Archive for the ‘Blogger’ Category

اردو بلاگنگ: ایک جائزہ

Friday, November 30th, 2007

کئی دنوں سے سوچ رہا ہوں کہ اردو بلاگنگ کے بارے میں کچھ لکھوں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ کہ مجھے احساس ہو رہا ہے کہ اردو بلاگنگ کہیں نہیں جا رہی اور دوسرے یہ کہ اردو بلاگز کو کچھ اچھے اطوار تجویز کئے جا سکیں۔

اس سلسلے میں کئی لوگوں سے بات ہوئی۔ بدتمیز نے یہ پوسٹ لکھنے کی ترغیب دی اور تجاویز سے بھری ای‌میل بھیجی۔ محب نے اپنے بلاگ پر ہماری گفتگو کا ذکر کیا جسے پڑھ کر شاکر نے اس موضوع پر دو پوسٹس لکھیں اور عمار نے بھی اپنی رائے دی۔ یہاں میرا مقصد تنقید نہیں ہے ورنہ مجھے ان تحریروں پر کئی اعتراضات ہیں۔

اب ایسا کریں کہ پچھلا پیرا دوبارہ پڑھیں۔ اس میں آپ کو کچھ لنک نظر آئیں گے انہیں کلک کریں اور ان بلاگ پوسٹس کو پڑھیں۔ میں آپ کی واپسی کا انتظار کرتا ہوں۔ شاباش آپ نے ورلڈ وائڈ ویب کا ایک اہم‌ترین نکتہ سمجھ لیا کہ اس پر ہائپرلنک کی کیا اہمیت ہے۔ ویب لنکس کے بغیر کچھ نہیں۔ یہ نکتہ اردو بلاگرز کو بھی سمجھنا پڑے گا۔ پچھلے پیرا میں جو پوسٹس لنک کی گئی ہیں ان میں ذرا چیک کریں کہ کیا کوئی لنک ہے اور اگر ہے تو کیا وہ کارآمد ہے؟ تو پہلی اہم بات یہ ہے کہ جب آپ کوئی پوسٹ لکھیں تو اخبار یا بلاگ کو حوالہ دیں اور اس خبر یا پوسٹ کو لنک کریں۔ یہ خیال رہے کہ لنک اخبار یا بلاگ کے ہوم پیج کا نہ ہو بلکہ سیدھا اس صفحے کی طرف جاتا ہو جو آپ کے زیرِ بحث ہے۔ اسی طرح اگر آپ کسی ویب سائٹ یا کسی بلاگر کا ذکر کرتے ہیں تو ان کا لنک بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں۔ یاد رہے کہ آپ کی سائڈبار میں موجود لنک بہت کم لوگ فالو کرتے ہیں مگر پوسٹ میں لنک زیادہ‌تر قارئین فالو کرتے ہیں۔

اسی طرح جب آپ کسی بلاگ پوسٹ کا جواب لکھیں تو لنک کے ساتھ ساتھ اس کا ایسا اقتباس بھی اپنی پوسٹ میں شامل کریں تاکہ گفتگو سمجھنے میں آسانی رہے۔ یہی نکتہ اخبارات کی خبروں کے لئے بھی ہے۔ پوری خبر یا پوسٹ کبھی شامل نہ کریں بلکہ صرف اقتباس دیں۔ اس اقتباس کو اپنے بلاگ پر اپنی تحریر سے نمایاں کریں۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اس اقتباس کے گرد <blockquote> ٹیگ ڈالیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ آپ کی تحریر کونسی ہے اور کسی اور کی کونسی۔

جو قارئین آپ کا بلاگ پڑھنے آئیں ان کو زیادہ سے زیادہ آسانی فراہم کریں۔ اپنی سائیڈبار میں اپنی تازہ پوسٹس کی فہرست رکھیں۔ اس کے علاوہ تاریخ‌وار آرکائیوز اور کیٹگری آرکائیوز کے لنک بھی فراہم کریں۔ ممکن ہو تو اپنے بلاگ کی مقبول‌ترین پوسٹس کی فہرست بھی شامل کریں۔ مقبولیت دو لحاظ سے ہو سکتی ہے ایک تو یہ کہ پوسٹس کتنی دفعہ پڑھی گئی ہیں اور دوسرے یہ کہ پوسٹ پر کتنے تبصرے ہوئے ہیں۔ بلاگ‌رول بھی سائیڈبار کا ایک اہم حصہ ہے۔ حالیہ تبصرے بھی سائیڈبار میں شامل کریں۔ آپ جو بلاگ پڑھتے ہیں یا جو اپنے قارئین کو تجویز کرنا چاہتے ہیں ان کے لنک اپنی بلاگرول میں شامل کریں۔

