Alvi Nastaleeq Update

السلام علیکم،
دو روز علوی امجد نے علوی نستعلیق فونٹ میں چند خامیوں کو دور کرکے اس کا نیا ورژن ریلیز کیا ہے۔ یہ خامیاں زیادہ تر حروف کے جڑاؤ میں غلطیوں سے متعلق تھیں۔ علوی نستعلیق کے نئے ورژن کو اس ربط سے ڈاؤنلوڈ کیا جا سکتا ہے۔یہ ربط آپ کو اس صفحے پر لے جائے گا جہاں سے آپ فونٹ کے استعمال کی شرائط سے متفق ہونےکے بعد اسے ڈاؤنلوڈ کر سکیں گے۔

نوٹ کریں کہ اس مرتبہ علوی نستعلیق فونٹ‌ کے نام کے ساتھ ورژن نمبر شامل نہیں ہے۔ جو دوست نئے فونٹ کے لیے اپنی ویب سائٹ کی سٹائل شیٹ میں ترمیم کریں، انہیں چاہیے کہ وہ پرانے نام کو بطور بیک اپ فونٹ کے باقی رکھیں تاکہ ویب پیج ان سسٹمز پر بھی درست ڈسپلے ہو جہاں ابھی تک پرانا فونٹ موجود ہے۔

علوی نستعلیق فونٹ ڈاؤنلوڈ کریں

Tagged , , . Bookmark the permalink.

178 Responses to Alvi Nastaleeq Update

  1. zohair92110 says:

    و علیکم السلام
    آقای علی
    جواب سوال بندہ را نہ نوشتہ اید و مطالب دیگر رقم فرمودید بھرحال چیزی کہ نوشتید در جواب آن میگویم ۔
    Ali said:
    در جواب سوال شما قبلا هم عرض کردم که من در حال جمع آوری مطالب برای “دانشنامه سادات” می باشم هر مطلب بدست بیاید در اختیار محققان می گذارم که نظری بدهند نیز این را در سایت سادات هم عرضه می نمایم. Zohair92110, says:
    محترمی : اولا وفعلا شما بفرمایید کہ شما چندین مرتبہ در مقالہ ابوالفضل ۔۔۔۔ ھادی، تحریف کردید و در این ویبلاگ گذاشتید ۔ این کار(تحریف در مقالہ دیگران و گذاشتن در این ویبلاگ ) ھم جزو تہیہ دانشنامہ سادات بودہ یا برای اظہار نظر محققان بودہ کہ اظہار نظر کنند یا برای حمایت وزیر حسین علوی بودہ۔
    ثانیا
    وقتی ھر یک از این شکھا را انتخاب میکنید خواہ نخواہ حال دانشنامہ سادات شما ھم مشخص میشود۔ تدبر جیدا ۔
    ثالثا
    بقول شما ،شمادر حال جمع آوری اطلاعات دانشنامہ سادات ھستید ۔ می توانم بپرسم کہ روز 14 سپتامبر کہ مطالبی کہ بنظر شما تحقیقی بودہ در این ویبلا گ اضافہ فرمودہ اید اینھا را از کجا کاپی کردید ؟ در صورت کاپی بودن، پیام شما 14 سپتامبر این ھم خلاف قواعد تحقیق است چون شما بدون مستند و منقول عنہ نقل کردید ۔ اگر کسی مقداری عقل داشتہ باشد زود می فہمد کہ دانشنامہ سادات کہ مرتبہ از دست شما چہ قدر معتبر می باشد؟
    اگر بگویید کہ من کاپی نکردم و کما لا یخفی کہ پیام شما از اول تا آخر ھمین نشان می دھد کہ نظر حضرتعالی است ۔ در این صورت حال تحقیق شما را واضح می کند کہ شما، چہ قدر براحتی بدون مستند و مدرک، روز 14 سپتامبر با این الفاظ “علمای شیعه به اجماع، بخصوص علمای متاخر شیعه سیادت به فرزندان فاطمه دختر پیامبر می رسد و خمس تنها به آنها تعلق می گیرد” دروغ محض بر فقہ تشیع بستید ۔ از ھمین جا می توان گفت کہ محقق این چنان یعنی سید علی علوی بعید نیست کہ براحتی مطلب دروغ را بہ کسی نسبت بدھد۔
    از این صورت یعنی من کاپی نکردم ھم صداقت دانشنامہ سادات کہ از دست شما تہیہ می شود ھم مشخص می شود ۔
    Ali alvi said:
    اگر معلوم شود سند ندارد او را حذف می کنم.
    Zohair92110 says:
    از حضرتعالی نوشتن این چنین جملہ خندہ دار و عجیب نیست ۔چون آن کسی این جملہ را نوشتہ است کہ متکررا در
    مقالہ دیگران دخل وتصرف انجام دادہ است نیز گاھی دروغ را براحتی بہ محقق دیگر یا بہ مذھب شیعہ نسبت می دھد ۔ بلکہ دلیل بر خلاف این مطلب قایم شدہ است کہ بدون مستند و مدرک مطلبی نقل می کند ۔ نھایہ باید فقط این گفتہ شود کہ يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ لم تفعلون سورہ صف آیت 2۔
    بقیہ حرفھای کہ نوشتہ اید او مربوط بہ بندہ نیست چون بندہ بحث سید را نکردہ ام ۔ لفظ سید چیست؟ کی سید و کی سید نیست؟ بلکہ شما خودت یک روز یک نظریہ دروغ محض (14 سپتامبر) بہ مردم القاء می کنید و روز بعد بر علیہ نظر خودش می نویسید و وقتی متوجہ می شوید کہ این اشتباہ شدہ بجای عذر خواہی از مردم و از خدا ، با تاویل ھای غیر عقلائی مانند این کہ غرض من این بودہ کہ محققان نظر بدھند این کنندو او کنند، تمسک می کنید ۔ حالانکہ اگر کسی بفھمد کہ این کار ھم از باب یخدعون بانفسھم است ۔
    والسلام علیکم

  2. zohair92110 says:

    السلام علیکم
    آقای علی :
    تکہ بعدی کہ جدا ایڈ کردید این ھم بدون جواب نماند ۔
    Ali said:
    آن طرفی که شما اشاره فرمودید کہ” سیادت منحصر در سیادت فرزندان فاطمه سلام الله علیها است “این بین بیسوادان جاهلان و متعصبان معروف شده هیچ دلیلی ندارد آیا پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی و برادر او حضرت علی مرتضی صلوات الله علیهما سید نیستند؟؟حالانکه سرچشمه سیادت آنان هستند قبول دارید یا نه؟
    چه می فرماید
    Zohair92110 says:
    اولا
    این جملہ بندہ نہ نوشتم و نہ گفتم و نخواہم گفت ۔
    ثانیا
    شما 14 سپتامبر نوشتید و مضاف بر اینکہ بدون مستند و مدرک نوشتید ۔
    ثالثا
    بندہ کہ از اھل سنت ھستم و ما علمای اھل سنت را جاھل نمی گویم بلکہ علما می گویم وقابل احترام می شماریم ۔ امروز شمامی گویید کہ این جملہ “انحصار سیادت در فرزندان فاطمہ ” بیسوادان و جاھلان و متعصبان می گویند۔ حالانکہ 14 سپتامبر شما این جملہ را بہ علمای شیعہ نسبت دادید و نوشتہ بودید کہ علمای شیعہ اجماع کردہ اند و بالخصوص علمای شیعہ متاخرین گفتہ اند کہ سیادت منحصر در فرزاندان فاطمہ و خمس متعلق بانھا است ۔ الان من نمی دانم شما این علما خودت را بیسواد و جاھل و متعصب گفتہ اید یا کسی دیگر را ۔ تامل و تدبر ۔
    رابعا
    این خندہ دار نیست کہ شما(علی علوی) یک روز( 14سپتامبر)منکر سیادت اولاد علی بودید روز بعد(16سپتامبر) با تمسک حدیث نبوی دنبال سیادت اولاد علی رفتید و روز چہارم(18سپتامبر) از زھیر سوال می کنید قبول دارید یا نہ ؟
    برای اطلاع شما عرض می کنم از اول روز تا امروز بندہ یعنی زھیر ھیچ جا این موضوع “کی سید اند و کی سید نیستند ” طرح نکردم ۔ بلکہ شما و وزیر حسین دنبال این حرفھا ھستید ۔
    والسلام

  3. zohair92110 says:

    سلام علیکم
    وزیر صاحب آپ کے 16 اگست کے میسج کے کچھ حصے کا جواب عرض کرنے کیلئے حاضر ہیں ۔ آپ نے اپنے میسج میں یہ لکھا :
    البتہ تقریبا ً صدی پہلے کی بات ہے کہ وادی سون ، قصبہ کفری کے امام جمعہ و جماعت مولوی نور الدین
    مرحوم نے مولوی حسام الدین کی تالیف نسب الاعوان اور وہاں کے علوی سادات کے شجرہ ناموں کے پیش نظر ” کتاب زاد الاعون اور باب الاعوان”، مولوی سید شریف احمد شرافت نوشاہی نے “تاریخ عباسی” ، ایک بزرگوار نے ” انوار الاعوان” اور… وغیرہ لکھ دیں۔
    Zohair92110
    محترم وزیر صاحب آپ نے حسب سابق یہاں بھی وہی کچھ کیا جو اس سے پہلے کرتے آئیں ہیں یعنی اشتباہ اور اگر برا نہ منائیں تو کہا جا سکتا ہے کہ حقیقت کے خلاف بیان کیا ھے ۔ محترم آپ صرف جملے لکھنا جانتے ہیں اور ان کے مفہوم اور معنی کو سمجھتے نہیں ہیں یا سمجھتے تو ہیں لیکن دنیا کو حقیقت بتانا نہیں چاہتے ہیں ۔بہرحال آپ نے جو جملے (البتہ صدی پہلے …..وغیرہ لکھ دیں ) لکھے ہیں ان کا مطلب یہ ہے :
    (1)
    ایک صدی پہلے نور الدین نے جب زاد الاعوان اور باب الاعوان کتابیں لکھیں تو ان کتابوں سے پہلے حسام الدین نے نسب الاعوان لکھی ہوئی تھی اور نور الدین نے علوی سادات کے شجرے ناموں کو دیکھتے ہوئے اپنی دونوں کتابیں لکھیں ۔مولوی نورالدین نے ….سے لے کرباب الاعوان تک کا تو یقینی مطلب یہی ہے
    (2)
    سید شریف احمد شرافت نوشاہی نے “تاریخ عباسی” ، ایک بزرگوار نے ” انوار الاعوان” اور… وغیرہ لکھ دیں۔ ان جملوں سے بھی ظاہری معنی یہی سمجھا جاتا ہے ۔
    آپ کے جملوں کا خلاصہ یہ ھے کہ نورالدین کی کتابوں سے پہلے نسب الاعوان، تاریخ عباسی، انوار الاعوان اور دیگر کتابیں لکھی جا چکی تھیں ۔
    نورالدین کی کتابوں سے پہلے ان مذکورہ کتابوں کا موجود ہونا یا لکھا جانا کسی طور بھی صحیح نہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے وزیر صاحب یہاں مطلب بیان کرتے ہوئے یا تو مطلب کو درست بیان نہیں کر پائے یا بیان نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن ھم یہاں اسے بیان کرتے ہیں ۔ دیکھئے کہیں بھی آپ کو کتابوں کے تقدم اور تاخر کو جاننا ہوتو آپ وہاں اس کتاب کی تاریخ طباعت یا تاریخ کتابت کے ذریعے جان سکتے ہیں کہ کونسی کتاب پہلے چھپی یا لکھی گئی ہے ۔ اب یہاں ان کتابوں کی تاریخ طباعت کو ملاحظہ کیجئے :
    زاد الاعوان اور اسکی تاریخ تالیف :
    زاد الاعوان کے مصنف “مولوی نور الدین سلیمانی” نے اپنی اس کتاب کی تاریخ تالیف باب الاعوان اور زاد الاعوان کے ابتدائی صفحوں میں “تیرہ سو پندرہ ھجری(1315)” لکھی ہے جواس فرض کے مطابق کہ 1315 کے بارھویں مہینے کی اگر آخری تاریخ ہو تو عیسوی تاریخ کے مطابق اکیس یا بائیس(21 یا 22) مئی اٹھارہ سو اٹھانوے عیسوی (1898) بنتی ہے ۔ نیز مصنف نے کہا ہے کہ اس کتاب کی تالیف کے وقت اسکی عمر پچیس (25) سال تھی ۔
    باب الاعوان اور اسکی تاریخ تالیف:
    اس کتاب کے مصنف نور الدین نے اس کی تاریخ تالیف کے متعلق یوں کہا ہے کہ باب الاعوان دقیق چوتھے (4) سال تیرہ سو انیس ھجری (یعنی اگر ھجری سال کا باھواں مہینہ فرض کیا جائے توعیسوی سال کے انیس سو دو(1902) کے چوتھے مہینے ) میں لکھی گئی ہے ۔ اسکا دوسرا ایڈیشن انیس سو تئیس (1923ء) سن عیسوی میں چھپا ہے ۔ یہاں یہ یاد رہے کہ مولوی حیدر علی کی تاریخ علوی زاد الاعوان اور باب الاعوان سے پہلے چھپ چکی تھی جس میں قطب شاہی اعوانوں کو حضرت محمد حنفیہ کی اولاد قراردیا گیا تھا۔ یہ کتاب حکیم غلام نبی نے مفت تقسیم کروائی تھی ۔ پھر بعد میں اسی طرح زاد الاعوان اور باب الاعوان بھی اسی حکیم صاحب نے چھپوا کر مفت تقسیم کروائی تھیں نیز قابل غور بات یہ ھے کہ بعد میں باب الاعوان کتاب کو اس کے بیٹے نے دوبارہ1923 میں چھپوایا ۔ سب سے زیادہ مھم یہ بات ھے کہ ہماری معلومات کے مطابق کتابوں کی دنیا میں ان دو “زاد الاعوان اور باب الاعوان” کتابوں میں ھی سب سے پہلے “اعوان قطب شاہی” کو مجہول الحال کتابوں کے ذکر کے ذریعے حضرت عباس کی اولاد کہا گیا ہے ۔
    سید شریف احمد شرافت نوشاہی کی “تاریخ عباسی” اور اسکی تاریخ تالیف :
    اس مصنف کی تاریخ پیدائش سے ھی مسئلہ ہو جائے گا کیونہ یہ مصنف پاکستان کے شہر گجرات میں اٹھائیس ستمبر، انیس سو سات(28/09/1907) کو پیدا ہوئے ۔ اب ظاہر ھے کہ انہوں اپنی تالیفات اپنے پیدا ہونے کے دس پندرہ سال بعد ھی ہی لکھی ہو نگی ۔ادھر زاد الاعوان تو تیرہ سو پندرہ ھجری یعنی اٹھارہ سو اٹھانوے عیسوی میں اور “باب الاعوان” کا پہلا ایڈیشن انیس سو دو یا تین (1902ء یا 1903ء) میں اور دوسرا ایڈیشن انیس سو تئیس (1923ء) میں چھپ کر مفت تقسیم ہو چکا تھا۔ پس ثابت ہوا کہ شریف نوشاھی کی کتاب تاریخ عباسی باب الاعوان کے کئی سال بعد چھپے گی ۔ ھمارے پاس تاریخ عباسی نہیں ہے اس لئے تاریخ پیدائش مصنف سے ہی حل کیا ھے البتہ علی علوی اور وزیر حسین صاحب کو اسکی تاریخ طباعت کا علم ھے اب پتہ نہیں وہ اسے لکھنا گوارا کریں گے یا نہیں ۔
    انوار الاعوان اور اسکی تالیف کی تاریخ :
    یہ کتاب پاکستان کے شہر جہلم کے مولوی محمد نور عالم(بشیر) نے لکھی ہے ۔اسکی تاریخ طباعت کے سامنے ” 1323ھ(تیرہ سو تئیس ھجری) یا1353ھ (تیرہ سو ترپن ھجری) لکھا ہے اور ساتھ لکھا ھے “مطابق 1934 ء” (انیس سو چونتیس عیسوی) لکھا ھے۔

    اگریہ کہا جائے کہ طباعت کی تاریخ “1323 ھ” ھے تو بھی وہ “1905″(انیس سو پانچ عیسوی) بنتا ہے اور اگر” 1353 ھ” ھو تو 1934 ء بنتا ھے جو اس کتاب پر درج تاریخ طباعت کے عین مطابق ھے ۔اسکے علاوہ مصنف نے خود اس کتاب میں زاد الاعوان اور باب الاعوان کے حوالے ذکر کئے ھیں جو اس کے بیان گر ھیں یہ ان دو کتابوں کے بعد لکھی گئی ھے ۔
    نسب الاعوان اور اسکی تاریخ تالیف:
    اس کتاب کے مصنف کا نام جیسا کہ وزیر صاحب نے بتایا کہ “حسام الدین” ھے ۔ اس نے نسب الاعوان نامی کتاب لکھی ھے ۔ لیکن نہایت معذرت کے ساتھ ھمیں نہ تو اسکی تاریخ پیدائش کا پتہ ھے اور نہ ھی اس کتاب کی تاریخ تالیف کا پتہ ھے لیکن چند قرائن سے یہی ظاھر ھوتا ھے کہ یہ بھی زاد الاعوان اور باب الاعوان کے بعد ہی کی ھو گی ۔ کیونکہ
    (1)
    ابھی تک ھماری معلومات کے مطابق پاکستان میں حضرت ابو الفضل کی اولاد کے پہلے ماخذ کے طور پر ابھی تک کسی نے اس کتاب کا نام نھیں لیا ۔اور اسکی تائید خود وزیر صاحب کی تمام تحریریں کرتی ھیں یعنی ابھی تک وزیر صاحب نے بھی اس کتاب کو اسے پہلے کتاب کے ماخذ کے طور پر دلیل نہیں بنایا ھے ۔
    (2)
    پاکستان میں اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں بھی اسے اس عنوان سے ذکر نھیں کیا گیا بلکہ اب تک نور الدین کی کتاب زاد الاعوان کو ھی ذکر کیا جاتا ھے ۔
    (3)
    حکیم غلام نبی صاحب کا حیدر علی کی تاریخ علوی اور نور الدین کی زاد الاعوان اور باب الاعوان کو چھپوا کر مفت تقسیم کرنا بھی اسے ھی بیان کرتا ھے کہ یہ پہلے موجود نہ تھی اگر حسام الدین کی نسب الاعوان نورالدین کی کتابوں سے پہلے موجود ھوتی تو حکیم صاحب “نسب الاعوان” کو ترجیح دیتے اور اسے مفت تقسیم کرواتے ۔
    (4)
    اگر اس فرض بعید کو مان بھی لیا جائے کہ یہ کتاب نور الدین کی کتابوں سے پہلے موجود تھی تو مسئلہ اور بدتر ہو جاتا ھے کہ کتاب کے ھوتے ھوئے اس پر کسی کا یا حکیم غلام نبی کا توجہ نہ کرنا اس کتاب کے ضعف یا اسکے مصنف کے ضعف کو بیان کرتا ھے مگر یہ کہ کہا جائے کہ کتاب پہلے تھی مگر انہیں معلوم نہیں تھا اس لئے یہ تمام مفروضے غلط ھیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
    یہا نتک یہ بیان ہوا کہ نور الدین کی کتابوں سے پہلے وزیر صاحب کی ذکر کردہ کتابوں میں سے پہلے کوئی کتاب موجود نہ تھی بلکہ ان تمام کتابوں سے پہلے نور الدین کی کتابیں موجود تھیں ۔
    وزیر صاحب کا قول :
    نور الدین نے حسام الدین کی نسب الاعوان اور اس علاقے میں پہلے سے موجود نسب ناموں کودیکھتے ہوئے اپنی کتابیں تصنیف کیں۔
    زہیر کا جواب :
    یہ بات بھی کاملا غلط ھیں۔ پہلی بات تو یہ ھے کہ نور الدین نے اپنی زاد الاعوان کے سبب تالیف میں نہ تو یہ کہا ھے کہ حسام الدین کی نسب الاعوان کی وجہ سے میں زاد الاعوان کو تصنیف کر رہا ہوں اور نہ ہی یہ کہا ھے کہ میرے پاس اس علاقے کے نسب نامے موجود ہیں اور میں ان کی وجہ سے زاد الاعوان لکھ رہا ھوں ۔ ھم وزیر صاحب اور لوگوں کی تشفی خاطر کیلئے زاد الاعوان کا سبب تالیف لکھتے ہیں ۔
    زاد الاعوان کی تالیف کا سبب:
    نور الدین نے زاد الاعوان کی تالیف کا سبب یوں بیان کیا ھے : “ایک روز لوگوں نے مجھ سے تذکرۂ نسب نامہ اور تواریخ اعوان کا مجھ سے استفسار کیا اور کہا کہ میں کتابوں سے اعوانوں کا نسب نامہ نکال کر اردو میں علیحدہ مستقل ایک کتاب میں لکھوں لیکن میں نے کوئی توجہ نہ کی اور اسکے پہلے محرک ملک اللہ یار وغیرہ ھوئے ۔ پھر حکیم غلام نبی اعوان نے اسرار کیا تو یہ کتاب لکھی” ۔ اس وجہ تالیف سے تو یہ پتہ چلتا ھے کہ اس وقت تک وھاں کے اعوانوں کے پاس کوئی مرتب نسب نامہ موجود نہیں تھا ۔ لیکن وزیر صاحب کا اس ویبلاگ پر بیان دیکھئے انہوں نے کہا ھے کہ نور الدین نے “حسام الدین کی نسب الاعوان اور موجود نسب ناموں” کی وجہ سے کتابیں لکھی ھیں ۔
    دوسری بات
    نور الدین کے بقول اسنے جن کتابوں کی مدد سے زاد الاعوان کو لکھا انکی فہرست خود ذکر کی ھے اس میں بھی علاقے کے نسب ناموں کا تذکرہ نہیں ھے اور نہ ھی حسام الدین کی نسب الاعوان کا تذکرہ ھے ۔
    باب الاعوان کی تالیف کا سبب:
    یہاں پہلے یہ بات یاد رکھئے کہ “باب الاعوان” زادالاعوان کے بعد چوتھے سال میں لکھی گئی ۔ اس کتاب کی تالیف کے سبب میں بھی نور الدین نے حسام الدین کی کتاب “نسب الاعوان” کا نام نہیں لیا بلکہ پہلے زاد الاعوان کی تالیف کا سبب وہ ہی پہلے والا(جسے ھم نقل کرچکے ہیں) بیان کیا اور پھر مزید کہا کہ حکیم غلام نبی صاحب نے کہا کہ جو باقی تاریخ اعوان بچ گئی اسے مرتب کرو ۔ میں نے اس کا نام تاریخ باب الاعوان رکھا ھے ۔ البتہ یہاں جن کتابوں کی مدد سے یہ کتاب مرتب ہوئی اس کی فہرست میں آخری ماخذ کے طور پر سو (100) قلمی نسب ناموں کا ذکر کیا ھے جبکہ کچھ سطروں بعد خود ھی لکھتے ہیں کہ “میرے پاس پچاس پورے (50) عدد قلمی شجرے موجود ھیں لیکن میں کتاب کی تالیف میں انہیں دوسرے درجے میں رکھا ھے اور پہلے درجے میں کتابوں کو ذکر کیا ھے”۔ یہ دونوں بیان بھی آپس میں متعارض ہیں ۔ ان نسب ناموں کا تذکرہ پہلی کتاب زاد الاعوان میں نہیں ھے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چار سال میں لوگوں نے انہیں اپنے نسب نامے دئے ۔ اس بات کا پتہ نہیں کہ پہلی کتاب چھپنے کے بعد اسی کتاب کی روشنی میں شجرے نامے مرتب ہوئے یا نہیں البتہ پہلی کتاب کی تالیف کے وقت مصنف نے خود یہ بیان کیا کہ علاقے کے لوگوں کے پاس نسب نامے مرتب نہیں تھے جیسا کہ اوپر ھم مصنف کی عبارت نقل کر آئے ھیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
    خلاصہ :
    ابھی تک یہ کا خلاصہ یہ ھوا کہ نور الدین نے اپنی دونوں کتابوں “زاد الاعوان اور باب الاعوان” میں حسام الدین کی کتاب نسب الاعوان تذکرہ نہیں کیا ھے ۔ اس سے پتہ چلا کہ وزیر حیسن صاحب کا یہ بیان کہ “نور الدین نے حسام الدین کی نسب الاعوان کے پیش نظر دونوں کتابیں لکھی یہ کاملا ٖغلط ھے اور اسی طرح وزیر صاحب کا یہ کہنا کہ نور الدین نے وہاں کے اعوانوں کے نسب ناموں کو دیکھتے ہوئے کتابیں مرتب کیں یہ بھی غلط ھے کیونکہ زاد الاعوان کے تالیف کے سبب میں نور الدین نے وہاں نسب ناموں کے مرتب نہ ہونے کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ھے جبکہ دوسری کتاب باب الاعوان کی تالیف کا سبب، اعوانوں کی باقی رہ گئی تاریخ کو مرتب کرنا تھا اگرچہ اس کتاب کی تالیف کے وقت وہاں کے اعوانوں کے شجرے موجود تھے ۔
    آج کیلئے اتنا ھی کافی سمجھتے ھیں ۔ وزیر صاحب کے 16 اگست 2013 کے میسج کے کچھ حصے کا یہ جواب ذکر کیا ھے ۔باقی حصے کا جواب بھی انشاء اللہ جلد ہی عرض کریں گے ۔ آخر میں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ آج جو کچھ لکھا گیا وہ وزیر صاحب کے لکھے ہوئے کے جواب میں لکھا ھے اور یہ ساری بحث کتابوں کی تاریخ طباعت کے متعلق ھے اور کسی کے نسب کی تائید یا تکذیب کرنا قطعا مقصود نہیں ہے ۔ اگر اس تحریر میں کسی مقام پر بندے (زہیر)نے غلط بیانی یا اشتباہ کیا ہو تو کسی تکلف کے بغیر اسکی نشاندہی کی جا سکتی ھے ۔ ہم نہایت ادب و احترام سے اسے قبول کریں گے اور آئندہ میسج میں اس پر قارئیں اور وزیر صاحب سے عذر خواہی سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ والسلام علیکم علی من اتبع الھدی و الحق ۔

  4. کرمانی says:

    علوی اعوان ذریة العباس علیه السلام بن
    امیرالمومنین علی علیه السلام

    بي نظيري علي ( عليه السلام )
    مادام ديالافوا ـ سياح فرانسوي ـ گويد : « احترام علي ( عليه السلام ) در نزد شيعه به منتهي درجه است ، و حقاً هم بايد اين طور باشد ؛ زيرا اين مرد بزرگ علاوه بر جنگ ها و فداکاري ها که براي پيشرفت اسلام کرد ، در دانش ، فضايل ، عدالت و صفات نيک بي نظير بود ، و نسلي پاک و مقدس هم از خود باقي گذارد . فرزندانش نيز از اوپيروي کردند ، و براي پيشرفت مذهب اسلام مظلومانه تن به شهادت دادند . اميرالمومنين علي ( عليه السلام ) کسي است که همه ي بت هايي را که اعراب ، شريک خداي يگانه مي پنداشتند شکست ، و وحدت و يگانه پرستي را تبليغ کرد . علي کسي است که تمام اعمال و رفتارش نسبت به مسلمانان منصفانه بود . علي ( عليه السلام ) کسي است که تهديد و نويدش قطعي بود . « مادام ديالافواي مسيحي » در ادامه ي اين بحث ، خطاب به خود چنين مي گويد :

