Archive for the ‘Urdu’ Category

Urdu OpenPad Plugin for WordPress

Sunday, January 27th, 2008

AssalamOAlaikum,

Today I am presenting the Urdu OpenPad plugin for WordPress. This plugin will integrate Urdu editor into several edit areas of the front-end as well as the admin section of your WordPress blog. You can use the plugin’s options to turn the Urdu editor’s integration on or off in different edit areas. This plugin will save you the trouble of editing your blog’s theme and other files for integrating Urdu editor. You will also be able to type Urdu comfortably with the phonetic Urdu keyboard provided in Urdu OpenPad.

Download Urdu OpenPad Plugin for WordPress

السلام علیکم،

میں نے محفل فورم پر ورڈپریس کا اردو پیکج تیار کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا جس میں مرحلہ وار ورڈپریس کا اردو پیکج تیار کیا جا رہا ہے۔ اس میں اردو اوپن پیڈ پلگ ان بھی شامل کیا جائے گا۔ میں اسے علیحدہ سے بھی ریلیز کر رہا ہوں تاکہ باقی دوست بھی اسے اپنے بلاگ میں استعمال کر سکیں۔

ورڈپریس کے اردو اوپن پیڈ پلگ کی بدولت آپ کے بلاگ کے فرنٹ اینڈ اور ایڈمن پینل کے متعدد ایڈٹ ایریاز میں اردو ایڈیٹر انٹگریٹ ہو جاتا ہے۔ اس طرح آپ کو اپنے بلاگ کی تھیم ایڈٹ کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اپنے بلاگ پر بآسانی اردو ایڈیٹر میں پوسٹس لکھ سکتے ہیں اور یہ ایڈیٹر بلاگ پر تبصرہ کرنے والوں کے لیے بھی مہیا ہو جاتا ہے۔ یہ پلگ ان ذیل کے ربط سے ڈاؤنلوڈ کریں:

ورڈپریس کا اردو اوپن پیڈ پلگ ان

ڈاؤنلوڈ کرنے کے بعد اسے ان زپ کریں اور wp-openpad فولڈر کو ورڈپریس کے wp-content\plugins فولڈر میں کاپی کر دیں۔ اس کے بعد ورڈپریس کے ایڈمن سیکشن میں جاکر ذیل کی تصویر کے مطابق اس پلگ ان کو ایکٹیویٹ کر دیں۔

plugin_page.jpg

اب آپ جب کوئی نئی پوسٹ لکھنا چاہیں گے تو آپ کو ذیل کی تصویر کی طرح صرف عنوان کی فیلڈ میں اردو ایڈیٹر نظر آئے گا جبکہ پوسٹ کی فیلڈ میں یہ ایڈیٹر موجود نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی یوزر سیٹنگز میں وزی وگ ایڈیٹر سیٹ ہوا ہوا ہے۔

post_page.jpg

اگر آپ پوسٹ لکھنے کے لیے اردو ایڈیٹر کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ایڈمن سیکشن میں اپنی یوزر سیٹنگز ایڈٹ کریں اور ذیل کی تصویر کے مطابق وزی وگ ایڈیٹر کا چیک باکس ختم کر دیں۔

wysiwyg_uncheck.jpg< اب آپ جب دوبارہ پوسٹ پیج پر جائیں گے تو آپ کو عنوان کی فیلڈ کے ساتھ ساتھ پوسٹ کی فیلڈ میں بھی اردو ایڈیٹر مل جائے گا جیسا کہ ذیل کی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔

post_page2.jpg

اردو اوپن پیڈ پلگ ان کی بدولت ورڈپریس کے فرنٹ اینڈ پر بھی تلاش اور تبصروں کے ایڈٹ ایریاز میں اردو ایڈیٹر دستیاب ہوجاتا ہے جیسا کہ ذیل کی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔

comment_box.jpg

اردو اوپن پیڈ پلگ ان کی سیٹنگز میں جا کر مختلف ایڈٹ ایریاز میں اردو ایڈیٹر کو فعال یا غیر فعال کیا جا سکتا ہے جیسے کہ ذیل کی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔

plugin_options.jpg

اردو اوپن پیڈ پلگ ان ورڈپریس کے تمام ایڈٹ ایریاز کا احاطہ نہیں کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ورڈپریس سوفٹویر کے hooks تمام ایڈٹ ایریاز کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اردو اوپن پیڈ کی بدولت ورڈپریس میں اردو ایڈیٹر کا استعمال آسان ہوجائے گا اور اس سے اردو بلاگنگ کو وسعت دینے میں معاونت ملے گی۔ جو دوست ورڈپریس کی تھیمز کے اردو ورژن تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ وہ ان تھیمز کی اردو اوپن پیڈ کے ساتھ compatibility کا خیال رکھیں۔

PCMan File Manager کا ترجمہ

Wednesday, January 9th, 2008

پی سی مین فائل منیجر ایک ہلکا پھلکا اور بہترین فائل منیجر ہے.. یہ ایکسفس کے تھنر سے کافی مشابہ لگتا ہے مگر اس سے کافی مختلف ہے.. اس کی سب سے بڑی بات اس کی ٹیب براؤزنگ اور منتقلی کا بٹن ہے جو تھنر میں نہیں ہیں.. یہ آپ کے ڈیسک ٹاپ پر بھی قابض ہوسکتا ہے اور کافی بڑی ڈائریکٹریاں برداشت کرسکتا ہے جہاں تھنر کریش ہوجاتا ہے.. اس کا ترجمہ کئے ہوئے کوئی دو ماہ ہوگئے ہیں اور تب سے یہ مسلسل میرے استعمال میں ہے.. آج سوچا اس کے ترجمہ کا اعلان بھی کر ہی دیا جائے سو پیشِ خدمت ہے:

Free Image Hosting at www.ImageShack.us

ترجمہ جلد ہی ڈاؤنلوڈ سیکشن
میں دستیاب ہوگا..

