اردو سیارہ: پردے کے پیچھے

ہم اردو سیارہ کے پردے کے پیچھے در پیش کچھ مسائل کا بھی ذکر کر دینا مناسب خیال کرتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ سیارہ کا ضوابط نامہ تجدید چاہتا ہے۔ اس کی کئی باتیں مبہم ہیں ان میں مزید وضاحت و صراحت کی ضرورت ہے۔ موجودہ نکات کے تحت کئی معاملات میں خط فاصل کا تعین کر پانا ایک مشکل امر ثابت ہو رہا ہے۔ نتیجتاً دو الگ الگ لوگ ان اصولوں کے تحت الگ الگ موقف اپنا سکتے ہیں۔ اس ابہام کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اور اس کا حل ہم نے یہ سوچا ہے کہ ایک پینل کے ذریعہ اردو سیارہ پالیسی کا ایک نیا ڈرافٹ مرتب کر کے اس پر اردو بلاگستان کے احباب کی رائے لی جائے اور باہمی مشاورت کے بعد اس کو ایک ایسی شکل دی جائے جس پر زیادہ سے زیادہ احباب کا اتفاق ہو۔ اس کے تحت آزادئ اظہار رائے کے حدود کے ساتھ ساتھ سیارہ میں شمولیت کے لئے متعین کم سے کم مدت اور فعالیت کے معیار پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

اردو سیارہ کو فی الحال پلینٹ نامی سافٹوئیر کی مدد سے چلایا جا رہا ہے، جو کہ نظامت و ادارت کے لحاظ سے بہت ہی تکلیف دہ ثابت ہو رہا ہے۔ اس کام کے لئے اس میں کوئی ویب انٹرفیس نہیں بلکہ کوئی بھی تبدیلی کرنے کے لئے اردو سیارہ کے کوڈ بیس میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے جو کہ ایک صبر آزما کام ہے۔ لہٰذا یہ کام محض وہی کر سکتے ہیں جن کو اردو سیارہ کے کوڈ بیس تک رسائی اور تبدیلیوں کا اختیار حاصل ہے۔ ہم ایسے متبادل نظام پر کام کر رہے ہیں جس میں مراسلات کے درجے پر رپورٹنگ اور ادارت ممکن ہو۔ ساتھ ہی صارفین سیارہ کو رپورٹ کردہ پیغامات اور بعض بلاگران کے تمام مراسلے فلٹر کرنے کی سہولت دستیاب ہو۔ اس کے بعد اردو بلاگستان کے چند فعال اراکین کو سیارہ کی ادارت کی ذمہ داری بھی سونپی جا سکے گی، جو کہ فی الوقت چاہتے ہوئے بھی ممکن نہیں۔

اردو سیارہ کی نظامت الگ الگ وقتوں میں الگ الگ لوگوں کے ذمہ رہی ہے۔ اور سبھی ناظمین کے نظروں میں سیارہ کے قواعد آزادئی اظہار رائے کا معیار اور خط فاصل کا مختلف ہونا کوئی غیر معمولی یا غیر فطری بات نہیں۔ نیز یہ کہ کوئی فیصلہ کرتے ہوئے اس معالمے کے بیک گراؤنڈ سے آگاہی اور ناظم کی ذہنی کیفیت مختلف انداز سے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ان وجوہات کے باعث سیارہ کے بعض فیصلوں میں عدم مطابقت پائی جاتی ہے۔ نیز یہ کہ اردو محفل اور اردو سیارہ میں اس خط فاصل کا معیار مختلف ہے۔ اردو بلاگستان میں بے شمار ایسی تحریریں ہیں جن کو اردو محفل میں جگہ نہیں مل سکتی۔

ماضی میں کافی عرصہ تک سیارہ کی نظامت مکمل تعطل کا شکار رہی اس کے بعد ہم نے اس ذمہ داری کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ اب عموماً ہم ہی ان معاملات کو دیکھتے ہیں یا کبھی کبھار برادم نبیل بھی اس میں تبدیلیاں کرتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی بڑا فیصلہ لینے سے قبل مشاورت کر لی جائے لیکن یہ کئی دفعہ ممکن نہیں ہو پاتا۔