    چشمان من ! گريه کنيد و اشک هاي خود را با آه و ناله ي من مخلوط نماييد ! و براي اولاد پيامبر ( صلي الله عليه و آله ) که مظلومانه شهيد شدند ، عزاداري کنيد » . (1)

    علي ( عليه السلام ) داراي بزرگواري و شرافت نفس
    ژنرال سرپرسي سايکس ـ از مشاهير خاورشناسان انگليسي ـ مي گويد : « او [ علي بن ابيطالب ( عليه السلام ) ] از ميان خلفا به شرافت و بزرگواري نفس مشهور ، و به غايت مراقب حال زيردستان خود بود . القائات فرستاده ها و نماينده ها در او تأثيري نداشت . به هديه هاي آنان ترتيب اثر نمي داد ، با حريف مکار و غدار خود معاويه ابداً طرف نسبت نبود که براي رسيدن به مقصودي که داشت سخت ترين جنايات را مرتکب شده و رذل ترين وسايل را براي پيشرفت خودش بر مي انگيخت . دقت و مراقبت هاي خيلي سخت او [ علي ( عليه السلام ) ] در امانت و ديانت باعث شده بود که اعراب حريص که تمام امپراطوري را غارت کرده بودند از وي ناراضي باشند . ليکن صداقت ، صحت عمل ، دوستي کامل ، رياضت ، عبادت از روي صدق ، خلوص يا تجرد، وارستگي ، آداب و خصايل محموده ي قابل توجهي که در او وجود داشت حقيقتاً صورت قابل ستايشي به وي داده بود . اين که اهالي ايران در او مقام ولايت قايل شده و او را به اصطلاح سرپرست حقيقي و مربي الهي مي دانند واقعاً اين قاعده قابل تحسين و شايان بسي تمجيد است . اگر چه مقام و مرتبه ي او خيلي بالاتر از اين ها است » . (2)

    تنها راه چاره ، دوست داشتن علي ( عليه السلام )
    جانين ـ شاعر آلماني ـ گويد : « علي ( عليه السلام ) را جز آن که دوست بداريم و شيفته او باشيم چاره اي نداريم ؛ زيرا جوان شريف و بزرگواري بود ، وجدان پاکي داشت که از مهرباني و نيکي لبريز بود ، و قلبش مملو از ياري و فداکاري بود ، و از شير شرزه شجاع تر بود ، ولي شجاعتي ممزوج با رقت ، لطف ، دلسوزي ، مهر و عاطفه » . (3)

    برترين افراد عرب
    پروفسور استانسيلاس ـ گوريارد ـ فرانسوي ـ گويد : « معاويه از بسياري جهات برخلاف قواعد اسلام رفتار کرده است ، چنان که با علي بن ابي طالب ( عليه السلام ) که پس از پيغمبر اسلام ( صلي الله عليه و آله ) بزرگ ترين ، شجاع ترين ، پرهيزگارترين ، فاضل ترين ، و خطيب ترين افراد عرب به شمار مي رفت ، در افتاد » . (4)

    تخطي نکردن علي عليه السلام از راه راست
    جرجي زيدان ـ نويسنده و دانشمند مسيحي عرب ـ گويد : « معاويه و دوستانش براي پيشرفت مقاصد فردي خود از هيچ جنايتي دريغ نداشتند ، اما علي ( عليه السلام ) و همراهان او ، هيچ گاه از راه راست ، و دفاع از حق و شرافت ، تخطي و تجاوز نمي کردند … » . (5)

    بالاتر از مسيح ( عليه السلام )
    جرجي زيدان : « اگر بگويم مسيح از علي ( عليه السلام ) بالاتر است عقلم اجازه نمي دهد ، و اگر بگويم علي ( عليه السلام ) از مسيح بالاتر است دينم اجازه نمي دهد » . (5)

    پهلواني در عين دليري دلسوز و رقيق القلب
    بارون کاردايفو ـ دانشمند فرانسوي ـ گويد : « علي ( عليه السلام ) مولود حوادث نبود ، بلکه حوادث را او به وجود آورده بود ؛ اعمال او مخلوق فکر و عاطفه و مخيله ي خود اوست ؛ پهلواني بود در عين دليري دلسوز و رقيق القلب ، و شهسواري بود که هنگام رزم آزمايي ، زاهد از دنيا گذشته بود . به مال و منصب دنيا اعتنايي نداشت ، و در حقيقت جان خود را فدا نمود . روحي بسيار عميق داشت که ريشه ي آن ناپيدا بود و در هر جا خوف الهي او را فرا گرفته بود » . (6)

    پاي بند دين در حد شور و عشق
    ايليا پاولويچ ـ پطروشفسکي مورخ و خاور شناس روسي ـ گويد : « علي ( عليه السلام ) ، پرورده ي محمد ( صلي الله عليه و آله ) عميقاً به وي در امر اسلام وفادار بود . علي ( عليه السلام ) تا سر حد شور و عشق پاي بند دين ، صادق و راستگو بود . در امور اخلاقي بسيار خرده گير بود . هم سلحشور بود و هم شاعر ، و همه ي صفات لازمه ي اولياء الله در وجودش جمع بود … » . (7)

    شجاع بي همتا و قهرمان يکه تاز
    بارون کارادوو ـ مورخ و محقق فرانسوي ـ گويد : « علي ( عليه السلام ) آن شجاع هبي همتا و قهرمان يکه تازي بودکه پهلو به پهلوي پيامبر مي جنگيد. و به اعمال برگزيده و معجزه آسايي قيام نمود ؛ در معرکه ي بدر ، بيست ساله بود که با يک ضرب دست ، يکه سوار قريش را دو نيم کرد؛ در احد شمشير پيامبر ( ذوالفقار ) را به دست گرفت و بر سرها ، خود ( کلاهخود ) مي شکافت و بر تن ها جوشن مي دريد ، و در يورش بر قلعه هاي يهود خيبر ، با يک دست دروازه سنگين آهنين را از جاي کند ، و آن را بالاي سر خود سپر ساخت . و اما پيامبر ( صلي الله عليه و آله ) ، او را بسيار دوست مي داشت و به او بسي وثوق داشت . روزي به سوي علي ( عليه السلام ) اشاره کرد و گفت : « من کنت مولاه فعلي مولاه » . (8)

    بسيار زيرک و سريع الادراک
    جرج جرداق ـ نويسنده ي مسيحي عرب ـ مي گويد : « علي بن ابي طالب ( عليه السلام ) ـ در منبر ، با آرامش خاطر و اعتماد کامل به خويشتن و سخن عادلانه ي خود ، مي ايستاد و سخن مي گفت : او بسيار زيرک و سريع الادراک بود . و راز دل مردم ، هو س ها و خواست هاي دروني آنان را به خوبي مي دانست . دلي داشت مالامال از مهر ، آزادي ، انسانيت و فضيلت ، … علي بن ابي طالب ( عليه السلام ) با راستي و راست گويي در زندگي شناخته شد و امتياز يافت » . (9)
    « واقعاً سزاوار است که در جهان امروز ، آتش افروزان جنگ ، عوامل و مسببان بدبختي هاي ملت ها و افراد ، به سخنان و کمک قهرمان انديشه ي عربي ، بزرگ مرد وجدان انساني علي بن ابي طالب ( عليه السلام ) گوش فرا دهند و آن ها را حفظ کنند و در مقابل گوينده ي بزرگ آن سخنان ، سر تعظيم فرود آوردند .» (10)

    علي ( عليه السلام ) شهيد عظمت خود
    جرج جرداق در جاي دگر کتابش مي نويسد : « در نظر من ، فرزند ابوطالب ( عليه السلام ) نخستين مرد عرب بود که با روح کلي ، يار و همنشين بود ؛ علي ( عليه السلام ) شهيد عظمت خود شد ؛ او در حالي جان سپرد که نماز را در ميان دو لب داشت ، او با دلي سرشار از عشق خدا در گذشت . تازيان ( عرب ها ) قدر و مقام راستين وي را نشناختند تا آن که از همسايگان پارسي آنان مردماني برخاستند که گوهر و سنگريزه را به خوبي از يکديگر باز شناختند » . (11)

    بيدار کننده بردگان
    جرج جرداق مسيحي در بحث « بردگي » نظر علي ( عليه السلام ) و عمر بن خطاب را مقايسه نموده ، مي گويد :
    « عمر گفت : مردم را چرا به بندگي گرفتيد ؟ و در حال که مادرانشان آنان را آزاده زاده اند . اين گفتار متوجه اربابان است و جز نصيحتي بيش نيست . ولي علي بن ابي طالب ( عليه السلام ) بردگان را بيدار مي کرد و مي فرمود :
    « بنده ي ديگري مباش که خداوند تو را آزاد آفريده است » بلندي انديشه را بنگر » . (12)

    علي ( عليه السلام ) کشته عدالت
    جرج جرداق کلام رسايي درباره عدالت امام علي ( عليه السلام ) دارد : « قتل في محرابه لعدالته » علي ( عليه السلام ) به خاطر عدالت خويش در محراب نمازش کشته شد » . (13)

    متلاطم نشدن درياي وجود علي ( عليه السلام )
    جرج جرداق : « آب هاي عالم ؛ آب حوض ، آب استخر ، آب درياچه و آب اقيانوس قابليت تلاطم را دارد ، ولي چيزي که متلاطم نشد ، درياي وجود علي ( عليه السلام ) بود که هيچ کس و هيچ چيزي نتوانست آن را متلاطم کند » . (14)

    قطب عالم اسلام
    جرج جرداق : « علي بن ابي طالب ، در خرد ، يگانه بود ، او قطب اسلام و سرچشمه ي معارف و علوم عرب بود ، هيچ دانشي در عرب وجود ندارد ، مگر آن که اساسش را علي عليه السلام پايه گذاري کرده ، يا در وضع آن ، سهيم و شريک بوده است » . (15)

    سلطنت بردل ها
    جرج جرادق : « اي دنيا چه مي شود اگر تمام نيروهاي خود را فشرده سازي ، و در هر زمان مردي چون علي را ، با خرد و قلب و زبان و ذوالفقارش بياوري . اگر چه علي ( عليه السلام ) چون امويان بر مردم حکومت نکرد و رسالتش براي چنان حکومتي نبود ، اما حکومت بر دل هاي مردم پاک سيرت را از دست نداد . ويژگي هايي که او به عنوان يک انسان نمونه و والا داشت ، اين شايستگي را به وي داد که بر دل ها سلطنت کند » . (16)

    شهيد بزرگوار
    جرج جرداق ـ اديب و نويسنده مشهور لبناني ـ گويد : « علاقه علي ( عليه السلام ) نسبت به مردم ، و محبت و دوستي مردم نسبت به علي ( عليه السلام ) ، گواه آن است که بزرگوار حقيقي ، کسي است که دوستدار نيکي باشد و در راه آن شهيد شود ، علي ( عليه السلام ) همان شهيد بزرگوار است » . (17)

    کوه استوار
    جرج جرداق : « آري علي ( عليه السلام ) در گذرگاه تاريخ به عنوان امام حق و نيکي ، همانند کوهي استوار قرار گرفته ، به گونه اي که حوادث کوبنده و بادهاي سخت ، آن را متزلزل نمي کند . آنان که با علي بن ابي طالب ( عليه السلام ) دشمني مي کردند هم خود گمراه شدند و هم ديگران را گمراه ساختند و سرانجام سربه زير خاک فرو بردند و خاموش شدند و از آن ها نام و نشاني ، جز لعن و نفرين اسنان هاي آگاه باقي نماند .
    وجدان پاک انسان ها ، آن ها را از بين رفته و ذليل مي شمارد ، اگر گناه و زشتي و تبه کاري ، در پيشگاه وجدان انسان ، ارزش داشته باشد آن ها هم ارزشي دارند » . (18)

    علي ( عليه السلام ) شعله هاي فروزان در دل ها
    جرج جرداق : « علي بن ابي طالب ( عليه السلام ) شعله هاي فروزان در دل ها ، و حرارتي نيرو بخش در جان ها ، و منطقي شفابخش در عقل ها است . او مستند شناخته و معتقد است که پيامبر ( صلي الله عليه و اله ) اسلام وصيت کرده ، و حتي از صحابه ، قلم و دوات خواسته که حضرت علي ( عليه السلام ) را به جانشيني خود کتباً منصوب کند . ولتر از اجرا نشدن اين وضعيت متأسف است و مي گويد : آخرين اراده ي پيامبر اسلام ( صلي الله عليه و اله ) اجرا نشد»، زيرا او علي ( عليه السلام ) را به جانشيني خود منصوب کرده بود ، و حال آن که پس از مرگش ، عده اي ابوبکر را برگزيدند » . (19)

    يگانه نسخه ي عالم
    شبلي شميل ـ از پيشتازان مکتب ماديگري ـ مي گويد : « امام علي ابن ابي طالب ( عليه السلام ) بزرگ بزرگان ، يگانه نسخه اي است که نه شرق و نه غرب ، نه در گذشته و نه در امروز صورتي مطابق اين نسخه نديده است » . (20)

    همانند پيامبران (عليه السلام)
    جبران خليل جبران ـ يکي از بزرگترين نويسندگان و متفکران مسيحي عرب ـ مي گويد : « من معتقدم که فرزند ابوطالب نخستين عرب بود که با روح کلي ، رابطه برقرار کرد . او نخستين شخصيت از عرب بود که لبانش نغمه ي روح کلي را در گوش مردمي طنين انداز نمود که پيش از او نشنيده بودند … او از اين دنيا رخت بر بست در حالي که رسالت خود را به جهانيان نرسانيده بود . او چشم از اين دنيا پوشيد مانند پيامبراني که در جوامعي مبعوث مي شدند که گنجايش آن پيامبران را نداشتند ، و به مردمي وارد مي شدند که شايسته ي آن پيامبران نبودند ، و در زماني ظهور مي کردند که زمان آنان نبود . خدا را در اين کار حکمتي است که خود داناتر است » . (21)

    شهيد عدالت
    کارلايل ـ فيلسوف بزرگ انگليسي ـ مي گويد : « ما را نمي رسد جز آن که علي ( عليه السلام ) را دوست بداريم و به او عشق بورزيم ، چه او جوان مردي است بس عالي قدر و بزرگ نفس ، از سرچشمه ي وجدانش خير و نيکي مي جوشيد ، از دلش شعله هاي شور و حماسه زبانه مي زد ، شجاع تر از شير ژيان بود ولي شجاعتي ممزوج با لطف ورحمت و عواطف رقيق و رافت … در کوفه کشته شد ، شدت عدلش موجب اين جنايت گرديد ، چنانکه هر کس را ماند خود عادل مي ديد ، پيش از مرگش درباره ي قاتل خود گفت : و اگر زنده ماندم خودم نمي دانم [ با ضارب چه کار کنم ] و اگر در گذشتم کار به دست شما است ، اگر خواستيد قصاص نماييد در برابر يک ضربت تنها زنيد ، اگر در گذريد به تقوا نزديک تر است . (22)

    علي ( عليه السلام ) مظهر حق
    ميخائيل نعميه ـ نويسنده صاحب نظر و متفکر مسيحي عرب ـ مي گويد : « قدرت نمايي و قهرماني امام علي ( عليه السلام ) تنها در حدود ميدان هاي جنگ نبود ، قهرماني بود در صفاي بصيرت ، و طهارت وجدان ، و سحر بيان ، و حرارت ايمان ، و عمق روح انسانيت ، و بلندي همت ، و نرمي طبيعت ، و ياري محروم و رهايي مظلوم از چنگال متجاوز و ظالم ، و فروتني براي حق به هر صورت و مظهري که حق برايش تجلي نمايد ، اين نيروي قهرماني هميشه محرک و انگيزنده است گر چه روزگارها از آن بگذرد …

    دانشمندان غربي پاي منبر علي ( عليه السلام )
    نويسيان ـ دانشمند مسيحي ـ مي گويد : « اگر امام علي ( عليه السلام ) اين خطيب با عظمت و اين گوينده ي زبر دست ، امروز در همين عصر ، بر منبر کوفه مي نشست ، شما مي ديديد که مسجد کوفه با آن همه وسعت ، از مردم مغرب زمين و دانشمندان جهان براي استفاده از درياي خروشان علم علي ( عليه السلام ) موج مي زد » . (23)

    شير خدا
    واشنگتن ارونيک ـ محقق و نويسنده آمريکايي ـ مي گويد : « علي ( عليه السلام ) از برجسته ترين خانواده هاي نژاد عرب ، يعني قريش بود . او داراي سه خصلت بزرگ : شجاعت ، فصاحت ، و سخاوت بود . روح دلير و شجاع او بود که او را شايسته عنوان ( شيرخدا ) نمود ، لقبي که پيغمبر ( صلي الله عليه و آله ) به او عطا فرمود» . (24)

    ستاره درخشان علم و ادب
    دکتر بولس سلامه ـ اديب و حقوق دان بزرگ مسيحي ـ مي گويد : « علي ( عليه السلام ) به مقامي رسيده است که يک دانشمند ، او را ستاره درخشان آسمان علم و ادب مي بيند ، و يک نويسنده برجسته ، از شيوه نگارش او پيروي مي کند ، و يک فقيه ، هميشه بر تحقيقات و ابتکارات او تکيه دارد . علي ( عليه السلام ) در قضاوت هاي خود استثنايي قايل نمي شد ، و به طور مساوي آنچه را که شايسته بود حکم مي کرد ، و تفاوتي ميان ارباب و بنده نمي گذاشت . علي ( عليه السلام ) همواره از وضع رقت بار يتيمان و فقيران بسيار متأثر و غمگين مي شد » . (25)

    دانشمند بي نظير اسلام
    رودلف زيگر ـ محقق و نويسنده آلماني ـ مي گويد : « در صدر اسلام علي ابن ابي طالب ( عليه السلام ) ، يکي از دانشمندان بي نظير اسلام بود . علي ( عليه السلام ) در کشورهاي ديگر به خصوص در ايران به خوبي شناخته مي شد در حالي که مردي جوان به شمار مي آمد ، و کمتر اتفاق مي افتاد که يک دانشمند جوان بتواند در خارج از زادگاه خويش معروفيت و احترام پيدا کند » . (26)

    نمونه کامل تقوي
    ويل دورانت ـ خاورشناس مشهور انگليسي ـ مي گويد : « علي ( عليه السلام ) در جواني ، نمونه کامل تواضع ، تقوا ، نشاط و اخلاص ، در راه دين است . خوش منظر و نيکو خصال ، و پر انديشه و درست پيمان بود » . (27)

    دروازه ي شهر علم
    لامنس ـ خاورشناس معروف بلژيکي ـ مي گويد : « براي علي ( عليه السلام ) اين بس است که تمام اخبار و معارف اسلامي ، از او سرچشمه مي گيرد ، او حافظه و نيروي شگفت انگيزي داشته است . همه علما و دانشمندان ، اخبار و احاديث خود را براي وثوق و اعتبار به او مي رسانند . علماي اسلام از مخالف و موافق ، از دوست و دشمن ، مفتخرند که گفتار خود را به علي ( عليه السلام ) مستند کنند ؛ چه گفتار او حجيت قطعي داشت و او دروازه ي شهر علم بود ، و با روح کلي پيوستگي کامل داشت » . (28)

    دريا فضايل
    رينولدالين نيکلسون ـ محقق و خاورشناس معروف انگليسي ـ مي گويد : « علي ( عليه السلام ) برجستگي ها و فضايل بسيار داشت . او هوشيار ، دور انديش ، شجاع ، صاحب راي ، حليم ، وفادار و شريف بود » . (29)

    علي ( عليه السلام ) مرد عقيده و احتجاج
    ابوالفرج اهرون مشهور به ابن العبري ـ مورخ و دانشمند مسيحي ـ مي گويد : « علي ( عليه السلام ) بود که در عصر خلفا ، خلأ ناشي از فقدان حضرت رسول اکرم ( صلي الله عليه و آله ) را جبران نمود . او مبارزات عقيدتي را ، پس از پيغمبر ( صلي الله عليه و آله ) بر عهده داشت . احتجاجات و مناظرات آن حضرت ، در تاريخ گواه اين مدعي است .
    وجود مقدس حضرتش ، در کنار خلفا ،خلأيي را که از فقدان مقام والاي نبوي حاصل شده بود ، پر مي کرد و کتاب هاي شيعه و سني ، سرشار است از اين گونه مسايل ، و نمونه بارزش سخن عمر : « لولا علي لهلک عمر» است ؛ که حداقل هفتاد بار آن ، در تاريخ ضبط گرديده است » . (30)

    پي نوشت :

    1. اسد عليزاده ، اکبر ، امام علي عليه السلام از نگاه انديشمندان غير شيعه ، ص 100 -101 .
    2. همان ، ص 101 – 102 .
    3. سراج ، محمد ابراهيم ، امام علي عليه السلام خورشيد بي غروب ، ص 324 .
    4. همان .
    5. همان ، ص 325 .
    6. کريم خاني ، صمداني ، علي عليه السلام فرانسوي اديان ، ص 16 .
    7. سراج ، محمد ابراهيم ، امام علي عليه السلام خورشيد بي غروب ، ص 325 .
    8. همان ، ص 331 .
    9. همان ، ص 333 .
    10. جرج جرداق ، امام علي عليه السلام صداي عدالت انساني ، ترجمه ي هادي خسرو شاهي ، ج 4 ، ص 468 .
    11. همان ، ص 467 .
    12. جرج جرداق ، الأمام علي عليه السلام صوت العداله الأنسانيه ، ج 5 ، ص 1222.
    13. جرج جرداق ، امام علي عليه السلام صداي عدالت انساني ، ترجمه ي هادي خسرو شاهي ، ج 1 ، ص 227 .
    14. مظاهري ، حسين ، چهارده معصوم ، ص 49.
    15.همان ، ص 52 .
    16.جرج جرداق ، الأمام علي عليه السلام صوت العداله الأنسانيه ، ج 1 ، ص 103 .
    17. رهبر ، محمد تقي ، علي عليه السلام ابر مرد مظلوم ، ص 292 .
    18. جرج جرداق ، امام علي عليه السلام صداي عدالت انساني ، ترجمه هادي خسرو شاهي ، ج 6 ، ص 716 .
    19. همان ، ص 716 – 717 .
    20. جمعي از دبيران ، داستان غدير ، ص 293 .
    21. جعفري ، محمد تقي ، ترجمه و تفسير نهج البلاغه ، ج 1 ، ص 171 .
    22. عبدالفتاح عبد المقصود ، الأمام علي بن ابي طالب عليه السلام ، ج 1 ، مقدمه ، ترجمه ي سيد محمد مهدي جعفري ، ص سيزده .
    23. همان ، ص پانزده .
    24. رضايي ، عبدالرحمن ، در آستانه آفتاب ، ص 39 .
    25. کريم خاني ، صمداني ، علي عليه السلام فراسوي اديان ، ص 15 .
    26. همان ، ص 20 .
    27. همان ، ص 23 .
    28. همان ، ص 24 .
    29. همان ، ص 25 .
    30.همان ، ص 27 .
    31. همان ، ص 33 .
    [ سه شنبه هشتم مرداد 1392 ] [ 17:40 ] [ کرمانی ] [ 2 نظر ]
    .: Weblog Themes By WeblogSkin :.

    درباره وبلاگ

    بسم رب العباس
    هیات اعوان العباس علیه السلام
    خدای را سپاس که گریان حسینیم
    جلسات هفتگی هیات سه شنبه ها
    شماره اطلاع از برنامه ها09130103278
    سامانه پیامک 30004822500000
    نويسندگان
    کرمانی
    اکبری
    جولایی
    آخرين مطالب
    یا شمس الشموس یا علی ابن موسی الرضا علیه السلام
    میلاد امام رضا علیه السلام مبارک باد
    بقيع
    امیرالمومنین علی علیه السلام
    چگونگی ضربت خوردن حضرت علی علیه ‎السلام
    لینک دوستان
    قالب وبلاگ
    لا امیرالمومنین الا علی
    بوی بهار
    رویای ظهور
    منجی ششم
    پرستو
    هیات قمر بنی هاشم (ع)
    شیعه می گوید
    موسسه تحقیقاتی حضرت ولی عصر (عج)
    شبکه الکفیل(وب سایت حرم حضرت عباس(ع))
    بیت العباس
    خلوت عباسیه
    شیعه شناسی
    رد وهابیت
    شیعه حقیقی
    مذهبیون
    نقد صحیح بخاری
    نینوا
    امیری حسین ونعم الامیر
    غــــریـب عــشیره زهــرا سلام الله علیها
    قالب بلاگفا
    قالب های وبلاگ اسکین
    لینک های مفید
    زیبا مد
    طراحی سایت حرفه ای
    چت فارسی
    فروشگاه اینترنتی
    خرید ساعت
    پيوندهای روزانه
    حدیث اشک
    علوم قرانی
    دانلود مداحی
    سایت تبیان
    سایت محبین حضرت زهرا سلام الله علیها
    قالب وبلاگ
    وبلاگ اسکین
    آرشيو مطالب
    شهریور 1392
    مرداد 1392
    تیر 1392
    خرداد 1392
    اردیبهشت 1392
    فروردین 1392
    اسفند 1391
    لینک های مفید
    اس ام اس بر اساس کد پستی
    قالب پرشین بلاگ
    نقش برجسته سفالی
    قالب میهن بلاگ
    قالب بلاگفا
    امکانات وب

    اوقات شرعی به افق اصفهان

    اذان صبح05:27:33
    طلوع آفتاب06:50:03
    اذان ظهر12:56:50
    غروب آفتاب19:03:19
    اذان مغرب19:19:48

    دریافت کد اوقات شرعی

    طب
    امام صادق عليه السلام:

    «لاتَدخُلِ الحِّمامَ إِلاّ وَفى جَوفِكَ شَى ءٌ يُطفى بِهِ عَنكَ وَهَجُ المِعدَةِ وَهُوَ أَقوى لِلبَدَنِ وَلاتَدخُلهُ وَأَنتَ مُمتَلى ءٌ مِنَ الطَّعامِ»

    داخل حمام نشو مگر در حالى كه در شكمت چيزى (غذايى) كه شدت حرارت معده را خاموش كند وجود داشته باشد، كه براى بدن موجب تقويت است و در حالى كه شكمت از غذا پر است نيز وارد حمام مشو.
    وسايل الشيعه، ج1، ص377، ح1

    دریافت کد حدیث موضوعی
    [ طراحی : وبلاگ اسکین ] [ Weblog Themes By : weblog skin

  5. zohair92110 says:

