حامد میر پر حمہ - ڈاکٹر ضیا الدین خان

وہاں یہ "سہولت" نہیں ہوتی کہ ایک بندے کے بیان پر پورا محل کھڑا کر دیا جائے :)
جناب آپ شاید یہ بات نظرانداز کر رہے ہیں کہ حامد میر پر حملے سے پہلے صحافیوں اور ایجنسیوں کے درمیان اختلاف رائے کی ایک پوری تاریخ ہے۔ چند دن پہلے ہی انصار عباسی کو ملنے والی دھمکی آمیز ای میل بھی میڈیا پر آئی تھی۔ پاکستان میں سیاستدانوں اور صحافیوں کے ایجنسیوں سے لڑائی کی ایک پوری تاریخ ہے یہ کوئی آج کی بات نہیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
جناب آپ شاید یہ بات نظرانداز کر رہے ہیں کہ حامد میر پر حملے سے پہلے صحافیوں اور ایجنسیوں کے درمیان اختلاف رائے کی ایک پوری تاریخ ہے۔ چند دن پہلے ہی انصار عباسی کو ملنے والی دھمکی آمیز ای میل بھی میڈیا پر آئی تھی۔ پاکستان میں سیاستدانوں اور صحافیوں کے ایجنسیوں سے لڑائی کی ایک پوری تاریخ ہے یہ کوئی آج کی بات نہیں۔
دیکھئے، چند دن قبل طالبان کی ہٹ لسٹ کے بارے پڑھا تھا کہ حامد میر ان میں پہلے نمبر پر تھا
اچھا ایک کام کیجئے
کار یا اسی طرح کی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر اپنے کسی دوست کو بٹھائیے، پھر آپ موٹر سائیکل کو اس کے پاس کھڑا کر کے اس پر بیٹھ جائیے۔ پھر دیکھئے کہ آپ کا ہاتھ کہاں ہے یا کس زاویے پر ہے۔ پھر آپ سوچئے کہ اگر آپ خدانخواستہ کسی کو قتل کی نیت سے چھ گولیاں چلاتے ہیں تو ان کے لئے آپ کیا چیز ٹارگٹ کرنا چاہیں گے، سر، گردن، سینہ، پیٹ، رانیں یا ہاتھ؟
واضح رہے کہ اخباری رپورٹوں کے مطابق حامد میر کو لگنے والی گولیاں ران، پسلیوں اور دیگر اعضاء میں لگی ہیں۔ کار کے دروازے میں محض ایک سوراخ ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب تک گاڑی کے اندر ہاتھ ڈال کر فائر نہ کیا جائے، رانوں پر گولیاں نہیں لگ سکتیں
دوسرا کیا آپ نے وہ وڈیو دیکھی جس میں مبشر لقمان بتا رہا ہے کہ اس دن حامد میر کراچی آنا ہی نہیں چاہ رہا تھا جبکہ اسے جیو کی طرف سے جانے پر مجبور کیا گیا تھا اور یہ بھی کہ حامد میر کے لئے بلٹ پروف گاڑی ہوتے ہوئے بھی عام گاڑی دی گئی تھی؟
یہ نہ سمجھئے کہ میں حامد میر پر ہونے والے حملے سے ہی منکر ہوں، لیکن مجھے کہانی کو عین اسی طرح ماننے میں تامل ہے جیسا کہ جیو یا جنگ کی طرف سے بیان کی گئی ہے
 