پچھلے دنوں سیارہ ورکشاپ میں ہم نے بیک وقت سو سے زائد درخواستوں کو پروسیس کیا اس کے بعد سے ہر ہفتے دسیوں نئی درخواستیں موجود ہوتی ہیں۔ جن میں سے بیشتر ڈپلیکیٹ ہوتی ہیں اور کئی ایسی ہوتی ہیں کہ بلاگ شروع کرنے کے دوسرے ہی دن بھیجی گئی ہوتی ہیں۔ اتنے ساری ای میلز کو پراسیس کرنا اور ایک ایک بلاگ پر جا کر یہ فیصلہ لینا کہ کیا وہ شمولیت کے شرائط پر کھرا اترتا بھی ہے یا نہیں، یہ ایک انتہائی صبر طلب اور وقت طلب کام ہے۔ کئی دفعہ اس میں بھی لغزش کا امکان رہتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بلاگ غیر فعال یا ناپید ہو جائے تو صاحبان بلاگ اس کی رپورٹنگ ضروری نہیں سمجھتے۔ ایسے بلاگوں شناخت کر کے ان کا اخراج بھی سہل کام نہیں۔ اس کے باوجود اردو بلاگستان کا بڑھتا ہجوم ہمارے لئے انتہائی مسرت کا باعث ہے اور ہمیں اس کے لئے کام کرتے رہنے پر اکسانے کا سبب بھی۔

کسی بھی ناظم کی ذاتی رائے بطور ناظم اس کی رائے سے مختلف ہونا کوئی تعجب خیز امر نہیں۔ اور اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں۔ اس کے علاوہ، اگر کوئی فیصلہ کسی کی فکر کے مطابق نہ ہو تو اس کے تئین عدم اطمینان، غیر منصفی کا گمان اور اپنے خیالات کی تائید کے لئے شواہد کی تلاش ایک فطری عمل ہے۔ لیکن خوش گمانی، مثبت انداز فکر اور رواداری ایک مستحسن عمل ہے۔ کئی دفعہ پرانی باتیں کھنگالتے ہوئے اس وقت کا سیاق و سباق اور دیگر غیر مذکور عوامل رہ جاتے ہیں اور ان پر حالیہ ماحول کے تحت نتائج اخذ کرنا کسی اور جانب اشارہ کر سکتا ہے۔

اردو ویب محض ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ ایک ادارہ ہے جو اردو کی ترقی کے لئے کئی منصوبوں پر ماضی و حال میں کام کرتا رہا ہے اور اسکوپ بڑھ جانے پر کسی منصوبے کو علیحدہ شناخت اور نظامت کے ساتھ متعارف کرانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ کئی دفعہ یہ منصوبے اردو ویب کے اخراجات پر پروان چڑھتے ہیں اور کئی دفعہ مکمل طور پر علیحدہ کر دیئے جاتے ہیں۔ دیگر کئی منصوبوں کے ساتھ ساتھ اردو کوڈر لینکس فورم بھی ایسا ہی ایک منصوبہ ہے۔ لیکن کسی منصوبے کے تحت کسی سے رابطہ اور دیگر معاملات میں ایک دوسرے کی پشت پناہی دو الگ الگ باتیں ہیں۔ ہم اردو کے تمام خادمین کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ نیز نظریاتی، مسلکی و قومی اختلافات کے باوجود اردو کے تئیں ہر کسی کی صلاحیتوں سے استفادہ کی وکالت کرتے ہیں۔

ہم ان سبھی احباب کے مشکور ہیں جنھوں نے اپنی شکایات و تحفظات کو پوری حسن و خوبی اور تحمل کے ساتھ برتا اور ان احباب کے جذبات کی قدر کرتے ہیں جنھوں نے طنزیہ لہجہ اور غیر مناسب الفاظ کا سہارا لیا۔ ہماری کسی بات سے کسی کو ٹھیس پہونچی ہو تو ہم اس کے لئے معافی کے خواستگار ہیں۔ امید کہ احباب اپنے دامن عفو میں ہمارے لئے کشادگی ضرور پائیں گے۔

ان سب کے باوجود بھی کسی کو اردو ویب کے اردو کے تئیں خلوص کو لیکر بدگمانیاں ہوں تو ہمیں اس بات کا صدمہ ضرور ہوگا پر ہم اس کی شکایت نہیں کریں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ احباب کی آراء کو پیش نظر رکھتے ہوئے مستقبل میں بہتر کار کردگی، ٹرانسپیرینسی اور عدل و مساوات کے قیام کی کوشش کریں گے۔

Bookmark the permalink.