    السلام علیکم
    محترم وزیر حسین صاحب !
    آپ نے سولہ اگست دو ھزار تیرہ (16/اگست/2013 ) کو جو میسج ایڈ کیا اس کا جواب ھم نے مختلف اوقات میں جناب عالی کے گوش گزار کیا۔ اسے مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کا سبب یہ تھا آپ نے سولہ اگست کے میسج میں کہا تھا کہ آپ نے ھمارے یاد کروانے پر کچھ حوالوں کی تصحیح کی تھی ۔ اس جملے کے پیش نظر ھم نے گزراش کی تھی کہ وہ تصحیح شدہ مقامات لکھئے ۔ اور انتظار کیا کہ آپ یقینا انہیں ذکر کریں گے ۔فرصت بھی اسی لئے دی تھی لیکن آپ نے اس کے متعلق لکھنا گوارا نہیں ۔ بہر حال پھر ھم بھی دھیرے دھیرے جواب دینے لگے۔ آج پھر آپ کے سولہ اگست کے باقی رہ جانے والے حصوں کی طرف آتے ھیں ۔
    وزیر صاحب
    اعوان نامی رسالے میں چھپنے والے مضمون کا جو آپ نے جواب دیا تھا۔ آپ نے پھر ایک دفعہ پھر اسی مضمون کے کچھ حصے یہاں شامل کئے ھیں اور ان کے توسط سے اپنی مظلومیت بیان کی ھے ۔
    Zohair92110
    محترم ! دنیاکا ھر عاقل انسان مظلوم حقیقی کی حمایت کرنے کو ترجیح دیتا کیونکہ خدا نے انسان کی فطرت میں ظلم کے خلاف نفرت کو سمویا ھے ۔اسی وجہ سے جہاں کہیں بھی ظلم ہو انسانیت اسکے خلاف آواز اٹھاتی ھے البتہ یہ ضرور ھے کہ اگر ھوائے نفس ،خود غرضی یا دیگر کوئی عوامل آجائیں تو وھاں انسان اپنی انسانیت کی صدا کو دبانے کی کوشش کرتا ھے ۔یہی تو وجہ تھی ھمیں بھی جہاں کسی کے حق میں ظلم نظر آتا ھے تو اسکے خلاف اپنی ندائے فطرت پر لبیک کہتے ہوئے کچھ لکھ دیتے ھیں ۔ مثلا اسکی چند مثالیں یوں عرض کرتے ھیں
    (1)
    آپ کی جانب سے الذریعہ کے متعلق بعض باتیں نقل ہوئیں جو بزرگ تہرانی نے ذکر نہیں کیں تھیں مثلا آپ نے کہا کہ ملا ھاشم علوی کا تذکرہ اور اسکی کتاب میزان ھاشمی کا تذکرہ بزرگ تہرانی نے کیا ھے۔ جبکہ الذریعہ میں نہیں تھا لہذا یہ بزرگ تہرانی کے حق میں ظلم تھا ایسی بات کہ جو انہوں نے نہیں کی۔ اسے انکی جانب منسوب کیا جائے ۔ھم نے بزرگ تہرانی کے حق میں ردعمل ظاہر کیا۔
    (2)
    علی علوی اور سادت علوی قطب شاھی نے ذاتی غرض کے حصول کی خاطر ایرانی محقق کے مضمون میں بے جا دخل وتصرف کیا تو ھم نے ابو الفضل ھادی کا دفاع کیا وہ اس معاملے میں مظلوم ھے کیونکہ ھادی صاحب کو کوئی خبر نہیں کہ اسکے مضمون کی کیا درگت بنائی جارہی ھے ۔ کیا کچھ لکھ کر انکی طرف منسوب کیا جا رھا ھے؟یہ لوگ ھادی صاحب کو پتہ نہی کس نا کردہ گناہ کی سزا دی جارہی ھیں؟
    (3)
    اسی طرح دیکھئے قمر درخشان میں نور الدین کی زاد الاعوان سے خلاصہ الانساب اور تاریخ مخزن ھند کی عبارتیں زاد الاعوان کا نام لئے بغیر نقل کرنا اور زاد الاعوان کے مصنف نور الدین کا نام تک نہ لینا اس کے حق میں ظلم ھے کیونکہ اس کی کتابوں سے نقل ہوا ھے ۔اب چاھے وہ ربانی مرحوم خود نقل کریں یا وہ شخص نقل کرے جس نے ربانی کو ترجمہ کر کے دیا ھے انہوں نے ظلم کیا ھے ۔
    (4)
    اسی طرح فارسی اور اردو زبان لوگوں کو ھادی صاحب کے مضمون میں دخل و تصرف کی خبر نہ دینا انکے حق میں ظلم ھے تا کہ وہ آگاہ ھو جائیں کہ کچھ نا اندیشوں نے کسی کے مقالے میں تحریف کی ھے ۔ خدا کا شکر ھے ھم پہلے شخص نہیں جس نے مظلوم کی حمایت کی ھو تاریخ ان دفاعوں سے بھری پڑی ھےاور تو اور آپ بھی مظلوموں کا ہی دفاع کرتے ھیں ۔ آپ کے بقول جب آپکو کسی کی جعل سازی اور تحریف کا پتہ چلا تو آپ نے بھی محبت حسین کے خلاف وہ کچھ کہا جو کہہ سکتے تھے ۔ لیکن حیرانگی اس بات پر ھے کہ جب ھم علی علوی اور سادات علوی قطب شاھی کی بالکل اسی طرح کی تحریف سازی اور جعل سازی کو آپ سے بیان کرتے ھیں اسے بے نقاب کرتے ھیں ۔ یہاں آپ نے محقق ھادی کی حمایت تو کیا کرنی ھے آپ تو بالکل اس کے ایک سو اسی درجے کے زاویے پر مخالف آکر تحریف، ردوبدل کرنے والوں کی مخالفت کرنے کی بجائے علی علوی اور سادات۔۔۔۔کی عملی اور علمی حمایت ، نصرت اور مدد کر کے انکی حوصلہ افزائی کرتے ھیں ۔ یہ تو خدا کا لاکھ لاکھ شکر ھے کہ آپ علی علوی کے ناجائز کام کی کاپی پیسٹ کے اشتباہ جیسی غیر معقول توجیہ کرتے ھیں لیکن وہ علی علوی خود دو دن کے بعد اقرار کر لیتے ھیں۔ اور یوں حق کا بول بالا ہوتا ھے ۔
    آخر میں آپ سے گزارش ھے کہ اس کی توضیح مناسب بیان کریں کہ ان مقامات پر آپ کی خاموشی کیا پیغام دینا چاہتی ہے ۔
    والسلام

  6. سید علی says:

    شعر آیت‌الله‎خامنه‌ای برای امام زمان(عج)

    دل را ز بی خودی سر از خود رمیدن است
    جان را هوای از قفس تن پریدن است

    از بیم مرگ نیست که سرداده ام فغان
    بانگ جرس زشوق به منزل رسیدن است

    دستم نمی رسد که دل از سینه برکنم
    باری علاج شکر گریبان دریدن است

    شامم سیه تر است ز گیسوی سرکشت
    خورشید من برآی که وقت دمیدن است

    سوی تو ای خلاصه گلزار زندگی
    مرغ نگه در آرزوی پرکشیدن است

    بگرفته آب و رنگ زفیض حضور تو
    هرگل دراین چمن که سزاوار دیدن است

    با اهل درد شرح غم خود نمی کنم
    تقدیر قصه دل من ناشنیدن است

    آن را که لب به جام هوس گشت آشنا
    روزی (امین) سزا لب حسرت گزیدن است

  7. سید علی says:

    اين دعا همان دعاى رسول‏ خدا صلى اللّه عليه و آله در روز بدر و احزاب،و دعاى حضرت سيد الشهدا عليه السّلام در روز عاشورا است،و جز اين دعا دو دعاى ديگر از حضرت روايت‏ شده كه در روز عاشورا خواندند،يكى دعايى است كه به حضرت سجاد عليه السّلام تعليم فرمودند،زمانى كه ايشان را به سينه خود چسباند در حالى‏كه از بدن مباركشان خون مى‏جوشيد،و اين دعا را براى حاجت و نياز مهم و اندوه و بلاى سخت و امر بزرگ‏ دشوار مى‏خوانند،و آن دعا اين است:
    بِحَقِّ يسَّ وَالْقُرْآنِ الْحَكيمِ وَ بِحَقِّ طه وَ الْقُرْآنِ الْعَظيمِ يا مَنْ يَقْدِرُ عَلى حَوآئِجِ السّآئِلينَ يا مَنْ يَعْلَمُ ما فِى الضَّميرِ يا مُنَفِّساً عَنِ الْمَكْرُوبينَ يا مُفَرِّجاً عَنِ الْمَغْمُومينَ يا راحِمَ الشَّيْخِ الْكَبيرِ يا رازِقَ الطِّفْلِ الصَّغيرِ يا مَنْ لايَحْتاجُ اِلَى التَّفْسيرِ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَافْعَلْ بى كَذا و كَذا
    به حق يس و قرآن حكيم،و به حق ط و قرآن عظيم،اى كه بر نيازهاى خواهندگان توانايى،اى كه آنچه در باطن است مى‏دانى، اى خارج‏كننده غم و اندوه از گرفتاران،اى گشاينده غم از غمناكان،اى رحم كننده به پيرمرد،اى روزى‏دهنده به كودك صغير،اى كه نياز به تفسير ندارى،بر محمّد و خاندان محمّد درود فرست،و با من چنين و چنان‏ كن.
    و حاجت خود را بخواه.پنجم:از حضرت صادق عليه السّلام نقل شده:دست خود را به جانب آسمان برداشت و گفت:
    رَبِّ لاتَكِلْنى اِلى نَفْسى طَرْفَةَ عَيْنٍ اَبَدَاً لا اَقَلَّ مِنْ ذلِكَ وَلا اَكْثَرَ
    اى پروردگارم هرگز چشم برهم‏نهادنى مرا به خود وامگذار نه كمتر از اين و نه بيشتر
    ششم:و از آن حضرت‏ روايت شده:اين كلمات را مى‏گفت:
    اِرْحَمْنى مِمّا لاطاقَةَ لى بِهِ وَلاصَبْرَ لى عَلَيْهِ
    بر آنچه تابش را ندارم و بر آن توان صبر برايم نيست به من رحم كن

  8. سید علی says:

    آيت الكرسي سيد آيات قرآن

    پيامبر به حضرت علي (ع) فرمود: ” يا علي ! من سيد عربم-مكه سيد شهر هاست- كوه سينا سيد همه كوه هاست- جبرئيل سيد همه فرشتگان است – فرزندانت سيد جوانان اهل بهشتند- قرآن سيد همه كتاب هاست – بقره سيد همه سوره هاي قرآن است – ودر بقره يك آيه است كه آن آيه 50كلمه دارد و هر كلمه 50 بركت دارد و آن آيت الكرسي است.

    ادامه مطلب
    + نوشته شده در دوشنبه 1388/11/26ساعت توسط محمد | آرشیو نظرات

  9. سید علی says:

    اگر دعايتان به اجابت نرسيد مواظب اين سه حالت باشيد
    اول : آن كه مايوس نشوى از رحمت خدا، زيرا به اجابت نرسيدن دعا ممكن است به سبب گناهان تو باشد كه مانع اجابت است پس درصدد رفع آن به توبه و تعذيب نفس برآى .
    دوم : ترك دعا نكن .
    سوم : راضى باش به تقدير الهى تا همان رضاى تو باعث اجابت دعايت بشود.
    امام حسن عليه السلام مى فرمايد: من ضامنم از براى كسى كه در قلب او چيزى خطور نكند بجز رضا و خشنودى به قضاى خدا اين كه دعا كند پس مستجاب شود.
    دعا كردن سه حالت دارد كه به هر حالتى كه باشد براى انسان اجر معنوى دارد
    حالت اول : آن كه صلاح بنده در آن هست و به او مى رسد و مشروط به دعا نيست و در اين صورت ثمره دعا تقرب بنده است به خدا.
    حالت دوم : آن كه صلاح بنده در آن هست و رسيدن به آن مشروط است به دعا كردن و در اين صورت ثمره دعا دو چيز است يكى رسيدن به مطلوب و ديگر تقرب به خدا.
    حالت سوم : آن كه صلاح بنده در آن نيست و به آن نمى رسد چه دعا بكند چه نكند و در اين صورت ثمره دعا دو چيز است يكى تقرب به خدا، دوم عوض آن كه در دنيا از او منع شده در آخرت به اضعاف آن به او عطا مى شود.

  10. waziralvi says:

    بسمہ تعالیٰ
    جناب زہیر
    سلام علیکم۔ آپ نے ستمبر کے ایک پیغام میں اپنا تعارف یوں دیا کہ ”
    جن کتابوں کو آپ جھٹلا رہے ہیں ان کے لکھنے والے اہل سنّت کے علماء ہی ہیں ، مولوی نور الدین سلیمانی حنفی نقشبندی مؤلف “باب الاعوان”، مولوی سید شریف احمد شرافت نوشاہی مؤلف “تاریخ عباسی”، مولوی حسام الدین مؤلف “نسب الاعوان” سنی ہونے کے ساتھ اپنے اپنے مقام پر پیر طریقت بھی ہیں، اب بھی ا ہلسنت ان کی قبور کی زیارت پر جاتے ہیں اور نذر و نیاز دیتے ہیں۔۔۔ آپ بتائیں کیا مذکورہ اہلسنت علماء نے جھوٹ لکھا تھا ؟ کیا اہلسنت کے یہاں جھوٹ بولنا ان کے مذہب میں شامل؟
    آپ نے اچھوتے ، جھوٹ کے بل بوتے انداز میں لکھا: کہ نسب الاعوان یا برادری کےشجرہ نامے اس وقت موجود نہیں تھے تو پھر نسب الاعوان اور شجرہ ناموں کا ذکر کتاب باب الاعوان میں کسے آ گیا ہے؟

  11. waziralvi says:

    بسمہ تعالیٰ
    جناب زہیر
    سلام علیکم۔ آپ نے 18 ستمبر2013 , 10:19 پر اپنے ایک پیغام میں اپنا تعارف یوں دیا کہ( “بندہ کہ از اھل سنت ھستم و ما علمای اھل سنت را جاھل نمی گویم بلکہ علما می گویم وقابل احترام می شماریم…..)
    اب جن کتابوں کو آپ جھٹلا رہے ہیں ان کے لکھنے والے اہل سنّت کے علماء ہی ہیں ، مولوی نور الدین سلیمانی حنفی نقشبندی مؤلف “باب الاعوان”، مولوی سید شریف احمد شرافت نوشاہی قادری مؤلف “تاریخ عباسی”، مولوی حسام الدین مؤلف “نسب الاعوان” ، مولوی محمد نور عالم(بشیر) مولف انوار الاعوان وغیرہ اہلسنت ہونے کے ساتھ اپنے اپنے مقام پر پیر طریقت بھی ہیں، اب بھی ا ہلسنت ان کی قبور کی زیارت پر جاتے ہیں اور نذر و نیاز دیتے ہیں۔۔۔ آپ بتائیں کیا مذکورہ اہلسنت علماء نے جھوٹ لکھا تھا ؟ کیا اہلسنت کے یہاں جھوٹ بولنا ان کے مذہب میں شامل؟

    آپ نے اچھوتے ، جھوٹ کے بل بوتے انداز میں لکھا: کہ نسب الاعوان یا برادری کےشجرہ نامے اس وقت موجود نہیں تھے تو پھر نسب الاعوان اور شجرہ ناموں کا ذکر کتاب باب الاعوان میں کیسے آ گیا ہے؟

  12. zohair92110 says:

    سلام علیکم
    وزیر صاحب آپ کے 16 اگست کے میسج کے کچھ حصے کا جواب عرض کرنے کیلئے حاضر ہیں ۔ آپ نے اپنے میسج میں یہ لکھا :
    البتہ تقریبا ً صدی پہلے کی بات ہے کہ وادی سون ، قصبہ کفری کے امام جمعہ و جماعت مولوی نور الدین
    مرحوم نے مولوی حسام الدین کی تالیف نسب الاعوان اور وہاں کے علوی سادات کے شجرہ ناموں کے پیش نظر ” کتاب زاد الاعون اور باب الاعوان”، مولوی سید شریف احمد شرافت نوشاہی نے “تاریخ عباسی” ، ایک بزرگوار نے ” انوار الاعوان” اور… وغیرہ لکھ دیں۔
    Zohair92110
    محترم وزیر صاحب آپ نے حسب سابق یہاں بھی وہی کچھ کیا جو اس سے پہلے کرتے آئیں ہیں یعنی اشتباہ اور اگر برا نہ منائیں تو کہا جا سکتا ہے کہ حقیقت کے خلاف بیان کیا ھے ۔ محترم آپ صرف جملے لکھنا جانتے ہیں اور ان کے مفہوم اور معنی کو سمجھتے نہیں ہیں یا سمجھتے تو ہیں لیکن دنیا کو حقیقت بتانا نہیں چاہتے ہیں ۔بہرحال آپ نے جو جملے (البتہ صدی پہلے …..وغیرہ لکھ دیں ) لکھے ہیں ان کا مطلب یہ ہے :
    (1)
    ایک صدی پہلے نور الدین نے جب زاد الاعوان اور باب الاعوان کتابیں لکھیں تو ان کتابوں سے پہلے حسام الدین نے نسب الاعوان لکھی ہوئی تھی اور نور الدین نے علوی سادات کے شجرے ناموں کو دیکھتے ہوئے اپنی دونوں کتابیں لکھیں ۔مولوی نورالدین نے ….سے لے کرباب الاعوان تک کا تو یقینی مطلب یہی ہے
    (2)
    سید شریف احمد شرافت نوشاہی نے “تاریخ عباسی” ، ایک بزرگوار نے ” انوار الاعوان” اور… وغیرہ لکھ دیں۔ ان جملوں سے بھی ظاہری معنی یہی سمجھا جاتا ہے ۔
    آپ کے جملوں کا خلاصہ یہ ھے کہ نورالدین کی کتابوں سے پہلے نسب الاعوان، تاریخ عباسی، انوار الاعوان اور دیگر کتابیں لکھی جا چکی تھیں ۔
    نورالدین کی کتابوں سے پہلے ان مذکورہ کتابوں کا موجود ہونا یا لکھا جانا کسی طور بھی صحیح نہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے وزیر صاحب یہاں مطلب بیان کرتے ہوئے یا تو مطلب کو درست بیان نہیں کر پائے یا بیان نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن ھم یہاں اسے بیان کرتے ہیں ۔ دیکھئے کہیں بھی آپ کو کتابوں کے تقدم اور تاخر کو جاننا ہوتو آپ وہاں اس کتاب کی تاریخ طباعت یا تاریخ کتابت کے ذریعے جان سکتے ہیں کہ کونسی کتاب پہلے چھپی یا لکھی گئی ہے ۔ اب یہاں ان کتابوں کی تاریخ طباعت کو ملاحظہ کیجئے :
    زاد الاعوان اور اسکی تاریخ تالیف :
    زاد الاعوان کے مصنف “مولوی نور الدین سلیمانی” نے اپنی اس کتاب کی تاریخ تالیف باب الاعوان اور زاد الاعوان کے ابتدائی صفحوں میں “تیرہ سو پندرہ ھجری(1315)” لکھی ہے جواس فرض کے مطابق کہ 1315 کے بارھویں مہینے کی اگر آخری تاریخ ہو تو عیسوی تاریخ کے مطابق اکیس یا بائیس(21 یا 22) مئی اٹھارہ سو اٹھانوے عیسوی (1898) بنتی ہے ۔ نیز مصنف نے کہا ہے کہ اس کتاب کی تالیف کے وقت اسکی عمر پچیس (25) سال تھی ۔
    باب الاعوان اور اسکی تاریخ تالیف:
    اس کتاب کے مصنف نور الدین نے اس کی تاریخ تالیف کے متعلق یوں کہا ہے کہ باب الاعوان دقیق چوتھے (4) سال تیرہ سو انیس ھجری (یعنی اگر ھجری سال کا باھواں مہینہ فرض کیا جائے توعیسوی سال کے انیس سو دو(1902) کے چوتھے مہینے ) میں لکھی گئی ہے ۔ اسکا دوسرا ایڈیشن انیس سو تئیس (1923ء) سن عیسوی میں چھپا ہے ۔ یہاں یہ یاد رہے کہ مولوی حیدر علی کی تاریخ علوی زاد الاعوان اور باب الاعوان سے پہلے چھپ چکی تھی جس میں قطب شاہی اعوانوں کو حضرت محمد حنفیہ کی اولاد قراردیا گیا تھا۔ یہ کتاب حکیم غلام نبی نے مفت تقسیم کروائی تھی ۔ پھر بعد میں اسی طرح زاد الاعوان اور باب الاعوان بھی اسی حکیم صاحب نے چھپوا کر مفت تقسیم کروائی تھیں نیز قابل غور بات یہ ھے کہ بعد میں باب الاعوان کتاب کو اس کے بیٹے نے دوبارہ1923 میں چھپوایا ۔ سب سے زیادہ مھم یہ بات ھے کہ ہماری معلومات کے مطابق کتابوں کی دنیا میں ان دو “زاد الاعوان اور باب الاعوان” کتابوں میں ھی سب سے پہلے “اعوان قطب شاہی” کو مجہول الحال کتابوں کے ذکر کے ذریعے حضرت عباس کی اولاد کہا گیا ہے ۔
    سید شریف احمد شرافت نوشاہی کی “تاریخ عباسی” اور اسکی تاریخ تالیف :
    اس مصنف کی تاریخ پیدائش سے ھی مسئلہ ہو جائے گا کیونہ یہ مصنف پاکستان کے شہر گجرات میں اٹھائیس ستمبر، انیس سو سات(28/09/1907) کو پیدا ہوئے ۔ اب ظاہر ھے کہ انہوں اپنی تالیفات اپنے پیدا ہونے کے دس پندرہ سال بعد ھی ہی لکھی ہو نگی ۔ادھر زاد الاعوان تو تیرہ سو پندرہ ھجری یعنی اٹھارہ سو اٹھانوے عیسوی میں اور “باب الاعوان” کا پہلا ایڈیشن انیس سو دو یا تین (1902ء یا 1903ء) میں اور دوسرا ایڈیشن انیس سو تئیس (1923ء) میں چھپ کر مفت تقسیم ہو چکا تھا۔ پس ثابت ہوا کہ شریف نوشاھی کی کتاب تاریخ عباسی باب الاعوان کے کئی سال بعد چھپے گی ۔ ھمارے پاس تاریخ عباسی نہیں ہے اس لئے تاریخ پیدائش مصنف سے ہی حل کیا ھے البتہ علی علوی اور وزیر حسین صاحب کو اسکی تاریخ طباعت کا علم ھے اب پتہ نہیں وہ اسے لکھنا گوارا کریں گے یا نہیں ۔
    انوار الاعوان اور اسکی تالیف کی تاریخ :
    یہ کتاب پاکستان کے شہر جہلم کے مولوی محمد نور عالم(بشیر) نے لکھی ہے ۔اسکی تاریخ طباعت کے سامنے ” 1323ھ(تیرہ سو تئیس ھجری) یا1353ھ (تیرہ سو ترپن ھجری) لکھا ہے اور ساتھ لکھا ھے “مطابق 1934 ء” (انیس سو چونتیس عیسوی) لکھا ھے۔

    اگریہ کہا جائے کہ طباعت کی تاریخ “1323 ھ” ھے تو بھی وہ “1905″(انیس سو پانچ عیسوی) بنتا ہے اور اگر” 1353 ھ” ھو تو 1934 ء بنتا ھے جو اس کتاب پر درج تاریخ طباعت کے عین مطابق ھے ۔اسکے علاوہ مصنف نے خود اس کتاب میں زاد الاعوان اور باب الاعوان کے حوالے ذکر کئے ھیں جو اس کے بیان گر ھیں یہ ان دو کتابوں کے بعد لکھی گئی ھے ۔
    نسب الاعوان اور اسکی تاریخ تالیف:
    اس کتاب کے مصنف کا نام جیسا کہ وزیر صاحب نے بتایا کہ “حسام الدین” ھے ۔ اس نے نسب الاعوان نامی کتاب لکھی ھے ۔ لیکن نہایت معذرت کے ساتھ ھمیں نہ تو اسکی تاریخ پیدائش کا پتہ ھے اور نہ ھی اس کتاب کی تاریخ تالیف کا پتہ ھے لیکن چند قرائن سے یہی ظاھر ھوتا ھے کہ یہ بھی زاد الاعوان اور باب الاعوان کے بعد ہی کی ھو گی ۔ کیونکہ
    (1)
    ابھی تک ھماری معلومات کے مطابق پاکستان میں حضرت ابو الفضل کی اولاد کے پہلے ماخذ کے طور پر ابھی تک کسی نے اس کتاب کا نام نھیں لیا ۔اور اسکی تائید خود وزیر صاحب کی تمام تحریریں کرتی ھیں یعنی ابھی تک وزیر صاحب نے بھی اس کتاب کو اسے پہلے کتاب کے ماخذ کے طور پر دلیل نہیں بنایا ھے ۔
    (2)
    پاکستان میں اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں بھی اسے اس عنوان سے ذکر نھیں کیا گیا بلکہ اب تک نور الدین کی کتاب زاد الاعوان کو ھی ذکر کیا جاتا ھے ۔
    (3)
    حکیم غلام نبی صاحب کا حیدر علی کی تاریخ علوی اور نور الدین کی زاد الاعوان اور باب الاعوان کو چھپوا کر مفت تقسیم کرنا بھی اسے ھی بیان کرتا ھے کہ یہ پہلے موجود نہ تھی اگر حسام الدین کی نسب الاعوان نورالدین کی کتابوں سے پہلے موجود ھوتی تو حکیم صاحب “نسب الاعوان” کو ترجیح دیتے اور اسے مفت تقسیم کرواتے ۔
    (4)
    اگر اس فرض بعید کو مان بھی لیا جائے کہ یہ کتاب نور الدین کی کتابوں سے پہلے موجود تھی تو مسئلہ اور بدتر ہو جاتا ھے کہ کتاب کے ھوتے ھوئے اس پر کسی کا یا حکیم غلام نبی کا توجہ نہ کرنا اس کتاب کے ضعف یا اسکے مصنف کے ضعف کو بیان کرتا ھے مگر یہ کہ کہا جائے کہ کتاب پہلے تھی مگر انہیں معلوم نہیں تھا اس لئے یہ تمام مفروضے غلط ھیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
    یہا نتک یہ بیان ہوا کہ نور الدین کی کتابوں سے پہلے وزیر صاحب کی ذکر کردہ کتابوں میں سے پہلے کوئی کتاب موجود نہ تھی بلکہ ان تمام کتابوں سے پہلے نور الدین کی کتابیں موجود تھیں ۔
    وزیر صاحب کا قول :
    نور الدین نے حسام الدین کی نسب الاعوان اور اس علاقے میں پہلے سے موجود نسب ناموں کودیکھتے ہوئے اپنی کتابیں تصنیف کیں۔
    زہیر کا جواب :
    یہ بات بھی کاملا غلط ھیں۔ پہلی بات تو یہ ھے کہ نور الدین نے اپنی زاد الاعوان کے سبب تالیف میں نہ تو یہ کہا ھے کہ حسام الدین کی نسب الاعوان کی وجہ سے میں زاد الاعوان کو تصنیف کر رہا ہوں اور نہ ہی یہ کہا ھے کہ میرے پاس اس علاقے کے نسب نامے موجود ہیں اور میں ان کی وجہ سے زاد الاعوان لکھ رہا ھوں ۔ ھم وزیر صاحب اور لوگوں کی تشفی خاطر کیلئے زاد الاعوان کا سبب تالیف لکھتے ہیں ۔
    زاد الاعوان کی تالیف کا سبب:
    نور الدین نے زاد الاعوان کی تالیف کا سبب یوں صفحہ 2 پر یوں بیان کیا ھے : “ایک روز لوگوں نے مجھ سے تذکرۂ نسب نامہ اور تواریخ اعوان کا استفسار کیا اور عوام نے خواہش ظاہر کی کہ میں کتابوں سے اعوانوں کا نسب نامہ نکال کر اردو میں علیحدہ مستقل ایک کتاب میں لکھوں لیکن میں نے کوئی توجہ نہ کی اور اسکے پہلے محرک ملک اللہ یار وغیرہ ھوئے ۔ پھر حکیم غلام نبی اعوان نے اسرار کیا تو یہ کتاب لکھی” ۔ اس وجہ تالیف سے تو یہ پتہ چلتا ھے کہ اس وقت تک وھاں کے اعوانوں کے پاس کوئی مرتب نسب نامہ موجود نہیں تھا ۔ لیکن وزیر صاحب کا اس ویبلاگ پر بیان دیکھئے انہوں نے کہا ھے کہ نور الدین نے “حسام الدین کی نسب الاعوان اور موجود نسب ناموں” کی وجہ سے کتابیں لکھی ھیں ۔
    دوسری بات
    نور الدین کے بقول اسنے جن کتابوں کی مدد سے زاد الاعوان کو لکھا انکی فہرست خود ذکر کی ھے اس میں بھی علاقے کے نسب ناموں کا تذکرہ نہیں ھے اور نہ ھی حسام الدین کی نسب الاعوان کا تذکرہ ھے ۔
    باب الاعوان کی تالیف کا سبب:
    یہاں پہلے یہ بات یاد رکھئے کہ “باب الاعوان” زادالاعوان کے بعد چوتھے سال میں لکھی گئی ۔ اس کتاب کی تالیف کے سبب میں بھی نور الدین نے حسام الدین کی کتاب “نسب الاعوان” کا نام نہیں لیا بلکہ پہلے زاد الاعوان کی تالیف کا سبب وہ ہی پہلے والا(جسے ھم نقل کرچکے ہیں) بیان کیا اور پھر مزید کہا کہ حکیم غلام نبی صاحب نے کہا کہ جو باقی تاریخ اعوان بچ گئی اسے مرتب کرو ۔ میں نے اس کا نام تاریخ باب الاعوان رکھا ھے ۔ البتہ یہاں جن کتابوں کی مدد سے یہ کتاب مرتب ہوئی اس کی فہرست میں آخری ماخذ کے طور پر سو (100) قلمی نسب ناموں کا ذکر کیا ھے جبکہ کچھ سطروں بعد خود ھی لکھتے ہیں کہ “میرے پاس پچاس پورے (50) عدد قلمی شجرے موجود ھیں لیکن میں نے کتاب کی تالیف میں انہیں دوسرے درجے میں رکھا ھے اور پہلے درجے میں کتابوں کو ذکر کیا ھے”۔ یہ دونوں بیان بھی آپس میں متعارض ہیں ۔ ان نسب ناموں کا تذکرہ پہلی کتاب زاد الاعوان میں نہیں ھے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چار سال میں لوگوں نے انہیں اپنے نسب نامے دئے ۔ اس بات کا پتہ نہیں کہ پہلی کتاب چھپنے کے بعد اسی کتاب کی روشنی میں شجرے نامے مرتب ہوئے یا نہیں البتہ پہلی کتاب کی تالیف کے وقت مصنف نے خود یہ بیان کیا کہ علاقے کے لوگوں کے پاس نسب نامے مرتب نہیں تھے جیسا کہ اوپر ھم مصنف کی عبارت نقل کر آئے ھیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
    خلاصہ :
    ابھی تک یہ کا خلاصہ یہ ھوا کہ نور الدین نے اپنی دونوں کتابوں “زاد الاعوان اور باب الاعوان” میں حسام الدین کی کتاب نسب الاعوان تذکرہ نہیں کیا ھے ۔ اس سے پتہ چلا کہ وزیر حیسن صاحب کا یہ بیان کہ “نور الدین نے حسام الدین کی نسب الاعوان کے پیش نظر دونوں کتابیں لکھی یہ کاملا ٖغلط ھے اور اسی طرح وزیر صاحب کا یہ کہنا کہ نور الدین نے وہاں کے اعوانوں کے نسب ناموں کو دیکھتے ہوئے کتابیں مرتب کیں یہ بھی غلط ھے کیونکہ زاد الاعوان کے تالیف کے سبب میں نور الدین نے وہاں نسب ناموں کے مرتب نہ ہونے کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ھے جبکہ دوسری کتاب باب الاعوان کی تالیف کا سبب، اعوانوں کی باقی رہ گئی تاریخ کو مرتب کرنا تھا اگرچہ اس کتاب کی تالیف کے وقت وہاں کے اعوانوں کے شجرے موجود تھے ۔
    آج کیلئے اتنا ھی کافی سمجھتے ھیں ۔ وزیر صاحب کے 16 اگست 2013 کے میسج کے کچھ حصے کا یہ جواب ذکر کیا ھے ۔باقی حصے کا جواب بھی انشاء اللہ جلد ہی عرض کریں گے ۔ آخر میں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ آج جو کچھ لکھا گیا وہ وزیر صاحب کے لکھے ہوئے کے جواب میں لکھا ھے اور یہ ساری بحث کتابوں کی تاریخ طباعت کے متعلق ھے اور کسی کے نسب کی تائید یا تکذیب کرنا قطعا مقصود نہیں ہے ۔ اگر اس تحریر میں کسی مقام پر بندے (زہیر)نے غلط بیانی یا اشتباہ کیا ہو تو کسی تکلف کے بغیر اسکی نشاندہی کی جا سکتی ھے ۔ ہم نہایت ادب و احترام سے اسے قبول کریں گے اور آئندہ میسج میں اس پر قارئیں اور وزیر صاحب سے عذر خواہی سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ والسلام علیکم علی من اتبع الھدی و الحق ۔
    آخر میں اس بات کی توضیح کر دوں کہ دو تین پہلے ھم اس میسک کو ایڈ کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن یہ ایڈ نہیں ہوا ۔آج جب یہ میسج ایڈ کرنے لگے تو وزیر صاحب کی جانب سے ایک نیا پیغام آیا ہوا تھا ۔وہ کیا لکھا اس میں اپنی عقل کا جنازہ نکالا ھے ۔باقی پھر لکھیں گے ۔