دیکھئے، چند دن قبل طالبان کی ہٹ لسٹ کے بارے پڑھا تھا کہ حامد میر ان میں پہلے نمبر پر تھا
اچھا ایک کام کیجئے
کار یا اسی طرح کی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر اپنے کسی دوست کو بٹھائیے، پھر آپ موٹر سائیکل کو اس کے پاس کھڑا کر کے اس پر بیٹھ جائیے۔ پھر دیکھئے کہ آپ کا ہاتھ کہاں ہے یا کس زاویے پر ہے۔ پھر آپ سوچئے کہ اگر آپ خدانخواستہ کسی کو قتل کی نیت سے چھ گولیاں چلاتے ہیں تو ان کے لئے آپ کیا چیز ٹارگٹ کرنا چاہیں گے، سر، گردن، سینہ، پیٹ، رانیں یا ہاتھ؟
واضح رہے کہ اخباری رپورٹوں کے مطابق حامد میر کو لگنے والی گولیاں ران، پسلیوں اور دیگر اعضاء میں لگی ہیں۔ کار کے دروازے میں محض ایک سوراخ ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب تک گاڑی کے اندر ہاتھ ڈال کر فائر نہ کیا جائے، رانوں پر گولیاں نہیں لگ سکتیں
دوسرا کیا آپ نے وہ وڈیو دیکھی جس میں مبشر لقمان بتا رہا ہے کہ اس دن حامد میر کراچی آنا ہی نہیں چاہ رہا تھا جبکہ اسے جیو کی طرف سے جانے پر مجبور کیا گیا تھا اور یہ بھی کہ حامد میر کے لئے بلٹ پروف گاڑی ہوتے ہوئے بھی عام گاڑی دی گئی تھی؟
یہ نہ سمجھئے کہ میں حامد میر پر ہونے والے حملے سے ہی منکر ہوں، لیکن مجھے کہانی کو عین اسی طرح ماننے میں تامل ہے جیسا کہ جیو یا جنگ کی طرف سے بیان کی گئی ہے
مبشر لقمان جیسا کہ میں پہلے ہی کہ چکا ہوں کو میں قابل اعتناء نہیں سمجھتا نا اس کے پروگرام دیکھتا ہوں۔
البتہ آپ کی رائے کہ شاید یہ جیو کی کوئی سازشی کاروائی تھی مجھے قرین قیاس نہیں لگتی۔
طالبان نے یہ حملہ کیا ہو یہ بھی ممکن ہے کیونکہ پھڈا تو اس کا طالبان سے بھی تھا۔ لیکن انہوں نے ذمہ داری نہیں لی شاید ان کا کوئی برادر گروپ ہو۔
 

قیصرانی

لائبریرین
مبشر لقمان جیسا کہ میں پہلے ہی کہ چکا ہوں کو میں قابل اعتناء نہیں سمجھتا نا اس کے پروگرام دیکھتا ہوں۔
البتہ آپ کی رائے کہ شاید یہ جیو کی کوئی سازشی کاروائی تھی مجھے قرین قیاس نہیں لگتی۔
طالبان نے یہ حملہ کیا ہو یہ بھی ممکن ہے کیونکہ پھڈا تو اس کا طالبان سے بھی تھا۔ لیکن انہوں نے ذمہ داری نہیں لی شاید ان کا کوئی برادر گروپ ہو۔
حامد میر کا پروگرام جب دیکھا تھا کہ پانی سے گاڑی چل رہی ہے تو مجھے بھی ان پر اعتبار نہیں رہا تھا :)
 
حامد میر کا پروگرام جب دیکھا تھا کہ پانی سے گاڑی چل رہی ہے تو مجھے بھی ان پر اعتبار نہیں رہا تھا :)
مجھے لگتا ہے حامد میر نے جوش میں آکر اس فراڈیے کی سپورٹ کر ڈالی بعد کافی خوار بھی ہوئے میر صاحب اس غلطی پر :)
 

قیصرانی

لائبریرین
مجھے لگتا ہے حامد میر نے جوش میں آکر اس فراڈیے کی سپورٹ کر ڈالی بعد کافی خوار بھی ہوئے میر صاحب اس غلطی پر :)
آپ کی بات بالکل بجا ہے۔ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ ایک بڑی خبر کے چکر میں حامد میر کو یہ پروگرام کرنا پڑا۔ صحافی حلقوں میں اس کے لئے ایک خاص اصطلاح "سکوپ" کے نام سے پائی جاتی ہے۔ خیر، صحافت میں یا سیاست میں کوئی بات بھی حرفِ آخر نہیں ہوتی۔ اچھا یہ رہتا کہ حامد میر نے بعد میں اس پر معذرت کر لی ہوتی یا وضاحت کر دی ہوتی کہ یہ سب غلط فہمی کا نتیجہ تھا تو بات آئی گئی ہو جاتی
 
Top