Archive for the ‘Movable Type’ Category

اردو بلاگنگ: ایک جائزہ

Friday, November 30th, 2007

کئی دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ اردو بلاگنگ کے بارے میں کچھ لکھوں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ کہ مجھے احساس ہو رہا ہے کہ اردو بلاگنگ کہیں نہیں جا رہی اور دوسرے یہ کہ اردو بلاگز کو کچھ اچھے اطوار تجویز کئے جا سکیں۔

اس سلسلے میں کئی لوگوں سے بات ہوئی۔ بدتمیز نے یہ پوسٹ لکھنے کی ترغیب دی اور تجاویز سے بھری ای‌میل بھیجی۔ محب نے اپنے بلاگ پر ہماری گفتگو کا ذکر کیا جسے پڑھ کر شاکر نے اس موضوع پر دو پوسٹس لکھیں اور عمار نے بھی اپنی رائے دی۔ یہاں میرا مقصد تنقید نہیں ہے ورنہ مجھے ان تحریروں پر کئی اعتراضات ہیں۔

اب ایسا کریں کہ پچھلا پیرا دوبارہ پڑھیں۔ اس میں آپ کو کچھ لنک نظر آئیں گے انہیں کلک کریں اور ان بلاگ پوسٹس کو پڑھیں۔ میں آپ کی واپسی کا انتظار کرتا ہوں۔ شاباش آپ نے ورلڈ وائڈ ویب کا ایک اہم‌ترین نکتہ سمجھ لیا کہ اس پر ہائپرلنک کی کیا اہمیت ہے۔ ویب لنکس کے بغیر کچھ نہیں۔ یہ نکتہ اردو بلاگرز کو بھی سمجھنا پڑے گا۔ پچھلے پیرا میں جو پوسٹس لنک کی گئی ہیں ان میں ذرا چیک کریں کہ کیا کوئی لنک ہے اور اگر ہے تو کیا وہ کارآمد ہے؟ تو پہلی اہم بات یہ ہے کہ جب آپ کوئی پوسٹ لکھیں تو اخبار یا بلاگ کو حوالہ دیں اور اس خبر یا پوسٹ کو لنک کریں۔ یہ خیال رہے کہ لنک اخبار یا بلاگ کے ہوم پیج کا نہ ہو بلکہ سیدھا اس صفحے کی طرف جاتا ہو جو آپ کے زیرِ بحث ہے۔ اسی طرح اگر آپ کسی ویب سائٹ یا کسی بلاگر کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا لنک بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں۔ یاد رہے کہ آپ کی سائڈبار میں موجود لنک بہت کم لوگ فالو کرتے ہیں مگر پوسٹ میں لنک زیادہ‌تر قارئین فالو کرتے ہیں۔

اسی طرح جب آپ کسی بلاگ پوسٹ کا جواب لکھیں تو لنک کے ساتھ ساتھ اس کا ایسا اقتباس بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں تاکہ گفتگو سمجھنے میں آسانی رہے۔ یہی نکتہ اخبارات کی خبروں کے لئے بھی ہے۔ پوری خبر یا پوسٹ کبھی شامل نہ کریں بلکہ صرف اقتباس دیں۔ اس اقتباس کو اپنے بلاگ پر اپنی تحریر سے نمایاں کریں۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اس اقتباس کے گرد <blockquote> ٹیگ ڈالیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ کی تحریر کونسی ہے اور کسی اور کی کونسی۔

جو قارئین آپ کا بلاگ پڑھنے آئیں ان کو زیادہ سے زیادہ آسانی فراہم کریں۔ اپنی سائیڈبار میں اپنی تازہ پوسٹس کی فہرست رکھیں۔ اس کے علاوہ تاریخ‌وار آرکائیوز اور کیٹگری آرکائیوز کے لنک بھی فراہم کریں۔ ممکن ہو تو اپنے بلاگ کی مقبول‌ترین پوسٹس کی فہرست بھی شامل کریں۔ مقبولیت دو لحاظ سے ہو سکتی ہے ایک تو یہ کہ پوسٹس کتنی دفعہ پڑھی گئی ہیں اور دوسرے یہ کہ پوسٹ پر کتنے تبصرے ہوئے ہیں۔ بلاگ‌رول بھی سائیڈبار کا ایک اہم حصہ ہے۔ حالیہ تبصرے بھی سائیڈبار میں شامل کریں۔ آپ جو بلاگ پڑھتے ہیں یا جو اپنے قارئین کو تجویز کرنا چاہتے ہیں ان کے لنک اپنی بلاگرول میں شامل کریں۔