اردو کمپیوٹنگ کوفروغ دینا کیسے ممکن ہے؟

Sunday, January 6th, 2008

الف نظامی نے اردو محفل فورم پر سوال پوسٹ کیا تھا کہ اردو کمپیوٹنگ کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے۔ میں نے فورم پر اس کا جواب لکھا ہے۔ اسے میں یہاں بھی پوسٹ کر رہا ہوں۔

اردو کمپیوٹنگ کو فروغ دینے کے لیے سب سے پہلے کمپیوٹر سائنس کے اداروں کو اس جانب توجہ دینی پڑے گی، لیکن بد قسمتی سے یہ ادارے زیادہ تر بھاری فیسیں وصول کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور کوالٹی ایجوکیشن دینا ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتا۔ میں جب پاکستان جاتا ہوں تو میری کوشش رہتی ہے کہ کسی طرح بڑے آئی ٹی ایجوکیشن کے اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کروں لیکن یا تو لوگوں سے ملاقات نہیں ہو پاتی یا پھر لوگ اس موضوع کو اہمیت نہیں دیتے۔ اسکے علاوہ سٹوڈنٹس بھی محنت سے جان چراتے ہیں۔ اکثر سٹوڈنٹس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اپنے سینیرز کے پراجیکٹس کاپی کرکے اپنا فائنل پراجیکٹ سبمٹ کرا دیں۔ ایسی صورتحال میں کسی نئے چیلنج کے لیے تحریک دینا مشکل ہوتا ہے۔

اردو کمپیوٹنگ کو فروغ دینے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ آئی ٹی ایجوکیشن کے ادارے اپنے ہاں ایک اردو کمپیوٹنگ گروپ تشکیل دیں جو اس سلسلے میں سرگرمیوں کو ترویج دیں۔ اس کے علاوہ سال میں ایک مرتبہ اردو کمپیوٹنگ کانفرنس بھی ہونی چاہیے جس میں اردو کمپیوٹنگ اور آزاد مصدر وغیرہ سے متعلقہ موضوعات پر مقالات پڑھے جائیں اور معلومات کا تبادلہ کیا جائے۔

اردو کمپیوٹنگ کے سین پر ابھی تک جس چیز کی قدرے کمی ہے وہ سرکاری سرپرستی کی ہے۔ اگرچہ مقتدرہ کے مرکز فضیلت اور کرلپ میں اچھا کام ہو رہا ہے لیکن میرے خیال میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو کو مروج کرنے کے لیے یہ ناکافی ہے۔ آئی ٹی کی دنیا میں اردو دنیا کی باقی تمام زبانوں سے پیچھے رہ گئی ہے۔ اب جبکہ گزشتہ ایک عشرے سے آپریٹنگ سسٹم لیول پر یونیکوڈ اردو کی سپورٹ میسر آ گئی ہے تو مختلف سوفٹویر کی اردو لوکلائزیشن کے کام کی رفتار بڑھ جانی چاہیے تھی لیکن بدقسمتی سے ابھی تک مشہور کونٹینٹ منیجمنٹ سسٹمز اور اوپن سورس سوفٹ ویر کے اردو ورژن دستیاب نہیں ہیں۔ اس کام کو اگر سرکاری سرپرستی مل جائے تو اس میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

مغربی دنیا میں کمپیوٹنگ اور خاص طور پر مائیکروکمپیوٹنگ کو ترقی دینے میں انگریزی اور دوسری لاطینی زبانوں میں شائع ہونے والے جرائد نے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ ابھی تک اردو زبان میں آئی ٹی اور کمپیوٹنگ کے موضوعات پر جرائد تقریباً نایاب رہے ہیں۔ اگرچہ ماہنامہ کمپیوٹنگ وغیرہ مارکیٹ‌ میں دستیاب ہیں لیکن میرے خیال میں ابھی بھی اس میدان میں بہت کمی موجود ہے۔ میری ایک عرصے سے خواہش رہی ہے کہ ایک آئی ٹی نیوز سائٹ شروع کروں لیکن کئی مشکلات کے باعث ایسا نہیں کر پایا ہوں۔

