Posts Tagged ‘Urdu Computing’

اردو کمپیوٹنگ کوفروغ دینا کیسے ممکن ہے؟

Sunday, January 6th, 2008

الف نظامی نے اردو محفل فورم پر سوال پوسٹ کیا تھا کہ اردو کمپیوٹنگ کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے۔ میں نے فورم پر اس کا جواب لکھا ہے۔ اسے میں یہاں بھی پوسٹ کر رہا ہوں۔

اردو کمپیوٹنگ کو فروغ دینے کے لیے سب سے پہلے کمپیوٹر سائنس کے اداروں کو اس جانب توجہ دینی پڑے گی، لیکن بد قسمتی سے یہ ادارے زیادہ تر بھاری فیسیں وصول کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور کوالٹی ایجوکیشن دینا ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتا۔ میں جب پاکستان جاتا ہوں تو میری کوشش رہتی ہے کہ کسی طرح بڑے آئی ٹی ایجوکیشن کے اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کروں لیکن یا تو لوگوں سے ملاقات نہیں ہو پاتی یا پھر لوگ اس موضوع کو اہمیت نہیں دیتے۔ اسکے علاوہ سٹوڈنٹس بھی محنت سے جان چراتے ہیں۔ اکثر سٹوڈنٹس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اپنے سینیرز کے پراجیکٹس کاپی کرکے اپنا فائنل پراجیکٹ سبمٹ کرا دیں۔ ایسی صورتحال میں کسی نئے چیلنج کے لیے تحریک دینا مشکل ہوتا ہے۔

اردو کمپیوٹنگ کو فروغ دینے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ آئی ٹی ایجوکیشن کے ادارے اپنے ہاں ایک اردو کمپیوٹنگ گروپ تشکیل دیں جو اس سلسلے میں سرگرمیوں کو ترویج دیں۔ اس کے علاوہ سال میں ایک مرتبہ اردو کمپیوٹنگ کانفرنس بھی ہونی چاہیے جس میں اردو کمپیوٹنگ اور آزاد مصدر وغیرہ سے متعلقہ موضوعات پر مقالات پڑھے جائیں اور معلومات کا تبادلہ کیا جائے۔

اردو کمپیوٹنگ کے سین پر ابھی تک جس چیز کی قدرے کمی ہے وہ سرکاری سرپرستی کی ہے۔ اگرچہ مقتدرہ کے مرکز فضیلت اور کرلپ میں اچھا کام ہو رہا ہے لیکن میرے خیال میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو کو مروج کرنے کے لیے یہ ناکافی ہے۔ آئی ٹی کی دنیا میں اردو دنیا کی باقی تمام زبانوں سے پیچھے رہ گئی ہے۔ اب جبکہ گزشتہ ایک عشرے سے آپریٹنگ سسٹم لیول پر یونیکوڈ اردو کی سپورٹ میسر آ گئی ہے تو مختلف سوفٹویر کی اردو لوکلائزیشن کے کام کی رفتار بڑھ جانی چاہیے تھی لیکن بدقسمتی سے ابھی تک مشہور کونٹینٹ منیجمنٹ سسٹمز اور اوپن سورس سوفٹ ویر کے اردو ورژن دستیاب نہیں ہیں۔ اس کام کو اگر سرکاری سرپرستی مل جائے تو اس میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

مغربی دنیا میں کمپیوٹنگ اور خاص طور پر مائیکروکمپیوٹنگ کو ترقی دینے میں انگریزی اور دوسری لاطینی زبانوں میں شائع ہونے والے جرائد نے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ ابھی تک اردو زبان میں آئی ٹی اور کمپیوٹنگ کے موضوعات پر جرائد تقریباً نایاب رہے ہیں۔ اگرچہ ماہنامہ کمپیوٹنگ وغیرہ مارکیٹ‌ میں دستیاب ہیں لیکن میرے خیال میں ابھی بھی اس میدان میں بہت کمی موجود ہے۔ میری ایک عرصے سے خواہش رہی ہے کہ ایک آئی ٹی نیوز سائٹ شروع کروں لیکن کئی مشکلات کے باعث ایسا نہیں کر پایا ہوں۔