ایک اور چیز ہر پوسٹ کے ساتھ اس سے متعلقہ پوسٹس کے روابط ہیں۔ اس کے لئے ٹیگز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آجکل بہت سے اردو بلاگز پر یہ دیکھا گیا ہے کہ تبصرے ماڈریٹ ہوتے ہیں۔ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ عام تبصرے خود سے سائٹ پر آنے دیں۔ ہاں جن تبصروں میں زیادہ لنک ہوں انہیں ماڈریشن میں ڈال دیں۔ اس سے آپ کا کام بھی کم ہو گا اور بلاگ پر گفتگو بھی آسانی سے اور بہتر ہو سکے گی۔

اپنے بلاگ پر آپ کسی قسم کا ہٹ کاونٹر ضرور لگائیں۔ اس کے لئے میں سائٹ‌میٹر تجویز کرتا ہوں۔ اس کی پرائیویسی سیٹنگ ایسی رکھیں کہ تمام قارئین اس کا سمری پیج دیکھ سکیں۔ اس طرح عوام یہ جان سکیں گے کہ آپ کا بلاگ روزانہ کتنے لوگ پڑھتے ہیں مگر تفصیلی ڈیٹا صرف آپ ہی دیکھ سکیں گے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سائٹ‌میٹر میں اپنے وزٹ اگنور کرنے کی بھی آپشن ہے۔ یہ ضرور سیٹ کریں تاکہ جب آپ اپنے بلاگ پر جائیں تو وہ شمار نہ ہو۔ اپنی ٹریفک کے اعداد و شمار پبلک کرنے کے کئی فائدے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایسی رینکنگ لسٹ بنائی جا سکتی ہے۔

اپنے بلاگ کی مقبولیت بڑھانے کے لئے اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ باقاعدگی سے بلاگ پر لکھیں۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ دو تین بلاگرز کو چھوڑ کر باقی اردو بلاگر مہینے میں دو تین سے زیادہ بار نہیں لکھتے۔ دوسرے بلاگز پر تبصرہ کریں اور ان کی تحریروں پر اپنے بلاگ میں لکھیں۔ جب کسی دوسرے بلاگ پر تبصرہ کریں تو اپنے بلاگ کا لنک یو‌آر‌ایل فیلڈ میں ضرور دیں۔ دوسرے بلاگز کے ساتھ گفتگو بلاگ کی دنیا کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ صرف اردو بلاگز ہی تک محدود نہ رہیں بلکہ انگریزی اور دوسری زبانوں کے بلاگز پر بھی تبصرے کریں خاص طور پر پاکستانی انگریزی بلاگز پر تاکہ گفتگو کا دائرہ بڑھ سکے۔ اگر آُ کسی بلاگ پر باقاعدگی سے تبصرے کرتے ہیں تو ممکن ہے وہاں سے کئی قارئیں آپ کے بلاگ پر آئیں اور یہ بھی کہ وہ بلاگر آپ کی کسی پوسٹ کے بارے میں لکھے۔

اپنے بلاگ پر ایک صفحہ اپنے بارے میں ضرور شامل کریں جس میں کم از کم آپ کے بارے میں ایسی معلومات ہوں جس سے قاری کو آپ اور آپ کے بلاگ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ ضروری نہیں کہ یہاں آپ اپنی سوانح حیات اور اصل نام ہی لکھیں مگر اپنے بارے میں لکھیں۔ ساتھ ہی خود سے رابطہ کرنے کا کوئی طریقہ بھی فراہم کریں۔ اس کے لئے آپ اپنا ای‌میل ایڈریس دے سکتے ہیں مگر خیال رہے کہ اس کے نتیجے میں بہت سپیم بھی آئے گی۔ یا آپ ایک رابطہ فارم شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے فارم‌میل یا ٹی‌ایف‌میل استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تمام اردو بلاگز پر ایک اور صفحہ بھی لازمی ہے۔ اس صفحے پر یہ بتائیں کہ نیٹ پر اردو کیسے پڑھی اور لکھی جائے اور اپنے کمپیوٹر پر اردو سپورٹ اور فونٹ کیسے انسٹال کئے جائیں۔ یہ صفحہ انگریزی یا تصویری اردو میں ہو کیونکہ یہاں عام طور سے وہ لوگ آئیں گے جنہیں اردو پڑھنے یا لکھنے میں مشکل ہو رہی ہو گی۔ میں کوشش کروں گا کہ ایک دو دنوں میں ایسا ایک صفحہ لکھ کر اس بلاگ پر شامل کر دوں۔ پھر آپ سب اسی کو کاپی کر سکتے ہیں۔