اگرچہ مختلف سوفٹویر کی اردو لوکلائزیشن اردو کی ترویج کے سلسلے میں ایک اہم کام ہے لیکن یہ تکنیکی طور پر نسبتاً آسان کام ہے۔ سوفٹویر لوکلائززیشن میں زیادہ کام انگریزی عبارتوں کا اردو ترجمہ کرنے کا ہوتا ہے جو کہ وقت طلب ضرور ہے لیکن تکنیکی اعتبار سے پیچیدہ نہیں ہے۔ دوسری جانب اچھے اور ویب پر قابل استعمال اردو فونٹس کی تیاری، اردو آپٹیکل کیریکٹر ریکگنیشن، مشین ٹرانسلیشن، اردو سپیچ سنتھیسز وغیرہ ایسے کام ہیں جو کہ تکنیکی اعتبار سے انتہائی پیچیدہ ہیں اور ابھی تک ان میں بہت کم کام کیا گیا ہے۔ ان ٹاپکس پر کوئی رزلٹ حاصل کرنے میں کافی مدت بھی لگ سکتی ہے۔ عام سٹوڈنٹس کے لیے ان موضوعات پر بغیر کسی رہنمائی کے کام کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ محققین اپنی توجہ اردو کمپیوٹنگ کی جانب مبذول کریں تاکہ اردو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں دوسری زبانوں کے ہم پلہ آ سکے۔

آخر میں میں یہ کہوں گا کہ اردو کمپیوٹنگ کے فروغ کے لیے سب سے اہم اردو لکھنے اور پڑھنے کو عام یوزر کے لیے آسان بنانا ہے۔ اور یہ کام آئی ٹی کی بڑی کمپنیاں مائیکروسوفٹ‌ اور گوگل وغیرہ ہی سب سے مؤثر انداز میں کر سکتے ہیں۔ اگرچہ تقریباً ایک عشرے سے ونڈوز اور لینکس پر اردو سیٹ اپ کرنا ممکن ہے لیکن اس اعتبار سے کمپیوٹر پر اردو کا استعمال بہت کم عام ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ مائیکروسوفٹ اور لینکس کی ڈسٹری بیوشنز تیار کرنے والے اردو کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری کا سلوک کرتے ہیں۔ ونڈوز کے مختلف ورژنز پر اردو لینگویج سپورٹ انسٹال کرنے کی ہدایات ایک عام یوزر کے لیے کافی پیچیدہ ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے لیے علیحدہ سے ونڈوز کی سی ڈی درکار ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں انٹرنیٹ سے کچھ فائلیں بھی ڈاؤنلوڈ کرنی پڑتی ہیں۔ اردو کی بورڈ انسٹال کرنے کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد اردو صحیح طور پر ڈسپلے کرنے کے لیے اردو فونٹ بھی انسٹال کرنا پڑتے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک عام یوزر جس کی کمپیوٹر کے استعمال کی مہارت ای میل کے استعمال تک محدود ہو، اس کے لیے یہ صورتحال کس قدر حوصلہ شکن ثابت ہو گی۔ اردو ویب پر ہمارا مطمع نظر عام یوزرز کے لیے کمپیوٹر پر اردو پڑھنا اور لکھنا آسان بنانا ہے۔ ہم نے ونڈوز ایکس پی کے لیے اردو لینگویج سپورٹ انسٹالر تیار کیا ہے جس کی بدولت اردو لینگویج سپورٹ انسٹال کرنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے اردو فونٹس انسٹالر بھی مہیا کیا ہے جو تمام مشہور اردو فونٹ انسٹال کر دیتا ہے۔ اردو ویب پر دستیاب اردو ایڈیٹرز میں اردو بآسانی لکھ جا سکتی ہے۔ اردو ویب پیڈ اور اردو اوپن پیڈ کی مقبولیت کی وجہ یہی ہے کہ اس کے ذریعے بغیر کسی دقت کے ہر پلیٹ فارم پر اردو لکھنا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے کچھ یوزر سکرپٹس بھی لکھی ہیں جن کی بدولت ہر ویب سائٹ جیسے کہ گوگل وغیرہ پر براہ راست اردو ایڈیٹر استعمال کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود میں یہی کہوں گا کہ اردو کو اسی وقت زیادہ رواج ملے گا جب مائیکروسوفٹ اور دوسری بڑی کمپنیاں اردو کے ساتھ فرسٹ کلاس سٹیزن کا سلوک کریں گی۔ اس سلسلے میں ہم اتنا ضرور کر سکتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر پٹیشن کے ذریعے اور ان کمپنیوں کے ذمہ داران کو ای میل بھیج کر اس جانب ان کی توجہ مبذول کروائی جائے۔ نعمان نے چند روز قبل مجھے تجویز پیش کی تھی کہ گوگل کو جی میل کے انٹرفیس میں اوپن پیڈ شامل کرنے کا کہا جائے تاکہ اردو ای میل آسانی سے لکھنا ممکن ہو جائے۔ میں نے گوگل کوڈ سائٹ پر اس سلسلے میں ایک نیا پراجیکٹ بنایا ہے۔ میں کوشش کروں گا کہ جلد اس پر اوپن پیڈ کا اپڈیٹڈ ورژن ڈال دوں تاکہ اس سلسلے میں کوئی مہم شروع کی جا سکے۔

UrduWeb Dictionary Application

Friday, January 4th, 2008

اردو ویب لغت اطلاقیہ

السلام علیکم،

آج میں آپ کے سامنے اردو ویب لغت اطلاقیہ کا ابتدائی ورژن پیش کر رہا ہوں۔ یہ اردو ویب کا ایک نہایت اہم سنگ میل ہے اور اس عظیم کامیابی کا سہرا الف نظامی اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت کے سر جاتا ہے۔ اس کام کے لیے ان کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔

اردو ویب لغت اپلیکیشن میں انگریزی سے اردو اور اردو سے انگریزی دونوں میں الفاظ کے معنی دیکھے جا سکتے ہیں۔ الفاظ کے مطالب کے لیے لغت کی اپنی ڈیٹابیس کے ساتھ اس لفظ کے مطلب کو وکی پیڈیا، گوگل اور وکشنری میں بھی ڈھونڈھا جا سکتا ہے۔

dict1.jpg

dict2.jpg

اردو ویب لغت اپلیکیشن میں اس وقت ذخیرہ الفاظ قدرے محدود ہے، لیکن توقع کی جا سکتی ہے کہ اس پروگرام کا ابتدائی ورژن آنے کے بعد اب اس کے ذخیرہ الفاظ کو وسعت دینے پر کام کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں اس میں یوزرز کے لیے خود سے اس کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرنے کی سہولت بھی درکار ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ اردو ویب لغت اطلاقیہ اردو کی ترویج کے سفر میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

اردو ویب لغت اطلاقیہ ڈاؤنلوڈ کریں

نوٹ‌ کریں کہ اردو ویب لغت اطلاقیہ چلانے کے لیے آپ کے سسٹم پر ڈاٹ نیٹ 2.0 رن ٹائم انسٹال ہونا ضروری ہے۔ اسے آپ ذیل کے ربط سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔

ڈاٹ نیٹ 2.0 رن ٹائم ڈاؤنلوڈ کریں

اگر آپ اردو سے انگریزی ڈکشنری کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے سسٹم پر اردو لینگویج سپورٹ اور اردو کی بورڈ انسٹال ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے مکمل ہدایات ذیل کے ربط پر موجود ہیں۔

کسی بھی سافٹ ویئر میں اُردو لکھیئے۔

Urdu Wiki Server

Tuesday, December 25th, 2007

urduwikiserver02.jpg

urduwikiserver01.jpg

یہ یونیفارم سرور پر مبنی ایک ویب سرور پیکج ہے جس میں اردو میڈیا وکی انسٹالڈ ہے۔ اس لوکل اردو وکی کے ایڈمن اکاؤنٹ کی تفصیل ذیل میں ہے:

ایڈمن یوزر نیم: WikiSysop
پاسورڈ: urduweb

اردو وکی سرور ڈاؤنلوڈ کریں
مزید پڑھیں۔۔

This is a web server package based on Uniform Server and it comes with Urdu MediaWiki pre-installed. The details of the admin account of the local Urdu Wiki are as follows:

Admin username: WikiSysop

Download Urdu Wiki Server
Read more…(Urdu)

epiphany ویب براؤزر کا اردو ترجمہ

Tuesday, December 11th, 2007

بسم اللہ الرحمن الرحیم

epiphany گنوم کا ایک سادہ سا ویب براؤزر ہے.. ایک دن یوں ہی اس کے ترجمہ کا خیال آیا اور شروع کردیا.. آخر میں چالیس کے قریب سٹرنگز بچیں تو انگریزی جواب دے گئی.. سو شاکر صاحب کے گلے ڈال دیا.. اور چونکہ گلے پڑا ڈھول بجانا ہی پڑتا ہے سو انہوں نے ایک ہفتہ تک بجایا اور آج ارسال کردیا.. سو قوم کی خدمت میں حاضر ہے.. Very Happy

اردو اپپفنی

ترجمہ کی فائل ابھی نہیں دے رہا کیونکہ انٹرانس سیٹ اپ کرنا ہے جس کے بعد تمام تر تراجم ان شاء اللہ وہیں پر دستیاب ہوں گے.. فی الحال تصویر دیکھ کر خوش ہوئیے..

واللہ الموفق

اردو بلاگنگ: ایک جائزہ

Friday, November 30th, 2007

کئی دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ اردو بلاگنگ کے بارے میں کچھ لکھوں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ کہ مجھے احساس ہو رہا ہے کہ اردو بلاگنگ کہیں نہیں جا رہی اور دوسرے یہ کہ اردو بلاگز کو کچھ اچھے اطوار تجویز کئے جا سکیں۔

اس سلسلے میں کئی لوگوں سے بات ہوئی۔ بدتمیز نے یہ پوسٹ لکھنے کی ترغیب دی اور تجاویز سے بھری ای‌میل بھیجی۔ محب نے اپنے بلاگ پر ہماری گفتگو کا ذکر کیا جسے پڑھ کر شاکر نے اس موضوع پر دو پوسٹس لکھیں اور عمار نے بھی اپنی رائے دی۔ یہاں میرا مقصد تنقید نہیں ہے ورنہ مجھے ان تحریروں پر کئی اعتراضات ہیں۔