11 Responses to اردو سیارہ: پردے کے پیچھے

  1. اردو سیارہ کے ناظمین کی خدمت میں عرض ہے آپ مختلف فورمز اور بلاگز پر اتنی صفائیاں دے رہے ہیں جیسے اردو سیارہ سے ہی کوئی غلطی ہوگئی بلکہ اب تو صورتحال یہ ہے کہ آپ کو ان چیزوں کی صفائی بھی دینی پڑرہی ہے جو سرے سے سیارہ پر موجود نہیں۔ عرض کیا ہے

    خطاوار سمجھے کی دنیا تجھے
    اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے

    صورتحال یہ ہے کہ اردو بلاگنگ کی اس پوری کائنات کا مرکز اردو سیارہ ہے اور یہ وہ واحد فورم ہے جس کی وجہ سے سیارہ کے اندر اور باہر لوگ اس بات سے آگاہ ہیں کہ اردو بلاگنگ نام کی کسی چیز کا وجود بھی ہے۔ یہ بات میں کئی فورمز پر پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ مطلق عدل، مطلق مساوات اور ظابطہ اخلاق کارنوٹ انجن کی طرح تصوارتی چیزیں ہیں اور آپ محض ان کے حصول کی طرف پیش قدمی کرسکتے ہیں مگر کلی طور اسے حاصل نہیں کرسکتے. ان تشریحات مختلف افراد کی نظر میں مختلف ہیں۔ اردو سیارہ کی پالیسی پہلے ہی بہت مناسب ہے اور اس میں کسی بھی “قراداد مقاصد” کا اضافہ مزید پیچیدگی کا باعث بنے گا۔ آپ لوگ پہلے ہی کار خیر میں مصروف ہیں اور آپ کو ہر مطالبہ ہر آڈٹ کرانے کی ضرورت نہیں۔ میں ذاتی طور پر آپ کے موقف سے اظہار یکجہتی کرتا ہوں۔ شکریہ

  2. صرف اتنا کہوں گا

    عرفی تو میندیش ز غوغائے رقیباں
    آوازِ سگاں کم نہ کند رزقِ گدا را
    :)

  3. Munir Abbasi says:

    مکرمی محمد وارث صاحب، کیا آپ نے آواز سگاں کا سبب بننے والے اخلاق سے بھرپور تبصرے مندرجہ ذیل ربط پر مطالعہ فرمائے ہیں؟

    http://makki.urducoder.com/?p=2581

    کافی ہے یا کچھ اور پیش کیا جائے؟

    اس بارے کیا خیال ہے مکرمی کا؟

    اس کے علاوہ قرآن میں بہت ساری تعبیری، نحوی اور بلاغی غلطیاں موجود ہیں جس سے بجا طور پر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ ایک انسانی خرافت کے سوا کچھ نہیں، مثلا خدا کہتا ہے: ” اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسۡتَحۡیٖۤ اَنۡ یَّضۡرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوۡضَۃً فَمَا فَوۡقَہَا ” (سورہ بقرہ آیت 26) جبکہ بلاغت کا تقاضا یہ ہے کہ یوں کہا جائے: ” بعوضہ فما اصغر ” کیونکہ یہ کہنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ خدا دقیق مثالیں استعمال کرتا ہے نا کہ برعکس! ورنہ یوں کیوں نہیں کہتا کہ: ” فیلاً فما قوق ”؟ ایک اور مثال سیاق کے عدم تسلسل کی ہے جیسے: ” اِلَیۡہِ یَصۡعَدُ الۡکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الۡعَمَلُ الصَّالِحُ یَرۡفَعُہٗ ” (سورہ فاطر آیت 10) جبکہ بلاغی تقاضا یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ ” الیہ یصعد الکلام الطیب والعمل الصالح” کیونکہ ” یرفعہ ” زیادہ یا فالتو ہے جس کی ضرورت نہیں، یا پھر یہ دیکھیے: ” وَّ لَا تَسۡتَفۡتِ فِیۡہِمۡ مِّنۡہُمۡ اَحَدًا ” (سورہ الکہف آیت 22) یہاں ” فیہم منہم ” کا کیا مطلب ہے؟ کیا یہ خدائی منطق ہے!؟ نحوی طور پر تو بات ہی مت کریں اور یہ ایک چلتے چلتے ہے: ” وَ قَالُوۡا لَنۡ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعۡدُوۡدَۃً ” (سورہ بقرہ آیت 80) جو کہ غلط ہے، نحوی طور پر ” ایاماً معدودات ” درست ہے ! بلاغت تو اپنی جگہ رہی ریت کے خدا کو تو یارو نحو بھی نہیں آتی!!

