Archive for the ‘Wordpress’ Category

Urdu Editor Plugin for WordPress Reloaded

Saturday, January 24th, 2009

AssalamOAlaikum,
In this post I am presenting a new Urdu editor plugin for WordPress. This Urdu editor better and more extensive Urdu editor integration with different parts of WordPress, both inside the admin section as well as on the front-end blog. It is also possible to customize different aspects of the Urdu editor by changing its settings. This plugin is based on the jQuery javascript framework and this has been written as part of the plan to update UrduPress to version 2.7 of WordPress.

Download Urdu editor plugin for WordPress

السلام علیکم،
جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ ہم ورڈپریس کے اردو ورژن اردو پریس کو ورڈپریس کے ورژن 2.7 پر اپڈیٹ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جے کویری جاوا سکرپٹ فریم ورک کے لیے اردو ایڈیٹر پلگ ان بھی اسی مقصد کے لیے ڈیویلپ کیا گیا ہے تاکہ ورڈپریس کے لیے ایک بہتر اردو ایڈیٹر پلگ ان تیار کیا جا سکے۔ میں اس پوسٹ میں ورڈپریس کا نیا اردو ایڈیٹر پلگ ان متعارف کروا رہا ہوں جو کہ جے کویری فریم ورک کا استعمال کرتا ہے اور اس کے اردو ایڈیٹر پلگ ان پر مبنی ہے۔ ورڈ پریس کے پرانے اردو ایڈیٹر پلگ ان کے مقابلے میں یہ پلگ ان ورڈپریس کے ایڈمن سیکشن کے زیادہ تر ایڈٹ ایریاز کا احاطہ کرتا ہے۔ اس اردو ایڈیٹر پلگ ان کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ ورڈ پریس کے ایڈمن سیکشن کے دوسرے فنکشنز جیسے کہ آٹو سیو وغیرہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا اور دوسری سکرپٹس کے ساتھ بخوبی کام کرتا ہے۔ واضح رہے کہ اس ایڈیٹر کو ورڈپریس 2.7 پر ہی ٹیسٹ کیا گیا ہے، اور اس کا استعمال انٹرنیٹ ایکسپلورر اور فائرفاکس پر جانچا گیا ہے۔ فی الحال اسے بطور بیٹا ریلیز کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں نیا اردو ایڈیٹر پلگ ان استعمال کرنے سے قبل پرانا اردو ایڈیٹر پلگ ان ان انسٹال کرنا بہتر رہے گا۔

زیر نظر اردو ایڈیٹر پلگ ان کے ذریعے ورڈپریس کے جن حصوں میں اردو ایڈیٹر انٹگریشن دستیاب ہوجاتی ہے ان کی فہرست ذیل میں دی گئی ہے۔

فرنٹ اینڈ (بلاگ)
۔ سرچ ٹیکسٹ باکس
۔ تبصروں کے لیے ایڈیٹر

ایڈمن سیکشن
۔ کوئک پریس
۔ نئی پوسٹ شامل کرنے والا صفحہ
۔ نیا پیج شامل کرنے والا صفحہ – زمرہ جات شامل کرنے والا صفحہ – روابط شامل کرنے والا صفحہ
۔ تبصروں کو فوری ایڈٹ کرنا
۔ ٹیگز شامل کرنا

ورچوئل کی بورڈ

ورڈپریس کے نئے اردو ایڈیٹر پلگ ان میں ورچوئل کی بورڈ بھی دستیاب ہے لیکن یہ انٹرنیٹ ایکسپلورر میں درست کام نہیں کر رہا ہے جبکہ یہ فائرفاکس میں یہ درست کام کرتا نظر آ رہا ہے جیسا کہ ذیل کی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔

آن سکرین کی بورڈ

آن سکرین کی بورڈ صرف بلاگ کے تبصروں کے ایڈیٹر کے لیے دستیاب ہے اور ایڈمن سیکشن میں کچھ مسائل کی وجہ سے آن سکرین کی بورڈ فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