اب آتے ہیں اردو بلاگز کی موجودہ حالت کے اوپر۔ اردو بلاگنگ کا آغاز 4 سال پہلے ہوا۔ ان سالوں میں اردو بلاگنگ کوئی زیادہ نہیں بڑھی۔ ابھی بھی شاید کل 100 اردو بلاگ ہیں۔ اس کے مقابلے میں کل بلاگ ہر چار پانچ ماہ میں دوگنے ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی انگریزی بلاگ لے لیں یا فارسی بلاگ یا انڈین بلاگ سب ہی انتہائی تیزی سے بڑھے ہیں۔ ان سب کی exponential growth ہے جبکہ اردو بلاگز کی linear growth۔ یہ بات پریشان‌کن ہے۔ لیکن اس سے زیادہ پریشان کرنے والی بات یہ ہے کہ اردو بلاگ یا فورمز کے قارئین بہت کم ہیں اور بہت سستی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک عام اردو بلاگ کو 20 سے 30 قاری روزانہ پڑھتے ہیں اور زیادہ اردو بلاگز کو پڑھنے والے وہی لوگ ہیں یعنی تمام اردو بلاگز کے قاری اکٹھے کئے جائیں تو شاید 200 سے زیادہ نہ ہوں۔ ایسی صورت میں نئے اردو بلاگز کہاں سے آئیں گے؟ اس اعداد و شمار کا مقابلہ بڑے بڑے بلاگز کی بجائے عام پاکستانی انگریزی بلاگ سے بھی کیا جائے تو شرمندگی ہی ہوتی ہے۔

اس کا حل کیا ہے؟ ایک تو یہ کہ اپنے بلاگز کو خوب سے خوب‌تر بنائیں، متنوع موضوعات پر لکھیں، اپنے بلاگ کی انفرادیت جگائیں کہ لوگ پڑھنے آئیں۔ بلاگز کی تشہیر کریں جیسا کہ اوپر کہہ چکا ہوں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ لوگوں کو کمپیوٹر پر اردو پڑھنے اور لکھنے پر راغب کیا جائے۔ یہ ایک لمبا اور مشکل کام ہے مگر اس کے لئے کچھ باتیں ضروری ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر کوئی گوگل پر اردو کے بارے میں تلاش کرے تو اسے بہت سا مواد ملے اور ہر سائٹ پر اردو لکھنے اور پڑھنے کے حوالے سے معلومات ہوں۔ دوسرے آسان اردو اور انگریزی سے دشمنی میں کمی کی بھی شدت سے ضرورت ہے۔ آج ہم لوگ جو نیٹ پر اردو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ کافی شدت‌پسند ہیں کہ اردو میں انگریزی کی بالکل ملاوٹ نہیں چاہتے اور عجیب مشکل اصطلاحات جو ہم فارسی اور عربی سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے ہیں انہیں استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ کے بلاگ پر اطلاقیے کا ذکر ہو گا تو آپ اور آپ کے دو دوستوں کے علاوہ کسے علم ہو گا کہ آپ کس چیز کی بات کر رہے ہیں؟ آسان الفاظ استعمال کریں اور بے‌شک انگریزی کا تڑکا لگنے دیں۔ گانے کو سانگ کہنے پر بے‌شک اعتراض کریں مگر سینما کو ایوان عکس نہ کہیں۔

مکمل بلاگ فیڈ

Wednesday, October 24th, 2007

اکثر اردو بلاگ اپنے بلاگ کی فیڈ پر غور نہیں کرتے حالانکہ اب بلاگ فیڈ ایک انتہائی اہم چیز بنتی جا رہی ہے۔