    یہ آپ کے قرآن مجید کے بارے میں آپ کے ایک عزیز دوست کتے کلامت ہیں جو کہ اس ربط پر تفصیل سے پڑھے جا سکتے ہیں۔

    http://makki.urducoder.com/?p=2593

    اور یہ بھی یکھئے:

    حیرت انگیز طور پر خدا کے پاس الفاظ کی شدید قلت ہے اسی لیے وہ کبھی ایک ہی سورت میں آئی ایک کہانی کا ٹیمپلیٹ اسی سورت میں دوسری کہانے کے لیے بڑے دھڑلے سے کاپی کر لیتا ہے تو کبھی کسی ٹیمپلیٹ کو کسی دوسری سورت میں پہنچا دیتا ہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کوئی احمق سوال نہیں اٹھائے گا کیونکہ اس پر ” مقدس ” کا لیبل جو چسپاں ہے..!! یہاں ریت کے خدا کی فصاحت وبلاغت گھاس چرنے چلی جاتی ہے… اور کاپی پیسٹ کا تو پوچھیے ہی مت جس کا قرآن میں ایک انبار موجود ہے،

    اور یہ بھی:

    ، غرض کہ ہم اگر صرف امیہ بن الصلت کی شاعری کا ہی جائزہ لیں تو قرآن اس کے سامنے چغلی کھاتا نظر آتا ہے،

    اردو سیارہ کے منتطمین کو اس میں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی تھی۔ میں ان کے اقوال زریں بھی یہاں دے سکتا ہوں۔ کیا اچھا ہوتا آپ تبصرہ کرنے سے پہلے سیاق و سباق کے بارے میں سوچ لیتے۔

    آپ بھی محفل کے منتظمین میں سے ایک ہیں۔ ذرا دل کو ٹتولئے ، خود سے پوچھئے کیا یہ سب کچھ درست کہا گیا ہے۔ اگر ہاں تو پھر مجھے بھی آپ سے متفق ہونا پڑے گا کہ آواز سگاں کم نہ کند رزق گدا را۔

  4. سعود بھائی جب تک نیا نظام نہیں آجاتا اس نظام کو انہیں قوانین کی بنیاد پر چلانا چاہیے جن قوانین کی بنیاد پر پہلے بلاگ شامل ہوتے اور نکلتے رہے ہیں۔کہ یہی عدل و مساوات کا تقاضا ہے۔
    اور میری یاداشت کے مطابق اُردو سیارہ پر اس سے پہلے بلاگز کو دوسرے بلاگز کا دل دکھانے پر نکالا جا چکا ہے۔ اگر یہی پالیسی ہے تو میں اُردو سیارہ پر اس بلاگ کی موجودگی پر ،جس کا ربط منیر عباسی نے دیا ہے، شدید احتجاج کرتا ہوں۔
    اگر یہ پالیسی نہیں ہے تو نکالے جانے والے بلاگز کو جس قانون کے تحت نکالا گیا تھا وہ واضح ہونا چاہیے۔

  5. Munir Abbasi says:

    صابر بھائی:

    اردو سیارہ کی انتظامیہ بلاگ نکالنے پر راضی نہیں تھی۔ کیونکہ اس میں ان کے مطابق کوئی غلط بات نہیں تھی۔ بلاگ کے مصنف نےے خود درخواست کر کے اپنا بلاگ نکلوایا۔ اور اردو سیارہ نے پھر بھی ان کو پیشکش کی کہ اگر وہ دوبارہ آنا چاہیں تو بخوشی شامل ہو سکتے ہیں۔

