
جواب - اور ہمارا دین (مذہب ) ہے ہی سارے کا سارا حقیقت - اسلام مترادف ہے سچائی اور حقیقت کے – یہ دعوی قرآن کریم کا ہے اور دنیا (ماہر ترین افراد) زور لگا چکی ہے لیکن قرآن کریم میں ان کو کوئی غلطی نہیں مل سکی ،
‘‘کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی۔’’
یہ قرآن کا سیدھا اور کھلا چیلنج ہے۔ یہ اصلاً منکرین کو سیدھی دعوت دیتا ہے کہ وہ اس میں کوئی خطا یا غلطی نکال کر دکھائیں۔

آپ کا بیان -غلط فہمیاں اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ ہم حقائق کو اپنی مرضی سے منتخب یا رد کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسلامی نکتہ نظر سے بھی حق کو جاننے کے بعد اس کا انکار کفر کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات یاد رہے کہ اگر ہم مکمل یا ادھوری مطابقت کی بات کرتے ہیں تو لازمی طور پر ہمیں یہ بھی ضمانت دینی ہوگی کہ
اگر سائنس نے ایک چیز ثابت کر دی ہے تو اسے محض اس وجہ سے رد کر دیا جائے کہ وہ ہمارے مذہبی عقائد کے خلاف ہے؟
جواب - جی اس کو رد کر دیا جائے گا،
آپ کے پاس دو مدعی ہیں ایک (سائنس عقل) کا دعوی ہی ہے کہ اس کا علم ناقص ہے اور ارتقا پذیر ہے آپ اس کو مانتے ہیں
دوسرا مدعی (اسلام ، قرآن) کہتا ہے کہ اس کا علم اٹل ہے وہ اپنے بیان کردہ حقائق کو بطور چیلنج پیش کرتا ہے اور کسی علم کے ماہر ترین افراد جب اس کی حقیقتوں کو پرکھتے ہیں تو سر تسلیم خم کر لیتے ہیں – التماس ہے میں نے ماہر ترین افراد کہا ہے آپ اس کو خاص طور پر مد نظر رکھیں ،ان ماہرین کی بہت سی مثالیں ہیں جن میں پروفیسرگیری ملر( Abdul-Ahad Omar ) ایک ہیں
باقی بات کا جواب بعد میں، یہاں نماز کا وقت ہے اور پھرجواب کو کچھ ترتیب بھی دینا ہے
 

زیک

مسافر
آپ کا بیان - متضاد حقائق پر ہمیں بطور مسلمان سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کہ حقیقت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
جواب - اور ہمارا دین (مذہب ) ہے ہی سارے کا سارا حقیقت - اسلام مترادف ہے سچائی اور حقیقت کے – یہ دعوی قرآن کریم کا ہے اور دنیا (ماہر ترین افراد) زور لگا چکی ہے لیکن قرآن کریم میں ان کو کوئی غلطی نہیں مل سکی ،
‘‘کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی۔’’
یہ قرآن کا سیدھا اور کھلا چیلنج ہے۔ یہ اصلاً منکرین کو سیدھی دعوت دیتا ہے کہ وہ اس میں کوئی خطا یا غلطی نکال کر دکھائیں۔

آپ کا بیان -غلط فہمیاں اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ ہم حقائق کو اپنی مرضی سے منتخب یا رد کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسلامی نکتہ نظر سے بھی حق کو جاننے کے بعد اس کا انکار کفر کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات یاد رہے کہ اگر ہم مکمل یا ادھوری مطابقت کی بات کرتے ہیں تو لازمی طور پر ہمیں یہ بھی ضمانت دینی ہوگی کہ
اگر سائنس نے ایک چیز ثابت کر دی ہے تو اسے محض اس وجہ سے رد کر دیا جائے کہ وہ ہمارے مذہبی عقائد کے خلاف ہے؟
جواب - جی اس کو رد کر دیا جائے گا،
آپ کے پاس دو مدعی ہیں ایک (سائنس عقل) کا دعوی ہی ہے کہ اس کا علم ناقص ہے اور ارتقا پذیر ہے آپ اس کو مانتے ہیں
دوسرا مدعی (اسلام ، قرآن) کہتا ہے کہ اس کا علم اٹل ہے وہ اپنے بیان کردہ حقائق کو بطور چیلنج پیش کرتا ہے اور کسی علم کے ماہر ترین افراد جب اس کی حقیقتوں کو پرکھتے ہیں تو سر تسلیم خم کر لیتے ہیں – التماس ہے میں نے ماہر ترین افراد کہا ہے آپ اس کو خاص طور پر مد نظر رکھیں ،ان ماہرین کی بہت سی مثالیں ہیں جن میں پروفیسرگیری ملر( Abdul-Ahad Omar ) ایک ہیں
باقی بات کا جواب بعد میں، یہاں نماز کا وقت ہے اور پھرجواب کو کچھ ترتیب بھی دینا ہے
گیری ملر کس چیز کا ماہر ہے؟
 
Top