اردو ایڈیٹر پلگ ان آپشنز

ورڈپریس کے نئے اردو ایڈیٹر پلگ ان میں فرنٹ اینڈ بلاگ اور ایڈمن سیکشن کے ہر حصے میں اردو ایڈیٹر کی انٹگریشن کو فعال یا غیر فعال کرنے کی آپشنز مہیا کی گئی ہیں۔ ورچوئل کی بورڈ کو بھی فعال یا غیر فعال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن غالباً سب سے اہم آپشنز خود اردو ایڈیٹر کو کسٹمائز کرنے کی ہیں۔ جیسا کہ ذیل کی تصویر میں دکھایا گیا ہے، اردو ایڈیٹر میں استعمال کیے جانے والے فونٹ کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اردو ایڈیٹر کے اردو لینگویج موڈ اور انگریزی لینگویج موڈ کو بھی اس پلگ ان کی سیٹنگز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ذیل کی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔

ورڈپریس کے اس نئے اردو ایڈیٹر پلگ ان کے بارے میں آپ کی آراء کے ہم منتظر رہیں گے۔

ورڈ پریس کا اردو ایڈیٹر پلگ ان ڈاؤنلوڈ کریں

Announcing UrdPress, the Urdu version of WordPress

Sunday, March 9th, 2008

wordpress-logo.gif

Dear friends,

AssalamOAlaikum. It is with great pleasure that I am presenting you UrduPress, the Urdu version of the WordPress blogging software. The Urdu tranlsation of WordPress has been provided by Muhammad Shakir Aziz. This release of UrduPress is based on WordPress version 2.3.2. In addition to the Urdu translation, UrduPress contains the following enhancements as well as customizations for easily publishing Urdu Urdu content:

Urdu customization of the default kubrick theme
Installation pages are also displayed in Urdu
Urdu OpenPad? plugin is installed by default which makes it easy to publish posts as well write comments in Urdu
The style sheet of default kubrick theme can be changed by the user for displaying the blog in several different fonts

Future work

Providing Urdu editing support in the wysiwyg editor
Enabling the default kubrick theme for also publishing English posts

Download UrdPress version 2.3.2
Demo of UrdPress

The development of UrduPress will be managed on http://www.urduwordpress.org/
I hope that the release of UrduPress will prove to be another milestone in the promotion of Urdu on internet.

السلام علیکم،

بالآخر ایک طویل انتظار کے بعد کے بعد اردو پریس، یعنی ورڈپریس بلاگنگ سوفٹویر کا اردو ورژن دستیاب ہے۔ اردو پریس کی تیاری کے لیے ورڈپریس کا ترجمہ محمد شاکر عزیز نے فراہم کیا ہے۔ میں نے کچھ روز قبل اردو پریس کی تیاری کے ضمن میں ایک پوسٹ لکھی تھی۔ اس کے بعد میں اردو اوپن پیڈ پلگ ان میں کچھ خامیاں دور کی ہیں اور ورڈپریس کے کوڈ میں بھی کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ اب ہر یوزر کے لیے بائی ڈیفالٹ وزی وگ ایڈیٹر غیر فعال کر دیا جاتا ہے اور اردو ایڈیٹر فعال ہوتا ہے۔

اردو پریس کا موجودہ ورژن ورڈپریس کے ورژن 2.3.2 پر مبنی ہے۔ ذیل میں مستقبل میں اردو پریس کو بہتر بنانے کے لیے آئیڈیاز پیش کیے جا رہے ہیں:

– اردو پریس کو ورڈپریس کے حالیہ ورژن پر اپڈیٹ کرنا – اردو پریس کے وزی وگ ایڈیٹر میں اردو ایڈیٹنگ سپورٹ فراہم کرنا – اردو پریس کی ڈیفالٹ kubrick تھیم میں انگریزی مواد کی اشاعت کی گنجائش پیدا کرنا

اردو پریس ورژن 2.3.2 ڈاؤنلوڈ کریں
اردو پریس کا ڈیمو

اردو پریس کی ڈیویلپمنٹ http://www.urduwordpress.org پر منظم کی جائے گی۔

میں امید کرتا ہوں کہ اردو پریس کا اجرا انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

والسلام

UrduPress Test Installation

Sunday, February 3rd, 2008

Dear friends, AssalamOAlaikum

UrduPress is the name of the Urdu version of the WordPress blogging software. I have been detailing the steps for creating an Urdu package of WordPress on the Mehfil forum on this thread. UrduPress is pretty much complete at this point. I have setup a test installation of UrduPress on the following link:

UrduPress test installation

I want this software to be throroughly tested before releasing it to the public. UrduPress is certainly going to be a milestone achievement in Urdu computing and your cooperation is requested to accomplish this task.