فیڈ کا مقصد بلاگز اور ایسے ویب سائٹ جو کافی اپڈیٹ ہوتے رہتے ہیں ان کا مواد قارئین تک آسانی سے پہنچانا ہے۔ آجکل تمام بلاگ سافٹویر فیڈ جنریٹ کرتی ہیں۔ فیڈ پڑھنے کے لئے قارئین فیڈ ریڈر استعمال کرتے ہیں۔ بہت سارے فیڈ ریڈر مقبول ہیں جن میں سے کچھ آپ کے کمپیوٹر پر استعمال ہوتے ہیں اور کچھ آن‌لائن استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ میں گوگل ریڈر استعمال کرتا ہوں جس کے ذریعہ میں اپنے فون پر بھی اپنی سبسکرائب‌شدہ فیڈز پڑھ سکتا ہوں۔

فیڈ کے دو سٹینڈرڈ ہیں: ایٹم اور ر‌س‌س۔ میرے خیال میں ایٹم بہتر ہے کہ وہ ایک باقاعدہ سٹینڈرڈ ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔ ایٹم کے لئے بھی ضروری ہے کہ آپ اس کی ورژن 1.0 جنریٹ کریں۔ بلاگ سافٹویر کی موجودہ ورژن یہی کرتی ہیں مگر اگر آپ ورڈپریس کی ورژن 2.2 سے پرانی ورژن استعمال کر رہے ہیں تو اس میں ایٹم 0.3 ہے جو ایک ڈرافٹ تھا اور اسے اب استعمال کرنا اچھا آئیڈیا نہیں۔ اس لئے یا تو آپ اپنی ورڈپریس کو اپگریڈ کر لیں یا یہ پلگ‌ان انسٹال کر لیں۔

جس طرح ویب صفحات کو ویلیڈیٹ کرنے کے لئے سروس موجود ہے اسی طرح آپ یہ بھی چیک کر سکتے ہیں کہ آپ کی فیڈ ویلڈ ہے یا نہیں۔ کوشش کریں کہ آپ کی فڈ ویلڈ رہے کیونکہ اس طرح یہ چانس زیادہ ہے کہ فیڈ ریڈر پر وہ صحیح نظر آئے گی۔

ایک اور بات جو میں نے نوٹ کی ہے وہ یہ کہ بہت سے اردو بلاگ اپنی فیڈ میں صرف اقتباس ہی شامل کرتے ہیں نہ کہ پوری پوسٹ۔ شاید ان کا خیال ہے کہ اس طرح قارئین صرف فیڈ ریڈر سے پوسٹس پڑھنے کی بجائے ان کے بلاگ پر بھی آئیں گے۔ لیکن یہ خیال کچھ صحیح نہیں۔ اس بارے میں یہ آرٹیکل ضرور پڑھیں۔ مختصر یہ کہ اگر آپ کے بلاگ کی فیڈ میں صرف اقتباس ہے تو آپ اپنے قاری کی زندگی مشکل بنا رہے ہیں کہ اسے اپنے فیڈ ریڈر میں کلک کرنا پڑے گا اور نیا صفحہ کھول کر پڑھنا پڑے گا۔ اس سے پڑھنے کا تسلسل بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ دوسرے باقاعدگی سے بلاگ پڑھنے والے صرف آپ کا بلاگ نہیں پڑھتے بلکہ بہت سے بلاگز پڑھتے ہیں اور فیڈ ریڈر اس کام کو کافی آسان بناتے ہیں مگر آپ اقتباسات کے ذریعہ اسے پھر سے مشکل بنا دیتے ہیں۔ جتنا آپ اپنے باقاعدگی سے پڑھنے والوں کے لئے آسانی پیدا کریں گے اتنا وہ آپ کو باقاعدگی سے پڑھیں گے اور آپ کی پوسٹس کو دوسروں تک پہنچائیں گے۔ یہ بات تو طے ہے کہ فیڈ ریڈر کے ذریعہ پڑھنے والے اقتباسات والی فیڈ کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں کسی ایسے بلاگ کو سبسکرائب نہیں کرتا جس کی فیڈ مکمل نہ ہو۔