اب ایسا کریں کہ پچھلا پیرا دوبارہ پڑھیں۔ اس میں آپ کو کچھ لنک نظر آئیں گے انہیں کلک کریں اور ان بلاگ پوسٹس کو پڑھیں۔ میں آپ کی واپسی کا انتظار کرتا ہوں۔ شاباش آپ نے ورلڈ وائڈ ویب کا ایک اہم‌ترین نکتہ سمجھ لیا کہ اس پر ہائپرلنک کی کیا اہمیت ہے۔ ویب لنکس کے بغیر کچھ نہیں۔ یہ نکتہ اردو بلاگرز کو بھی سمجھنا پڑے گا۔ پچھلے پیرا میں جو پوسٹس لنک کی گئی ہیں ان میں ذرا چیک کریں کہ کیا کوئی لنک ہے اور اگر ہے تو کیا وہ کارآمد ہے؟ تو پہلی اہم بات یہ ہے کہ جب آپ کوئی پوسٹ لکھیں تو اخبار یا بلاگ کو حوالہ دیں اور اس خبر یا پوسٹ کو لنک کریں۔ یہ خیال رہے کہ لنک اخبار یا بلاگ کے ہوم پیج کا نہ ہو بلکہ سیدھا اس صفحے کی طرف جاتا ہو جو آپ کے زیرِ بحث ہے۔ اسی طرح اگر آپ کسی ویب سائٹ یا کسی بلاگر کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا لنک بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں۔ یاد رہے کہ آپ کی سائڈبار میں موجود لنک بہت کم لوگ فالو کرتے ہیں مگر پوسٹ میں لنک زیادہ‌تر قارئین فالو کرتے ہیں۔

اسی طرح جب آپ کسی بلاگ پوسٹ کا جواب لکھیں تو لنک کے ساتھ ساتھ اس کا ایسا اقتباس بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں تاکہ گفتگو سمجھنے میں آسانی رہے۔ یہی نکتہ اخبارات کی خبروں کے لئے بھی ہے۔ پوری خبر یا پوسٹ کبھی شامل نہ کریں بلکہ صرف اقتباس دیں۔ اس اقتباس کو اپنے بلاگ پر اپنی تحریر سے نمایاں کریں۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اس اقتباس کے گرد <blockquote> ٹیگ ڈالیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ کی تحریر کونسی ہے اور کسی اور کی کونسی۔

جو قارئین آپ کا بلاگ پڑھنے آئیں ان کو زیادہ سے زیادہ آسانی فراہم کریں۔ اپنی سائیڈبار میں اپنی تازہ پوسٹس کی فہرست رکھیں۔ اس کے علاوہ تاریخ‌وار آرکائیوز اور کیٹگری آرکائیوز کے لنک بھی فراہم کریں۔ ممکن ہو تو اپنے بلاگ کی مقبول‌ترین پوسٹس کی فہرست بھی شامل کریں۔ مقبولیت دو لحاظ سے ہو سکتی ہے ایک تو یہ کہ پوسٹس کتنی دفعہ پڑھی گئی ہیں اور دوسرے یہ کہ پوسٹ پر کتنے تبصرے ہوئے ہیں۔ بلاگ‌رول بھی سائیڈبار کا ایک اہم حصہ ہے۔ حالیہ تبصرے بھی سائیڈبار میں شامل کریں۔ آپ جو بلاگ پڑھتے ہیں یا جو اپنے قارئین کو تجویز کرنا چاہتے ہیں ان کے لنک اپنی بلاگرول میں شامل کریں۔

ایک اور چیز ہر پوسٹ کے ساتھ اس سے متعلقہ پوسٹس کے روابط ہیں۔ اس کے لئے ٹیگز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آجکل بہت سے اردو بلاگز پر یہ دیکھا گیا ہے کہ تبصرے ماڈریٹ ہوتے ہیں۔ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ عام تبصرے خود سے سائٹ پر آنے دیں۔ ہاں جن تبصروں میں زیادہ لنک ہوں انہیں ماڈریشن میں ڈال دیں۔ اس سے آپ کا کام بھی کم ہو گا اور بلاگ پر گفتگو بھی آسانی سے اور بہتر ہو سکے گی۔

اپنے بلاگ پر آپ کسی قسم کا ہٹ کاونٹر ضرور لگائیں۔ اس کے لئے میں سائٹ‌میٹر تجویز کرتا ہوں۔ اس کی پرائیویسی سیٹنگ ایسی رکھیں کہ تمام قارئین اس کا سمری پیج دیکھ سکیں۔ اس طرح عوام یہ جان سکیں گے کہ آپ کا بلاگ روزانہ کتنے لوگ پڑھتے ہیں مگر تفصیلی ڈیٹا صرف آپ ہی دیکھ سکیں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سائٹ‌میٹر میں اپنے وزٹ اگنور کرنے کی بھی آپشن ہے۔ یہ ضرور سیٹ کریں تاکہ جب آپ اپنے بلاگ پر جائیں تو وہ شمار نہ ہو۔ اپنی ٹریفک کے اعداد و شمار پبلک کرنے کے کئی فائدے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایسی رینکنگ لسٹ بنائی جا سکتی ہے۔

اپنے بلاگ کی مقبولیت بڑھانے کے لئے اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ باقاعدگی سے بلاگ پر لکھیں۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ دو تین بلاگرز کو چھوڑ کر باقی اردو بلاگر مہینے میں دو تین سے زیادہ بار نہیں لکھتے۔ دوسرے بلاگز پر تبصرہ کریں اور ان کی تحریروں پر اپنے بلاگ میں لکھیں۔ جب کسی دوسرے بلاگ پر تبصرہ کریں تو اپنے بلاگ کا لنک یو‌آر‌ایل فیلڈ میں ضرور دیں۔ دوسرے بلاگز کے ساتھ گفتگو بلاگ کی دنیا کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ صرف اردو بلاگز ہی تک محدود نہ رہیں بلکہ انگریزی اور دوسری زبانوں کے بلاگز پر بھی تبصرے کریں خاص طور پر پاکستانی انگریزی بلاگز پر تاکہ گفتگو کا دائرہ بڑھ سکے۔ اگر آُ کسی بلاگ پر باقاعدگی سے تبصرے کرتے ہیں تو ممکن ہے وہاں سے کئی قارئیں آپ کے بلاگ پر آئیں اور یہ بھی کہ وہ بلاگر آپ کی کسی پوسٹ کے بارے میں لکھے۔