عزیز دوستو، السلام علیکم

جیسا کہ آپ دوست جانتے ہیں، میں کچھ دنوں سے ورڈپریس کا اردو پیکج، جسے میں نے اردو پریس کا نام دیا ہے، تیار کرنے پر کام کر رہا ہوں جس کی تفصیل اس تھریڈ پر درج ہے۔ اس وقت تک اس سوفٹویر پر کام تقریباً مکمل ہوگیا ہے۔ میں نے ذیل کے ربط پر اردو پریس کی ایک ٹیسٹ انسٹالیشن سیٹ اپ کر دی ہے تاکہ اسے پبلک کے سامنے ریلیز کرنے سے قبل اسے اچھی طرح ٹیسٹ کیا جا سکے:

اردو پریس ٹیسٹ‌ انسٹالیشن

اس وقت یہ سوفٹویر مکمل طور پر قابل استعمال ہے۔ میرے ذہن میں کچھ آئیڈیاز ہیں کہ کیسے اس سوفٹویر کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن ہر فیچر شامل ہونے کا انتظار کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ میں اتنا ضرور کرنا چاہتا ہوں کہ اردو پریس کی ڈیفالٹ‌انسٹالیشن میں اردو فونٹ انسٹال کرنے اور کمپیوٹر پر اردو سیٹ اپ کرنے سے متعلق معلومات بھی شامل ہوجائیں۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اگلے ہفتے تک اردو پریس کا فائنل یا بیٹا ورژن ریلیز کر دیا جائے۔ اس وقت تک جتنا بھی کام کیا جا سکے گا، اس پر ہی اکتفا کیا جائے گا۔ باقی فیچرز کو اگلے کسی ورژن پر اٹھا رکھا جائے گا۔

آپ تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اردو پریس کی ٹیسٹ انسٹالیشن پر نظر ڈالیں اور آپ کے ذہن میں اسے بہتر بنانے کے لیے کوئی تجویز ہے تو اسے ضرور پیش کریں۔ اس ٹیسٹ انسٹالیشن کی سائیڈ بار میں جو روابط کے زمرہ جات نظر آ رہے ہیں وہ بھی ڈیفالٹ انسٹالیشن میں شامل کیے گئے ہیں۔ آپ کے خیال میں اگر ان روابط میں کوئی اضافہ ہونا چاہیے تو آپ ان کے بارے میں بھی بتا سکتے ہیں۔

اردو پریس بلاشبہ اردو کمپیوٹنگ کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس کی تکمیل کے سلسلے میں آپ سب سے تعاون کی درخواست ہے۔

والسلام

اردو بلاگنگ: ایک جائزہ

Friday, November 30th, 2007

کئی دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ اردو بلاگنگ کے بارے میں کچھ لکھوں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ کہ مجھے احساس ہو رہا ہے کہ اردو بلاگنگ کہیں نہیں جا رہی اور دوسرے یہ کہ اردو بلاگز کو کچھ اچھے اطوار تجویز کئے جا سکیں۔

اس سلسلے میں کئی لوگوں سے بات ہوئی۔ بدتمیز نے یہ پوسٹ لکھنے کی ترغیب دی اور تجاویز سے بھری ای‌میل بھیجی۔ محب نے اپنے بلاگ پر ہماری گفتگو کا ذکر کیا جسے پڑھ کر شاکر نے اس موضوع پر دو پوسٹس لکھیں اور عمار نے بھی اپنی رائے دی۔ یہاں میرا مقصد تنقید نہیں ہے ورنہ مجھے ان تحریروں پر کئی اعتراضات ہیں۔