اردو سیارہ پر البتہ ہم بلاگز کے اقتباسات ہی پیش کرتے ہیں کہ اس سے سیارہ کے صفحے کا سائز بھی چھوٹا رہتا ہے اور قارئین اردو بلاگز کا ایک ٹیسٹ بھی لے لیتے ہیں۔ مگر سیارہ کو بھی مکمل پوسٹس والی فیڈ کا فائدہ ہے۔ وہ ایسے کہ سیارہ کے کوڈ میں اقتباس بنانے کا کوڈ موجود ہے جو ڈیفالٹ فیڈ والے ایک لائن کے اقتباس سے لمبا ہوتا ہے اور اس طرح آپ کی تحریر کا قاری کو کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔ دوسرے سیارہ کا ایک فیچر میمز کا ہے جسے آپ سیارہ کے صفحے پر اوپر بائیں طرف دیکھ سکتے ہیں۔ یہ فیچر پچھلے ہفتے میں تمام پوسٹس میں سے لنک ڈھونڈتا ہے اور پھر سب سے مقبول لنکس دکھاتا ہے۔ مگر اقتباسات والی فیڈز میں لنک نہیں ہوتے بلکہ وہ سادہ ٹیکسٹ ہوتا ہے۔ اس سے یاد آیا کہ اقتباسات کی فیڈ کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ صرف سادہ ٹیکسٹ ہی فیڈ ریڈر میں نظر آئے گا۔

Blogger Template for Urdu blogs

Saturday, February 12th, 2005

I have modified a pre-made template from blogger to be used for Urdu only blogs. There are some difficulties here, like I don’t know how to change the date header and make it display day and date in Urdu. Also I am a little worried about font size, line height, etc. Please have a look at this Template. You can look at the blog here. Please let me know what you guys think of it. I think we should discuss and set minimum requirements for the templates we are going to offer in future. Like what font we should use for Urdu, font size, line heights, comments, forms, textareas and other things. Also I think that we should discuss the Urdu terms we are going to use for the words like archives, posts, entries, posted by, posted in, categories, feeds, form feilds, etc. It is important because if we are going to offer templates for popular blogging tools then we should make sure that our templates use the same words. We can also use these words on our own blogs to make them even more popular.

Nice going

Sunday, January 30th, 2005

First of all I would like to thank Zakria for allowing me to post on this blog. People residing in different countries or even different continents joining their efforts in a project so fast is truly amazing. Such is the power of blogging that has made this kind of collaborative work possible.

In my opinion this group blog perfectly complements the Urdu Wiki. This blog provides a platform for collaboration, information exchange and progress tracking. The deliverables are the contents of UrduWiki. From classical software engineering point of view, the original proposals draft from Zakria is the approximation of a requirements specification. I would suggest that we proceed systematically in this project instead of allowing the Wiki to grow on itself organically. One sure way to control the structure of UrduWiki is to explicitly plan it and create the nodes on the Wiki. As I have observed, we tend to provide both the English as well as Urdu versions of the information. Using the approach already mentioned, an explicit structuring based on the language criteria can also be provided. This would provide a basis that can be extended later as required. The node or pages on UrduWiki thus await information instead of leaving the users guessing. One structure that I can think of is as following:

  • Main Page
    • Introduction and history of Urdu
    • Urdu blogging
    • Introduction
    • Tools
      • WordPress
        • Introduction
        • Download
        • Installation
        • Use
        • ...
      • MovableType
        • Introduction
        • Download
        • Installation
        • Use
        • ...
      • Blogger
        • Signing in
        • Starting a Blog
        • Selecting a template
        • Modifying the selected template
        • Posting in Urdu
        • ...
    • Urdu blogs
    • Urdu resources on the net
      • Websites with Unicode Urdu
      • Newspapers
      • Magazines
      • Urdu email services
      • Urdu forums
      • Urdu eBooks
      • Websites with graphic Urdu

I have found another Urdu Wiki under http://ur.wikipedia.org/wiki/Main_Page, which looks pretty much defunct. I think somebody took up the effort long ago and gave up due to lack of interest. We still can borrow some ideas from the layout of this Wiki.

Another comment that I have is that we should not put unnecessary effort into finding equivalent Urdu words for those English words that are now commonplace in Urdu. There are several English words that are so entrenched in other languages that these become literally part of their vocabulary. That is why German and French people lament about speaking Denglisch and Franglais instead of Deutcsh and Francais. Further I would say that the use of graphic Urdu is unavoidable in some cases. We need at least one page guiding users through the process of setting up Urdu on their computers. An image link on the main page would lead to this help page. This image link would contain Urdu text in graphic form asking users to go the help page if they cannot see Urdu properly displayed. One such page is at http://www.pehchaan.net/main/fonts/install.htm.

As far as the choice of Urdu font is concerned, I seem to be in minority. I prefer using Urdu Naskh Asiatype which is also used by the BBC’s Urdu website. I just think it provides better display quality of Urdu text and it also allows diacritics that probably are missing from Nafees Web Naskh, the font of choice of the other authors of this blog.