اپنے بلاگ پر ایک صفحہ اپنے بارے میں ضرور شامل کریں جس میں کم از کم آپ کے بارے میں ایسی معلومات ہوں جس سے قاری کو آپ اور آپ کے بلاگ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ ضروری نہیں کہ یہاں آپ اپنی سوانح حیات اور اصل نام ہی لکھیں مگر اپنے بارے میں لکھیں۔ ساتھ ہی خود سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ بھی فراہم کریں۔ اس کے لئے آپ اپنا ای‌میل ایڈریس دے سکتے ہیں مگر خیال رہے کہ اس کے نتیجے میں بہت سپیم بھی آئے گی۔ یا آپ ایک رابطہ فارم شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے فارم‌میل یا ٹی‌ایف‌میل استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تمام اردو بلاگز پر ایک اور صفحہ بھی لازمی ہے۔ اس صفحے پر یہ بتائیں کہ نیٹ پر اردو کیسے پڑھی اور لکھی جائے اور اپنے کمپیوٹر پر اردو سپورٹ اور فونٹ کیسے انسٹال کئے جائیں۔ یہ صفحہ انگریزی یا تصویری اردو میں ہو کیونکہ یہاں عام طور سے وہ لوگ آئیں گے جنہیں اردو پڑھنے یا لکھنے میں مشکل ہو رہی ہو گی۔ میں کوشش کروں گا کہ ایک دو دنوں میں ایسا ایک صفحہ لکھ کر اس بلاگ پر شامل کر دوں۔ پھر آپ سب اسی کو کاپی کر سکتے ہیں۔

اب آتے ہیں اردو بلاگز کی موجودہ حالت کے اوپر۔ اردو بلاگنگ کا آغاز 4 سال پہلے ہوا۔ ان سالوں میں اردو بلاگنگ کوئی زیادہ نہیں بڑھی۔ ابھی بھی شاید کل 100 اردو بلاگ ہیں۔ اس کے مقابلے میں کل بلاگ ہر چار پانچ ماہ میں دوگنے ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی انگریزی بلاگ لے لیں یا فارسی بلاگ یا انڈین بلاگ سب ہی انتہائی تیزی سے بڑھے ہیں۔ ان سب کی exponential growth ہے جبکہ اردو بلاگز کی linear growth۔ یہ بات پریشان‌کن ہے۔ لیکن اس سے زیادہ پریشان کرنے والی بات یہ ہے کہ اردو بلاگ یا فورمز کے قارئین بہت کم ہیں اور بہت سستی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک عام اردو بلاگ کو 20 سے 30 قاری روزانہ پڑھتے ہیں اور زیادہ اردو بلاگز کو پڑھنے والے وہی لوگ ہیں یعنی تمام اردو بلاگز کے قاری اکٹھے کئے جائیں تو شاید 200 سے زیادہ نہ ہوں۔ ایسی صورت میں نئے اردو بلاگز کہاں سے آئیں گے؟ اس اعداد و شمار کا مقابلہ بڑے بڑے بلاگز کی بجائے عام پاکستانی انگریزی بلاگ سے بھی کیا جائے تو شرمندگی ہی ہوتی ہے۔

اس کا حل کیا ہے؟ ایک تو یہ کہ اپنے بلاگز کو خوب سے خوب‌تر بنائیں، متنوع موضوعات پر لکھیں، اپنے بلاگ کی انفرادیت جگائیں کہ لوگ پڑھنے آئیں۔ بلاگز کی تشہیر کریں جیسا کہ اوپر کہہ چکا ہوں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ لوگوں کو کمپیوٹر پر اردو پڑھنے اور لکھنے پر راغب کیا جائے۔ یہ ایک لمبا اور مشکل کام ہے مگر اس کے لئے کچھ باتیں ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر کوئی گوگل پر اردو کے بارے میں تلاش کرے تو اسے بہت سا مواد ملے اور ہر سائٹ پر اردو لکھنے اور پڑھنے کے حوالے سے معلومات ہوں۔ دوسرے آسان اردو اور انگریزی سے دشمنی میں کمی کی بھی شدت سے ضرورت ہے۔ آج ہم لوگ جو نیٹ پر اردو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کافی شدت‌پسند ہیں کہ اردو میں انگریزی کی بالکل ملاوٹ نہیں چاہتے اور عجیب مشکل اصطلاحات جو ہم فارسی اور عربی سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے ہیں انہیں استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ کے بلاگ پر اطلاقیے کا ذکر ہو گا تو آپ اور آپ کے دو دوستوں کے علاوہ کسے علم ہو گا کہ آپ کس چیز کی بات کر رہے ہیں؟ آسان الفاظ استعمال کریں اور بے‌شک انگریزی کا تڑکا لگنے دیں۔ گانے کو سانگ کہنے پر بے‌شک اعتراض کریں مگر سینما کو ایوان عکس نہ کہیں۔