  13. zohair92110 says:

    سلام علیکم
    وزیر صاحب کا 18 ستمبر کا پیغام حقیقت میں ھمارے 25 ستمبر کے پیغام کا جواب ھے تاریخون کے آگے پیچھے ہونے کی وجہ یہ ھے کہ 25 ستمبر کا پیغام انہیں 18 ستمبر سے پہلے میل کیا تھا وہ انہیں مل گیا لیکن جب ھم اس پیغام کو ویبلاگ پہ ایڈ کرنے لگے تو نیٹ پرابلم کی وجہ سے ایڈ نہیں ۔ لہذا وزیر صاحب نے ہماری میل پڑھ کر 18 کو اس کا جواب دینے کی کوشش کی ھے ۔ ھمارا پیغام 25 ستمبرکو ویبلاگ پہ ایڈ ہوا ھے ۔اب ھم اسی 18 ستمبر 2013 کے پیغام کے جواب کی طرف آتے ھیں ۔
    Zohair92110
    وزیر صاحب !
    آپ نے ھمارے مذھب پہ اس طرح تنقید کی ھے کہ سنی مذھب کے علماء جھوٹ بولتے ھیں اور ھم سے سوال کیا ھے کہ کیا ھمارے مذھب میں جھوٹ بولنا جائز ھے ۔
    جوابا عرض ھے کہ اولا
    محترم جھوٹ جھوٹ ھی ہوتا ھے چاھے وہ اھل سنت بولے یا شیعہ بولے یا وہ بولنے یا لکھنے والے وزیر حسین یا سید علی علوی ھی کیوں نہ ھوں اور وہ حق کے سامنے سر کو تسلیم کرنے کی بجائے یہ جھوٹ بولیں:
    (1) بہت سے علمائے انساب نے کتاب “خلاصة الانساب” کے حوالے سے بھی پاک و ہند میں حضرت عباس علمدار× کی اولاد کا ہونا ذکر کیا ہے۔
    (2) “میزان ہاشمی” کے مصنف ملا سیدمحمد ہاشم علوی متوفی ١٢٨١ء کو بھی علمی حلقوں میں ایک معتبر نسب شناس تسلیم کیا ہے ۔
    (3)بہت سے علمائے انساب نے خلاصہ الانساب کو معتبر کہا ھے ۔
    (4)
    ھادی منش کہتا ھے کہ عون بن یعلی کی نسل پاکستان میں موجود ھے ۔
    (5)
    محبت حسین کو تو خط میں لکھے کہ میری(چہرہ درخشان کی جلد 5 چھپنے کے بعد) علی ربانی سے ملاقات ہوئی اور ربانی صاحب نے یہ ۔کہا ھے آئندہ ایڈیشن میں فلان چیز نکال دی جائے گی ۔ لیکن ھمیں (زہیر کو) لکھے کہ میری تو چہرہ درخشان کی پانچویں جلد چھپنے کے بعد علی ربانی سے ملاقات ھی نہیں ھوئی ھے ۔
    ھمارا خیال ھے کہ جھوٹ کے حوالے سے اتنا ھی کافی ھے ۔ میرا خیال ھے کہ آگر آپ تھوڑی عقل سے کام لیں تو آئیندہ جھوٹ سچ کی بات نہیں لکھیں گے کیونکہ آپ ھی کیلئے مشکل ہو گا جو بھی اس ویبلاگ کو پڑھے گا وہ تو نور الدین وغیرہ کو تو جانتا نھیں اور انہیں اس جھان سے گئے سالھا سال بیت گئے ھیں لیکن آپ کو تو زندہ و سلامت جھوٹ بولتے لکھتے ہوئے دیکھ کر آپ کے احترام کا مزید قائل ھو گا ۔ فتدبر جیدا ان کنتم تشعرون ۔
    دوسرا مسئلہ:
    جس کی جانب جناب نے اشارہ فرمایا کہ نور الدین وغیرہ پاکستان میں لوگوں کے پیر طریقت ھیں اور لوگ نذرو نیاز دیتے ھیں
    دوسرے مسئلے کا جواب :

    جو لوگ نور الدین کی قبر کا احترام کرتے وہ آپ کی نسبت تو بہتر ھیں کیونکہ نور الدین نے ان پر جو احسان کیا وہ اسے ساری زندگی نہیں بھلا سکتے یعنی نور الدین نے انہیں بتایا کہ وہ عون بن یعلی کی اولاد میں سے ھیں لہذا وہ سادہ لوح عوام کبھی احسان کو نہیں بھلاتے اور اسکی قبر پہ جا کر اسکے لئے استغفار و فاتحہ پڑھتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ھیں بار الہا ! اس سے جو کوتاھی ہوئی اس سے در گذر فرما اور اسکے درجات میں مزید اضافہ فرما ۔ افسوس اور صد افسوس تو ان احسان فراموشوں پر ھے کہ جو مطالب تو نور الدین کی کتاب سے نقل کرکے اسے فارسی میں ترجمہ کرتے ھیں لیکن اس بیچارے کا نام بھی نہیں لکھتے ھیں پھر اسی ظلم پہ اکتفا نہیں کرتے ھیں بلکہ بعض تو اسی ویبلاگ پہ بڑے فخر سے لکھتے ھیں کہ علی ربانی نے اپنی کتاب “چہرہ درخشان۔۔۔۔” میں زاد الاعوان اور باب جیسی کتابوں کا نام تک نہیں لیا ۔
    تیسرا مسئلہ
    وزیر صاحب نے ھمین کہا :آپ (یعنی زہیر )نے اچھوتے ، جھوٹ کے بل بوتے انداز میں لکھا: کہ نسب الاعوان یا برادری کےشجرہ نامے اس وقت موجود نہیں تھے تو پھر نسب الاعوان اور شجرہ ناموں کا ذکر کتاب باب الاعوان میں کیسے آ گیا ہے؟

    تیسرے مسئلے کا جواب
    وزیر صاحب کی نسبت ھماری اصلی مشکل :
    ھمیں وزیر صاحب سے ھمکلام ہوئے عرصہ ھو گیا ھم پہلے ھی دن سے ایک اساسی مشکل کا شکار ھیں وہ یہ کہ ھمیں ان کی باتوں کا صرف جواب ھی نہیں دینا ھوتا بلکہ جواب دینے سے پہلے انھیں سمجھانا ھوتا ھے کہ انھوں نے کیا لکھا ھے پھر اس کے بعد جواب دینے کی باری آتی ہے اور یہ مشکل صرف وزیر صاحب سے نہیں بلکہ وہ علی علوی بھی کی نسبت ھمیں دو دو کام کرنے پڑتے ھیں پہلے انھیں سمجھاتے ھیں آپ نے جو لکھا ھے اس کا یہ مطلب ھے اور پھر جواب دیتے ھیں ۔ اب یہیں اس میسج میں ھی دیکھ لیجئے
    ھم نے لکھا تھا کہ نور الدین نے اپنی پہلی تالیف “زاد الاعوان” کی تالیف میں کہیں یہ نہیں کہا کہ اسکے پاس حسام الدین کی نسب الاعوان موجود ھے اور نہ ھی اس نے یہ کہا ھے کہ میرے پاس اس علاقے کے اعوانوں کے شجرے موجود ھیں بلکہ اس نے اس بات کے برعکس اپنی کتاب زاد الاعوان کی تالیف کے سبب میں کہا ھے : “ایک روز لوگوں نے مجھ سے تذکرۂ نسب نامہ اور تواریخ اعوان کا استفسار کیا اور عوام نے خواہش ظاہر کی کہ میں کتابوں سے اعوانوں کا نسب نامہ نکال کر اردو میں علیحدہ مستقل ایک کتاب میں لکھوں”اور اسی طرح نور الدین نے زاد الاعوان کتاب کی تالیف میں جن کتابوں یا ماخذوں کو ذکر کیا اس کی فھرست میں بھی اس علاقے کے شجرے نامے کے موجود ھونے کا تذکرہ نہیں اور نہ نسب الاعوان کو ذکر کیا ۔
    وزیر صاحب کی فھم و فراست کو داد تحسین دیجئے کہ ھم نے نور الدین سے یہ باتیں نقل کی ھیں اور وزیر صاحب ھمیں کہتے ھیں کہ زھیر نے جھوٹ لکھا ھے ۔
    چوتھا مسئلہ
    کہ باب الاعوان میں برادی کے شجرے کیسے آگئے ۔۔۔۔۔۔
    چوتھے کا جواب
    آپ ہی پہلے دن سے یہ کہہ رھے کہ نور الدین ایک دیندار، امام جمعہ، متدین شخص تھا، اس کے بارے میں وہاں کے لوگوں نے کوئی غیر اخلاقی بات نقل نہیں کی اور اسے کیا پڑی ھے جھوٹ بولنے کی وغیرہ وغیرہ یعنی آپ کی نگاہ میں یہ ساری صفات اس میں پائی جاتی ہیں ۔ اب جو آپ کے بقول امام جمعہ ،دیندار ،متدین اور جھوٹ نہ بولنے والا 1315 ھجری قمری میں زاد الاعوان میں یہ کہے کہ 1315ھجری قمری میں اس علاقے کے لوگوں کے پاس مرتب شجرے موجود نہیں تھے لہذا وہ نور الدین زاد الاعوان لکھ دے اور اس میں شجرے ہی لکھے اور اب دوبارہ ٹھیک چوتھے سال وہی امام جمعہ ،دیندار، متدین یہ کہے کہ اب میرے پاس اس علاقے کے 100(سو) قلمی شجرے ہیں یا 50 (پچاس)عدد شجرے ھیں۔ آپ کو اس سے کیا سمجھ آتا ھے اگر سمجھ آجائے تو ٹھیک ورنہ کسی اور سے پوچھ لیجئے گا ۔
    (یہاں یہ کہنا صحیح ھے : لوگ دوسروں کو پھنسانے کیلئے حیلے کرتے ھیں لیکن اسی حیلے میں خود پھنس جاتے ھیں ۔ یا یہ کہنا صحیح ھے کہ : خدا لوگوں کے نہ چاھتے ھوئے بھی حق کو انہی کی اپنی زبان پہ جاری کرتا ھے )۔

  14. zohair92110 says:

    السلام علیکم
    وزیر حسین صاحب
    16 اگست 2013
    کے میسج میں آپ نے اپنی مظلومیت بیان کرنے کیلئے پھر ایک دفعہ تحریف کا سہارا لیا ھے اور بیس نومبر 2012 کے میسج کے خلاصہ الانساب کے بارے میں کچھ جملے یہاں ایڈ کئے ھیں ۔ ھمیں سمجھ نہیں آتی اسکی کیا وجہ ھے ؟ کیا اس کے بغیر رہ نہیں سکتے؟ لیکن آپ یاد رکھئے کہ حق کا چراغ پھونکوں سے نہیں بجھایا جا سکتا ۔ ھم آج پھر ایک دفعہ اس تحریف یا رد وبدل کو ظاہر کرنے کیلئے آپ کے پہلے جملے اور تحریف شدہ جملے ذکر کرتے ھیں ۔
    آپ کا اپنے جملوں میں تحریف کرنا
    محترم سب سے پہلے اس جملے پر توجہ کیجئے جو آپ نے بیس نومبر دو ھزار بارہ (20 ـ 11 ـ 2012) کو خلاصہ الانساب کے بارے میں لکھا اور وہ ابھی تک اس تاریخ میں اس ویبلاگ پہ موجود ھے ۔
    وہ جملہ آپ نے ایسے لکھا تھا :
    ##########################
    20 نومبر 2012 کے میسج کا جملہ
    بہت سے علمائے انساب نے کتاب “خلاصة الانساب” کے حوالے سے بھی پاک و ہند میں حضرت عباس علمدار× کی اولاد کا ہونا ذکر کیا ہے۔ اور اس کتاب کے مؤلف کی تعریف و توثیق فرمائی ہے۔ مثلاً اس صدی کے شہرہ آفاق نسّابہ علّامہ آیۃ اللہ شہاب الدین مرعشی نجفی + لکھتے ہیں

    #########################
    جب ھم نے اس جملے کے متعلق پندرہ دسمبر(15 -12- 2012) کوسوال کیا کہ وہ کون کونسے علما ھیں جنہوں نے خلاصہ الانساب کے حوالے سے پاک و ھند میں حضرت عباس کی اولادہونے کا ذکر کیا ھے۔ ان کے نام اور سن وفات لکھیں تو وزیر صاحب! آپ نے جواب دیتے ھوئے دوبارہ وہی مضمون جو اعوان نامی رسالے کو لکھا تھا یہاں ایڈ کیا لیکن ھم نہایت افسوس سے کہہ رہیں کہ آپ نے اس جملے میں یوں تبدیلی کی
    ساتئیس جنوری دو ھزار تیرہ 27/ جنوری /2013 کا جملہ
    خلاصة الانساب
    بہت سے علمائے انساب نے کتاب “خلاصة الانساب” ####جس #####کے حوالے سے بعض مصنّفین نے پاک و ہند میں حضرت عباس علمدار× کی اولاد کا ذکر کیا ہے۔ اس کتاب کے مؤلف کی تعریف و توثیق فرمائی ہے۔ مثلاً اس صدی کے شہرہ آفاق نسّابہ علّامہ آیۃ اللہ شہاب الدین مرعشی نجفی + لکھتے ہیں

    اب وہی تحریف شدہ جملے کے ساتھ سولہ اگست کو ایک بار پھر آپ نے اپنے آپ کو مظلوم بنا کر پیش کیا ھے
    وزیر صاحب! آپ کی نگاہ میں یہ کیا ھے اسے تحریف،ردو بدل یا کاپی پیسٹ کا اشتباہ کہیں گے کیونکہ آپ نے آج تک ایک دفعہ بھی اپنی اس غلطی یا اشتباہ کا اقرار نہیں کیا ۔ لیکن لوگ اسے تحریف رد و بدل ہی کہیں گے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ آپ یہ نہیں کہنا چاہتے تھے کہ بہت سے علمائے انساب نے خلاصہ الانساب کے حوالے سے حضرت عباس کی اولاد کے پاک و ھند میں ہونے کو ذکر کیا ھے بلکہ آپ اسکے علاوہ کچھ اور کہنا چاھتے تھے لہذا آپ نے اس جملے کی اصلاح کی ھے تو پھر بھی اس اصلاح کے باوجود یہ جملہ اپنا مفہوم ادا نہیں کرتا ھے ۔ اسکی جانب ھم نے اس وقت(27 جنوری کے بعد کے دنوں میں) بھی توجہ دلائی تھی

  15. سید علی says:

    شجره نامه خاندان امام خمینی

    در سال 766 هجرى قمرى كاروان كوچكى جهت تبليغ اسلام عازم كشمير شد. اين كاروان كوچك كه سيدحيدر موسوى اردبيلى كردى در رأس آن بود، از طرف عارف بزرگ حضرت ميرسيدعلى همدانى، جهت ارسال پيام نور و عرفان به آن سرزمين گسيل شده بود. سيدحيدر و سيدحسن سمنانى و تاج الدين سمنانى مورد احترام سلطان شهاب‏الدين شاهميرى قرار گرفتند و با خيال راحت به تبليغ پرداختند. پس از پنج سال، سيدحيدر كه زمينه را براى ورود موكب سيدعلى همدانى مناسب يافت از كشمير نخست به مكه معظمه شتافت و پس از اداى فريضۀ حج به ايران بازگشت و سيدعلى ـ دايى و پدرزن و مراد و استاد خويش ـ را جهت حركت به كشمير برانگيخت و مير سيدعلى همراه با هفتصد تن از سادات هنرمند، در سال 774 و به قولى 776 هجرى قمرى عازم كشمير شد. به محض ورود دسته دسته هندوان و بوداييان به خدمت سيدعلى و مبلغان وى از جمله سيدحيدر و سيدحسن و سيدتاج الدين و غيره شتافتند و به آيين اسلام گرويدند تا جايى كه رؤساى كيش هاى باطل، خود نزد سيد آمدند و اظهار اسلام نمودند و معابد خويش را به مسجد بدل ‏ساختند. سيدعلى مبلغانى به تبت و كاشغر فرستاد و حدود يك صد هزار نفر در مدت اقامت سيدعلى كه در بين سال هاى 776 و 785 بود مسلمان شدند، گرچه سيدعلى همدانى به سال 786 رحلت نمود، اين سير همچنان ادامه يافت و خواجه اسحاق ختلانى و سيدحيدر فوق‏الذكر و سيدمحمد بن سيدعلى و برادران سمنانى به كار خود ادامه دادند.

    سيدحيدر موسوى جد اعلاى آيت‏ اللّه‏ سيد روح‏ اللّه‏ موسوى خمينى، خواهر زاده و داماد سيدعلى همدانى بود و سيدعلى به هفده واسطه از طريق حسين بن على(ع) به امير مؤمنان مى‏رسيد و از طرف مادر با شانزده واسطه سيدحسينى بود. بنابراين سيدحيدر سيد موسوى از طرف پدر و از طرف مادر سيدحسينى بود. سيدحيدر با تأليف دو رساله، يكى به نام «نفحه العرفان» در عرفان و ديگرى « هدایه المستشرقین» در حقانيت مذهب اماميه، به آينه‏دار معرفت معروف شد. وی از همسرش بى‏بى بارعه دختر سيدعلى صاحب دو پسر به نام هاى سيدمحمد جبل‏العاملى و سيدمحمد صابر گرديد، در شجرۀ او 975 تن از علما بوده‏اند كه اين شجره نزد سادات تپلى بوده در هندوستان موجود است. در آن وقت سلطان كشمير سلطان اسكندر بت‏شكن بود كه بنا به تشويق بزرگان سابق‏الذكر عمر را وقف خدمت به اسلام و مبارزه با بت‏پرستى نموده بود و به آنان احترام بسيارى مى‏گذاشت. سرانجام اين دو بزرگوار به شهادت رسيدند.

    سيدحيدر علاوه بر دو فرزند كه از بى‏بى بارعه به نام هاى سيدمحمد جبل‏العاملى و سيدمحمد صابر داشت، از دختر مير محمد مدنى نيز پسرى به نام سيد فيروز و دخترى به نام فاطمه داشت كه همه فرزندان راه پدر را ادامه دادند؛ ولى سيدمحمد جبل‏العاملى آنچنان درخشيد كه وى را نوربخش ثانى لقب دادند. سيدمحمد جبل‏العاملى با دختر ميرمحمد همدانى پسر سيدعلى همدانى ازدواج كرد (دخترعمه و پسردايى). وى هم، مورد احترام سلطان زين‏العابدين جانشين سلطان اسكندر بود. اين سلطان عدالت پرور و آزاده، دست سيدمحمد را براى تبليغ باز گذارد و املاكى از نواحى كشمير بدو بخشيد و گه‏گاه به ملاقات وى می آمد و از حضورش بهره‏مند می شد و علم و عرفان مى‏آموخت. سيدمحمد از طرف پدر زن خود ميرمحمد همدانى بن سيدعلى همدانى، جهت تبليغ به تبت و كاشغر مى‏رفت. سرانجام سيدمحمد نوربخش ثانى، همچون پدرش به شهادت رسيد و ارادتمندانش جسد وى را به مالوه آورده مدفون نمودند.

    از سيد عبدالغنى فرزند سيدمحمد جبل‏العاملى به علت سير و سلوك و مقام شامخى كه داشت به قدوه المرتاضين و سراج‏المله و الحق ياد مى‏كنند. وى در ساختن امام‌باره تاريخى در جدى‌بال با امام العارفين ميرشمس‏الدين عراقى، مروج با استقامت شيعه، در كشمير همكارى داشت و از بزرگان كبرويه بود. از او سه پسر به نام هاى سيدعبداللّه‏ و سيدحسين و سيدحسن ماند. سيدعبداللّه‏ مردى عالم بود و رسالۀ «انوارالهدى» را تحرير نمود و به تبليغ اسلام مى‏پرداخت و بعضى از افراد خانواده‏اش اهل علم بوده و مدت هفتاد سال به امامت جماعت مى‏پرداختند. ميرسيد حسين از بزرگان كبرويه نوربخشيه بود و سرانجام به شهادت رسيد و فرزندى نداشت.

    مير سيدحسن نيز که از بزرگان كبرويه نوربخشيه و جامع علوم عقلى و نقلى بود، دو پسر به نام هاى سيد نوروز و سيد باقر داشت و خود نيز چون برادر و پدر و جدش در راه تبليغ به شهادت رسيد. سيدنوروز بن سيدحسن هم همراه با برادرش سيدباقر در راه تبليغ به شهادت رسيد. سيد عبدالهادى فرزند سيدنوروز شهيد، براى اثبات سيادت خود شجرۀ نسب خود تا امام موسى كاظم(ع) را نوشت و همراه با قرآن كريم به خط كوفى كه كتابت حضرت على(ع) بود به نواب محمد ابراهيم‏خان حاكم كشمير داد. پس از درگذشت وى دو نفر از افراد خانواده او در مير بحرى و دولت‏آباد ساكن شدند و به تبليغ پرداختند و سادات ميربحرى از آنانند؛ ولى پسرش سيديحيى در دولت‏آباد ساكن گرديد.

    سيديحيى نيز چون پدرش عبدالهادى به زهد و تقوا شهرت داشت. سيدحسن بن سيديحيى بن سيدعبدالهادى، معروف به آقا حسين در علم و عمل و زهد و تقوا بى‏نظير بود و آثار متعددى از جمله «شرح قانون ابوعلى سينا» و «رياض الامه» (ترجمه اردوى مفتاح الفلاح) داشت. حكيم سيداميرالدين بن سيدحسن، عالم عامل بود و مرثيه هم مى‏سرود و در علم حكمت رساله‏هايى تأليف نمود. وى برادرى به نام سيدهادى داشت كه در علم و حكمت مهارتى داشت و پسر او علامه سيدرضا صاحب شرافت بود. يكى از دختران سيدهادى با حاجى باقر در ايران ازدواج كرده بود، از اين رو او به ايران رفت و آمد داشت. يكى از پسران علامه سيدرضا، سيدعلى معروف به ابن‏الرضا، علامۀ زمان و صاحب كتاب «كلح الجواهر» بود و ديگر سيدعسگر بود كه اولادش در نجف سكونت گزيدند.

