Archive for October, 2007

مکمل بلاگ فیڈ

Wednesday, October 24th, 2007

اکثر اردو بلاگ اپنے بلاگ کی فیڈ پر غور نہیں کرتے حالانکہ اب بلاگ فیڈ ایک انتہائی اہم چیز بنتی جا رہی ہے۔

فیڈ کا مقصد بلاگز اور ایسے ویب سائٹ جو کافی اپڈیٹ ہوتے رہتے ہیں ان کا مواد قارئین تک آسانی سے پہنچانا ہے۔ آجکل تمام بلاگ سافٹویر فیڈ جنریٹ کرتی ہیں۔ فیڈ پڑھنے کے لئے قارئین فیڈ ریڈر استعمال کرتے ہیں۔ بہت سارے فیڈ ریڈر مقبول ہیں جن میں سے کچھ آپ کے کمپیوٹر پر استعمال ہوتے ہیں اور کچھ آن‌لائن استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ میں گوگل ریڈر استعمال کرتا ہوں جس کے ذریعہ میں اپنے فون پر بھی اپنی سبسکرائب‌شدہ فیڈز پڑھ سکتا ہوں۔

فیڈ کے دو سٹینڈرڈ ہیں: ایٹم اور ر‌س‌س۔ میرے خیال میں ایٹم بہتر ہے کہ وہ ایک باقاعدہ سٹینڈرڈ ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔ ایٹم کے لئے بھی ضروری ہے کہ آپ اس کی ورژن 1.0 جنریٹ کریں۔ بلاگ سافٹویر کی موجودہ ورژن یہی کرتی ہیں مگر اگر آپ ورڈپریس کی ورژن 2.2 سے پرانی ورژن استعمال کر رہے ہیں تو اس میں ایٹم 0.3 ہے جو ایک ڈرافٹ تھا اور اسے اب استعمال کرنا اچھا آئیڈیا نہیں۔ اس لئے یا تو آپ اپنی ورڈپریس کو اپگریڈ کر لیں یا یہ پلگ‌ان انسٹال کر لیں۔

جس طرح ویب صفحات کو ویلیڈیٹ کرنے کے لئے سروس موجود ہے اسی طرح آپ یہ بھی چیک کر سکتے ہیں کہ آپ کی فیڈ ویلڈ ہے یا نہیں۔ کوشش کریں کہ آپ کی فڈ ویلڈ رہے کیونکہ اس طرح یہ چانس زیادہ ہے کہ فیڈ ریڈر پر وہ صحیح نظر آئے گی۔

ایک اور بات جو میں نے نوٹ کی ہے وہ یہ کہ بہت سے اردو بلاگ اپنی فیڈ میں صرف اقتباس ہی شامل کرتے ہیں نہ کہ پوری پوسٹ۔ شاید ان کا خیال ہے کہ اس طرح قارئین صرف فیڈ ریڈر سے پوسٹس پڑھنے کی بجائے ان کے بلاگ پر بھی آئیں گے۔ لیکن یہ خیال کچھ صحیح نہیں۔ اس بارے میں یہ آرٹیکل ضرور پڑھیں۔ مختصر یہ کہ اگر آپ کے بلاگ کی فیڈ میں صرف اقتباس ہے تو آپ اپنے قاری کی زندگی مشکل بنا رہے ہیں کہ اسے اپنے فیڈ ریڈر میں کلک کرنا پڑے گا اور نیا صفحہ کھول کر پڑھنا پڑے گا۔ اس سے پڑھنے کا تسلسل بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ دوسرے باقاعدگی سے بلاگ پڑھنے والے صرف آپ کا بلاگ نہیں پڑھتے بلکہ بہت سے بلاگز پڑھتے ہیں اور فیڈ ریڈر اس کام کو کافی آسان بناتے ہیں مگر آپ اقتباسات کے ذریعہ اسے پھر سے مشکل بنا دیتے ہیں۔ جتنا آپ اپنے باقاعدگی سے پڑھنے والوں کے لئے آسانی پیدا کریں گے اتنا وہ آپ کو باقاعدگی سے پڑھیں گے اور آپ کی پوسٹس کو دوسروں تک پہنچائیں گے۔ یہ بات تو طے ہے کہ فیڈ ریڈر کے ذریعہ پڑھنے والے اقتباسات والی فیڈ کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں کسی ایسے بلاگ کو سبسکرائب نہیں کرتا جس کی فیڈ مکمل نہ ہو۔

اردو سیارہ پر البتہ ہم بلاگز کے اقتباسات ہی پیش کرتے ہیں کہ اس سے سیارہ کے صفحے کا سائز بھی چھوٹا رہتا ہے اور قارئین اردو بلاگز کا ایک ٹیسٹ بھی لے لیتے ہیں۔ مگر سیارہ کو بھی مکمل پوسٹس والی فیڈ کا فائدہ ہے۔ وہ ایسے کہ سیارہ کے کوڈ میں اقتباس بنانے کا کوڈ موجود ہے جو ڈیفالٹ فیڈ والے ایک لائن کے اقتباس سے لمبا ہوتا ہے اور اس طرح آپ کی تحریر کا قاری کو کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔ دوسرے سیارہ کا ایک فیچر میمز کا ہے جسے آپ سیارہ کے صفحے پر اوپر بائیں طرف دیکھ سکتے ہیں۔ یہ فیچر پچھلے ہفتے میں تمام پوسٹس میں سے لنک ڈھونڈتا ہے اور پھر سب سے مقبول لنکس دکھاتا ہے۔ مگر اقتباسات والی فیڈز میں لنک نہیں ہوتے بلکہ وہ سادہ ٹیکسٹ ہوتا ہے۔ اس سے یاد آیا کہ اقتباسات کی فیڈ کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ صرف سادہ ٹیکسٹ ہی فیڈ ریڈر میں نظر آئے گا۔