اب ایسا کریں کہ پچھلا پیرا دوبارہ پڑھیں۔ اس میں آپ کو کچھ لنک نظر آئیں گے انہیں کلک کریں اور ان بلاگ پوسٹس کو پڑھیں۔ میں آپ کی واپسی کا انتظار کرتا ہوں۔ شاباش آپ نے ورلڈ وائڈ ویب کا ایک اہم‌ترین نکتہ سمجھ لیا کہ اس پر ہائپرلنک کی کیا اہمیت ہے۔ ویب لنکس کے بغیر کچھ نہیں۔ یہ نکتہ اردو بلاگرز کو بھی سمجھنا پڑے گا۔ پچھلے پیرا میں جو پوسٹس لنک کی گئی ہیں ان میں ذرا چیک کریں کہ کیا کوئی لنک ہے اور اگر ہے تو کیا وہ کارآمد ہے؟ تو پہلی اہم بات یہ ہے کہ جب آپ کوئی پوسٹ لکھیں تو اخبار یا بلاگ کو حوالہ دیں اور اس خبر یا پوسٹ کو لنک کریں۔ یہ خیال رہے کہ لنک اخبار یا بلاگ کے ہوم پیج کا نہ ہو بلکہ سیدھا اس صفحے کی طرف جاتا ہو جو آپ کے زیرِ بحث ہے۔ اسی طرح اگر آپ کسی ویب سائٹ یا کسی بلاگر کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا لنک بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں۔ یاد رہے کہ آپ کی سائڈبار میں موجود لنک بہت کم لوگ فالو کرتے ہیں مگر پوسٹ میں لنک زیادہ‌تر قارئین فالو کرتے ہیں۔

اسی طرح جب آپ کسی بلاگ پوسٹ کا جواب لکھیں تو لنک کے ساتھ ساتھ اس کا ایسا اقتباس بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں تاکہ گفتگو سمجھنے میں آسانی رہے۔ یہی نکتہ اخبارات کی خبروں کے لئے بھی ہے۔ پوری خبر یا پوسٹ کبھی شامل نہ کریں بلکہ صرف اقتباس دیں۔ اس اقتباس کو اپنے بلاگ پر اپنی تحریر سے نمایاں کریں۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اس اقتباس کے گرد <blockquote> ٹیگ ڈالیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ کی تحریر کونسی ہے اور کسی اور کی کونسی۔

جو قارئین آپ کا بلاگ پڑھنے آئیں ان کو زیادہ سے زیادہ آسانی فراہم کریں۔ اپنی سائیڈبار میں اپنی تازہ پوسٹس کی فہرست رکھیں۔ اس کے علاوہ تاریخ‌وار آرکائیوز اور کیٹگری آرکائیوز کے لنک بھی فراہم کریں۔ ممکن ہو تو اپنے بلاگ کی مقبول‌ترین پوسٹس کی فہرست بھی شامل کریں۔ مقبولیت دو لحاظ سے ہو سکتی ہے ایک تو یہ کہ پوسٹس کتنی دفعہ پڑھی گئی ہیں اور دوسرے یہ کہ پوسٹ پر کتنے تبصرے ہوئے ہیں۔ بلاگ‌رول بھی سائیڈبار کا ایک اہم حصہ ہے۔ حالیہ تبصرے بھی سائیڈبار میں شامل کریں۔ آپ جو بلاگ پڑھتے ہیں یا جو اپنے قارئین کو تجویز کرنا چاہتے ہیں ان کے لنک اپنی بلاگرول میں شامل کریں۔

ایک اور چیز ہر پوسٹ کے ساتھ اس سے متعلقہ پوسٹس کے روابط ہیں۔ اس کے لئے ٹیگز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آجکل بہت سے اردو بلاگز پر یہ دیکھا گیا ہے کہ تبصرے ماڈریٹ ہوتے ہیں۔ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ عام تبصرے خود سے سائٹ پر آنے دیں۔ ہاں جن تبصروں میں زیادہ لنک ہوں انہیں ماڈریشن میں ڈال دیں۔ اس سے آپ کا کام بھی کم ہو گا اور بلاگ پر گفتگو بھی آسانی سے اور بہتر ہو سکے گی۔