مکمل بلاگ فیڈ

Wednesday, October 24th, 2007

اکثر اردو بلاگ اپنے بلاگ کی فیڈ پر غور نہیں کرتے حالانکہ اب بلاگ فیڈ ایک انتہائی اہم چیز بنتی جا رہی ہے۔

فیڈ کا مقصد بلاگز اور ایسے ویب سائٹ جو کافی اپڈیٹ ہوتے رہتے ہیں ان کا مواد قارئین تک آسانی سے پہنچانا ہے۔ آجکل تمام بلاگ سافٹویر فیڈ جنریٹ کرتی ہیں۔ فیڈ پڑھنے کے لئے قارئین فیڈ ریڈر استعمال کرتے ہیں۔ بہت سارے فیڈ ریڈر مقبول ہیں جن میں سے کچھ آپ کے کمپیوٹر پر استعمال ہوتے ہیں اور کچھ آن‌لائن استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ میں گوگل ریڈر استعمال کرتا ہوں جس کے ذریعہ میں اپنے فون پر بھی اپنی سبسکرائب‌شدہ فیڈز پڑھ سکتا ہوں۔

فیڈ کے دو سٹینڈرڈ ہیں: ایٹم اور ر‌س‌س۔ میرے خیال میں ایٹم بہتر ہے کہ وہ ایک باقاعدہ سٹینڈرڈ ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔ ایٹم کے لئے بھی ضروری ہے کہ آپ اس کی ورژن 1.0 جنریٹ کریں۔ بلاگ سافٹویر کی موجودہ ورژن یہی کرتی ہیں مگر اگر آپ ورڈپریس کی ورژن 2.2 سے پرانی ورژن استعمال کر رہے ہیں تو اس میں ایٹم 0.3 ہے جو ایک ڈرافٹ تھا اور اسے اب استعمال کرنا اچھا آئیڈیا نہیں۔ اس لئے یا تو آپ اپنی ورڈپریس کو اپگریڈ کر لیں یا یہ پلگ‌ان انسٹال کر لیں۔

جس طرح ویب صفحات کو ویلیڈیٹ کرنے کے لئے سروس موجود ہے اسی طرح آپ یہ بھی چیک کر سکتے ہیں کہ آپ کی فیڈ ویلڈ ہے یا نہیں۔ کوشش کریں کہ آپ کی فڈ ویلڈ رہے کیونکہ اس طرح یہ چانس زیادہ ہے کہ فیڈ ریڈر پر وہ صحیح نظر آئے گی۔

ایک اور بات جو میں نے نوٹ کی ہے وہ یہ کہ بہت سے اردو بلاگ اپنی فیڈ میں صرف اقتباس ہی شامل کرتے ہیں نہ کہ پوری پوسٹ۔ شاید ان کا خیال ہے کہ اس طرح قارئین صرف فیڈ ریڈر سے پوسٹس پڑھنے کی بجائے ان کے بلاگ پر بھی آئیں گے۔ لیکن یہ خیال کچھ صحیح نہیں۔ اس بارے میں یہ آرٹیکل ضرور پڑھیں۔ مختصر یہ کہ اگر آپ کے بلاگ کی فیڈ میں صرف اقتباس ہے تو آپ اپنے قاری کی زندگی مشکل بنا رہے ہیں کہ اسے اپنے فیڈ ریڈر میں کلک کرنا پڑے گا اور نیا صفحہ کھول کر پڑھنا پڑے گا۔ اس سے پڑھنے کا تسلسل بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ دوسرے باقاعدگی سے بلاگ پڑھنے والے صرف آپ کا بلاگ نہیں پڑھتے بلکہ بہت سے بلاگز پڑھتے ہیں اور فیڈ ریڈر اس کام کو کافی آسان بناتے ہیں مگر آپ اقتباسات کے ذریعہ اسے پھر سے مشکل بنا دیتے ہیں۔ جتنا آپ اپنے باقاعدگی سے پڑھنے والوں کے لئے آسانی پیدا کریں گے اتنا وہ آپ کو باقاعدگی سے پڑھیں گے اور آپ کی پوسٹس کو دوسروں تک پہنچائیں گے۔ یہ بات تو طے ہے کہ فیڈ ریڈر کے ذریعہ پڑھنے والے اقتباسات والی فیڈ کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں کسی ایسے بلاگ کو سبسکرائب نہیں کرتا جس کی فیڈ مکمل نہ ہو۔

اردو سیارہ پر البتہ ہم بلاگز کے اقتباسات ہی پیش کرتے ہیں کہ اس سے سیارہ کے صفحے کا سائز بھی چھوٹا رہتا ہے اور قارئین اردو بلاگز کا ایک ٹیسٹ بھی لے لیتے ہیں۔ مگر سیارہ کو بھی مکمل پوسٹس والی فیڈ کا فائدہ ہے۔ وہ ایسے کہ سیارہ کے کوڈ میں اقتباس بنانے کا کوڈ موجود ہے جو ڈیفالٹ فیڈ والے ایک لائن کے اقتباس سے لمبا ہوتا ہے اور اس طرح آپ کی تحریر کا قاری کو کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔ دوسرے سیارہ کا ایک فیچر میمز کا ہے جسے آپ سیارہ کے صفحے پر اوپر بائیں طرف دیکھ سکتے ہیں۔ یہ فیچر پچھلے ہفتے میں تمام پوسٹس میں سے لنک ڈھونڈتا ہے اور پھر سب سے مقبول لنکس دکھاتا ہے۔ مگر اقتباسات والی فیڈز میں لنک نہیں ہوتے بلکہ وہ سادہ ٹیکسٹ ہوتا ہے۔ اس سے یاد آیا کہ اقتباسات کی فیڈ کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ صرف سادہ ٹیکسٹ ہی فیڈ ریڈر میں نظر آئے گا۔

