
Alvi Nastaleeq, Dawning of a new era in Urdu Computing
اردو کمیونٹی کا ایک دیرینہ خواب ایک ایسا نستعلیق فونٹ رہا ہے جو نوری نستعلیق جیسی خوبصورتی کا حامل ہو۔ بالآخر علوی نستعلیق فونٹ کے اجراء سے اردو کمیونٹی کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گیا ہے۔ اس فونٹ کے خالق امجد حسین علوی نے یہ فونٹ تخلیق کرکے اور اسے عوام الناس کے فائدے کے لیے بلامعاوضہ فراہم کرکے بلاشبہ ایک عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ علوی نستعلیق فونٹ کے اجراء کے اردو کمپیوٹنگ پر مرتب ہونے والے اثرات کا ادراک کرنے کے لیے ہمیں ایک مدت درکار ہوگی۔ اگرچہ اپنی ابتدائی ریلیز میں علوی نستعلیق فونٹ بنیادی طور پر ڈیسک ٹاپ اپلیکیشنز میں استعمال کے لیے ہے لیکن اس کے باوجود ویب پر اس کی پرفارمنس بہت شاندار ہے اور اس کا ڈسپلے بھی بہت اچھا لگ رہا ہے۔ ذیل میں ایک علوی نستعلیق فونٹ کے محفل فورم میں استعمال کا ایک سکرین شاٹ موجود ہے:

محفل فورم میں علوی نستعلیق پر مبنی ایک علیحدہ سٹائل بھی متعارف کروا دیا گیا ہے۔ اس سٹائل میں شامل اردو ایڈیٹر میں بھی علوی نستعلیق فونٹ استعمال کیا گیا ہے۔ ذیل میں اس اوپن پیڈ میں علوی نستعلیق کے استعمال کے ساتھ ایک سکرین شاٹ موجود ہے:

علوی نستعلیق فونٹ ڈاؤنلوڈ کریں
علوی نستعلیق کے اجراء سے اردو کمپیوٹنگ کو ایک نئی جہت ملے گی اور کئی نئے پراجیکٹس کی راہ ہموار ہوگی۔ اس فونٹ کے خالق امجد حسین علوی کی اس سلسلے میں تفصیلی پوسٹ اس ربط پر موجود ہے۔ ذیل میں میں اس کا اقتباس پیش کر رہا ہوں۔
کاروانِ عہد
“طلوع اردو”
فاروق سرور خان
23 مارچ 1988
یونیورسٹی آف سنسناٹی میں 1981 کے پہلے کوارٹر کے دوران میں نے انٹر ایکٹیو کمپیوٹر گرافکس کے آخری ٹیسٹ کے لئے ڈاکٹر برگس نے کلاس کو اپنی پسند سے کسی بھی ممکنہ تصویر، آؤٹ لائین ، سکائی لائین یا کسی بھی قسم کے شیپ کو فارمولوں اور پروگرامز کی مدد سے کمپیوٹر، گرافکس ٹرمینل اور پلاٹر کی مدد سے ڈرائنگ کرنے کے لیئے کہا۔ پلاٹر پر پلاٹ کرنا تو شاید ایک آسان کام ہوتا، لیکن اس سے بھی مشکل کام یہ تھا کہ کیا بنایا جائے۔ مجھے خیال آیا کہ اردو کے حروف تہجی الف سے یے تک لکھتا ہوں۔ ان کو کروی لینئیر فارمولوں میں بیزئیر قوسوں کی مدد سے بناتا ہوں، بچپن کا تختی لکھنا کام آیا، پہلے حروف ہاتھ سے لکھے اور پھر ان کو قوسوں اور لکیروں کی شکل دی، بیزئیر اوزان لگائے اور چند دنوں میں صرف آؤٹلائین والے اور بھرے ہوئے دونوں طرح کے کوئی 36 حروف میرے سامنے تھے۔ جو میں نے کسی خواب و خیال کے بغیر اپنے اسائنمنٹ کے لئے جمع کرادئیے۔ کوارٹر کے آخری دن، حسب عادت و دستور، ڈاکٹر برگس نے طالب علموں کے نام لے کر ان کے اسائنمنٹ واپس کرنے شروع کئے۔ میرا نام پکارا مسٹر خان! میں اٹھ کر چلا تو اسی دوران اس نے میرا جمع کیا ہوا کام ساری کلاس کو دکھاتے ہوئے کہا ،—- بہترین کام، میری بیوی کو یہ یورڈو کیریکٹرز بہت پسند آئے۔—-