اپنے بلاگ پر آپ کسی قسم کا ہٹ کاونٹر ضرور لگائیں۔ اس کے لئے میں سائٹ‌میٹر تجویز کرتا ہوں۔ اس کی پرائیویسی سیٹنگ ایسی رکھیں کہ تمام قارئین اس کا سمری پیج دیکھ سکیں۔ اس طرح عوام یہ جان سکیں گے کہ آپ کا بلاگ روزانہ کتنے لوگ پڑھتے ہیں مگر تفصیلی ڈیٹا صرف آپ ہی دیکھ سکیں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سائٹ‌میٹر میں اپنے وزٹ اگنور کرنے کی بھی آپشن ہے۔ یہ ضرور سیٹ کریں تاکہ جب آپ اپنے بلاگ پر جائیں تو وہ شمار نہ ہو۔ اپنی ٹریفک کے اعداد و شمار پبلک کرنے کے کئی فائدے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایسی رینکنگ لسٹ بنائی جا سکتی ہے۔

اپنے بلاگ کی مقبولیت بڑھانے کے لئے اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ باقاعدگی سے بلاگ پر لکھیں۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ دو تین بلاگرز کو چھوڑ کر باقی اردو بلاگر مہینے میں دو تین سے زیادہ بار نہیں لکھتے۔ دوسرے بلاگز پر تبصرہ کریں اور ان کی تحریروں پر اپنے بلاگ میں لکھیں۔ جب کسی دوسرے بلاگ پر تبصرہ کریں تو اپنے بلاگ کا لنک یو‌آر‌ایل فیلڈ میں ضرور دیں۔ دوسرے بلاگز کے ساتھ گفتگو بلاگ کی دنیا کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ صرف اردو بلاگز ہی تک محدود نہ رہیں بلکہ انگریزی اور دوسری زبانوں کے بلاگز پر بھی تبصرے کریں خاص طور پر پاکستانی انگریزی بلاگز پر تاکہ گفتگو کا دائرہ بڑھ سکے۔ اگر آُ کسی بلاگ پر باقاعدگی سے تبصرے کرتے ہیں تو ممکن ہے وہاں سے کئی قارئیں آپ کے بلاگ پر آئیں اور یہ بھی کہ وہ بلاگر آپ کی کسی پوسٹ کے بارے میں لکھے۔

اپنے بلاگ پر ایک صفحہ اپنے بارے میں ضرور شامل کریں جس میں کم از کم آپ کے بارے میں ایسی معلومات ہوں جس سے قاری کو آپ اور آپ کے بلاگ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ ضروری نہیں کہ یہاں آپ اپنی سوانح حیات اور اصل نام ہی لکھیں مگر اپنے بارے میں لکھیں۔ ساتھ ہی خود سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ بھی فراہم کریں۔ اس کے لئے آپ اپنا ای‌میل ایڈریس دے سکتے ہیں مگر خیال رہے کہ اس کے نتیجے میں بہت سپیم بھی آئے گی۔ یا آپ ایک رابطہ فارم شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے فارم‌میل یا ٹی‌ایف‌میل استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تمام اردو بلاگز پر ایک اور صفحہ بھی لازمی ہے۔ اس صفحے پر یہ بتائیں کہ نیٹ پر اردو کیسے پڑھی اور لکھی جائے اور اپنے کمپیوٹر پر اردو سپورٹ اور فونٹ کیسے انسٹال کئے جائیں۔ یہ صفحہ انگریزی یا تصویری اردو میں ہو کیونکہ یہاں عام طور سے وہ لوگ آئیں گے جنہیں اردو پڑھنے یا لکھنے میں مشکل ہو رہی ہو گی۔ میں کوشش کروں گا کہ ایک دو دنوں میں ایسا ایک صفحہ لکھ کر اس بلاگ پر شامل کر دوں۔ پھر آپ سب اسی کو کاپی کر سکتے ہیں۔