ایک اور چیز ہر پوسٹ کے ساتھ اس سے متعلقہ پوسٹس کے روابط ہیں۔ اس کے لئے ٹیگز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آجکل بہت سے اردو بلاگز پر یہ دیکھا گیا ہے کہ تبصرے ماڈریٹ ہوتے ہیں۔ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ عام تبصرے خود سے سائٹ پر آنے دیں۔ ہاں جن تبصروں میں زیادہ لنک ہوں انہیں ماڈریشن میں ڈال دیں۔ اس سے آپ کا کام بھی کم ہو گا اور بلاگ پر گفتگو بھی آسانی سے اور بہتر ہو سکے گی۔

اپنے بلاگ پر آپ کسی قسم کا ہٹ کاونٹر ضرور لگائیں۔ اس کے لئے میں سائٹ‌میٹر تجویز کرتا ہوں۔ اس کی پرائیویسی سیٹنگ ایسی رکھیں کہ تمام قارئین اس کا سمری پیج دیکھ سکیں۔ اس طرح عوام یہ جان سکیں گے کہ آپ کا بلاگ روزانہ کتنے لوگ پڑھتے ہیں مگر تفصیلی ڈیٹا صرف آپ ہی دیکھ سکیں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سائٹ‌میٹر میں اپنے وزٹ اگنور کرنے کی بھی آپشن ہے۔ یہ ضرور سیٹ کریں تاکہ جب آپ اپنے بلاگ پر جائیں تو وہ شمار نہ ہو۔ اپنی ٹریفک کے اعداد و شمار پبلک کرنے کے کئی فائدے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایسی رینکنگ لسٹ بنائی جا سکتی ہے۔

اپنے بلاگ کی مقبولیت بڑھانے کے لئے اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ باقاعدگی سے بلاگ پر لکھیں۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ دو تین بلاگرز کو چھوڑ کر باقی اردو بلاگر مہینے میں دو تین سے زیادہ بار نہیں لکھتے۔ دوسرے بلاگز پر تبصرہ کریں اور ان کی تحریروں پر اپنے بلاگ میں لکھیں۔ جب کسی دوسرے بلاگ پر تبصرہ کریں تو اپنے بلاگ کا لنک یو‌آر‌ایل فیلڈ میں ضرور دیں۔ دوسرے بلاگز کے ساتھ گفتگو بلاگ کی دنیا کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ صرف اردو بلاگز ہی تک محدود نہ رہیں بلکہ انگریزی اور دوسری زبانوں کے بلاگز پر بھی تبصرے کریں خاص طور پر پاکستانی انگریزی بلاگز پر تاکہ گفتگو کا دائرہ بڑھ سکے۔ اگر آُ کسی بلاگ پر باقاعدگی سے تبصرے کرتے ہیں تو ممکن ہے وہاں سے کئی قارئیں آپ کے بلاگ پر آئیں اور یہ بھی کہ وہ بلاگر آپ کی کسی پوسٹ کے بارے میں لکھے۔

اپنے بلاگ پر ایک صفحہ اپنے بارے میں ضرور شامل کریں جس میں کم از کم آپ کے بارے میں ایسی معلومات ہوں جس سے قاری کو آپ اور آپ کے بلاگ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ ضروری نہیں کہ یہاں آپ اپنی سوانح حیات اور اصل نام ہی لکھیں مگر اپنے بارے میں لکھیں۔ ساتھ ہی خود سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ بھی فراہم کریں۔ اس کے لئے آپ اپنا ای‌میل ایڈریس دے سکتے ہیں مگر خیال رہے کہ اس کے نتیجے میں بہت سپیم بھی آئے گی۔ یا آپ ایک رابطہ فارم شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے فارم‌میل یا ٹی‌ایف‌میل استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تمام اردو بلاگز پر ایک اور صفحہ بھی لازمی ہے۔ اس صفحے پر یہ بتائیں کہ نیٹ پر اردو کیسے پڑھی اور لکھی جائے اور اپنے کمپیوٹر پر اردو سپورٹ اور فونٹ کیسے انسٹال کئے جائیں۔ یہ صفحہ انگریزی یا تصویری اردو میں ہو کیونکہ یہاں عام طور سے وہ لوگ آئیں گے جنہیں اردو پڑھنے یا لکھنے میں مشکل ہو رہی ہو گی۔ میں کوشش کروں گا کہ ایک دو دنوں میں ایسا ایک صفحہ لکھ کر اس بلاگ پر شامل کر دوں۔ پھر آپ سب اسی کو کاپی کر سکتے ہیں۔