    فرزندان علامه ابن‏ الرضا، سيدمحمد طبيب و سيدمصطفى بودند. سيد مصطفى به عنوان استاد در جامعه باب‏العلم به تدريس مشغول بود و پسرش سيدمحمد انيس كاظمى مؤلف «رشحات كوثر» مى‏باشد. سيدصفدر بن حكيم سيداميرالدين، به علت اغتشاشات فرقه‏اى در سال 1246 همراه با دو فرزند خود سيد بزرگ و سيدعبداللّه‏ از دولت‏آباد به لكنهو آمد و سيدعبداللّه‏ به مقام استادى نواب واحد على شاه حاكم لكهنو رسيد و سه پسر به نام هاى سيدمصطفى، سيدقاسم و سيدانوار داشت. پسر سوم سيدصفدر حكيم، سيدجواد بود كه طبيب شاهى شده بود و طبيب كرنل ميان‌سينگ گرديد. وى ازدواج نكرد و در سال 1264 وفات يافت.

    سيدبزرگ بن سيدصفدر، پنج پسر داشت که سيداحمد، سيدعبدالحكيم معروف به حكيم شاهى شاهنواز و سيد قاسم از آن جمله بودند. سيدبزرگ همراه پسر بزرگ خود به كشمير آمد، در همین زمان یک تاجر ایرانی که با او قرابت داشت، سید احمد را به دامادی انتخاب کرده به ایران برد و دوباره به کشمیر آمده و بعد برای همیشه به ایران بازگشت و خود سید بزرگ به لکهنو رفت و یک بار به کشمیر آمد. ولى در غائله اختلافات شيعى و سنى در سال 1289 منزل ايشان را آتش زدند و تنها در سرينگر هفتصد خانۀ شيعه را سوزاندند. سيد بزرگ هم زخمى شد و به لكنهو بازگشت و وفات يافت و در كوله كنج دفن شد. تفصيل اين پيشامد را حكيم سيدمحمد فرزند ابن الرضا مذكور به فارسى نوشته است و شجره‏ نامه هم كه شامل علما و سادات اين سلسلۀ جليله است و در نزد سيدانيس كاظمى كه ساكن شاه‏آباد جوندى بوده وجود دارد.

    طبق اين شجره‏نامه، سيداحمد فرزند سيد بزرگ ملقب به دين على شاه كشميرى جدّ اعلاى حضرت امام خمینی است. كلمۀ شاه كه پس از نام اوست به معناى «سيد» بوده است. سید احمد بين سالهاى 1240 و 1250 قمرى از مسقط الراس خود در هند و كشمير به عتبات عاليات به قصد زيارت و يا جلاى وطن مسافرت كرد. در مدت اقامت در عراق با يوسف خان، پسر محمد حسين بيك كمره‏اى، اهل فرفاهان از دهات خمين و بعضى از زائرين برخورد و آشنايى پيدا كرد و برحسب تقاضاى آنها به قصد خمين و اقامت و توطن حركت نموده و با قطع منازل به خمين وارد شد. تاريخ فوت شدن يوسف‏خان در شب جمعه بيست و هفتم رجب‏المرجب سنه 1202 بود. اين تاريخ برحسب قاعده هجرى شمسى است و شاهد بر اين است كه مرحوم سيد هندى قبل از 1240 قمرى به خمين آمده‏ است.

    سيد احمد هندى در تاريخ 17 رمضان 1257 قمرى با سكينه خانم خواهر يوسف‏خان ازدواج کرد. حاصل این ازدواج يك پسر به نام آقا مصطفى متولد 29 رجب 1278و سه دختر به نام آغا بانو خانم متولده پنجشنبه 18 ربيع‏الاول 1272، صاحب خانم و سلطان خانم بود. سید احمد پسر بزرگترى از زوجه ديگرى داشت كه از همه اولادها بزرگتر بود و اسمش سيد مرتضى مشهور به سيد آقا بود و حافظ الصحه (رئيس بهدارى) بود. قبل از سال 1255 سيد هندى دو عيال ديگر به نام هاى شيرين خانم بنت عابد گلپايگانى و بى‏بى جان خانم بنت كربلايى سبز علی خمينى داشته‏ و به غير از اين پنج اولاد كه دو پسر و سه دختر باشد، ديگر اولادى نداشت. سيد احمد هندى در خمين املاك و مستغلاتی خريداری کرد ‏و امرار معاش وی نیز از این مالكيت بود.

    بر اساس برخی گفته ها و اسناد دیگر پدربزرگ حضرت امام در هندوستان عیال و اولاد نداشت و تنها در ایران ازدواج کرد. بعضى اقوام زوجات او مردمان محترم و معروفى بودند. سيد هندى بسيار جدى و شديدالعمل در امر به معروف و نهى منكر بود و از خلاف شرع متاثر مى‏شد و با شمشير در مقام جلوگيرى بر مى‏ آمد. مرحوم سيد احمد هندى، به فارسى نوشتن و فارسى گفتن مسلط نبود. در 12 ذيقعده 1254 دو زوجه وی به نام هاى شيرين خانم و بى‏بى جان خانم تمام مهريه خود را به شوهرشان مرحوم سيد هندى مصالحه كرده‏اند و مرحوم سيد هندى از سال 1264ه.ق تا سال 1282ه.ق همه ساله املاکی از بعضی دهات اطراف خمین و نیز باغ و زمین و کاروانسرا و خانه خريدارى می کرد و از درآمد آنها امرار معاش مى‏كرد و مخارج خود و عائله و مهمان و غيره را تأمين مى‏ نمود. مرحوم سيد هندى در تاريخ 17 شوال 1281 قمرى املاك و دارايى خود را به صورت شرعى به دو پسر خود آقا سيد مرتضى و آقا مصطفى و به سه دختر خود مرحوم آغا بانو خانم و سلطان خانم و صاحب خانم صلح كرد. در این زمان آقا مصطفى حدود سه سال و نيم بود و سايرين كبار و رشيد بودند.

    آقا سيد احمد هندى بعد از اين مصالحه نامه، باز املاكى خريده و به پسر كوچك خود مرحوم آقا مصطفى صلح كرد. عمر سيد احمد هندى فرزند دين على شاه در سال 1286 يا اواخر 1285 ه .ق، به پايان رسيد و همۀ فرزندان ايشان (مرحوم سيد مرتضى پسر بزرگ از يك مادر و سيد مصطفى پسر و ولد كوچك او و سلطان خانم و صاحب خانم و آغا بانو خانم از مادر ديگر) به زندگانى ادامه مى‏دادند. در آن هنگام يكى از دخترها ازدواج كرده بود و دو نفر ديگر ازدواج نكرده بودند و در منزل با مادر خود زندگى مى‏كردند. شرح حال فرزندان مرحوم سید احمد هندی به صورت زیر است:

    1- مرحوم سید آقا (سید مرتضی) حدود سال های 1287یا 1288 در عنفوان جوانی در سن حدود بیست و دو سه سالگی بدرود حیات گفت.

    2- مرحومه سلطان خانم یکی از دخترهای سید احمد به مرحوم کریم خان از خوانین قلعه خمین شوهر کرده که حاصل این ازدواج دو پسر و دو دختر است. دخترها یکی به نام تاج نساء خانم و دیگری مریم خانم پسرها یکی به نام امامقلی خان ملقب به صارم لشکر و معروف به بیگلر بیگی و دیگری به نام میرزا یحیی که نهایتا در تهران در یکی از مدارس جدید شغل معلمی و آموزش و تعلیم خط را بر می گزیند.

    3- آغا بانو خانم (متولد پنجشنبه 18 جمادی الاول 1272 ه.ق) دختر دیگر مرحوم سید احمد هندی است که با مرحوم شکرالله خان قلعه ای از خوانین معروف خمین و بعد از فوت وی با مرحوم آخوند ملا محمد جواد کمره‌ای از معروف ترین علمای عصر خود در خمین ازدواج کرد و از ازدواج دوم خود دارای 3 پسر شد به نام های: – مرحوم حاج میرزا رضا نجفی(از اساتید آقای پسندیده و حضرت امام ) – مرحوم میرزاعلی محمد ملقب به امام جمعه؛ گرچه جمعه و جماعت برگزار نمی کرد. – مرحوم حاج آقا صدر الدین نجفی

    4- صاحب خانم دختر دیگر سید احمد هندی بار اول با مرحوم شکر الله خان از خوانین و روسای ایل بربرود ازدواج کرد و پس از فوت او با شوهر خواهر متوفی خود (آغابانوخانم)، یعنی مرحوم ملا محمد جواد ازدواج کرد. وی که فرزند نداشت بانویی بسیار شجاع و دلیر و با لیاقت بود و بعد از شهادت برادرش مرحوم آقا مصطفی، پدر حضرت امام با از خودگذشتگی خانه مجلل با نوکرها و کلفت های در خدمت را رها کرد و به همراه همسر برادر -هاجر خانم- به سرپرستی اولاد او پرداخت و برای خونخواهی برادر و پیگیری امر قصاص قاتل و اجرای قانون به اراک و سپس تهران رفت و پس از قصاص به خمین بازگشت. وی همچنان به سرپرستی اولاد برادر و تنظیم امور زندگی آنها ادامه می داد تا در سال 1336 ه.ق بر اثر بیماری وبا دار فانی را وداع گفت.

    5- آقا مصطفی خمینی (س) در طلوع آفتاب پنجشنبه 29 رجب المرجب 1278 ه.ق در خمین -در خانه که بعدا حضرت امام به دنیا آمدند- چشم به جهان گشود و تا حدود 8 سالگی را زیر لوای پدر زندگی کرد. وی در طفولیت دوران اولیه تحصیل را در یکی از مکتب‌خانه‌های قدیم گذراند و سپس برای ادامه تحصیل و استفاده از محضر علمای حوزه اصفهان راهی آن دیار شد و در ادامه در سال 1305ه.ق همراه همسر و دختر کوچکش مولود آغاخانم، به نجف اشرف برای ادامه تحصیل عزیمت کرد. وی از معاصرین محروم آیت الله العظمی میرزای شیرازی بود که پس از توقف سالیانی چند در نجف و فراگیری علوم و معارف اسلامی به درجه اجتهاد نائل آمد و سپس به ایران بازگشت و در خمین استقرار یافت و ملجأ مردم و هادی آنان در امور دینی بود وی در 22 بهمن 1281 ه.ش (1320 ه.ق) درحالی که فقط چهار ماه و 22 روز از تولد روح الله می گذشت، بر اثر مقاومت در برابر زورگوئی های طاغوتیان و خوانین تحت حمایت عمال حکومت وقت به شهادت رسید.

    آقا مصطفی حدود سال 1300 قمری با مرحومه هاجر آغاخانم دختر مرحوم آقا میرزا احمد مجتهد خمینی المسکن خوانساری الاصل نوه مرحوم حاج محمد حسین معروف خوانساری ازدواج کرد که حاصل این ازدواج سه پسر و سه دختر بود که به ترتیب سن و سال عبارتند از : 1.مولود آغاخانم 2.آقا سید مرتضی (پسندیده) 3.آقا نورالدین (هندی) 4.فاطمه خانم 5.آغازاده خانم 6.روح الله (حضرت امام خمینی (س))

    1- مولد آغاخانم مطابق آنچه شناسنامه وی نشان می دهد در 18 جمادی الثانی 1305 قمری در خمین دیده به جهان گشود. ایشان با پسرعمه خود میرزا رضانجفی (پسرآخوند ملامحمد جواد) ازدواج کرد و نهایتا 24 رجب 1343 ه.ق فوت کرد و در خاک فرج قم دفن شد.

    2- فاطمه خانم متولد شوال 1312 ه.ق.

    3- آقازاده خانم متولد 1318 ه.ق که ازدواج مجدد داشته و دارای دو پسر و دو دختر به نام های حاج امان الله خان مستوفی، احمد خان مستوفی، حاجیه انیس الملوک و بانو مهین خانم بود.

    4- آقانورالدین سومین فرزند آقا مصطفی و هاجر آغا بانو خانم است که در سحرگاه 27 رمضان 1315 ه.ق در عمارت مسکونی پدر در خمین یعنی همان محل ولادت پدر و برادران و خواهران از جمله حضرت امام خمینی، دیده به جهان گشوده ایشان 5 سال را در زیر سایه پدر زیست و یک سال پس از شهادت پدر یعنی در 6 سالگی ملبس به لباس روحانیت شد. تحصیلات اولیه را در خمین گذراند و سپس در سال 1326 یا 1327 ه.ق به اصفهان رفت و در مدرسه ملاعبدالله مشغول تحصیل شد. اولین ازدواج او در سال 1340 ه.ق صورت گرفت و حاصل آن یک پسر به نام محمد و دو دختر به نام های اقدس خانم و منظر خانم بود که اکنون دارای اولاد و احفاد هستند. اقدس خانم با آقای ناصر هندی(پسندیده) پسر عموی خود ازدواج کرد و دارای دو پسر به نام های حمید و سعید و یک دختر است. حاصل ازدواج دوم آقای هندی با خانمی از خانواده مستوفی در خمین چهار پسر به نام های منصور، مسعود، محسن و مهدی و یک دختر به نام زینت خانم است. آقای هندی در ابتدا به امر کشاورزی اشتغال داشت و در دوره ای به ریاست دادگستری خمین انتخاب شد، مدتی که متصدی دادگستری بود، بر طبق موازین شرعیه و دلائل متقن و به درستی و استقامت حکم می راند و راه نفوذ و سوء استفاده و امتیازهای ویژه را بسته بود. این امر که با سلیقه و زیاده خواهی بعضی زور مداران ناسازگار بود موجب شد که فردی را تحریک کنند تا وی را مضروب سازد. کارد به ریه ایشان صدمه وارد کرد. گرچه در تهران مورد مداوا و درمان قرار گرفت، اما تاثیر این ضربه تا آخر عمر با وی همراه بود. اما با توجه به روحیه عفو و اغماض و کرامت ذاتی همواره بر عفو و بخشش و گذشت از ضارب تاکید داشت. آقای هندی با خوانین ایل بختیاری مرتبط بود و همین امر باعث سوءظن رضاخان نسبت به او و سبب شدت مراقبت از وی شد و مدت ها تحت تعقیب قرار داشت او برخورد خوبی با موافق و مخالف داشت و منزل ایشان مامن و مهمان خانه برای واردین و اهالی بود و به خوبی حتی در غیاب ایشان از واردین به خوبی پذیرایی می شد. وی در تیر ماه 1355ش. دار فانی را وداع گفت.

    5- آقا مرتضی پسندیده. مرتضی پسندیده دومین فرزند سید مصطفی و هاجر خانم است که در تاریخ هفدهم شوال 1313 ه.ق در خمین و در خانه محل تولد پدر و برادران و خواهران دیده به جهان گشود و هنگام شهادت پدر قریب به هفت سال از عمر وی گذشته بود. وی به همراه مادر و عمه (صاحب خانم) و برادر (نورالدین) و خواهر بزرگتر و افرادی دیگر، برای خونخواهی قتل پدر به اراک و تهران رفتند که با پیگیری های لازم نهایتا قاتل قصاص شد. ایشان در مدت حضور در تهران تحصیلات به ویژه آموزش خط را نزد مرحوم آقا میرزا یحیی خان، عمه زاده خود پی می‌گیرد. پس از فراگیری دروس مقدماتی حوزوی در خمین در سال 1327 ه.ق (1288 ه.ش) به اتفاق برادر خود نورالدین در معیت معلم شان مرحوم افتخار العلما به اصفهان سفر کرده و در مدرسه ملاعبدالله و نیز مدرسه جده بزرگ نزد علمای آن دیار قریب به هشت سال به تحصیل نحو، منطق، کلام، فقه، اصول، هیئت، نجوم و حساب اشتغال می ورزد. دروس سطح و بعدا خارج را از محضر حاج میرزا محمد صادق خاتون آبادی مقدم علمای اصفهان بهره می گیرد و مدتی را هم از درس مرحوم حاج آقا رحیم ارباب دهکردی بهرمند می شود. بعد از این برای ادامه تحصیلات حوزوی راهی نجف اشرف می شود و مدتی را در آنجا قامت می گزیند و موفق به کسب اجازه از آیتین حجتین، مرحوم حاج شیخ عبدالکریم حائری یزدی و مرحوم آقا ضیاء الدین عراقی می شود و بعد از برگشتن به خمین، ضمن اقامه نماز جماعت در مسجدی، به تدریس فقه و کلام و نحو و منطق برای بعضی منبری ها و مامورین دولت و غیره می پردازد. وی یکی از اولین اساتید حضرت امام خمینی(س) بود که منطق و مطول و سیوطی به ویژه خط نستعلیق را به ایشان آموزش داد. بر اثر این آموزش شباهت خط این دو برادر به حدی بود که باری نصف صفحه کاغذ را آقای پسندیده و نصف دیگر را حضرت امام نوشتند و کسی نتوانست بین آن دو فرق بگذارد.

    وی در خمین دفتر معاملات و ازدواج داشت که بعدها به طریقی پایگاهی برای مبارزین بود. حاصل دو ازدواج آقای پسندیده سه پسر به نام های ناصر الدین (از همسر اول) و محمد رضا و محمد تقی و سه دختر به نام های بدرالسادات، فروغ السادات و نزهت السادات است.

    سال های اول عمر و شکل گیری شخصیت آیت الله پسندیده مقارن با ایام پر تپش سیاسی مشروطه و مشروطه خواهی بود، این شرایط اجتماعی-سیاسی از یک طرف و از طرف دیگر روحیه حق طبی و مبارزه با ظلم و جور که موروثی خانواده او بود، سبب شد که از نوجوانی در میان اهل سیاست و مبارزه و موضوعات اجتماعی، شخصیتی قابل اعتنا و با رجال برجسته صدر مشروطیت در ارتباط باشد. آقای پسندیده در اظهار رای و سلیقه سیاسی، شخصیتی مستقل داشت و در تحمل عقیده و نظر متفاوت صبور و با حوصله بود. در جنگ جهانی اول، با انگلیس و نیروهای متفقین مخالف بود و در تامین غذا برای آنها مخالفت می کرد. با رضا شاه و بعضی اقدامات او نظیر کشف حجاب مخالفت می ورزید. با مرحوم مدرس در ارتباط بود و در قضایای ملی شدن صنعت نفت همکاری داشت. در جریان نهضت اسلامی ایران از بدو امر پشتیبان برادر بود و در این راه رنج ها و مرارت ها کشید و رنج تبعید و محرومیت هایی را متحمل شد. او مورد اطمینان صددرصد حضرت امام بود. در تمام دوران تبعید آن بزرگوار، وکالت امام در امور شرعی را بر عهده داشت که تا بعد از پیروزی انقلاب هم ادامه یافت. وی مورد علاقه و احترام شدید حضرت امام بود و همواره بر حفظ حرمت و نگهداری خوب و مناسب برای ایشان سفارش می شد. آن مرحوم بعد از بیش از یک قرن زندگی با برکت، سرانجام در 22 آبان 1375 دارفانی را وداع گفت و در مسجد بالاسر، آرامگاه حضرت معصومه(س) به خاک سپرده شد.

    منبع: خاطرات آيت‏اللّه‏ پسنديده (گفته‏ ها و نوشته‏ ها) ـ يادها ، 9

  16. سید علی says:

    يكي از آداب قرائت قرآن حضور قلب است، كه آن را در آداب مطلقه عبادات در همين رساله مذكور داشتيم و اعاده آن لزومي ندارد.

    و ديگر از آداب مهمّه آن، تفكر استو و مقصود از تفكر آن است كه از آيات شريفه جستجوي مقصد و مقصود كند. و چون مقصد قرآن، چنانچه خود آن صحيفه نورانيّه فرمايد، هدايت به سُبُل سلامت است و اخراج از همه مراتب ظلمات است به عالم نور و هدايت به طريق مستقيم است، بايد انسان به تفكر در آيات شريفه مراتب سلامت را از مرتبه دانيه آن، كه راجع به قواي ملكيّه است، تا منتهي النهايه آن، كه حقيقت قلب سليم است – به تفسيري كه از اهل بيت وارد شده كه ملاقات كند حق را در صورتي كه غير حق در آن نباشد – به دست آورد. و سلامت قواي ملكيّه و ملكوتيّه گم شده قاري قرآن باشد، كه در اين كتاب آسماني اين گم شده موجود است و بايد با تفكر استخراج آن كند. و چون قواي انسانيّه سالم از تصرف شيطاني شد و طريق سلامت را به دست آورد و به كار بست، در هر مرتبه سلامت كه حاصل شد از ظلمتي نجات يابد و قهراً نور ساطع الهي در آن تجلي كند، تا آن كه اگر از جميع انواع ظلمات كه اول آن ظلمات عالم طبيعت است به جميع شئون آن و آخر آن ظلمت توجه به كثرت است به تمام شئون آن خالص شد، نور مطلق در قلبش تجلي كند و به طريق مستقيم انسانيت، كه در اين مقام طريق ربّ است، انسان را هدايت كند:

    اِنَّ رَبِّي عَلي صِراطٍ مُسْتَقيم
    به درستي كه پروردگار من به راه راست است

    و در قرآن شريف دعوت به تفكر و تعريف و تحسين از آن بسيار شده.

    قال تعالي: وَاَنْزَلْنا اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنّاسِ ما نُزِّلَ اِلَيهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرون در اين كريمه مدح بزرگي است از تفكر، زيرا كه غايت انزال كتاب بزرگ آسماني و صحيفه عظيمه نوراني را احتمال تفكر قرار داده؛ و اين از دت اعتناء به آن است كه بس احتمال آن موجب يك همچو كرامتي عظيم شده.

    و در آيه ديگر مي فرمايد: انَّ في خَلْقِ السَّماواتِ وَ الْارْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَ النَّهارِ لآيات ٍ … – همانا در آفرينش آسمان و زمين و درآمد و شد شب و روز نشانه هايي است… -

    فرمود: وَيْلٌ لِمَنْ قَرَأها وَلَمْ يَتَفَكَّروُن – واي بر كسي كه آن را بخواند و در آن نينديشد – عمده در اين باب آن است كه خواجه عبدالله انصاري قدس سره مي كند، قال :‌ اعلم، ان التفكر تلمس البصيرة لاستدراك البغية يعني تفكر جستجو نمودن «بصيرت» است – كه چشم قلب است – براي رسيدن به مقصود و نتيجه، كه غايت كمال آن است. و معلوم است مقصد و مقصود سعادت مطلقه است كه به كمال علمي و عملي حاصل آيد.

    لینک متن کامل کتاب از پرتال امام خمینی (ره):

    http://archlibserver.imam-khomeini.ir/faces/search/fulltext/fulltextImageFullView.jspx?_afPfm=2bd4fb3b

  17. سید علی says:

    بله، شجره نامه خود را ايميل نمايي

  18. Syed Wazir Hussain Alvi says:

    جناب زہیر
    سلام علیکم۔ آپ نے 18 ستمبر2013 , 10:19 پر اپنے ایک پیغام میں اپنا
    تعارف یوں دیا کہ( “بندہ کہ از اھل سنت ھستم و ما علمای اھل سنت را جاھل
    نمی گویم بلکہ علما می گویم وقابل احترام می شماریم
    یعنی”مین اهلسنت هون اور هم علمائ اهل سنت کو جاهل نهین کهتے بلکه ان کوقابل احترام جانتے هین.. …..)
    اب جن کتابوں کو آپ جھٹلا رہے ہیں ان کے لکھنے والے اہل سنّت کے علماء ہی
    ہیں ، مولوی نور الدین سلیمانی حنفی نقشبندی مؤلف “باب الاعوان”، مولوی
    سید شریف احمد شرافت نوشاہی قادری مؤلف “تاریخ عباسی”، مولوی حسام الدین
    مؤلف “نسب الاعوان” ، مولوی محمد نور عالم(بشیر) مولف انوار الاعوان
    وغیرہ اہلسنت ہونے کے ساتھ اپنے اپنے مقام پر پیر طریقت بھی ہیں، اب بھی
    ا ہلسنت ان کی قبور کی زیارت پر جاتے ہیں اور نذر و نیاز دیتے ہیں۔۔۔ آپ
    بتائیں کیا مذکورہ اہلسنت علماء نے جھوٹ لکھا تھا ؟
    آپ نے اچھوتے اور جھوٹ کے بل بوتے انداز میں لکھا: کہ نسب الاعوان یا
    برادری کےشجرہ نامے اس وقت موجود نہیں تھے تو پھر نسب الاعوان اور شجرہ
    ناموں کا ذکر کتاب باب الاعوان میں کیسے آ گیا ہے؟
    کیا علوی اعوانان وادی کا دعوی جهوٹا تها؟
    کیا آل علی علیه السلام کی دشمنی مین اس قدر پستی میں گر گئے ؟

  19. Syed Wazir Hussain Alvi says:

    زہیر صاحب آپ کے دو چہرے سب کے سامنے نمایان ہو گئے آپ نے خلاصہ الانساب کے عنوان سے ان اھلسنت علما جنھوں نے اس کتاب کے حوالے دیے یا ان شیعہ علما جنھوں نے اس کی توثیق فرمائی ہر دو پر الزام لگانے کے ساتھ ساتھ ………وادی سون سکیسر میں بسنے والے لاکھوں علوی قطب شاہی اعوانوں جو اولاد حضرت عباس علیہ السلام مین هین اور اپن پاس معتبر شجره جات محفوظ رکهتے هیں ان سب کی توھین کا ارتکاب کیا اس بہت بڑے جرم کی سزا کے لیے تیار ہو جائیں۔
    یه بات زبان زد عام هے که
    با آل علی ہر کہ در افتاد بر افتاد” مولائے کائنات کی اولاد پر ظلم کرنے والے نہ پہلے کبھی کامیاب ہوئے ہیں نہ انشااللہ آئندہ ہو نگے۔

  20. منشور علوى(ع) در عید غدیر says:

    منشور علوى(ع) در عید غدیر
    امیر مؤمنان(ع) در قسمت آخر خطبه فرمود: رحمت ‏خدا بر شما اى مسلمانان، بعد از برگشت از این اجتماع بزرگ امروز [غدیر] را عید بگیرید: [و با انجام امور ذیل آن را بزرگ بشمارید].

    الف) نعمت را بر افراد خانواده و خویشاوندانتان گسترش دهید و نیكى و بخشش پیشه كنید. (15)

    ب) به برادران دینى خویش به قدر توان نیكى و بخشش كنید. (17و16)ج) خداى را در برابر نعمتهایى كه به شما ارزانى داشته، شكرگزار باشید.

    د) كنار یكدیگر جمع شوید تا خداوند اجتماع شما را فراگیر و گیراتر سازد.

    ه) به یكدیگر نیكى كنید تا خداوند به شما الفت و مهربانى بیشتر عنایت كند.

    و) نعمت‏هاى الهى را به یكدیگر تبریك و تهنیت گویید همان طور كه خداوند [در این روز] با اعطاى اجر و ثوابى بیش از دیگر اعیاد به شما تهنیت مى‏گوید. بعد فرمود: كمك‏هاى مالى به دیگران درامروز (غدیر) به اموالتان بركت مى‏بخشد و برعمرتان مى‏افزاید: مهربانى به دیگران سبب رحمت و عنایات حق خواهد شد.

    ز) با خوش‏رویى و شادمانى یكدیگر را درآغوش بگیرید.

    ح) خداوند را برتوفیقات خویش سپاس گویید.

    ط) از فقرا و ضعیفانى كه چشم به كمك شما دارند دیدن كنید، به زیارتشان بروید و با آنان در خوراكشان همراه شوید.

    بعد حضرت فرمود: یك درهم كمك به فقرا در روز عید غدیر با دویست‏ هزار درهم برابر است، بلكه بیشتر خواهد بود.

    ى) وقتى یكدیگر را ملاقات كردید مصافحه كنید، به هم تبریك بگویید و سلام كنید، كه پیامبر خدا(ص) به من چنین فرمان داد.

    1- برابر نقل اسباب النزول واحدى نیشابورى، ص 135 و تفسیر كبیر فخر رازى، ج 12،ص ص‏49 – 50؛ شان نزول آیه، غدیر خم و معرفى على بن‏ابى‏طالب(ع) بوده است.