اب آتے ہیں اردو بلاگز کی موجودہ حالت کے اوپر۔ اردو بلاگنگ کا آغاز 4 سال پہلے ہوا۔ ان سالوں میں اردو بلاگنگ کوئی زیادہ نہیں بڑھی۔ ابھی بھی شاید کل 100 اردو بلاگ ہیں۔ اس کے مقابلے میں کل بلاگ ہر چار پانچ ماہ میں دوگنے ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی انگریزی بلاگ لے لیں یا فارسی بلاگ یا انڈین بلاگ سب ہی انتہائی تیزی سے بڑھے ہیں۔ ان سب کی exponential growth ہے جبکہ اردو بلاگز کی linear growth۔ یہ بات پریشان‌کن ہے۔ لیکن اس سے زیادہ پریشان کرنے والی بات یہ ہے کہ اردو بلاگ یا فورمز کے قارئین بہت کم ہیں اور بہت سستی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک عام اردو بلاگ کو 20 سے 30 قاری روزانہ پڑھتے ہیں اور زیادہ اردو بلاگز کو پڑھنے والے وہی لوگ ہیں یعنی تمام اردو بلاگز کے قاری اکٹھے کئے جائیں تو شاید 200 سے زیادہ نہ ہوں۔ ایسی صورت میں نئے اردو بلاگز کہاں سے آئیں گے؟ اس اعداد و شمار کا مقابلہ بڑے بڑے بلاگز کی بجائے عام پاکستانی انگریزی بلاگ سے بھی کیا جائے تو شرمندگی ہی ہوتی ہے۔

اس کا حل کیا ہے؟ ایک تو یہ کہ اپنے بلاگز کو خوب سے خوب‌تر بنائیں، متنوع موضوعات پر لکھیں، اپنے بلاگ کی انفرادیت جگائیں کہ لوگ پڑھنے آئیں۔ بلاگز کی تشہیر کریں جیسا کہ اوپر کہہ چکا ہوں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ لوگوں کو کمپیوٹر پر اردو پڑھنے اور لکھنے پر راغب کیا جائے۔ یہ ایک لمبا اور مشکل کام ہے مگر اس کے لئے کچھ باتیں ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر کوئی گوگل پر اردو کے بارے میں تلاش کرے تو اسے بہت سا مواد ملے اور ہر سائٹ پر اردو لکھنے اور پڑھنے کے حوالے سے معلومات ہوں۔ دوسرے آسان اردو اور انگریزی سے دشمنی میں کمی کی بھی شدت سے ضرورت ہے۔ آج ہم لوگ جو نیٹ پر اردو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کافی شدت‌پسند ہیں کہ اردو میں انگریزی کی بالکل ملاوٹ نہیں چاہتے اور عجیب مشکل اصطلاحات جو ہم فارسی اور عربی سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے ہیں انہیں استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ کے بلاگ پر اطلاقیے کا ذکر ہو گا تو آپ اور آپ کے دو دوستوں کے علاوہ کسے علم ہو گا کہ آپ کس چیز کی بات کر رہے ہیں؟ آسان الفاظ استعمال کریں اور بے‌شک انگریزی کا تڑکا لگنے دیں۔ گانے کو سانگ کہنے پر بے‌شک اعتراض کریں مگر سینما کو ایوان عکس نہ کہیں۔

مکمل بلاگ فیڈ

Wednesday, October 24th, 2007

اکثر اردو بلاگ اپنے بلاگ کی فیڈ پر غور نہیں کرتے حالانکہ اب بلاگ فیڈ ایک انتہائی اہم چیز بنتی جا رہی ہے۔

فیڈ کا مقصد بلاگز اور ایسے ویب سائٹ جو کافی اپڈیٹ ہوتے رہتے ہیں ان کا مواد قارئین تک آسانی سے پہنچانا ہے۔ آجکل تمام بلاگ سافٹویر فیڈ جنریٹ کرتی ہیں۔ فیڈ پڑھنے کے لئے قارئین فیڈ ریڈر استعمال کرتے ہیں۔ بہت سارے فیڈ ریڈر مقبول ہیں جن میں سے کچھ آپ کے کمپیوٹر پر استعمال ہوتے ہیں اور کچھ آن‌لائن استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ میں گوگل ریڈر استعمال کرتا ہوں جس کے ذریعہ میں اپنے فون پر بھی اپنی سبسکرائب‌شدہ فیڈز پڑھ سکتا ہوں۔

فیڈ کے دو سٹینڈرڈ ہیں: ایٹم اور ر‌س‌س۔ میرے خیال میں ایٹم بہتر ہے کہ وہ ایک باقاعدہ سٹینڈرڈ ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔ ایٹم کے لئے بھی ضروری ہے کہ آپ اس کی ورژن 1.0 جنریٹ کریں۔ بلاگ سافٹویر کی موجودہ ورژن یہی کرتی ہیں مگر اگر آپ ورڈپریس کی ورژن 2.2 سے پرانی ورژن استعمال کر رہے ہیں تو اس میں ایٹم 0.3 ہے جو ایک ڈرافٹ تھا اور اسے اب استعمال کرنا اچھا آئیڈیا نہیں۔ اس لئے یا تو آپ اپنی ورڈپریس کو اپگریڈ کر لیں یا یہ پلگ‌ان انسٹال کر لیں۔