اگرچہ مختلف سوفٹویر کی اردو لوکلائزیشن اردو کی ترویج کے سلسلے میں ایک اہم کام ہے لیکن یہ تکنیکی طور پر نسبتاً آسان کام ہے۔ سوفٹویر لوکلائززیشن میں زیادہ کام انگریزی عبارتوں کا اردو ترجمہ کرنے کا ہوتا ہے جو کہ وقت طلب ضرور ہے لیکن تکنیکی اعتبار سے پیچیدہ نہیں ہے۔ دوسری جانب اچھے اور ویب پر قابل استعمال اردو فونٹس کی تیاری، اردو آپٹیکل کیریکٹر ریکگنیشن، مشین ٹرانسلیشن، اردو سپیچ سنتھیسز وغیرہ ایسے کام ہیں جو کہ تکنیکی اعتبار سے انتہائی پیچیدہ ہیں اور ابھی تک ان میں بہت کم کام کیا گیا ہے۔ ان ٹاپکس پر کوئی رزلٹ حاصل کرنے میں کافی مدت بھی لگ سکتی ہے۔ عام سٹوڈنٹس کے لیے ان موضوعات پر بغیر کسی رہنمائی کے کام کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ محققین اپنی توجہ اردو کمپیوٹنگ کی جانب مبذول کریں تاکہ اردو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں دوسری زبانوں کے ہم پلہ آ سکے۔

آخر میں میں یہ کہوں گا کہ اردو کمپیوٹنگ کے فروغ کے لیے سب سے اہم اردو لکھنے اور پڑھنے کو عام یوزر کے لیے آسان بنانا ہے۔ اور یہ کام آئی ٹی کی بڑی کمپنیاں مائیکروسوفٹ‌ اور گوگل وغیرہ ہی سب سے مؤثر انداز میں کر سکتے ہیں۔ اگرچہ تقریباً ایک عشرے سے ونڈوز اور لینکس پر اردو سیٹ اپ کرنا ممکن ہے لیکن اس اعتبار سے کمپیوٹر پر اردو کا استعمال بہت کم عام ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ مائیکروسوفٹ اور لینکس کی ڈسٹری بیوشنز تیار کرنے والے اردو کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری کا سلوک کرتے ہیں۔ ونڈوز کے مختلف ورژنز پر اردو لینگویج سپورٹ انسٹال کرنے کی ہدایات ایک عام یوزر کے لیے کافی پیچیدہ ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے لیے علیحدہ سے ونڈوز کی سی ڈی درکار ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں انٹرنیٹ سے کچھ فائلیں بھی ڈاؤنلوڈ کرنی پڑتی ہیں۔ اردو کی بورڈ انسٹال کرنے کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد اردو صحیح طور پر ڈسپلے کرنے کے لیے اردو فونٹ بھی انسٹال کرنا پڑتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک عام یوزر جس کی کمپیوٹر کے استعمال کی مہارت ای میل کے استعمال تک محدود ہو، اس کے لیے یہ صورتحال کس قدر حوصلہ شکن ثابت ہو گی۔ اردو ویب پر ہمارا مطمع نظر عام یوزرز کے لیے کمپیوٹر پر اردو پڑھنا اور لکھنا آسان بنانا ہے۔ ہم نے ونڈوز ایکس پی کے لیے اردو لینگویج سپورٹ انسٹالر تیار کیا ہے جس کی بدولت اردو لینگویج سپورٹ انسٹال کرنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے اردو فونٹس انسٹالر بھی مہیا کیا ہے جو تمام مشہور اردو فونٹ انسٹال کر دیتا ہے۔ اردو ویب پر دستیاب اردو ایڈیٹرز میں اردو بآسانی لکھ جا سکتی ہے۔ اردو ویب پیڈ اور اردو اوپن پیڈ کی مقبولیت کی وجہ یہی ہے کہ اس کے ذریعے بغیر کسی دقت کے ہر پلیٹ فارم پر اردو لکھنا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے کچھ یوزر سکرپٹس بھی لکھی ہیں جن کی بدولت ہر ویب سائٹ جیسے کہ گوگل وغیرہ پر براہ راست اردو ایڈیٹر استعمال کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود میں یہی کہوں گا کہ اردو کو اسی وقت زیادہ رواج ملے گا جب مائیکروسوفٹ اور دوسری بڑی کمپنیاں اردو کے ساتھ فرسٹ کلاس سٹیزن کا سلوک کریں گی۔ اس سلسلے میں ہم اتنا ضرور کر سکتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر پٹیشن کے ذریعے اور ان کمپنیوں کے ذمہ داران کو ای میل بھیج کر اس جانب ان کی توجہ مبذول کروائی جائے۔ نعمان نے چند روز قبل مجھے تجویز پیش کی تھی کہ گوگل کو جی میل کے انٹرفیس میں اوپن پیڈ شامل کرنے کا کہا جائے تاکہ اردو ای میل آسانی سے لکھنا ممکن ہو جائے۔ میں نے گوگل کوڈ سائٹ پر اس سلسلے میں ایک نیا پراجیکٹ بنایا ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ جلد اس پر اوپن پیڈ کا اپڈیٹڈ ورژن ڈال دوں تاکہ اس سلسلے میں کوئی مہم شروع کی جا سکے۔