اب آتے ہیں اردو بلاگز کی موجودہ حالت کے اوپر۔ اردو بلاگنگ کا آغاز 4 سال پہلے ہوا۔ ان سالوں میں اردو بلاگنگ کوئی زیادہ نہیں بڑھی۔ ابھی بھی شاید کل 100 اردو بلاگ ہیں۔ اس کے مقابلے میں کل بلاگ ہر چار پانچ ماہ میں دوگنے ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی انگریزی بلاگ لے لیں یا فارسی بلاگ یا انڈین بلاگ سب ہی انتہائی تیزی سے بڑھے ہیں۔ ان سب کی exponential growth ہے جبکہ اردو بلاگز کی linear growth۔ یہ بات پریشان‌کن ہے۔ لیکن اس سے زیادہ پریشان کرنے والی بات یہ ہے کہ اردو بلاگ یا فورمز کے قارئین بہت کم ہیں اور بہت سستی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک عام اردو بلاگ کو 20 سے 30 قاری روزانہ پڑھتے ہیں اور زیادہ اردو بلاگز کو پڑھنے والے وہی لوگ ہیں یعنی تمام اردو بلاگز کے قاری اکٹھے کئے جائیں تو شاید 200 سے زیادہ نہ ہوں۔ ایسی صورت میں نئے اردو بلاگز کہاں سے آئیں گے؟ اس اعداد و شمار کا مقابلہ بڑے بڑے بلاگز کی بجائے عام پاکستانی انگریزی بلاگ سے بھی کیا جائے تو شرمندگی ہی ہوتی ہے۔

اس کا حل کیا ہے؟ ایک تو یہ کہ اپنے بلاگز کو خوب سے خوب‌تر بنائیں، متنوع موضوعات پر لکھیں، اپنے بلاگ کی انفرادیت جگائیں کہ لوگ پڑھنے آئیں۔ بلاگز کی تشہیر کریں جیسا کہ اوپر کہہ چکا ہوں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ لوگوں کو کمپیوٹر پر اردو پڑھنے اور لکھنے پر راغب کیا جائے۔ یہ ایک لمبا اور مشکل کام ہے مگر اس کے لئے کچھ باتیں ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر کوئی گوگل پر اردو کے بارے میں تلاش کرے تو اسے بہت سا مواد ملے اور ہر سائٹ پر اردو لکھنے اور پڑھنے کے حوالے سے معلومات ہوں۔ دوسرے آسان اردو اور انگریزی سے دشمنی میں کمی کی بھی شدت سے ضرورت ہے۔ آج ہم لوگ جو نیٹ پر اردو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کافی شدت‌پسند ہیں کہ اردو میں انگریزی کی بالکل ملاوٹ نہیں چاہتے اور عجیب مشکل اصطلاحات جو ہم فارسی اور عربی سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے ہیں انہیں استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ کے بلاگ پر اطلاقیے کا ذکر ہو گا تو آپ اور آپ کے دو دوستوں کے علاوہ کسے علم ہو گا کہ آپ کس چیز کی بات کر رہے ہیں؟ آسان الفاظ استعمال کریں اور بے‌شک انگریزی کا تڑکا لگنے دیں۔ گانے کو سانگ کہنے پر بے‌شک اعتراض کریں مگر سینما کو ایوان عکس نہ کہیں۔

مکمل بلاگ فیڈ

Wednesday, October 24th, 2007

اکثر اردو بلاگ اپنے بلاگ کی فیڈ پر غور نہیں کرتے حالانکہ اب بلاگ فیڈ ایک انتہائی اہم چیز بنتی جا رہی ہے۔

فیڈ کا مقصد بلاگز اور ایسے ویب سائٹ جو کافی اپڈیٹ ہوتے رہتے ہیں ان کا مواد قارئین تک آسانی سے پہنچانا ہے۔ آجکل تمام بلاگ سافٹویر فیڈ جنریٹ کرتی ہیں۔ فیڈ پڑھنے کے لئے قارئین فیڈ ریڈر استعمال کرتے ہیں۔ بہت سارے فیڈ ریڈر مقبول ہیں جن میں سے کچھ آپ کے کمپیوٹر پر استعمال ہوتے ہیں اور کچھ آن‌لائن استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ میں گوگل ریڈر استعمال کرتا ہوں جس کے ذریعہ میں اپنے فون پر بھی اپنی سبسکرائب‌شدہ فیڈز پڑھ سکتا ہوں۔

فیڈ کے دو سٹینڈرڈ ہیں: ایٹم اور ر‌س‌س۔ میرے خیال میں ایٹم بہتر ہے کہ وہ ایک باقاعدہ سٹینڈرڈ ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔ ایٹم کے لئے بھی ضروری ہے کہ آپ اس کی ورژن 1.0 جنریٹ کریں۔ بلاگ سافٹویر کی موجودہ ورژن یہی کرتی ہیں مگر اگر آپ ورڈپریس کی ورژن 2.2 سے پرانی ورژن استعمال کر رہے ہیں تو اس میں ایٹم 0.3 ہے جو ایک ڈرافٹ تھا اور اسے اب استعمال کرنا اچھا آئیڈیا نہیں۔ اس لئے یا تو آپ اپنی ورڈپریس کو اپگریڈ کر لیں یا یہ پلگ‌ان انسٹال کر لیں۔