    2- درالمنثور، سیوطى، ج 2، ص‏256/ تاریخ بغداد، خطیب نیشابورى، ج‏6، ص 290.

    3- مجمع‏البیان، علامه طبرسى، ج‏3، 4، ص‏223.

    4- مائده،67.

    5- شواهد التنزیل، حاكم حسكانى، ج 1، ص 252.

    6- الطرائف، سید بن ‏طاووس، ج 1، ص 140.

    7- بحارالانوار، ج‏36، ص‏353 – 354/ اسمى المناقب، علامه شمس‏الدین ابن‏جزرى، ص 32/ نهج الحیاه، ص 38.

    8- احتجاج طبرسى، ج 1،صص‏213 – 214.

    9- ابوهیثم بن‏تیهان، خالد بن‏زید، ابوایوب انصارى، عمار بن ‏یاسر و … مجموعا هفتاد نفر از مهاجرین و انصار بدرى حضور داشتند.

    10- مائده، 55.

    11- توبه،16.

    12- بحارالانوار، ج‏33، صص‏147 -146.

    13- از روزغدیرخم در روایت تعبیر به «یوم الدوح‏» شده است كه این واژه هم در روایات و هم در اشعار به كار گرفته شده است. (بحارالانوار، ج 94، ص 115).

    14 و 15 – تفسیر شاهد و مشهود را مى‏توان در موارد ذیل یافت: اصول كافى، ج 1، ص 425، ح‏69/ بحارالانوار، ج 35، ص‏386، ح 1/ ج‏36، ص 114، ح 61.

    16 و 17 – در ترجمه عبارات تلفیق شده است.

    18- بحارالانوار، ج 95، ص 118 – 112، ح 8، مقدارى از خطبه امیرالمؤمنین(ع) توسط امام حسین(ع) نقل شده و ما آن را ترجمه و تلخیص نمودیم.

    19- ینابیع المودة، قندوزى حنفى، ج‏3، ص‏153/ بحارالانوار، ج 10، ح 5، صص 144 – 138.

    20- موسوعة كلمات الامام الحسین(ع)، ص 270/ الغدیر، ج 1، ص 198، ح‏9، چاپ چهارم.

    21- مائده، 55.

    22- مائده،67.

    23- فاصله مسجد غدیر با میقات جحفه سه میل (تقریبا 5760 متر) مى‏باشد. (معجم معالم الحجاز، ج 2، ص 124).

    24- قلم، 52 – 51.

    25- فروع كافى، ج 4، ص‏566/ نورالثقلین، ج 5، ص‏399. روایات دیگرى نیز در شان این آیه وارد شده است كه همین مضمون را نشان مى‏دهد.

    26- وسائل الشیعه، ج‏3، ص‏549، ح 2، ب 61/ فروع كافى، ج 4، ص‏566، ح 1/ تهذیب الاحكام، ج‏6، ص 18، ح 21، ب‏16/ من لا یحضره الفقیه، ج 2، ص‏559، ح‏3143.

    27- تهذیب الاحكام، ج‏6، ص 24، ح‏9، باب‏19/ بحارالانوار، ج 94، صص‏9 – 18.

  21. منشور علوى(ع) در عید غدیر says:

    غدير موهبتى براى جهانيان

    بسم اللّه‏ الرّحمن الرّحيم
    الحمد للّه‏ رب العالمين والصلاة والسلام على سيدالانبياء والمرسلين محمد وآله الطاهرين ولعنة اللّه‏ على اعدائهم اجمعين إلى قيام يوم الدين

    :: محبوب خدا شدن

    امام صادق عليه السلام در نامه معروف شان خطاب به اصحاب خود، فرمودند:
    «ومن سَّره أن يَعلَم أن الله يُحِبُه فَليَعمَل بِطاعةِ الله ولْيَتبِعنا، اَلَم يَسمَعْ قَولَ الله ـ عَزَّوجَلَّ ـ لنبيّه صلی الله عليه وآله: «قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ…»[1]؛ هر كه دوست دارد بداند (اطمينان داشته باشد) خدا به او محبت دارد، بايد فرمانبردار حضرتش و پيرو ما باشد. مگر نشنيده ايد كه خدای متعال به رسول خود فرمود: بگو: اگر خدا را دوست داريد، از من پيروی كنيد تا خدا دوستتان بدارد و گناهان تان را بر شما ببخشايد».[2]
    امام صادق عليه السلام در اين گفتار پربها دو راه را وسيله محبوب خدا شدن دانسته اند:
    نخست: فرمانبرداری از خدا
    اين قسمت، از طريق عمل به فرمان های خدای عزوجل در عبادات، معاملات و ديگر مسائل ضروری و شناخت حلال و حرام مورد نظر و تصريح قرآن ـ كه بايد اطلاع كافی از آنها داشت ـ تحقق می يابد.
    دوم: پيروی از اهل بيت عليهم السلام
    احكام قرآن زمانی به وسيله امامان معصوم عليهم السلام بازگو و حدود آن بيان می شود و گاهی كسانی ديگر ادعای تفسير و استخراج احكام را می كنند كه اگر در پی رسيدن به مقام محبوب خدا بودن باشيم، بايد بر اساس فرمان «وليتبعنا» از اهل بيت عليهم السلام پيروی و تبعيت كنيم. حال اگر كسی موفق به انجام اين دو كار شود، يعنی از خدا اطاعت و از اهل بيت عليهم السلام پيروی كند، بی ترديد بر اساس فرمايش گهربار و استشهاد حضرت صادق عليه السلام به آيه كريمه كه بهترين استشهاد و استناد است، مورد محبت خدا قرار خواهد گرفت.
    در اين جا لازم است به يك بحث لغوی اشاره شود. در كلام عرب گاه لفظ «إستماع» (گوش دادن) به كار می رود و گاه «سَماع» (به گوش رسيدن). به عنوان مثال، اگر كسی در حال خواندن قرآن است و شخص با توجه به آن گوش می دهد، اين را استماع می گويند، اما زمانی كسی توجهش به جای ديگر و به كار ديگری مشغول است و در عين حال صدای قرآن هم به گوشش می رسد به اين حالت سماع می گويند. البته حكم سماع و استماع در برخی موارد با هم متفاوت است. مثلاً اگر كسی آيه سجده واجب را در حال استماع بشنود، بنابر اتفاق علما، سجده بر او واجب می شود، ولی اگر سماع باشد، مسأله اختلافی است و برخی در اين صورت سجده را واجب نمی دانند. با توجه به اين نكته بايد دقت شود كه حضرت صادق عليه السلام در اين نامه «سماع» فرموده اند نه «استماع» و نگفته اند: «ألم يستمع؛ آيا نمی شنوند؟» بلكه فرموده اند: «الم يسمع؛ آيا به گوشش نخورده است؟». اين سخن بدان معناست كه لازم نيست انسان به آن سخن دل سپرده، كاملاً توجه كرده باشد، بلكه همين اندازه كه به گوشش رسيده باشد، كافی است.
    بنابراين فرموده، هر كس اين آيه به گوشش برسد، بايد از معصوم پيروی نمايد تا خدای سبحان او را دوست بدارد و آنچه از اين كلام شريف استفاده می كنيم اين است كه هر كس بخواهد بداند خدای متعال او را دوست می دارد يا نه، بايد دو نكته را در نظر بگيرد:
    1 ـ تا چه اندازه فرمانبردار خدا می باشد؛
    2 ـ چه مقدار از اهل بيت عليهم السلام پيروی می كند؛
    پس از چنين سنجشی خواهد دريافت، چه اندازه نزد خدا محبوبيت يافته است.

    :: آشنايی با غدير

    در آستانه عيد بزرگ غدير قرار داريم. به جاست كه نگاهی كوتاه، اما همه جانبه به اين رخداد بزرگ تاريخی و جايگاه آن در بيان معصومان عليهم السلام بيندازيم.
    بنا به فرموده معصومين عليهم السلام و نصوص روايي، عيد غدير «أعظم الأعياد؛[3] بزرگ ترين عيـدها» خوانـده شـده است كه خوشبـختانه امروز ميهمان اين عيد شكوهمند و باعظمت اسلامی هستيم.
    به تعبيری ديگر، غدير هم قرآن است، هم سنت، هم تاريخ.
    از آن رو غدير را قرآن می خوانيم كه در هر تفسيری بنگريد گزارش رويداد شكوهمند غدير را در آن خواهيد يافت و از آن رو سنت است كه در تمام متون رواييِ واقعه غدير، قسمتی از گفتار، رفتار و كردار و تقرير رسول خدا صلی الله عليه وآله درباره واقعه غدير ديده می شود. البته ظاهراً كتابی كه از عامه رويداد غدير را ذكر نكرده است تنها صحيح بخاری است، اما پنج صحيح ديگر آنها ماجرای غدير را نقل كرده اند.
    غدير را نيز بايد جزئی از تاريخ دانست، زيرا در زندگی پيامبر اسلام صلی الله عليه وآله رويداد تاريخی بسيار مهمی به شمار می رود و هر متن تاريخی كه زندگی پيامبر اسلام را بررسی كرده باشد، فصلی را به غدير خم اختصاص داده است. در سرزمين های اسلامی كم و بيش مردم با رويداد غدير آشنا هستند، ولی اكثر افراد جهان حتی نام غدير را نشنيده و از جريان و رخدادهای آن بی اطلاع می باشند. به حكم وظيفه بايد آنان را در جريان اين روز بزرگ قرار دهيم و درباره تمام ابعاد دنيايی و آخرتی و مادی و معنويِ آن بحث كنيم.
    بزنطی يكی از ياران برجسته امامان معصوم است. در ميان هزاران صحابی ای كه معاصر امامان بوده اند، چهره های درخشانی چون بزنطی از بيست تن تجاوز نمی كند. منابع رجالی نام كامل او را «احمدبن محمدبن أبی نصر البزنطي» نقل كرده اند. وی از زبان امام رضا عليه السلام روايتی نقل نموده كه از بين روايات غدير بی ترديد كم نظيرتر است و اگر عمری را در بين كتاب ها و مجامع روايی سپری كنيم، كمتر روايتی همسنگ اين روايت می يابيم و همين كم نظير بودن، ارزش و جايگاه ويژه ای به اين روايت می دهد.
    بزنطی می گويد: حضرت رضا عليه السلام فرمودند:
    «لو عرف الناس فضل هذا اليوم بحقيقته لصافحتهم الملائكة في كل يوم عشر مرات؛[4] چنانچه مردم ارزش اين روز را آن گونه كه هست، بدانند ملايك خدا روزی ده بار با آنان مصافحه خواهند كرد».
    در روايات و موضوعات ديگر چنين روايتی وجود ندارد كه در آن به مصافحه ملايك با بندگان خدا اشاره شده باشد، لذا اين تعبير در شأن و عظمت يوم الله غدير بی نظير است.
    مصافحه (دست دادن) يك احترام، تقدير و تشكر و اظهار علاقه است. از ديگر سو فرشتگان مانند آدميان نيستند كه بی مبنا و اساس با هر كس رفتاری مهرآميز داشته باشند، چرا كه ملاك هايی خدايی دارند. از اين رو هرگز نافرمانی خدا نمی كنند و قرآن كريم در توصيف شان می فرمايد:
    «لاَّ يَعْصُونَ اللَّهَ مَآ أَمَرَهُمْ؛[5] هرگز از فرمان خدا سرپيچی نمی كنند».
    آنان مقام عصمت دارند، البته عصمت آنان نه در مرتبه عصمت چهارده معصوم عليهم السلام كه از آن فروتر است. تصور كنيد، در صورتی ملايك با ما مصافحه و ابراز محبت خواهند كرد كه به درجه بالای شناخت دست يابيم. برای درك بيشتر از آنچه در اين روايت بيان شده، بايد توجه كنيم اگر اظهار علاقه و تجليل ملايك از آدمی ماهی يك بار و حتی سالی يك بار باشد، باز ارزش والايی است. بعضی از ما شايد سالی يك بار به ديدن دوستان و خويشاوندان برويم و در صورتی كه علاقه مندی مان بيشتر باشد ماهی يك بار و در مواردی كه علاقه فزون تر و نسبت نزديكتر باشد، هفته ای يك بار و گاهی با بعضی از آنان روزی يك بار ديدار و مصافحه می كنيم، اما اگر كسی امين و رازدار ما باشد، ممكن است روزی ده بار به ديدار او رفته و نسبت به او ابراز محبت كنيم. حال ببينيم كه مصافحه ملايك خدای متعال با ما آدميان آن هم روزی ده بار چه معنايی دارد و امام رضا عليه السلام از گفتن اين مطالب در پی بيان چه مسأله مهمی هستند؟
    در مورد اين كه شناختن غدير عمل محسوب می شود يا خير، بايد دانست كه عمل در مرتبه دوم است، زيرا شناخت مقدمه عمل است و شناخت به تنهايی اين ارزش والا را دارد، خواه آنان كه غدير را شناخته اند به آنچه در مورد غدير دستور داده شده است عمل كنند يا خير. به عنوان مثال عموم مردم مرجع تقليد خود را ـ گر چه هيچ گونه نيازی به او نداشته باشند ـ احترام می كنند، زيرا دانشمند است و دانش، احترام ديگران را بر می انگيزد و در واقع احترامی كه به او گذاشته می شود به دليل دانش وخردمندی اوست. بنابراين احترامی كه ملايك به غديرشناسان می گذارند، به دليل شناخت آنهاست. همان طور كه بيان شد اين تعبير از تعابير كم نظير است. البته در خصوص ارزش زيارت حضرت سيدالشهدا عليه السلام روايتی نقل شده است كه ارواح انبيا با زائران حضرت سيدالشهدا عليه السلام مصافحه می كنند، اما اين روايت با روايت غدير تفاوت بسيار دارد و مصافحه ملايك آن هم هر روز ده بار، موردی است كاملاً استثنايي.
    با توجه به اين سخن اميرالمؤمنين عليه السلام كه می فرمايند: «إنّا لأُمراء الكلام؛[6] ما پادشاهان سخنيم» و اين كه آن حضرت خود پايه گذار دستور زبان عربی است و همه امامان معصوم عليهم السلام با نكته سنجی و دقت كامل، كلمه ها و جمله ها را برمی گزينند، اين سخن امام رضا عليه السلام تأمل و دقت می طلبد. لذا در اين جا حضرت رضا عليه السلام نفرمودند: «إن عرف الناس» يا «إذا عرف الناس»، بلكه فرموده اند: «لو عرف الناس» و همان طور كه از قواعد دستور عربی معلوم است «لو» حرف امتناع است و برای كارهای نشدنی به كار می رود و متعلَقِ لو «بحقيقته» می باشد، يعنی آنچه شناختنش تقريباً نشدنی است و در اين جا منظور شناخت ارزش غدير، آن چنان كه هست و در حقيقت امر وجود دارد می باشد، نه شناخت به اندازه سِعه وجودی و درك و بينش افراد.
    به تعبيری ديگر، نه آن گونه كه هر كسی به اندازه ظرف خود از دريا آب بردارد، بلكه به بزرگی خود دريا از آن بهره گيرد. لذا ارزش و منزلت غدير بسيار بالاتر از درك محدود ماست و به تعبير واضح تر، فرضاً اگر كسی يوم الله غدير را آن گونه كه در واقع ارزش دارد، بشناسد، آن گاه است كه ملايك روزی ده بار با او مصافحه می كنند. برای روشن شدن عظمت پاداش اين شناخت محاسبه كنيم: از باب مثال اگر كسی 83 سال عمر كند و فرضاً در بيست سالگی (قمري) به اين شناخت برسد، طی 63 سال كه اين شناخت را داشته، يعنی حدود 955/22 روز، ملايك حدود 550/229 بار با او مصافحه می كنند و اين نشانه بزرگی و والايی اين شناخت بوده كه البته منزلتی بس ارجمند است.

    :: غدير پاينده

    پس از گذشت چهارده قرن و اندی اينك دگربار جرعه نوش غدير علوی هستيم؛ روزی كه برای هميشه تاريخ، شاهد بر مظلوميت امامت و ولايت بوده و هست و خواهد بود. حاجيان در راه بازگشت از خانه خدا به فرمان حضرت ختمی مرتبت، محمد بن عبدالله صلی الله عليه وآله در غدير خم گرد آمدند. آن رسول هدايت از جانب پروردگار فرمان يافته بود تا آخرين رسالت خود را به انجام برساند و با معرفی جانشين خويش، خط رسالت را به رشته امامت و ولايت پيوند زند تا وظيفه رسالت را به خوبی ادا كرده باشد.
    آن گاه تمام حاجيانی كه غدير را ترك كرده بودند، فرا خوانده شدند و چون ديگر حاجيان از راه رسيدند، به فرمان پيامبر صلی الله عليه وآله از جهاز اشتران منبری فراهم آمد و آن حضرت بر فراز آن قرار گرفتند… و دست اميرمؤمنان علی عليه السلام را بالا برده، فرمودند:
    «من كنت مولاه فعلي مولاه. اللّهم وال من والاه، وعاد من عاداه، وانصر من نصره، واخذل من خذله؛[7] هر كس من مولای او هستم، اين علی مولای اوست. بار الها، دوستان او را دوست بدار، دشمنان او را دشمن دار، ياری كنندگان او را ياری كن و آنان كه او را تنها واگذارند، تنهای شان گذار».
    سپس آيه «اكمال دين»[8] را برای حاضران تلاوت فرمودند و حاجيان راه شهر و خانه خود را در پيش گرفتند تا آخرين پيام آسمانی و خبر جانشينی علی عليه السلام را به كسان خود برسانند.
    جامعه بشری از آغاز پيدايش از وجود پيامبر و واسطه وحی الهی برخوردار بوده و می بايست اين روند تا واپسين دم حيات اين خاكدان ادامه يابد و هيچ گاه نبايد زمين از حجت خدا تهی باشد. از همين رو بايد برای پيامبر اسلام جانشينی تعيين می شد تا پس از خاتميت رسالت، امام و ولي، راه پيامبر صلی الله عليه وآله را ادامه داده و اهداف ناتمام مانده او را به بهترين وجه محقق سازد. پرروشن است فردی می تواند جانشين پيامبر صلی الله عليه وآله باشد كه از هر نظر با پيامبر صلی الله عليه وآله همراه و همفكر بوده و در عصمت و پاكدامنی تجسم عينی آن حضرت باشد.
    حال اين سؤال پيش می آيد كه انتخاب جانشين شايسته در اختيار انسان هاست يا همان سان كه خدا پيامبران را به رسالت بر می گزيند، جانشين آنان را نيز خود انتخاب می كند؟ كه پاسخ صحيح، مورد دوّم است.
    در طول عمر رسالت پيامبران، جانشينی مناسب و پاكدامن برای رسولان الهی معيّن شده است تا در نبود رسولان، جانشينان آنها به انجام وظيفه بپردازند. پيامبر اسلام صلی الله عليه وآله نيز از اين قاعده مستثنا نبودند و ناچار بايد با تعيين و فرمان الهی جانشين خود را برای سامان دادن به جامعه نوپای اسلامی و گستراندن عدل و ظلم ستيزی در جامعه آن روز معيّن كنند و چنين كردند.

    :: جامعه جاهلي

    دوران جاهليِ پيش از مبعوث شدن حضرت محمد مصطفی صلی الله عليه وآله به پيامبري، آكنده از جنگ، خونريزي، غارت و… بود. انسان ها بر اساس موقعيت اجتماعي، اقتصادی و روابط قبيله ای به تناسب، از احترام خاصی برخوردار بودند. زنان به صورت كالا در ميان آنان دست به دست می گشتند و دختركان تنها به جرم دختر بودن، زنده به گور می شدند. يك نزاع كوچك گاهی جنگی خردكننده شصت ساله در پی می آورد و جان هزاران انسان را می گرفت. طبقه ضعيف جامعه، اسير بيگاری طبقه برتر بود و هيچ حقی نداشت. نژاد، شمار افراد، موقعيت قبيله و نيز ثروت، وسيله تفاخر مردم دوران جاهلی بود و انسان های بی گناه به سبب نادانی و خودخواهی فرادستان، به پای بت ها قربانی می شدند تا خدايگان آنها خشنود شوند؛ خدايگانی كه از سنگ، چوب، خرما و گاهی نيز از طلا و نقره به دست همان جماعت جاهل ساخته می شد.

    پيامبر خاتم

    از درون چنين تاريكخانه اي، انسانی كامل به پيامبری مبعوث شد تا ديو پليد ستم، تجاوز به حقوق افراد، سفاكی و… را از جامعه براند و آن را با زيور اسلام، دين آسان گير و آسمانی بيارايد. او كه در ميان مردمش به «امين» شهره بود و جز خوبی از او نديده بودند و او را هماره راه گشای خويش می دانستند، با آشكار كردن دعوت به يكتاپرستي، آماج آزار همان مردم قرار گرفت و ديوانه، جادوگر، دروغ پرداز و… خوانده شد. او را به سنگ كين می زدند، خاكستر بر سر مباركش می افشاندند و…، امّا با تمام اين احوال صبوری ورزيد، چرا كه خدايش او را «دارای خُلق والا»[9] خوانده بوده. آن بزرگوار طی 23 سال فعاليت، جامعه ای پديد آورد كه همان دشمنان ديروز اكنون چون برادر در كنار يكديگر با صفا می زيستند و حكومتی تأسيس نمود كه مانندی نداشت، امّا بودند كسانی كه همچنان بر رسوم جاهلی پاىورزی می كردند و هر زمان كه فرصتی دست می داد گوهر ناپاك خود را بروز می دادند. همين افراد برای از ميان برداشتن پيامبر صلی الله عليه وآله و نابودی دين نوپای اسلام مذبوحانه تا كشتن پيامبر صلی الله عليه وآله پيش رفتند، ولی اراده حضرت حق، بر آن تعلق نگرفته بود وسرانجام اسلام پابرجا شد و همه دنيا را با وجود خود نورانی و كام مردم حقيقت جو را شيرين كرد.

    مصادره غدير

    تنها هفتاد روز پس از ابلاغ منشور امامت و ولايت از سوی پيامبر صلی الله عليه وآله، آن حضرت دعوت حق را لبيك گفته، و به ديدار خدا شتافتند. اينك وقت آن رسيده بود تا آنچه درباره اميرمؤمنان علی عليه السلام به مردم رسانده بودند عملی شود. آنان كه ديروز و در جمع غديريان با اميرالمؤمنين علی عليه السلام به عنوان امام و جانشين پيامبر بيعت كرده، اين منصب را به او تبريك گفته و ولايت او را پذيرفته بودند، تغيير ماهيت داده و با تفاصيلی كه در منابع تاريخيِ تمام فرقه های اسلامی آمده است، امام به حق را كناری زده، خود، خلافت پيامبر صلی الله عليه وآله را تصاحب كردند. آنان خوب می دانستند كه اميرمؤمنان علی عليه السلام از تمام صحابه برتر و به پيامبر صلی الله عليه وآله نزديك تر و در حقيقت رازدار آن حضرت و ترجمان واقعی قرآن و سنت رسول خداست. بايد ديد كه اينان به چه انگيزه ای اين تخريب بزرگ تاريخی را مرتكب شدند.
    «عثمان بن سعيد» و «حسين بن روح» دو تن از ياران امام حسن عسكری عليه السلام و دو نايب خاص امام زمان عجّل الله تعالی فرجه الشریف بودند. هر دو نقل كرده اند كه امام حسن عسكری عليه السلام فرمودند: «پدرم امام هادی عليه السلام از سوی حاكم وقت، متوكل عباسی از مدينه به سامرا احضار شد. آن حضرت در مسير خود به سامرا به نجف اشرف رسيد و به منظور زيارت جدّ گراميش كنار مرقد مطهر اميرالمؤمنين عليه السلام حضور يافت و زيارتی خواند كه به «زيارت اميرالمؤمنين عليه السلام در روز غدير» مشهور است. در بخشی از اين زيارت آمده است:
    «… وحال بينك و بين مواهب الله لك…؛[10] ميان شما و مواهبی كه خدا برای شما مقرّر فرموده است، حايل و مانع شد».
    اين عبارت تنها در زيارت اميرالمؤمنين عليه السلام آمده است و بی ترديد امام هادی عليه السلام در اين عبارت به كسانی اشاره داشتند كه پس از شهادت پيامبر صلی الله عليه وآله از رسيدن موهبت الهی به دست حضرت اميرمؤمنان علی عليه السلام ممانعت كردند. بايد توجّه داشت كه خدی ـ جلّ وعلا ـ مواهب زيادی چون: علم بی كران، عصمت، مقام امامت و جايگاه و منزلت والا نزد خود به اميرالمؤمنين علی عليه السلام داد. حال اين پرسش پيش می آيد كه چرا پيمان شكنان اين مواهب را از امام عليه السلام دريغ داشتند؟ يقيناً اين مواهب چيزی نبود كه بتوان آنها را از امام عليه السلام دريغ نمود يا حضرتش را از داشتن آنها بازداشت.
    بنابراين آنچه مورد توجّه امام هادی عليه السلام بود و در زيارت اميرالمؤمنين علی عليه السلام بدان اشاره فرمودند، حق آن حضرت برای اداره حكومت بود؛ همان چيزی كه خدای ـ عزّ وجل ـ در روز غدير خم به وسيله رسولش به همگان ابلاغ كرد و مردم نيز با بيعت خود آن را پذيرفتند، امّا حضرت عليه السلام به مدت 25 سال پس از پيامبر صلی الله عليه وآله با توطئه پيمان شكنان از اداره حكومت دور ماندند. نتيجه اين اقدام، محروم نگاه داشتن مردم از امير و حاكمی لايق بود كه می توانست حكومت پيامبر صلی الله عليه وآله را با تمام عدالت خواهی و مردم داری اش استمرار بخشيده و دامنه آن را آن سان كه مورد رضايت خدای ـ عزّ وجل ـ و آرامش خاطر همگان بود بگستراند. بنا به شواهد تاريخي، دورانِ ـ تقريباً ـ پنج ساله حكومت اميرالمؤمنين عليه السلام كه تبلور همه خوبی هاست عظمت اهداف غدير را آشكار كرده و به حق اين روز را عيدی بزرگ و باعظمت برای مسلمانان و حتی بشريت گردانده است، ولی غدير و صاحب شايسته غدير هر دو مورد جفای تاريخ قرار گرفتند، در عين حال اين روز همچنان با عظمت و شكوه است.