Danial: I have created a link on the UrduWiki for the crash course on blogging on blogger.com. It would be nice if you could copy the contents of your blog under http://www.urduweb.org/wiki/BloggerCrashCourse. You can create separate pages for the English and Urdu versions if you like.

Asif: I would have liked a little bit more control over the attributes of the text in the Wiki. I have seen one WikiEditor mentioned under http://www.openwiki.com/ow.asp?WikiEditor. Is it possible for you to integrate this into UrduWiki? I would like to support the explanation of Urdu blogging on blogger.com with screenshots. I need your help in incorporating images in to the Wiki content.

Nabeel

بلاگر پر اردو بلاگ فوری تیار کیجئیے

Saturday, January 29th, 2005

بلاگر پر آپ صرف چند منٹوں میں اردو میں بلاگنگ شروع کر سکتے ہیں۔ اس ٹیوٹریل میں ہم آپ کو یہ بتائیں گے کہ کس طرح آپ بلاگرز پر ایک ایسا بلاگ بنا سکتے ہیں جس میں آپ آرام سے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھ سکتے ہیں۔

ٹیوٹوریل شروع کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ آیا آپ کے پاس تمام مطلوبہ سوفٹویر موجود ہے یا نہیں:

۱۔ کیا آپ اپنے کمپیوٹر پر اردو لکھ سکتے ہیں؟ ونڈوز ۲۰۰۰ اور ونڈوز ایکس پی میں اردو سپورٹ موجود ہے اسے استعمال کرنے کے لئے اس صفحے پر دی گئی ہدایت ملاحظہ فرمائیے۔ میک میں بھی اردو سپورٹ موجود ہے اگر کسی وجہ سے آپ اردو سپورٹ فی الحال حاصل نہیں کرپاتے تو یونیپیڈ کا ٹیکسٹ ایڈیٹر استعمال کیجئیے اس کے فری ورژن میں آپ ایک ہزار حروف لکھ سکتے ہیں۔

۲۔ انٹرنیٹ ایکسپلورر ۵۶۵ یا اس سے بہتر یا پھر موزیلا فائر فاکس جو اسوقت سب سے بہترین براؤژر ہے۔

اب آگے بڑھتے ہیں۔ ۔ ۔ بلاگر ڈاٹ کام پر جائیے اگر آپ کے پاس پہلے سے بلاگر اکاؤنٹ ہے تو آپ اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ ٓاگر نہیں ہے تو فورا اپنا اکاؤنٹ بنائیے۔ اکاؤنٹ بنانے کے بعد اگلے صفحے پر آپ اپنے بلاگ کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے مثلا آپ کے بلاگ کا ٹائیٹل اور اس کا ویب ایڈریس۔ ہم نے اس ٹیوٹوریل کے دوران اپنے بلاگ کا ٹائٹل “ببلو کا بلاگ” اور ایڈریس babloooo2 دیا تھا۔ آپ اپنے بلاگ کا ٹائیٹل اردو میں دے سکتے ہیں مگر ایڈرس انگریزی حروف پر ہی مشتمل ہو سکتا ہے۔ ٹائٹل اور ایڈرس فراہم کرنے کے بعد کنٹینیو کا بٹن دبائیے۔

اگلا قدم اہم ہے۔ یہاں آپکو اپنے بلاگ کے لئے ٹیمپلٹ پسند کرنا ہے۔ اس ٹیوٹوریل کو لکھنے کے لئے میں نے بلاگر کی طرف سے فراہم کردہ کئی ٹیمپلٹس کا جائزہ لیا اور یہ خوشگوار بات سامنے آئی کہ جناب جیفری زیلڈمن Jeffery Zeldman کے بنائے ہوئے تقریبا تمام ہی ٹیمپلٹ ٹاہوما فونٹ استعمال کرتے ہیں جو ایک نوآموز کے لئے اردو میں بلاگنگ کو بے حد سہل بنادیتا ہے۔ یہاں آپ جیفری صاحب کا بنایا ہوا کوئی بھی ٹیمپلٹ پسند کرلیں میرا پسندیدہ ٹیمپلٹ Son of Motto اور Mr. Motto ہیں۔ اگر یہ ٹیمپلٹ آپ کو وہاں نظر نہ آئیں تو گھبرائیے گا نہیں۔ آپ جیفری کا بنایا ہوا کوئی بھی ٹیملٹ پسند کر لیں یا اگر وہ بھی نہ نظر آئیں تو کوئی بھی ٹیمپلٹ پسند کرلیں۔ ہم بعد میں آپ کو متذکرہ بالا ٹیمپلٹ بھی فراہم کردیں گے۔ کنٹینیو کا بٹن دبائیے اور آپ کا بلاگ تیار ہوچکا ہے۔ اب اسٹارٹ پوسٹنگ پر کلک کریں۔