جس طرح ویب صفحات کو ویلیڈیٹ کرنے کے لئے سروس موجود ہے اسی طرح آپ یہ بھی چیک کر سکتے ہیں کہ آپ کی فیڈ ویلڈ ہے یا نہیں۔ کوشش کریں کہ آپ کی فڈ ویلڈ رہے کیونکہ اس طرح یہ چانس زیادہ ہے کہ فیڈ ریڈر پر وہ صحیح نظر آئے گی۔

ایک اور بات جو میں نے نوٹ کی ہے وہ یہ کہ بہت سے اردو بلاگ اپنی فیڈ میں صرف اقتباس ہی شامل کرتے ہیں نہ کہ پوری پوسٹ۔ شاید ان کا خیال ہے کہ اس طرح قارئین صرف فیڈ ریڈر سے پوسٹس پڑھنے کی بجائے ان کے بلاگ پر بھی آئیں گے۔ لیکن یہ خیال کچھ صحیح نہیں۔ اس بارے میں یہ آرٹیکل ضرور پڑھیں۔ مختصر یہ کہ اگر آپ کے بلاگ کی فیڈ میں صرف اقتباس ہے تو آپ اپنے قاری کی زندگی مشکل بنا رہے ہیں کہ اسے اپنے فیڈ ریڈر میں کلک کرنا پڑے گا اور نیا صفحہ کھول کر پڑھنا پڑے گا۔ اس سے پڑھنے کا تسلسل بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ دوسرے باقاعدگی سے بلاگ پڑھنے والے صرف آپ کا بلاگ نہیں پڑھتے بلکہ بہت سے بلاگز پڑھتے ہیں اور فیڈ ریڈر اس کام کو کافی آسان بناتے ہیں مگر آپ اقتباسات کے ذریعہ اسے پھر سے مشکل بنا دیتے ہیں۔ جتنا آپ اپنے باقاعدگی سے پڑھنے والوں کے لئے آسانی پیدا کریں گے اتنا وہ آپ کو باقاعدگی سے پڑھیں گے اور آپ کی پوسٹس کو دوسروں تک پہنچائیں گے۔ یہ بات تو طے ہے کہ فیڈ ریڈر کے ذریعہ پڑھنے والے اقتباسات والی فیڈ کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں کسی ایسے بلاگ کو سبسکرائب نہیں کرتا جس کی فیڈ مکمل نہ ہو۔

اردو سیارہ پر البتہ ہم بلاگز کے اقتباسات ہی پیش کرتے ہیں کہ اس سے سیارہ کے صفحے کا سائز بھی چھوٹا رہتا ہے اور قارئین اردو بلاگز کا ایک ٹیسٹ بھی لے لیتے ہیں۔ مگر سیارہ کو بھی مکمل پوسٹس والی فیڈ کا فائدہ ہے۔ وہ ایسے کہ سیارہ کے کوڈ میں اقتباس بنانے کا کوڈ موجود ہے جو ڈیفالٹ فیڈ والے ایک لائن کے اقتباس سے لمبا ہوتا ہے اور اس طرح آپ کی تحریر کا قاری کو کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔ دوسرے سیارہ کا ایک فیچر میمز کا ہے جسے آپ سیارہ کے صفحے پر اوپر بائیں طرف دیکھ سکتے ہیں۔ یہ فیچر پچھلے ہفتے میں تمام پوسٹس میں سے لنک ڈھونڈتا ہے اور پھر سب سے مقبول لنکس دکھاتا ہے۔ مگر اقتباسات والی فیڈز میں لنک نہیں ہوتے بلکہ وہ سادہ ٹیکسٹ ہوتا ہے۔ اس سے یاد آیا کہ اقتباسات کی فیڈ کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ صرف سادہ ٹیکسٹ ہی فیڈ ریڈر میں نظر آئے گا۔

Urdu and Movable Type

Sunday, January 30th, 2005

I am busy this week, so I might not get to the Movable Type guide for Urdu blogging for a few days. My plan is to provide two guides:

  • The quick one would get you a bilingual blog in which your posts can be in Urdu but other stuff, like dates etc., will be in English.
  • The detailed one which configures everything to be different for Urdu and English posts.

    For now, here are two posts I wrote about setting up my own blog for Urdu last year: Urdu Blogging and Web and More about Urdu Blogging. In addition to some configuration instructions, they have a list of resources. However, my instructions are quite confused and not orderly at all. I’ll try to fix that and write a better and concise set of instructions soon.