    :: پيامدهاى غصب خلافت

    روايات مختلفی به موضوع غدير و دستاوردهای آن در صورت تحقق آن پرداخته اند. از آن جمله، در روايتی طولانی آمده است:
    «…لو أن أميرالمؤمنيــن عليه السلام ثبتـت قدمـاه أقـام كتـاب الله كلّـه والحــق كلّه…؛[11] اگر اميرالمؤمنين عليه السلام در مصدر امور قرار می گرفت كتاب خدا و حق را تماماً احيا می كرد».
    اگر حق در جامعه جاری و عملی می شد، بی ترديد نماز، زكات، عدالت، بردباری و… نيز جايگاه واقعی خود را می يافت و در سايه چنين حاكمي، به مسائل دنيوی مردم رسيدگی می شد و مردم به شكلی كاملاً مطلوب از تمام نعمت ها بهره مند می شدند، زيرا خدای ـ عزوجل ـ همان گونه كه در قرآن می فرمايد:
    «هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الاَْرْضِ جَمِيعًا…؛[12] اوست آن كسی كه آنچه در زمين است، همه را برای شما آفريد».
    تمام نعمـت ها را بـرای بندگانـش آفريـده است. در روايتی از اميرالمؤمنين عليه السلام آمده است كه فرمودند:
    «…لـو أن الأمـة منـذ قبـض رسـول الله صلی الله عليه وآله اتبعوني وأطاعونــي، لأكلوا من فوقهم و من تحت أرجلهم…؛[13] اگر پس از شهادت رسول خدا صلی الله عليه وآله امت از من پيروی و اطاعت می كردند به يقين از بالای سر و زير پای خود از نعمت خدای متعال بهره مند می شدند».
    بی ترديد اگر اميرالمؤمنين عليه السلام ـ كه حضرت رسول صلی الله عليه وآله به عنوان اولين شخصيت جهان، به حكم آيه (يَـاأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ…)؛[14] ای پيامبر! آنچه از جانب پروردگارت بر تو نازل شده ابلاغ كن» فرمان يافت تا آن حضرت را به جانشينی خود معرفی كند ـ زمام امور را در دست می گرفت مفهوم و هدف غدير برای همگان روشن می شد و دنيا برای هميشه به بهشت نعمت ها و برادری ها مبدل می گرديد، اما متأسفانه چنين شخصيتی را 25 سال خانه نشين كردند. شخصيتی كه در مورد روز غديرش آمده است: «لو عرف الناس…» بايد 25 سال مشغول كشاورزی شود و به جز از دست و پايش از ديگر نيروهای او استفاده نشود و حداكثر بيل بزند و درخت بكارد. اين ظلم و ظلمت بزرگ تاريخ، نه تنها جهان آن روز اسلام را تاريك كرد، بلكه تاريكی آن، امروز و تا فرداهای تاريخ ادامه خواهد داشت. اگر ديروز، امروز و در آينده بيچاره و درمانده ای ديده شود، مستمندی گرسنه سر بر بالين نهد و مكر و حيله ای و زور و ستم و باطلی در جامعه وجود داشته باشد، تماماً از عوارض ناديده گرفتن غدير و مصادره آن سرچشمه گرفته است.
    پس از 25 سال خانه نشيني، آن حضرت مدت كوتاهی كمتر از پنج سال به ظاهر اختياراتی را به دست گرفتند. با اين حال، در همان روزها نيز معاويه از پای ننشست و از توطئه و جنگ افروزی دست برنداشت. حكومت اسلامی به ازای زكاتی كه از مسلمانان می گرفت و به ازای تحت الحمايگی غير مسلمانان ساكن در قلمرو اسلام از آنان جزيه می گرفت. در مقابل، معاويه كه خود را خليفه رسول خدا می خواند، بر خلاف سنت پيامبر صلی الله عليه وآله و شرع مقدس اسلام به كفار جزيه می داد تا بتواند برای جنگ با اميرالمؤمنين عليه السلام آماده شود.
    مسلماً غدير از چنان گستردگی برخودار است كه اگر به تمام معنا تحقق می يافت دنيا و آخرت مردم تأمين می شد و بی ترديد بدون غدير نه دنيا برای مردم فراهم شده است و نه آخرتي. دنيايی كه امروز می بينيم با صدها ميليون گرسنه،[15] كشت و كشتار و ده ها ميليون زنداني، آيا با چنين وضعيتی انسان به كمال می رسد؟ به يقين پاسخ منفی است. وانگهی اين نابسامانی ها از همان روزی كه اسلام به انحراف كشيده شد نشأت گرفته است و زمانی می توان به درست شدن آن دل بست كه اسلام به مسير اهل بيت عليهم السلام باز گردد و هر چه نسبت اين تغيير بيشتر باشد، نسبت سامان گرفتن كار دنيا بيشتر خواهد بود.
    اگر نكته ها و ويژگی هايی كه در قصه های اميرالمؤمنين عليه السلام وجود دارد، جمع آوری شود، دنيا را تكان می دهد. نكته های ظريفی در جای جای زندگی اميرمؤمنان عليه السلام به چشم می خورد كه امروزه آزادانديش ترين و دموكرات ترين انسان ها كه شعار آزادی سر می دهند، از آنها بی بهره اند.
    كار دنيای شرق و غرب، شعار، فريب، خدعه و نيرنگ شده است و با حكومت حدود پنج سال اميرالمؤمنين عليه السلام كه در 1400 سال قبل به وجود آمد، قابل مقايسه نيست. داستان هايی كه در تاريخ به ثبت رسيده و تا به امروز در كتابخانه های ما يافت می شود، تكه هايی از تاريخ و گزارش هايی است از آنچه حضرت اميرالمؤمنين عليه السلام در آن چهار سال و اندی با اندك اختياراتی كه داشتند، انجام داده اند.

    :: درس هايی از حكومت اميرمؤمنان (عليه السلام)

    يكی از آن نكته هايی كه در روايات آمده و تاريخ نيز آن را نقل كرده و به عنوان درسی از حكومت اميرمؤمنان علی عليه السلام مطرح می باشد، اين است كه: «روزی يكی از خوارج نهروان در مقابل حضرت اميرمؤمنان علی عليه السلام ايستاد و خطاب به حضرت گفت: «اتق الله فأنك ميت؛[16] تو روزی خواهی مرد، از خدا بترس».
    او چنان می پنداشت گويی آن حضرت مرگ را نمی شناسد و آن را باور ندارد و بايد به او تذكر دهند و موعظه اش كنند.
    در آن روز اميرالمؤمنين عليه السلام رهبر بزرگ ترين حكومت روی زمين بودند. در عين حال چنين فردی به خود جرأت می داد تا با چنان شخصيتی اين گونه سخن بگويد. اميرمؤمنان عليه السلام با آن نادان به گونه ای برخورد كردند كه با روح «علي مع القرآن والقرآن مع علي؛[17] علی با قرآن است و قرآن با علي» و آيه «…وَ إِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُواْ سَلامًا؛[18] و چون نادانان ايشان را طرف خطاب قرار دهند به ملايمت پاسخ می دهند» سازگاری داشته باشد. در مقابل چنين رفتاري، در زمان بنی اميه يكی از آنان اعلام كرد: «ای مردم، اگر كسی به من اتق الله بگويد، گردنش را می زنم».
    اين ها نه تنها با قرآن نبودند، بلكه درست بر خلاف قرآن رفتار می كردند. امروزه حق آزادی چقدر است؟ آيا كسی می تواند به يك مسئول جزء، اعتراض كند؟ متأسفانه در دنيای قانون گذاری امروزه، نمايندگان مجلس بحث و گفتوگو می كنند، رأی می گيرند، به كميسيون می برند كه اگر به فلان مقام توهين شود، مجازاتش چنين و چنان است.
    اگر غدير با غير غدير مقايسه شود، روشن خواهد شد كه تفاوت از كجا تا به كجاست؟ وقتی غدير باشد، يعنی علی بن ابی طالب عليهماالسلام، و روش اميرمؤمنان عليه السلام كه هيچ تفاوتی با روش رسول خدا صلی الله عليه وآله نداشت حاكم است. اين رفتارها را در تاريخ ملاحظه كنيد و بسنجيد و ببينيد چه كسی جای اميرمؤمنان عليه السلام را غصب كرده و چه روشی جای روش حكومتی آن حضرت را گرفته است؟
    در تاريخ آمده است: «روزی عمربن خطاب به مسجد رفت و امامت جماعت را بر عهده گرفت و مردم به او اقتدا كردند. وقتی نماز تمام شد رو به نمازگزاران كرد و خيلی ساده گفت: مردم، من نماز خواندم، اما جنب بودم!».
    فقط اميرمؤمنان عليه السلام است كه اگر او را كنار نمی زدند، قرآن با تمام برنامه هايش محقق می شد و اصل «أقام كتاب الله كله»[19] تحقق می يافت. توجه داشته باشيم اين كلمه، مفهوم بلندی دارد و بايد به آن توجه شود، وگرنه همه به قسمتی از قرآن عمل می كنند. قرآن كريم يهوديان را به اين جهت كه می گفتند: «نُؤْمِنُ بِبَعْض وَنَكْفُرُ بِبَعْض؛[20] به بعضی ايمان داريم و بعضی را انكار می كنيم» نكوهش كرده است.
    پرواضح است، فردی می تواند سخن بگويد، راه برود، مطالعه كند، غذا بخورد و بينديشد كه تمام اعضای بدن او كامل و سالم باشد. حال اگر بعضی از اندام ها را داشته باشد و بعضی را نداشته باشد، چه وضعيتی خواهد داشت؟ بدون كبد، قلب يا مغز ادامه زندگی ممكن نيست. از ديگر سو ممكن است بعضی از اعضای بدن فاسد شود، ولی زندگی انسان مختل نشود. عمل به كل قرآن و ايمان آوردن به تمام آن مهم است، وگرنه شما هر جای دنيا برويد بسياری از كارهايی كه انجام می دهند در واقع با بخشی از قرآن منطبق است. به عنوان مثال دادوستدهايی در سراسر دنيا صورت می گيرد كه با قرآن كريم سازگاری دارد، زيرا می فرمايد:
    «أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ؛[21] خدا تجارت را حلال كرده است».
    اجاره، ازدواج و طلاق كه در قرآن وجود دارد ديگران نيز انجام می دهند، اما جاری كردن تمام احكام قرآن و تمام حق، مخصوص اميرالمؤمنين عليه السلام است و در آن صورت است كه نعمت آن چنان فراوان می شود كه:
    «لأَكَلُواْ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم؛[22] از فراز و فرود و پيش روی خود [نعمت های فراوان الهي] می خورند».
    اگر حضرت امير عليه السلام از ابتدا فرصت می يافتند تا بر مسند حكومت كه حق مسلم آن حضرت بود تكيه زنند، مردم از نعمت های آسمان و زمين به بهترين وجه، بهره می جستند. تنها كارشكنی معاويه در آن مدت حكومت چند ساله ظاهری نبود، بلكه علاوه بر جنگ صفين، جنگ جمل، طلحه و زبيرها و نهروانی ها و خوارج نيز بودند كه بيشتر دوره چهار سال و چند ماهه حكومت اميرالمؤمنين عليه السلام با اين جنگ ها سپری شد. با اين همه مطالبی در تاريخ اميرمؤمنان عليه السلام يافت می شود كه هنوز دنيا به آنها نرسيده است. آن حضرت نور و جانشين پيامبر صلی الله عليه وآله بودند و خود در اين باره فرموده اند:
    «وأنا من رسول الله كالضوء من الضوء والذراع من العضد؛[23] نسبت من به رسول خدا همانند نسبت نور به نور و آرنج به بازو است».
    آرنج و بازو با هم كار می كنند و با هم از كار می ايستند. يا كاری را با هم انجام می دهند يا هيچ كدام كار نمی كنند. با اين همه نزديكی و يكی بودن، باز اميرمؤمنان از پيامبر صلی الله عليه وآله پيروی می كردند. تك تك اينها مطالبی است درخور دقت كه امروزه دنيا از آنها غافل است. بايد باور كنيم بيشتر مردم جهان از حقيقت غدير و عظمت اميرالمؤمنين عليه السلام ناآگاه هستند و اين مطالب را نشنيده اند.

    :: ساده زيستی

    شايد اين مطلب را شنيده باشيد كه حضرت صديقه كبری فاطمه زهرا سلام الله عليها چادری با دوازده وصله داشتند. اين مطلب را در يك خط می توان نوشت، ولی يك دنيا معنا و محتوا در آن نهفته است. حضرت زهرا سلام الله عليها زمانی آن چادر را سر می كردند كه پدرشان رئيس حكومت و اميرمؤمنان علی بن ابی طالب عليهماالسلام شوهرشان وزير آن حضرت بودند. آن بانوی بزرگ اسلام تا اين اندازه خداخواه و فرمانبردار بودند. شما فقرا را هم بنگريد، مشكل بتوان فقيری را يافت كه چادرش دوازده وصله داشته باشد، البته فقير می خواهد چادر نو و گران بها سر كند، ولی نمی تواند، اما حضرت زهرا سلام الله عليها می توانستند و نمی كردند. ايشان با اموال بيت المال اين گونه با احتياط برخورد می كردند. نقطه مقابل، عملكرد عثمان و… بود. اميرمؤمنان عليه السلام فرمودند: من اموال را همانند رسول خدا تقسيم می كنم. حضرت رسول صلی الله عليه وآله اموال را نگه نمی داشتند و بلافاصله آن را بين مردم تقسيم می كردند، ولی عمر اموال را از سالی تا سال ديگر نگه می داشت، سپس تقسيم می كرد. اين مطلب در متون تاريخی آمده است كه: «وإن عمر كان يجمع الأموال من سنة إلى سنة ثم يقسّم»[24].
    وقتی حكومت در اختيار اميرمؤمنان عليه السلام قرار گرفت، حضرت فرمودند: «من چون عمر رفتار نخواهم كرد. اين اموال مال مردم است و اگر تهی دستی در جامعه وجود دارد، مال، مال اوست و اگر هم فقيری وجود ندارد، به بقيه مسلمانان می رسد».
    اين نكته ای است كه امروزه دنيا با اين همه پيشرفت هنوز به آن نرسيده است. اين قانون را شخص پيامبر صلی الله عليه وآله وضع و اجرا كرده بودند. اميرمؤمنان عليه السلام نيز طبق روش رسول خدا صلی الله عليه وآله عمل می كردند. در حكومت ايشان، پولی كه به بيت المال مسلمانان می رسيد اولويت استفاده از آن با فقيران بود. كسانی كه خانه، زن، زندگي، لباس، خوراك و… نداشتند، به جهت احتياج شان در اولويت بودند و آنچه زياده بر نياز فقيران بود به بقيه می دادند. در مصرف بيت المال، چون مال، از آن خداست و همه بندگان خدا هستند لذا بيت المال الزاماً و حتماً مخصوص فقرا نيست، از اين رو لازم نيست مصرف كننده، فقير باشد و تنها صدقات و زكات از آنِ فقيران است كه در قرآن بدان اشاره شده است، آن جا كه می فرمايد:
    «إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسَاكِينِ…؛[25] صدقات تنها به فقيران و تهی دستان و… می رسد».
    اميرمؤمنان عليه السلام اموال را به طور مساوی تقسيم می كردند. مثلاً اگر به هر نفر سه دينار می رسيد خودشان با آن كه رئيس حكومت بودند، همين مقدار بر می داشتند و به قنبر خادم خود نيز همين مقدار می دادند. اين است معنای غدير، اين است جزئی از معنای بزرگِ «لو عرف الناس فضل هذا اليوم بحقيقته».

    :: شيوه حاكمان نامشروع

    حال به شيوه حكومتی غاصبان نظری بيفكنيم. نوشته اند: وقتی خمس آفريقا را كه يك ميليون دينار بود برای عثمان آوردند او همه را به مروان داد و ساير مسلمانان از آن مبلغ محروم ماندند. ابوذر به اين كار اعتراض كرد و عثمان او را به همين دليل به بدترين مكان (ربذه) تبعيد كرد و سرانجام او در غربت و تنهايی از گرسنگی جان داد.
    عماربن ياسر اعتراض كرد او را نيز آن قدر زدند كه در بستر بيماری افتاد.
    اين، فرق بين غدير و غير غدير است. اسلام مانند چشمه زلال است كه پيامبر صلی الله عليه وآله آن را به جوشش درآورده، از آن آبی گوارا جاری ساختند. آن گاه كسانی چشمه را مصادره و آن را به زهر نفاق آلوده كردند، اما زمانی كه اميرمؤمنان علی بن ابی طالب عليهماالسلام حكومت ظاهری را به دست گرفتند، چشمه را از آلودگی ها پاك كردند تا جرعه نوشان از چشمه اسلام، جرعه های گوارا بنوشند.

    :: روش برخورد اميرالمؤمنين (عليه السلام) با مخالفان

    زمانی كه اميرالؤمنين عليه السلام حكومت ظاهری را به دست گرفتند، بنا به طبيعت شان كه هيچ ناحقی را نمی پسنديدند و به آن تن نمی دادند، از سوی افرادی دنياطلب و مخالف مورد اعتراض قرار می گرفتند. خوارج از گروه های مخالف آن حضرت بودند. يكی از اين افراد در حضور جمع، به اميرالمؤمنين عليه السلام جسارت كرد. حاضران در صدد برخورد با او برآمدند، ولی امام عليه السلام آنان را بازداشتند و فرمودند:
    «سب بسب، أوعفو عن ذنب؛[26] [او را واگذاريد كه طرف سخنش من هستم، پاسخ] دشنام به دشنامی است يا بخشودن گناهي».
    اين گفته شخصيتی است كه پيامبر صلی الله عليه وآله درباره اش فرمودند:
    «…حبّه إيمان وبغضه كفر؛[27] دوستی او (علی عليه السلام) ايمان و دشمنی با او كفر است».
    چنين بزرگواری در مقابل رفتار جسارت بار دشمنِ خود حتی از حق خود كه قرآن كريم برای آحاد مسلمانان محفوظ داشته، می فرمايد:
    «…فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُم فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ…؛[28] پس هر كس بر شما تعدی كرد، همان گونه كه بر شما تعدی كرده، بر او تعدی كنيد» گذشتند.
    اميرالمؤمنين عليه السلام اين حق را می دانستند، اما آيه ديگر را نيز لحاظ می داشتند كه خدای ـ عزوجل ـ می فرمايد:
    «…وَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى…؛[29] و اگر ببخشايد [اين كار شما] به تقوا نزديك تر است».
    حضرت امير عليه السلام دو راه پيش روی خود می ديدند، مقابله به مثل يا گذشت، اما ايشان راه دوم را برگزيدند و از او گذشتند تا بدين ترتيب، حق با تمام وجود، تجلی يابد و باطل خوار گردد. از همين روست كه حضرت، ميزان و محك سنجش اعمال است و به وسيله او حق از باطل باز شناخته می شود. با اشاره به همين وجهِ تمايز حضرت اميرالمؤمنين عليه السلام در زيارت آن حضرت آمده است:
    «السّلام على ميزان الأعمال؛[30] سلام بر [علي] ميزان [سنجش] اعمال».
    از اين رو ما بايد در تمام رفتارهای خود ميزانی داشته باشيم و اميرمؤمنان علی بن ابی طالب عليهماالسلام به عنوان تقسيم كننده بهشت و دوزخ، مظهر اسلام حقيقتی و امام بر حق، تنها ميزانِ واقعيِ سنجش هستند.

    :: تفاوت دو حكومت

    متأسفانه پس از شهادت مظلومانه اميرالمؤمنين عليه السلام و ماجراهايی كه بر حكومت علوی رفت، حكومت به دست امويان و عباسيان نااهل افتاد، در حالی كه می بايست امام حسن و ديگر امامان معصوم عليهم السلام آن را ادامه می دادند. آنان با اندوخته بيت المال كه از آنِ تمام مسلمانان بود به عيش و نوش و تدارك زندگی مرفه پرداختند و در كنار چنين حيف و ميل هايي، مردم به طور عموم و خاندان رسالت به ويژه در شرايط سختی به سر می بردند.
    از بی شمار موارد دست اندازی خليفگان عباسی به بيت المال مسلمانان اين مطلب است كه كاخ هارون الرشيد سه فرسخ (5/16 كيلومتر مربع) مساحت داشت و در همان زمان دختران حضرت موسی بن جعفر عليه السلام كه پاك ترين و گرامی ترين انسانها بودند هر يك چادر مخصوص به خود نداشتند تا نماز را به وقت و با هم بخوانند. نقطه مقابل اين رفاه گرايی و ناديده گرفتن حقوق مسلمانان از بيت المال، روش حكومتی اميرالمؤمنين عليه السلام بود كه همسر والامقامش حضرت فاطمه زهرا سلام الله عليها چادری با دوازده وصله بر سر می كرد، اما به هيچ وجه دست به سوی بيت المال نبرد و اميرالمؤمنين عليه السلام به عنوان رئيس حكومتی گسترده، همان اندازه از بيت المال بر می داشت كه به غلام خود قنبر می داد.
    در تاريخ آمده است: «مردی وارد كوفه شد و از يكی از مسلمانان سراغ خانه رئيس مسلمانان را گرفت. خانه حضرت اميرمؤمنان علی عليه السلام را به او نشان دادند. پس از رو به رو شدن با اميرالمؤمنين عليه السلام به حضرت گفت: اين خانه و اثاث خانه از آنِ شماست؟!
    حضرت فرمودند: اثاثيه ديگر را به خانه ای ديگر فرستادم. (منظور حضرت خانه آخرت بود).
    آن مرد از نزد حضرت خارج شده، از مردم می پرسيد: خانه ديگر اميرالمؤمنين عليه السلام كجاست؟
    پاسخ می دادند: او خانه ديگری ندارد.
    او می گفت: حضرت خود، فرموده است كه اثاثيه را به خانه ای ديگر برده است.
    او را متوجه اين مطلب كردند كه منظور امام عليه السلام از خانه ديگر، آخرت است».
    «ابن شبّه» استاد طبری بود. او دوستدار اميرالمؤمنين نبود، در عين حال نقل كرده است: «وقتی ابوبكر مُرد سه خانه از خود بر جای گذارد، اما می بينيم كه اميرالمؤمنين عليه السلام بدهكار و شهيد از دنيا رفت.
    بی ترديد مصادره غدير كار را به جايی رساند كه حكومت های جُور جای حكومت عدل علوی را بگيرند و دارايی مردم مسلمان را نثار هوس های نامعقول خود كنند و در همان حال صدها هزار از علويان و غير آنان در فقر مطلق به سر می بردند.

    :: دو نكته شايان توجه

    به جاست كه دو نكته را در زندگی مان سخت مورد توجه قرار دهيم:
    نخست: زيارت غدير اميرالمؤمنين عليه السلام است. عالم محدث مرحوم حاج شيخ عباس قميS در مفاتيح الجنان آورده است:
    «مستحب است انسان هر روز و در هر جايی كه قرار دارد، اين زيارت را بخواند».
    در واقع زيارت غديريه بايد با تأمل و دقت خوانده و به نكات آن توجه شود.
    دوم: خواندن خطبه غدير است كه اين خطبه نيز دارای مفاهيم و آموزه های والاست. به يك سخن اين كه غدير در دو مورد فوق تبلور می يابد.

    :: هرگز دروغ نگفتم

    جانشينی رسول خدا صلی الله عليه وآله چنان منصب والايی است كه جز پاكان شايستگی رسيدن به آن را ندارند و چنين فردی بايد تمام صفات نيكو را داشته و از تمام خصلت های ناپسند دور باشد و البته چنين خصوصيتی تنها در وجود اميرالمؤمنين عليه السلام و فرزندان پاك و معصومش تبلور دارد. اميرالمؤمنين عليه السلام خود درباره خويش فرموده اند:
    «… والله ما كذبت ولا كذّبت؛[31] به خدا سوگند [در تمام عمرم يك] دروغ نگفته ام و كسی نتوانسته نسبت دروغ به من دهد».
    همچنين می فرمايد:
    «والله ما كذبت كذبة؛[32] به خدا سوگند [حتي] يك دروغ نگفته ام».
    روشن است كه همين راست گفتاری جز از غدير بر نمی آيد و روشن تر اين كه از چنين انسان راست گفتار و با عظمت، ستم و ستمكاری نشايد و اين دو خصلت، نمادی از غدير و حاكميت غدير است. البته دين به دنيا فروشان، در طول تاريخ پرچم دشمنی با اميرالمؤمنين عليه السلام برافراشتند و نسبت های ناروا به ساحت پاكش زدند، اما تمام تلاش آنان، چونان خاكستری در معرض گردباد، بر باد شد.

    :: قضاوت از منظر اميرمؤمنان علی (عليه السلام)

    «قضاوت» در روايات سخت مورد توجه قرار گرفته است. از همين منظر، قضات به سه و گاهی به چهار دسته تقسيم شده اند كه تنها يك دسته از آنان به بهشت می روند، اما تصور چنين شائبه ای در مورد اميرالمؤمنين عليه السلام كه بزرگ شده خانه وحی و قرآن و دست پرورده حضرت رسول اكرم صلی الله عليه وآله است محال و محال می باشد. او كه سوگند خورده حتی به ازای به دست آوردن هفت اقليم و خورشيد و ماه هرگز پوست جُوی را از مورچه ای نگيرد[33]، به يقين تن به داوری به ناحق نمی دهد.
    روزی حضرتش در زمان حكومت خود از جايی می گذشتند. كودكان در حال بازگشت از مكتب خانه بودند، كه با ديدن حضرت، لوح های خود را (تخته هايی كه بر آن می نوشتند) به اميرالمؤمنين نشان داده، از حضرت خواستند تا در مورد نوشته های آنان داوری كنند و زيباترين را بر گزينند… اميرالمؤمنين عليه السلام در پاسخ به درخواست چند كودك كه حضرتش را به داوری خواسته بودند [پاسخ دادند، آن گاه] فرمودند:
    «…أما إنها حكومة، والجور فيها كالجور في الحكم…؛[34] اما اين مطلب نيز قضاوت است و ستم در اين مورد، همانند ستم در داوری است».
    از نظر اميرالمؤمنين عليه السلام اين داوری با قضاوت ميان دو مدعی بر سر يك خانه، مِلك يا چيزی ديگر هيچ تفاوتی ندارد. اگر اين آموزه قرآن و منطق غدير در تمام سی سال پس از شهادت رسول خدا صلی الله عليه وآله حاكم می شد، بی ترديد جهان، تمام والايی ها و خوبی ها و فضايل انسانی را به دست می آورد.
    مطلبی كه بايد بدان توجه داشت، روايتی است كه درك ما از فهم آن ناتوان است، اما از آن جا كه روايت صحيح است و به صحت آن علم داريم، آن را تعبداً می پذيريم. البته مسائلی نيز وجود دارد كه در حد درك و فهم انسان است، از جمله اين كه امام رضا عليه السلام فرموده است: «لو عرف الناس… حقيقته»[35]، در واقع همان گونه كه پيش تر بيان شد «لو» (اگر) و «حقيقت» دو جزء از غدير بوده و جدايی ناپذير هستند.

    :: آثار نفی غدير

    با نگاهی گذرا به دوران چهار سال و چند ماهه حكومت ظاهری اميرمؤمنان علی عليه السلام به حجم زيان هايی كه در نتيجه نفی غدير بر مسلمانان و جامعه بشری وارد شد پی می بريم. پس از 25 سال حكومت مدّعيان خلافت، روش حكومتی پيامبر صلی الله عليه وآله به فراموشی سپرده شد.
    نفی غدير، آثار و پيامدهای ناگوار و بی حسابی برای بشريّت به همراه داشته است، زيرا دگرگونی بسياری در كيفيت حيات بشری ايجاد نموده كه خسارت مطلق به شمار می رود. در نتيجه، جامعه از نعمت های فراوانی محروم شد، چرا كه خط مشی حكومتی اميرمؤمنان علی عليه السلام مشابه و در استمرار حكومت پيامبر صلی الله عليه وآله بود و همان سان كه حكومت پيامبر صلی الله عليه وآله برای جامعه سازنده بود، حكومت امام اميرمؤمنان علی عليه السلام انعكاسی از حكومت پيامبر صلی الله عليه وآله بود و حضرتش در مسير تعيين شده خدا و پيامبر گام برمی داشتند كه ثمره آن برپايی عدالت، آزادي، نفی هر گونه ستيزه جويی و ايجاد جامعه ای سالم و آكنده از فضايل اخلاقی بود. روشن است تمام اين امور از مواهب الهی است كه با وجود موهبت خداداده به اميرالمؤمنين عليه السلام در غدير، يعنی امامت و ولايت آن حضرت محقق می شد. نفی اين موهبت و مصادره حكومت از حضرت امير عليه السلام آثار سوئی در جامعه پديد آورد كه به برخی از آنها اشاره می كنم:

    1. سلب آزادى
    اگر در دنيای امروز از آزادی سخن گفته می شود و يا به همين مقداری كه آزادی وجود دارد بايد آن را مرهون مولی الموحدين اميرالمؤمنين عليه السلام دانست. البته سخن درباره پس از واقعه غدير و در نبودِ پيامبر صلی الله عليه وآله است، زيرا پيامبر صلی الله عليه وآله در دوران حاكميت خود آزادی را در جامعه گستراند و پس از شهادت آن حضرت صلی الله عليه وآله بود كه اين آزادی از جامعه سلب شد. اختناق موجود در دنيای فعلی به سبب نفی غدير است، چرا كه با جلوگيری از برپايی حكومت اميرمؤمنان عليه السلام مانع گسترش آزادی گرديدند. نزاع های فراوانی در جامعه چهره نموده كه جاهليت را حيات مجدد بخشيده، جنگ های بسياری به راه انداخته شد كه نام آن را «حروب الردّه» گذاشتند و استمرار چنين جنگ هايی كه تا به امروز، جان ميليون ها انسان را گرفته و هماره ادامه دارد، نتيجه نفی غدير است.