اگلی اسکرین وہ جگہ ہے جہاں سے آپ اپنے بلاگ پر نئی پوسٹ شامل کریں گے۔ اس پوسٹنگ ایریا کے دو انٹرفیس ہیں۔ ایک Compose موڈ اور ایک HTML موڈ۔ Compose موڈ ایک بہترین ٹیکسٹ ایڈیٹر ہے جیسے مائیکروسوفٹ کا ورڈ۔ اس میں آپکے لکھے ہوئے ٹیکسٹ کو فارمیٹ کرنا اتنا ہی آسان ہے جیسے ورڈ میں ہے۔ ننھے ننھے بٹن دبا کر آپ ٹیکسٹ کو بولڈ کر سکتے ہیں اٹالک کرسکتے ہیں بٹن دبا کر لنکس ڈال سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اب اگر آپ اپنے کمپیوٹر پر اردو لکھنے کے لائق ہیں تو اپنی پہلی پوسٹ بہتر ہوگا کہ نوٹ پیڈ میں ٹائپ کر لیں اور پھر اسے اس باکس میں پیسٹ کر دیں۔ پیسٹ کرنے کے بعد آپ اپنے اردو ٹیکسٹ کو سیلیکٹ کر کے align right کے ننھے سے بٹن کو پریس کریں گے۔ (دیکھئے تصویر۱) اب پبلش کا بٹن دبادیں۔ پبلش مکمل ہونے کے بعد view blog in new window کے لنک پر کلک کریں۔ دیکھئیے کیا آپ کا اردو ٹیکسٹ صاف نظر آرہا ہے؟ اگر آپ جناب جیفری کا ٹیمپلٹ استعمال کر رہے تھے تو یقینا سب کچھ ٹھیک ہوگا۔ ایک نظر ھمارے بلاگ پر ڈالئے کیا آپ کا بلاگ بھی تقریبا ایسے ہی اردو ٹیکسٹ دکھا رہا ہے؟ اگر ہاں تو اب آپ اردو میں بلاگنگ کر سکتے ہیں۔ بس جب بھی آپکو ٹیکسٹ سیدھے ہاتھ کی سمت کرنا ہو تو الائن رائٹ کا بٹن دبا دیں۔

اگر آپ کوئی اور ٹیمپلٹ استعمال کر رہے ہیں اور اردو ٹیکسٹ صاف نظر نہیں آرہا تو آپ مندرجہ ذیل میں سے کوئی بھی طریقہ اپنا سکتے ہیں۔

۱۔ آپ ھمارے ببلو کے بلاگ کا ٹیمپلٹ استعمال کر سکتے ہیں۔
۲۔ یا آپ اپنے ٹیمپلٹ کے ساتھ صرف اردو ٹیکسٹ کو الائن کر کے اس کا فونٹ تبدیل کر سکتے ہیں۔

ببلو کے بلاگ کا ٹیمپلٹ یہاں موجود ہے۔ اپنے بلاگ پر ٹیمپلٹ میں جائیے اور <style type="text/css"></style> کے درمیان جو بھی ہے اسے مٹادیں اب ان دونوں ٹیگز کے درمیان ببلو کے بلاگ کا ٹیمپلٹ پورا ایسے کا ایسا کاپی پیسٹ کردیں۔ اب Save Template Changes بٹن دبائیں اگلے صفحے پر Republish blog پر کلک کریں اور بعد ازاں اپنے بلاگ کا معائنہ کیجئیے۔ اگر آپ اپنا ہی ٹیمپلٹ استعمال کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اب صرف اردو ٹیکسٹ کا فونٹ ہی تبدیل کریں تو اس طریقے پر عمل کریں کہ اپنے اردو ٹیکسٹ کو سیلیکٹ کریں اسے سیدھے ہاتھ کی طرف الائن کریں اور پھر فونٹ کے مینو سے کوئی بھی فونٹ منتخب کرلیں مثلا ایریل۔ اب HTML موڈ میں جاکر جہاں ایریل دکھائی دے رہا ہے وہاں اپنے مرضی کا فونٹ لکھ دیں۔ مثلا Tahoma, Nafees Web Naskh وغیرہ۔ یہ طریقہ ان لوگوں کے لئے بھی کارآمد ہے جو اپنے اردو ٹیکسٹ کو فونٹ تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا اس کا سائز کم اور زیادہ کرنا چاہتے۔