اردو سیارہ اپڈیٹ

Thursday, September 20th, 2007

اردو سیارہ ابھی تک پلانٹ 2.0 پر چل رہا تھا مگر اس کے ڈیولیپر جیف نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ اب اس پر مزید کام نہیں ہو گا۔ سام روبی نے پلانٹ کی نئی ورژن نائی جس کا نام وینس ہے۔ یہ پورا کوڈ نئے سرے سے لکھا گیا ہے اور اس میں کئی زبردست فیچرز ہیں۔ ایک تو یہ خراب فیڈز اور ایچ‌ٹی‌ایم‌ایل کو بھی ٹھیک کر دیتا ہے۔ دوسرے آپ اس میں ہر قسم کے فلٹر اور پلگ‌ان لکھ سکتے ہیں۔ ہم اس کا اقتباس کا فلٹر استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے ایک اردو فلٹر بھی لکھا ہے تاکہ سیارہ پر صرف اردو پوسٹس نظر آئیں۔

ایک می‌میم پلگ‌ان بھی انسٹال کیا ہے جو آپ سیارہ کے بائیں طرف اوپر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ پچھلے ہفتے میں سیارہ میں شامل فیڈز میں مقبول روابط کی فہرست فراہم کرتا ہے۔ افسوس کہ اردو بلاگرز اپنی پوسٹس میں روابط کم ہی شامل کرتے ہیں۔

وینس میں تھیم سپورٹ بھی ہے اور جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں اب سیارہ کا حلیہ کچھ مختلف ہے۔

اگر آپ کو سیارہ میں کچھ مسئلہ نظر آئے تو سیارہ کے رابطے کے صفحے کے ذریعہ یا اس پوسٹ پر تبصرے کے ذریعہ ہمیں ضرور بتائیں تاکہ اسے ٹھیک کیا جا سکے ار سیارہ کو مزید بہتر بنایا جائے۔

اگلے مرحلے میں ہمارا ارادہ ہے کہ سیارہ میں شمولیت کو خودکار کیا جائے کہ جو بلاگر سیارہ میں اپنا بلاگ شامل کرنا چاہے وہ کسی صفحے (مثلا کوئی وکی) پر اپنا نام اور بلاگ کا ایڈریس ڈال دے اور وہاں سے سیارہ کی سافٹویر خود بخود یہ معلومات حاصل کر کے اسے سیارہ میں شامل کر لے۔ اس میں ایک اہم مسئلہ سپیم کا ہے کہ ایسا انتظام ہو کہ سپیمر اپنے سائٹ شامل نہ کر سکیں۔ اگر آپ کے ذہن میں اس بارے میں کوئی تجاویز ہوں تو ہم سے ضرور شیئر کریں۔

Web-based Urdu WYSIWYG Editors

Wednesday, May 2nd, 2007

AssalamOAlaikum,

Update: The download links have been updated

Finally I have released web-based Urdu wysiwyg editors. Actually I have added Urdu key mapping on top of exisiting web-based wysiwyg editors TinyMCE and FCKEditor, both of which are free and open-source

software. This Urdu support is working well inside Internet Explorer whereas there are still bugs when this is used with gecko-based browsers such as FireFox. Screenshots in the following show an example of the use of these Urdu wysiwyg editors. Click here for further details.

View Urdu TinyMCE’s demo
View Urdu FCKEditor’s demo

Download Urdu TinyMCE
Download Urdu FCKEditor

Regards,

السلام علیکم،

بالآخر ایک طویل انتظار کے بعد میں ویب بیسڈ اردو وزی وگ ایڈیٹر ریلیز کر رہا ہوں۔ درحقیقت میں نے دو مشہور اوپن سورس ویب بیسڈ وزی وگ ایڈیٹرز ٹائنی ٹائنی ایم سی ای (TinyMCE) اور ایف سی کے ایڈیٹر (FCKEditor) میں اردو لکھنے کی سپورٹ شامل کی ہے۔ یہ اردو سپورٹ ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ فی الحال یہ اردو سپورٹ انٹرنیٹ ایکسپلورر میں ٹھیک کام کر رہی ہے جبکہ فائرفاکس میں کچھ مسائل پیش آ رہے ہیں۔ بالا کے سکرین شاٹس میں ان وزی وگ ایڈیٹرز کے استعمال کی مثال دکھائی گئی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس ربط پر کلک کریں۔

اردو ٹائنی ایم سی کا ڈیمو ملاحظہ کریں
اردو ایف سی کے ایڈیٹر کا ڈیمو ملاحظہ کریں

اردو ٹائنی ایم سی ای ڈاؤنلوڈ کریں
اردو ایف سی کے ایڈیٹر ڈاؤنلوڈ کریں

والسلام