    اگر اتنا احتجاج بھی ہمارا حق نہیں بنتا تو پھر مسلمانی کس کام کی ہے؟

  6. جعفر says:

    تعلق نبھانا بہت اچھی چیز ہے
    لیکن قرآن ، رسول اور اللہ کی قیمت پر تعلق نبھانا؟
    اور کیا مذہبی جذبات صرف اہل تشیع کے ہی ہوتے ہیں جو مجروح ہونے پر بلاگ کی رکنیت ختم کردی جاتی ہے۔ باقی مسلمان، گوبھیاں ہوتی ہیں؟

  7. محترم جناب عباسی صاحب، آپ نے مجھ سے براہِ راست استفسار کیا تو عرض کردوں کہ فی الحال تو سیارہ کے انتظامی معاملات سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے ہاں اردو محفل کا منتظم ضرور ہوں۔

    جہاں تک بات ہے مکی صاحب کے بلاگ کے مندرجات کی، تو مجھے ان سے اتفاق نہیں ہے ویسے ہی جیسے مجھے آپ کے بلاگ کے مندرجات سے اتفاق نہیں ہے۔ اگر مکی صاحب کے بلاگ کی تحاریر سے آپ کی دل آزاری ہوتی ہے تو یقین مانیے آپ کے بلاگ کی تحاریر سے بھی بہت سے لوگوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔

    لیکن میں نے نہ تو کبھی مکی صاحب کے بلاگ کو اردو سیارہ سے خارج کرنے کی درخواست دی اور نہ آپ کے بلاگ کو خارج کرنے کی، مجھے ان دونوں بلاگوں کے وہاں رہنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اردو سیارہ کی انتظامیہ کی طرح۔ اور میں ایسا کیوں کروں، اگر مجھے کسی بلاگ کے مندرجات سے اتفاق نہیں ہے تو میں ان کا جانی دشمن کیوں بن جاؤں، کبھی سوچیے گا۔

    باقی رہی تبصروں کی بات تو یہ بھی آپ نے خوب کہی، اسلام کے خود ساختہ ٹھیکدار بلاگوں پر جس طرح کی فخش اور مغلط اور واہیات اور فضول تحاریر اور تبصرے نظر سے گزرتے ہیں میں وہ بھی جانتا ہوں اب اس سے زیادہ کیا عرض کروں کہ بقولِ غالب

    رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھی
    تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے

    :)

    والسلام مع الاکرام
    خاکسار
    وارث

  8. نعمان says:

    میرا بلاگ سیارے سے عدم حاضری کے سبب غائب ہوچکا ہے ذرا اسے واپس شامل کردیں۔

  9. نعیم says:

    کیا بات ہے جناب۔۔۔
    روشن خیالی کے وارثین کی جے ہو۔۔۔۔
    اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے ٹھیکیدار صرف اسلام کے ٹھیکیداروں کے بلاگز پر ہی تانک جھانک کرتے ہیں اور انہیں قابل اعتراض مواد وہیں نظر آتا ہے۔ بہت خوب۔۔۔

    اب اگر کوئی آپس میں ایک دوسرے سے الجھے تو اس سے دوسرے کی دل آزاری ہوتی ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں بھونکنے والوں پر کوئی روک ٹوک نہیں ہونی چاہیے۔ آزادی اظہار زندہ باد۔ وارثین روشن خیالی و آزادی اظہار زندہ باد۔۔۔

  10. اللہ آپ کے ارادوں میں‌برکت اور استقامت نصیب فرمائے۔ آمین۔

  11. تحریم says:

    وہ چیزیں جو کسی کام کی ہون اسے شامل کیجئے میں پھر سب سے یہی کہوں گی خاص کر مکی بھائی سے

    خدارا۔۔۔۔۔۔
    اپنے علم کو غلط فائدہ نا اٹھائیں
    علم کو مثبت طور پر عوام کے اور اپنے فائدے کے لئے وقف کیجئے

    علم کا غلط استعمال انسان کو غلط راہ پر بھی لے جا سکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>