اس ٹیوٹریل کا مقصد فوری طور پر بلاگرز میں ایک اردو اور انگریزی بلاگ بنانا تھا۔ گرچہ اسوقت ہم نے کئی دیگر باتوں کو نظر انداز کردیا ہے مگر آئندہ ہم ان پر بھی تفصیل سے بات کرتے رہیں گے۔ آپ اس ٹیوٹریل کی مدد سے اگر اردو میں بلاگنگ کرنے لگیں ہمیں اپنے بلاگ کے بارے میں ضرور بتائیے گا اور اگر ناکام رہیں تو اپنے سوال اور بلاگ کا لنک یہاں کمنٹس میں چھوڑ دیں۔

An English translation of this post is available here

A quick Urdu blog on Blogger

Saturday, January 29th, 2005

On Blogger You can start blogging in Urdu with in minutes. In this tutorial we will teach you how to make a bilingual blog on Blogger where you can write easily in both English and Urdu.

Lets first check the required software to do that:

1. Can you write Urdu on your computer? Windows 2000 and win XP come with Urdu support. All you need to do is to install Urdu support and to do that you can always visit this microsoft website and follow the instructions there. Mac also has Urdu support available and just in case if you are unable to install Urdu on your machine then you can always download Unipad which is unicode text editor and enables you to write Urdu. The free version of this software allows you to write atleast 1000 characters for more you have to buy it.

2. Internet explorer 5.5 or above or Mozilla Firefox. It is highly recommended that you download and use Firefox which is the best browser available right now.

Now go to blogger.com, if you already have an account you can use it but if you don’t have an account then you can always create one. After getting an account on bloggers you will provide information about your blog on the next page. Provide a title and an address for your blog. You can have an Urdu title like we did, we named our example blog “ببلو کا بلاگ” and babloooo2 as our blogspot address. You can change the title of your blog later. Click on continue …

The next step is important. Here you will be asked to choose a template for your blog. To write this tutorial I checked different templates available at blogger and I found that all the templates designed by Jeffery Zeldman use Tahoma as the main font. Tahoma is the font we can use for writing Urdu on the web. Al though there are some other choices like “Nafees Web Naskh” but in this tutorial we assume that you don’t want to go through editing CSS and templates. On this page you choose any template offered by mr. Zeldman. My favorites are Mr. Motto and Son of Motto, if you don’t find these templates you can pick any of Zeldmans creative peices and even if you dont find any of Zeldman’s template then pick any we will fix them later. Press continue and your blog is ready now proceed to the posting screen.

This screen is the place where you will add a new post to your blog. This posting area has two interfaces. One is famous WSIWYG/Compose mode and the other is HTML mode. The compose mode editor is a fine text editor just like Microsoft word. You can press tiny buttons to make your text bold, italic or align your text to right, left etc. Now if you are able to write Urdu on your machine then it would be better that you write your post in notepad and paste it here. Then select your Urdu text and press the little Align right button (see picture 1). Now press the publish button and once publishing is done click to view your blog in new window. Have a look at how your blog appears and look at the Urdu text is it clean and readable? You can also look at our test blog and compare. If you didnt use a Jeffery Zeldman template and now Urdu text doesn’t appear right then there are two things you can do about it.

1. You can use the Zeldman template used at babloo’s blog.
2. You can change the Urdu text on your blog with out making any changes in your template.

The template on babloo’s blog is here. Now go to your blog’s Template section and delete every thing between <style type="text/css"> and tags. Now switch back to babloo’s template, select all, copy and paste between these two tags on your blog. Save your template and then republish your index. Check your blog now.

If you want to use your own template and just want to change the font in Urdu then do this. Select your Urdu text, align it to right and then change font to any font for example arial. Now go to HTML mode and replace Arial with Tahoma or ‘Nafees Web Naskh’ or both in order of your preferences. This technique is also useful for those who want to use different fonts or want to change size of their text.

The purpose of this tutorial is to quickly make a bi lingual blog on Blogger. We have ignored several other things here but we will talk about them later. If you start blogging in Urdu after reading this tutorial then please inform us about your blog and if you fail to do so please leave your blog address and your questions in comments.