جس طرح ویب صفحات کو ویلیڈیٹ کرنے کے لئے سروس موجود ہے اسی طرح آپ یہ بھی چیک کر سکتے ہیں کہ آپ کی فیڈ ویلڈ ہے یا نہیں۔ کوشش کریں کہ آپ کی فڈ ویلڈ رہے کیونکہ اس طرح یہ چانس زیادہ ہے کہ فیڈ ریڈر پر وہ صحیح نظر آئے گی۔

ایک اور بات جو میں نے نوٹ کی ہے وہ یہ کہ بہت سے اردو بلاگ اپنی فیڈ میں صرف اقتباس ہی شامل کرتے ہیں نہ کہ پوری پوسٹ۔ شاید ان کا خیال ہے کہ اس طرح قارئین صرف فیڈ ریڈر سے پوسٹس پڑھنے کی بجائے ان کے بلاگ پر بھی آئیں گے۔ لیکن یہ خیال کچھ صحیح نہیں۔ اس بارے میں یہ آرٹیکل ضرور پڑھیں۔ مختصر یہ کہ اگر آپ کے بلاگ کی فیڈ میں صرف اقتباس ہے تو آپ اپنے قاری کی زندگی مشکل بنا رہے ہیں کہ اسے اپنے فیڈ ریڈر میں کلک کرنا پڑے گا اور نیا صفحہ کھول کر پڑھنا پڑے گا۔ اس سے پڑھنے کا تسلسل بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ دوسرے باقاعدگی سے بلاگ پڑھنے والے صرف آپ کا بلاگ نہیں پڑھتے بلکہ بہت سے بلاگز پڑھتے ہیں اور فیڈ ریڈر اس کام کو کافی آسان بناتے ہیں مگر آپ اقتباسات کے ذریعہ اسے پھر سے مشکل بنا دیتے ہیں۔ جتنا آپ اپنے باقاعدگی سے پڑھنے والوں کے لئے آسانی پیدا کریں گے اتنا وہ آپ کو باقاعدگی سے پڑھیں گے اور آپ کی پوسٹس کو دوسروں تک پہنچائیں گے۔ یہ بات تو طے ہے کہ فیڈ ریڈر کے ذریعہ پڑھنے والے اقتباسات والی فیڈ کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں کسی ایسے بلاگ کو سبسکرائب نہیں کرتا جس کی فیڈ مکمل نہ ہو۔

اردو سیارہ پر البتہ ہم بلاگز کے اقتباسات ہی پیش کرتے ہیں کہ اس سے سیارہ کے صفحے کا سائز بھی چھوٹا رہتا ہے اور قارئین اردو بلاگز کا ایک ٹیسٹ بھی لے لیتے ہیں۔ مگر سیارہ کو بھی مکمل پوسٹس والی فیڈ کا فائدہ ہے۔ وہ ایسے کہ سیارہ کے کوڈ میں اقتباس بنانے کا کوڈ موجود ہے جو ڈیفالٹ فیڈ والے ایک لائن کے اقتباس سے لمبا ہوتا ہے اور اس طرح آپ کی تحریر کا قاری کو کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔ دوسرے سیارہ کا ایک فیچر میمز کا ہے جسے آپ سیارہ کے صفحے پر اوپر بائیں طرف دیکھ سکتے ہیں۔ یہ فیچر پچھلے ہفتے میں تمام پوسٹس میں سے لنک ڈھونڈتا ہے اور پھر سب سے مقبول لنکس دکھاتا ہے۔ مگر اقتباسات والی فیڈز میں لنک نہیں ہوتے بلکہ وہ سادہ ٹیکسٹ ہوتا ہے۔ اس سے یاد آیا کہ اقتباسات کی فیڈ کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ صرف سادہ ٹیکسٹ ہی فیڈ ریڈر میں نظر آئے گا۔

Textile and HTML

Sunday, July 31st, 2005

Since all the previous posts and comments we imported from Movable Type had used the Textile plugin there, we had to enable the Textile 2.5 plugin for Wordpress. Ideally I would like to move away from Textile since Wordpress uses dynamic pages which means that The Textile plugin is applied to each post as it is rendered rather than once when it is saved as in Movable Type. But that would require editing all the previous posts and comments since Wordpress does not allow one to change the text filter per post.