ستاروں بھری آنکھوں نے بڑا سا A بہت بعد میں دیکھا اور اردو کو جدید ٹیکنالوجی کے آسمان پر طلوع ہوتے ہوئے پہلے دیکھا! یہ اسی وعدہ کی تکمیل کا دن ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ دن دور نہیں، جب آپ کے اردو پیغامات الیکترونی مواصلاتی نظام سے گذرتے ہوئے آپ تک پہنچیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے وقت میں مجھ سے بہتر، ذہین اور محنتی برادران اس کام کو مزید آگے بڑھائیں گے۔
۲ نومبر ۲۰۰۸ء
ہاں!۔۔۔ یہ فاروق سرور خان کے دیکھے ہوئے خواب کی تکمیل کا ایک اور عہد ساز دن ہے۔ شائد اس بار تقدیر کےپرندے کو میرے سر پر متمکن ہونا تھاتاکہ یہ عظیم خدمت میرے ہاتھوں سے انجام پا سکے۔ لیکن ۔۔۔یہ تو اس کارواں کا ایک عارضی پڑاؤ ہے ۔۔۔۔۔آگے ہر قدم ۔۔۔ہر گام پر ۔۔نئی منزلوں ۔۔۔ نئے راستوں پر یہ کارواں اپنی فتوحات کا جھنڈا گاڑتا چلا جائے گا۔ہم ہوں نہ ہوں ہمارے بعد کتنے اور لوگ اس عہد کو نبھانے کا عزم لے کر اس کارواں کے ہم رکاب بنتے رھیں گے اوریوںمرزا جمیل احمد کا چلایاہوا یہ کاروانِ عہد ہر دور میں اپنی منزل کی طرف اسی شان سے رواں دواں رہے گا۔ آج اسی کارواں کے ایک ادنی ٰمسافر کی حیثیت سے میں اسی عزم کوپھر دوہرانے کی سعادت حاصل کروں گا کہ ٹیکنالوجی کا آسمان جتنا بھی بلند کیوں نہ ہوتا جائے ہم اس پر اپنی قومی زبان کے ستارے کو ہمیشہ چمکتا دمکتا اور سب سے روشن دیکھنا چاہیں گے۔ ہمارے ارادے جوان ہیں اور نگاہیں آسمان پر ہیں یہی تو اس قوم کی خاصیت ہے۔
آج کا دن فاروق سرور خان کے نام جن کی وطن سے محبت اور خلوص سے مجھے اور میرے جیسے نمعلوم کتنے اور لوگوں کو ایک جذبہ اور جدوجہد کا ولولہ ملا اوریقیناًملتا رہے گا۔ یوں یہ سلسلہ قائم و دائم ہے ۔
اس فانٹ کی تیاری میں محترم شاکر القادری صاحب کی ہرلمحہ کی حوصلہ افزائی کا بے انتہا شکر گذار ہوں۔ جنہوں نے اپنی قیمتی وقت اور پرخلوص دعاوں سے ہر ممکنہ مشاورت دی۔ اسی طرح القلم فورم کو سالگر ہ کی مبارکباد دینا بھی اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ جس پر مجھے بہت زیادہ اپنائیت ملی۔ اتنا خلوص اور محبت تو میرے جیسے کم مایہ انسان کی توقعات کی بلندیوں سے بھی بہت بڑھ کر ہے۔ اللہ آپ ساتھیوں کو کو ترقی و عظمت سے نوازے۔
اور اب شائد آپ شدت سے اس گھڑی کے انتظار میں ہوں گے جب علوی نستعلیق آپ کے ہاتھوں میں ہو تو میرے خیال میں وہ لمحہ اب آگیا ہے میں آپ کے اور علوی نستعلیق کے درمیان مزید حائل نہیں ہونا چاہتا۔ یہ اب آپ کی دسترس میں ہے۔ آپ اس کے سکرین شارٹس سے بخوبی آشنا ہیں۔ اس لئے مزید کسی سکرین شارٹس کی ضرورت نہیں۔ یہ فانٹ اپنے آپ کو خود منوانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