One side-effect of the Textile plugin in Wordpress is that it is not allowing any regular HTML in the comments. Somehow, I can still include regular HTML in posts. Strange!

For now, I have added the instructions about how to comment in Urdu so that the correct styling is applied to the Urdu text. For other things, like hyperlinks, bold, etc., please take a look at the Textile usage instructions starting at line 67 at the linked page.

I’ll see if I can modify the plugin so that you can use either regular HTML or Textile tags, just like you could on the old Movable Type blog.

For the medium to long term, I would like to add quicktags to the comment textbox so that commenters can just click on the buttons provided to bold some text or create a hyperlink or mark word(s) or paragraphs as being in Urdu or English, etc.

UPDATE: Now you can use HTML in comments. However, for Urdu styling, use the instructions above the comment box.

Urdu Theme for Wordpress 1.5

Monday, February 28th, 2005

I was waiting for the final release of Wordpress 1.5 to work on my Urdu theme. Here is my Urdu blog, I still need to modify a few files and add some javascript buttons in my comments form. Please have a look and let me know what you think of it. This theme has different templates for categories, individual posts, comments, search, sidebar, links etc. I will soon add it in Urdu Wiki with installation instructions and a wp-admin.css to change the font in wp-admin section.

There are some bugs in this release of Wordpress, like mt-import doesn’t work at all. Best way to move a movabletype blog to wordpress is to install wordpress 1.2, run the import-mt.php and then upgrade to 1.5.

I had a little discussion with Nabeel bhai about search engine optimization for Urdu blogs and webpages. I think that we don’t need to worry about it because if there is content somewhere then Google is quite good at indexing it and including it in relevant results. Like this Urdu blog is listed in Google while Urdu wiki is not yet indexed. The reason is not that we have something missing there in Urdu Wiki but its the fact that Google gives priority to blogs. Their bot totally ignores meta tags such as keywords and description. They also ignore the repetetive keywords in the body tags.

Their pagerank system works on how many people link to you and with what text. Like if you search for Danial my blog appears at the top. Search for Urdu blog and Salambazar’s Urdru blog appears at the top, search for Urdu and BBC Urdu tops the results. Why BBC Urdu tops the result? Because people are linking back to every thing they have with the keyword Urdu in it.

I liked the idea of offering cute little graphics for publicity of Urdu Wiki. Why people offer these tiny gif files? Because that way you can make people add a link back to your site using your own words.

A little PHP tip regarding Urdu

Thursday, February 3rd, 2005

In plain html, we often have (”) double quotes, and (’) single quotes. A special php function called htmlspecialchars is used to convert them to their char codes. For some unexplained reasons, even if you supply “utf-8” as an argument for the char-set to this function, it still converts all utf-8 chars to their codes. So in all of my php-pages, whether of Wordpress, or UrduWiki (WikkaWiki), I comment out this function, or in other words the special char translation, otherwise, the display seems quite okay but in editing, you will get codes like (& # 12541 ; ) instead of Urdu unicode characters which are quite impossible to edit.

ورڈ پریس ابتدائی گائیڈ تیار

Sunday, January 30th, 2005

ورڈ پریس کی ابتدائی گائیڈ اردو وکی پر تیار ہے۔ میں نے ورڈ پریس کی ایک مکمل ورژن بھی وہاں رکھ دی ہے ۔ جو تنصیب کے فورا بعد اردو میں لکھنے کے لئے تیار ہے۔ بنیادی طور پر یہ میرے اپنے بلاگ کی کاپی ہے۔ زکریا میں نے دیکھا ہے کہ ہمارا نیا اردو بلاگ گوگل میں آگیا ہے۔ کیا آپ کے لئے ممکن ہے کہ اردو وکی کو بھی گوگل میں داخل کر دیں؟