    2. تحريف شريعت
    پس از پيامبر گرامی اسلام صلی الله عليه وآله بسياری از مبانی شريعت مبين اسلام دستخوش تحريف شد و قدرتمندان، دين را بر حسب سلايق و به مقتضای رأی شخصی تغيير می دادند. طی مدت 25 ساله حكومت غاصبان، چنان جوّ خفقان و اختناق بر جامعه حاكم شده بود كه هيچ كس حق نداشت از پيامبر صلی الله عليه وآله حتی يك روايت نقل كند. اميرالمؤمنين عليه السلام و ديگران گرفتار چنين جوّی بودند. زمينه هايی برای امكان تحريف ايجاد كرده بودند كه از جمله آنها سلب آزادی بود. در جامعه آن روز هيچ كس آزادی روايت يك حديث از پيامبر صلی الله عليه وآله را نداشت و حكام غاصب حتی اجازه جمع آوری قرآن را نمی دادند. پسر عمر می گويد: «من در زمان پدرم نمی توانستم حتّی حديثی كه از رسول گرامی اسلام شنيده بودم نقل كنم». در صورتی كه شخصی حديثی از رسول الله صلی الله عليه وآله نقل می كرد به تحمل شلاق محكوم می شد، ولی اميرالمؤمنين عليه السلام پس از به دست گرفتن حكومت كوتاه مدت، جوّ اختناق را از بين بردند و آزادی را به جامعه بازگرداندند.
    راستی مگر پيامبر صلی الله عليه وآله غير از بيان شريعت، بيان ديگری هم داشتند؟ مگر قرآن شريعت نبود؟ آيا سيره پيامبر صلی الله عليه وآله غير از شريعت بود؟
    در حقيقت، تحريف واقعيت دين با وجود آزادی ممكن نبود. از جمله تحريف هايی كه حاكمان غاصب پايه گذاری كردند، در مورد نماز نافله شب های ماه مبارك رمضان بود كه پيامبر صلی الله عليه وآله تشريع فرمودند. پيامبر گرامی اسلام صلی الله عليه وآله نماز نا

  22. علوی says:

    السلام علیکم قارئین واجب الاحترام ….زھیر نامی شخص جو تصحیح اور تحریف کے فرق کو بھی سمجھنے سے عاری ہے وہ بھی مظلوم اوّل امیرالمؤمنین علیہ السلام کی مظلوم اولاد کے بارے میں خرافتی تبصرے کر کے تاریخ کو دھرا رہے ہیں کیونکہ طول تاریخ میں ملاحظہ کریں تو معلوم ہو گا کہ جس چیز یا فرد کو مظلوم اوّل حضرت علی علیہ السلام سے نسبت ہوئی تو ابنای زمان و شیطان نے ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا ، چاہے وہ حضرت علی علیہ السلام کے والدین ھوں چاھے وہ ان کی اولاد ھو چاہے ان کو ھادی و مرشد ماننے والے ان کے شیعہ ھوں چاہے کسی مصنّف نے ان کے حسب و نسب پر کچھ لکھا ہو۔
    جی ہاں اس قصور کی بنا پر ظالمین نے ان کو ظلم کا نشانہ بنایا اس پر تاریخ شاھد ہے اور پیغمبر اسلام بھی اس کی پیشنگوئی فرما گئے تھے اللہ تعالیٰ سب کو ھدایت دے اگر قابل ھدایت ہیں

  23. Great info. Lucky me I ran across your blog by
    accident (stumbleupon). I have bookmarked it for later!

  24. سید عبدااللہ علوی says:

    السلام علیکم
    جناب علوی صاحب اس وبلاگ میں آپ کی تحریریں پڑھ کر دلی خوشی ہوئی اللہ تعالی آپ کی توفیق میں مزید اضافہ فرمائے اور اسی طرح فاتح فرات علمدار لشکر حسینی کی مظلوم اور محروم اولاد کا دفاع کرتے رہیں آمین
    التماس دعا
    سید عبداللہ علوی

  25. zohair92110 says:

    slam :
    وہ دفاع قابل تحسین ہوتا ہے جو سچ کی علمبرداری کے ساتھ ہو لیکن

    جس دفاع کی بنیاد سچ کے علاوہ کسی اور چیز یعنی جھوٹ پر ہو اس دفاع کو دنیا کا ہر شخص تو تحسین کی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے لیکن ممکن نہیں ہے حضرت علی اور حضرت عباس اسے تحسین کی نگاہ سے دیکھیں کیسے ممکن ھے کہ جس علی نے ساری زندگی پاکیزگی کو بنیاد بنا کر زندگی گزار دی ھے وہ جھوٹ کو پسند کرے ۔اس کے لئے حضرت علی کا نہج البلاغہ ہی پڑھ لیجئے۔ تسلی کے لئے اس درج ذیل میسج پر نگاہ ڈالئے
    ۔
    وزیر صاحب کا 18 ستمبر کا پیغام حقیقت میں ھمارے 25 ستمبر کے پیغام کا جواب ھے تاریخون کے آگے پیچھے ہونے کی وجہ یہ ھے کہ 25 ستمبر کا پیغام انہیں 18 ستمبر سے پہلے میل کیا تھا وہ انہیں مل گیا لیکن جب ھم اس پیغام کو ویبلاگ پہ ایڈ کرنے لگے تو نیٹ پرابلم کی وجہ سے ایڈ نہیں ۔ لہذا وزیر صاحب نے ہماری میل پڑھ کر 18 کو اس کا جواب دینے کی کوشش کی ھے ۔ ھمارا پیغام 25 ستمبرکو ویبلاگ پہ ایڈ ہوا ھے ۔اب ھم اسی 18 ستمبر 2013 کے پیغام کے جواب کی طرف آتے ھیں ۔
    Zohair92110
    وزیر صاحب !
    آپ نے ھمارے مذھب پہ اس طرح تنقید کی ھے کہ سنی مذھب کے علماء جھوٹ بولتے ھیں اور ھم سے سوال کیا ھے کہ کیا ھمارے مذھب میں جھوٹ بولنا جائز ھے ۔
    جوابا عرض ھے کہ اولا
    محترم جھوٹ جھوٹ ھی ہوتا ھے چاھے وہ اھل سنت بولے یا شیعہ بولے یا وہ بولنے یا لکھنے والے وزیر حسین یا سید علی علوی ھی کیوں نہ ھوں اور وہ حق کے سامنے سر کو تسلیم کرنے کی بجائے یہ جھوٹ بولیں:
    (1) بہت سے علمائے انساب نے کتاب “خلاصة الانساب” کے حوالے سے بھی پاک و ہند میں حضرت عباس علمدار× کی اولاد کا ہونا ذکر کیا ہے۔
    (2) “میزان ہاشمی” کے مصنف ملا سیدمحمد ہاشم علوی متوفی ١٢٨١ء کو بھی علمی حلقوں میں ایک معتبر نسب شناس تسلیم کیا ہے ۔
    (3)بہت سے علمائے انساب نے خلاصہ الانساب کو معتبر کہا ھے ۔
    (4)
    ھادی منش کہتا ھے کہ عون بن یعلی کی نسل پاکستان میں موجود ھے ۔
    (5)
    محبت حسین کو تو خط میں لکھے کہ میری(چہرہ درخشان کی جلد 5 چھپنے کے بعد) علی ربانی سے ملاقات ہوئی اور ربانی صاحب نے یہ ۔کہا ھے آئندہ ایڈیشن میں فلان چیز نکال دی جائے گی ۔ لیکن ھمیں (زہیر کو) لکھے کہ میری تو چہرہ درخشان کی پانچویں جلد چھپنے کے بعد علی ربانی سے ملاقات ھی نہیں ھوئی ھے ۔
    ھمارا خیال ھے کہ جھوٹ کے حوالے سے اتنا ھی کافی ھے ۔ میرا خیال ھے کہ آگر آپ تھوڑی عقل سے کام لیں تو آئیندہ جھوٹ سچ کی بات نہیں لکھیں گے کیونکہ آپ ھی کیلئے مشکل ہو گا جو بھی اس ویبلاگ کو پڑھے گا وہ تو نور الدین وغیرہ کو تو جانتا نھیں اور انہیں اس جھان سے گئے سالھا سال بیت گئے ھیں لیکن آپ کو تو زندہ و سلامت جھوٹ بولتے لکھتے ہوئے دیکھ کر آپ کے احترام کا مزید قائل ھو گا ۔ فتدبر جیدا ان کنتم تشعرون ۔
    دوسرا مسئلہ:
    جس کی جانب جناب نے اشارہ فرمایا کہ نور الدین وغیرہ پاکستان میں لوگوں کے پیر طریقت ھیں اور لوگ نذرو نیاز دیتے ھیں
    دوسرے مسئلے کا جواب :

    جو لوگ نور الدین کی قبر کا احترام کرتے وہ آپ کی نسبت تو بہتر ھیں کیونکہ نور الدین نے ان پر جو احسان کیا وہ اسے ساری زندگی نہیں بھلا سکتے یعنی نور الدین نے انہیں بتایا کہ وہ عون بن یعلی کی اولاد میں سے ھیں لہذا وہ سادہ لوح عوام کبھی احسان کو نہیں بھلاتے اور اسکی قبر پہ جا کر اسکے لئے استغفار و فاتحہ پڑھتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ھیں بار الہا ! اس سے جو کوتاھی ہوئی اس سے در گذر فرما اور اسکے درجات میں مزید اضافہ فرما ۔ افسوس اور صد افسوس تو ان احسان فراموشوں پر ھے کہ جو مطالب تو نور الدین کی کتاب سے نقل کرکے اسے فارسی میں ترجمہ کرتے ھیں لیکن اس بیچارے کا نام بھی نہیں لکھتے ھیں پھر اسی ظلم پہ اکتفا نہیں کرتے ھیں بلکہ بعض تو اسی ویبلاگ پہ بڑے فخر سے لکھتے ھیں کہ علی ربانی نے اپنی کتاب “چہرہ درخشان۔۔۔۔” میں زاد الاعوان اور باب جیسی کتابوں کا نام تک نہیں لیا ۔
    تیسرا مسئلہ
    وزیر صاحب نے ھمین کہا :آپ (یعنی زہیر )نے اچھوتے ، جھوٹ کے بل بوتے انداز میں لکھا: کہ نسب الاعوان یا برادری کےشجرہ نامے اس وقت موجود نہیں تھے تو پھر نسب الاعوان اور شجرہ ناموں کا ذکر کتاب باب الاعوان میں کیسے آ گیا ہے؟

    تیسرے مسئلے کا جواب
    وزیر صاحب کی نسبت ھماری اصلی مشکل :
    ھمیں وزیر صاحب سے ھمکلام ہوئے عرصہ ھو گیا ھم پہلے ھی دن سے ایک اساسی مشکل کا شکار ھیں وہ یہ کہ ھمیں ان کی باتوں کا صرف جواب ھی نہیں دینا ھوتا بلکہ جواب دینے سے پہلے انھیں سمجھانا ھوتا ھے کہ انھوں نے کیا لکھا ھے پھر اس کے بعد جواب دینے کی باری آتی ہے اور یہ مشکل صرف وزیر صاحب سے نہیں بلکہ وہ علی علوی بھی کی نسبت ھمیں دو دو کام کرنے پڑتے ھیں پہلے انھیں سمجھاتے ھیں آپ نے جو لکھا ھے اس کا یہ مطلب ھے اور پھر جواب دیتے ھیں ۔ اب یہیں اس میسج میں ھی دیکھ لیجئے
    ھم نے لکھا تھا کہ نور الدین نے اپنی پہلی تالیف “زاد الاعوان” کی تالیف میں کہیں یہ نہیں کہا کہ اسکے پاس حسام الدین کی نسب الاعوان موجود ھے اور نہ ھی اس نے یہ کہا ھے کہ میرے پاس اس علاقے کے اعوانوں کے شجرے موجود ھیں بلکہ اس نے اس بات کے برعکس اپنی کتاب زاد الاعوان کی تالیف کے سبب میں کہا ھے : “ایک روز لوگوں نے مجھ سے تذکرۂ نسب نامہ اور تواریخ اعوان کا استفسار کیا اور عوام نے خواہش ظاہر کی کہ میں کتابوں سے اعوانوں کا نسب نامہ نکال کر اردو میں علیحدہ مستقل ایک کتاب میں لکھوں”اور اسی طرح نور الدین نے زاد الاعوان کتاب کی تالیف میں جن کتابوں یا ماخذوں کو ذکر کیا اس کی فھرست میں بھی اس علاقے کے شجرے نامے کے موجود ھونے کا تذکرہ نہیں اور نہ نسب الاعوان کو ذکر کیا ۔
    وزیر صاحب کی فھم و فراست کو داد تحسین دیجئے کہ ھم نے نور الدین سے یہ باتیں نقل کی ھیں اور وزیر صاحب ھمیں کہتے ھیں کہ زھیر نے جھوٹ لکھا ھے ۔
    چوتھا مسئلہ
    کہ باب الاعوان میں برادی کے شجرے کیسے آگئے ۔۔۔۔۔۔
    چوتھے کا جواب
    آپ ہی پہلے دن سے یہ کہہ رھے کہ نور الدین ایک دیندار، امام جمعہ، متدین شخص تھا، اس کے بارے میں وہاں کے لوگوں نے کوئی غیر اخلاقی بات نقل نہیں کی اور اسے کیا پڑی ھے جھوٹ بولنے کی وغیرہ وغیرہ یعنی آپ کی نگاہ میں یہ ساری صفات اس میں پائی جاتی ہیں ۔ اب جو آپ کے بقول امام جمعہ ،دیندار ،متدین اور جھوٹ نہ بولنے والا 1315 ھجری قمری میں زاد الاعوان میں یہ کہے کہ 1315ھجری قمری میں اس علاقے کے لوگوں کے پاس مرتب شجرے موجود نہیں تھے لہذا وہ نور الدین زاد الاعوان لکھ دے اور اس میں شجرے ہی لکھے اور اب دوبارہ ٹھیک چوتھے سال وہی امام جمعہ ،دیندار، متدین یہ کہے کہ اب میرے پاس اس علاقے کے 100(سو) قلمی شجرے ہیں یا 50 (پچاس)عدد شجرے ھیں۔ آپ کو اس سے کیا سمجھ آتا ھے اگر سمجھ آجائے تو ٹھیک ورنہ کسی اور سے پوچھ لیجئے گا ۔
    (یہاں یہ کہنا صحیح ھے : لوگ دوسروں کو پھنسانے کیلئے حیلے کرتے ھیں لیکن اسی حیلے میں خود پھنس جاتے
    وزیر صاحب کا 18 ستمبر کا پیغام حقیقت میں ھمارے 25 ستمبر کے پیغام کا جواب ھے تاریخون کے آگے پیچھے ہونے کی وجہ یہ ھے کہ 25 ستمبر کا پیغام انہیں 18 ستمبر سے پہلے میل کیا تھا وہ انہیں مل گیا لیکن جب ھم اس پیغام کو ویبلاگ پہ ایڈ کرنے لگے تو نیٹ پرابلم کی وجہ سے ایڈ نہیں ۔ لہذا وزیر صاحب نے ہماری میل پڑھ کر 18 کو اس کا جواب دینے کی کوشش کی ھے ۔ ھمارا پیغام 25 ستمبرکو ویبلاگ پہ ایڈ ہوا ھے ۔اب ھم اسی 18 ستمبر 2013 کے پیغام کے جواب کی طرف آتے ھیں ۔
    Zohair92110
    وزیر صاحب !
    آپ نے ھمارے مذھب پہ اس طرح تنقید کی ھے کہ سنی مذھب کے علماء جھوٹ بولتے ھیں اور ھم سے سوال کیا ھے کہ کیا ھمارے مذھب میں جھوٹ بولنا جائز ھے ۔
    جوابا عرض ھے کہ اولا
    محترم جھوٹ جھوٹ ھی ہوتا ھے چاھے وہ اھل سنت بولے یا شیعہ بولے یا وہ بولنے یا لکھنے والے وزیر حسین یا سید علی علوی ھی کیوں نہ ھوں اور وہ حق کے سامنے سر کو تسلیم کرنے کی بجائے یہ جھوٹ بولیں:
    (1) بہت سے علمائے انساب نے کتاب “خلاصة الانساب” کے حوالے سے بھی پاک و ہند میں حضرت عباس علمدار× کی اولاد کا ہونا ذکر کیا ہے۔
    (2) “میزان ہاشمی” کے مصنف ملا سیدمحمد ہاشم علوی متوفی ١٢٨١ء کو بھی علمی حلقوں میں ایک معتبر نسب شناس تسلیم کیا ہے ۔
    (3)بہت سے علمائے انساب نے خلاصہ الانساب کو معتبر کہا ھے ۔
    (4)
    ھادی منش کہتا ھے کہ عون بن یعلی کی نسل پاکستان میں موجود ھے ۔
    (5)
    محبت حسین کو تو خط میں لکھے کہ میری(چہرہ درخشان کی جلد 5 چھپنے کے بعد) علی ربانی سے ملاقات ہوئی اور ربانی صاحب نے یہ ۔کہا ھے آئندہ ایڈیشن میں فلان چیز نکال دی جائے گی ۔ لیکن ھمیں (زہیر کو) لکھے کہ میری تو چہرہ درخشان کی پانچویں جلد چھپنے کے بعد علی ربانی سے ملاقات ھی نہیں ھوئی ھے ۔
    ھمارا خیال ھے کہ جھوٹ کے حوالے سے اتنا ھی کافی ھے ۔ میرا خیال ھے کہ آگر آپ تھوڑی عقل سے کام لیں تو آئیندہ جھوٹ سچ کی بات نہیں لکھیں گے کیونکہ آپ ھی کیلئے مشکل ہو گا جو بھی اس ویبلاگ کو پڑھے گا وہ تو نور الدین وغیرہ کو تو جانتا نھیں اور انہیں اس جھان سے گئے سالھا سال بیت گئے ھیں لیکن آپ کو تو زندہ و سلامت جھوٹ بولتے لکھتے ہوئے دیکھ کر آپ کے احترام کا مزید قائل ھو گا ۔ فتدبر جیدا ان کنتم تشعرون ۔
    دوسرا مسئلہ:
    جس کی جانب جناب نے اشارہ فرمایا کہ نور الدین وغیرہ پاکستان میں لوگوں کے پیر طریقت ھیں اور لوگ نذرو نیاز دیتے ھیں
    دوسرے مسئلے کا جواب :

    جو لوگ نور الدین کی قبر کا احترام کرتے وہ آپ کی نسبت تو بہتر ھیں کیونکہ نور الدین نے ان پر جو احسان کیا وہ اسے ساری زندگی نہیں بھلا سکتے یعنی نور الدین نے انہیں بتایا کہ وہ عون بن یعلی کی اولاد میں سے ھیں لہذا وہ سادہ لوح عوام کبھی احسان کو نہیں بھلاتے اور اسکی قبر پہ جا کر اسکے لئے استغفار و فاتحہ پڑھتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ھیں بار الہا ! اس سے جو کوتاھی ہوئی اس سے در گذر فرما اور اسکے درجات میں مزید اضافہ فرما ۔ افسوس اور صد افسوس تو ان احسان فراموشوں پر ھے کہ جو مطالب تو نور الدین کی کتاب سے نقل کرکے اسے فارسی میں ترجمہ کرتے ھیں لیکن اس بیچارے کا نام بھی نہیں لکھتے ھیں پھر اسی ظلم پہ اکتفا نہیں کرتے ھیں بلکہ بعض تو اسی ویبلاگ پہ بڑے فخر سے لکھتے ھیں کہ علی ربانی نے اپنی کتاب “چہرہ درخشان۔۔۔۔” میں زاد الاعوان اور باب جیسی کتابوں کا نام تک نہیں لیا ۔
    تیسرا مسئلہ
    وزیر صاحب نے ھمین کہا :آپ (یعنی زہیر )نے اچھوتے ، جھوٹ کے بل بوتے انداز میں لکھا: کہ نسب الاعوان یا برادری کےشجرہ نامے اس وقت موجود نہیں تھے تو پھر نسب الاعوان اور شجرہ ناموں کا ذکر کتاب باب الاعوان میں کیسے آ گیا ہے؟

    تیسرے مسئلے کا جواب
    وزیر صاحب کی نسبت ھماری اصلی مشکل :
    ھمیں وزیر صاحب سے ھمکلام ہوئے عرصہ ھو گیا ھم پہلے ھی دن سے ایک اساسی مشکل کا شکار ھیں وہ یہ کہ ھمیں ان کی باتوں کا صرف جواب ھی نہیں دینا ھوتا بلکہ جواب دینے سے پہلے انھیں سمجھانا ھوتا ھے کہ انھوں نے کیا لکھا ھے پھر اس کے بعد جواب دینے کی باری آتی ہے اور یہ مشکل صرف وزیر صاحب سے نہیں بلکہ وہ علی علوی بھی کی نسبت ھمیں دو دو کام کرنے پڑتے ھیں پہلے انھیں سمجھاتے ھیں آپ نے جو لکھا ھے اس کا یہ مطلب ھے اور پھر جواب دیتے ھیں ۔ اب یہیں اس میسج میں ھی دیکھ لیجئے
    ھم نے لکھا تھا کہ نور الدین نے اپنی پہلی تالیف “زاد الاعوان” کی تالیف میں کہیں یہ نہیں کہا کہ اسکے پاس حسام الدین کی نسب الاعوان موجود ھے اور نہ ھی اس نے یہ کہا ھے کہ میرے پاس اس علاقے کے اعوانوں کے شجرے موجود ھیں بلکہ اس نے اس بات کے برعکس اپنی کتاب زاد الاعوان کی تالیف کے سبب میں کہا ھے : “ایک روز لوگوں نے مجھ سے تذکرۂ نسب نامہ اور تواریخ اعوان کا استفسار کیا اور عوام نے خواہش ظاہر کی کہ میں کتابوں سے اعوانوں کا نسب نامہ نکال کر اردو میں علیحدہ مستقل ایک کتاب میں لکھوں”اور اسی طرح نور الدین نے زاد الاعوان کتاب کی تالیف میں جن کتابوں یا ماخذوں کو ذکر کیا اس کی فھرست میں بھی اس علاقے کے شجرے نامے کے موجود ھونے کا تذکرہ نہیں اور نہ نسب الاعوان کو ذکر کیا ۔
    وزیر صاحب کی فھم و فراست کو داد تحسین دیجئے کہ ھم نے نور الدین سے یہ باتیں نقل کی ھیں اور وزیر صاحب ھمیں کہتے ھیں کہ زھیر نے جھوٹ لکھا ھے ۔
    چوتھا مسئلہ
    کہ باب الاعوان میں برادی کے شجرے کیسے آگئے ۔۔۔۔۔۔
    چوتھے کا جواب
    آپ ہی پہلے دن سے یہ کہہ رھے کہ نور الدین ایک دیندار، امام جمعہ، متدین شخص تھا، اس کے بارے میں وہاں کے لوگوں نے کوئی غیر اخلاقی بات نقل نہیں کی اور اسے کیا پڑی ھے جھوٹ بولنے کی وغیرہ وغیرہ یعنی آپ کی نگاہ میں یہ ساری صفات اس میں پائی جاتی ہیں ۔ اب جو آپ کے بقول امام جمعہ ،دیندار ،متدین اور جھوٹ نہ بولنے والا 1315 ھجری قمری میں زاد الاعوان میں یہ کہے کہ 1315ھجری قمری میں اس علاقے کے لوگوں کے پاس مرتب شجرے موجود نہیں تھے لہذا وہ نور الدین زاد الاعوان لکھ دے اور اس میں شجرے ہی لکھے اور اب دوبارہ ٹھیک چوتھے سال وہی امام جمعہ ،دیندار، متدین یہ کہے کہ اب میرے پاس اس علاقے کے 100(سو) قلمی شجرے ہیں یا 50 (پچاس)عدد شجرے ھیں۔ آپ کو اس سے کیا سمجھ آتا ھے اگر سمجھ آجائے تو ٹھیک ورنہ کسی اور سے پوچھ لیجئے گا ۔
    (یہاں یہ کہنا صحیح ھے : لوگ دوسروں کو پھنسانے کیلئے حیلے کرتے ھیں لیکن اسی حیلے میں خود پھنس جاتے
    وزیر صاحب کا 18 ستمبر کا پیغام حقیقت میں ھمارے 25 ستمبر کے پیغام کا جواب ھے تاریخون کے آگے پیچھے ہونے کی وجہ یہ ھے کہ 25 ستمبر کا پیغام انہیں 18 ستمبر سے پہلے میل کیا تھا وہ انہیں مل گیا لیکن جب ھم اس پیغام کو ویبلاگ پہ ایڈ کرنے لگے تو نیٹ پرابلم کی وجہ سے ایڈ نہیں ۔ لہذا وزیر صاحب نے ہماری میل پڑھ کر 18 کو اس کا جواب دینے کی کوشش کی ھے ۔ ھمارا پیغام 25 ستمبرکو ویبلاگ پہ ایڈ ہوا ھے ۔اب ھم اسی 18 ستمبر 2013 کے پیغام کے جواب کی طرف آتے ھیں ۔
    Zohair92110
    وزیر صاحب !
    آپ نے ھمارے مذھب پہ اس طرح تنقید کی ھے کہ سنی مذھب کے علماء جھوٹ بولتے ھیں اور ھم سے سوال کیا ھے کہ کیا ھمارے مذھب میں جھوٹ بولنا جائز ھے ۔
    جوابا عرض ھے کہ اولا
    محترم جھوٹ جھوٹ ھی ہوتا ھے چاھے وہ اھل سنت بولے یا شیعہ بولے یا وہ بولنے یا لکھنے والے وزیر حسین یا سید علی علوی ھی کیوں نہ ھوں اور وہ حق کے سامنے سر کو تسلیم کرنے کی بجائے یہ جھوٹ بولیں:
    (1) بہت سے علمائے انساب نے کتاب “خلاصة الانساب” کے حوالے سے بھی پاک و ہند میں حضرت عباس علمدار× کی اولاد کا ہونا ذکر کیا ہے۔
    (2) “میزان ہاشمی” کے مصنف ملا سیدمحمد ہاشم علوی متوفی ١٢٨١ء کو بھی علمی حلقوں میں ایک معتبر نسب شناس تسلیم کیا ہے ۔
    (3)بہت سے علمائے انساب نے خلاصہ الانساب کو معتبر کہا ھے ۔
    (4)
    ھادی منش کہتا ھے کہ عون بن یعلی کی نسل پاکستان میں موجود ھے ۔
    (5)
    محبت حسین کو تو خط میں لکھے کہ میری(چہرہ درخشان کی جلد 5 چھپنے کے بعد) علی ربانی سے ملاقات ہوئی اور ربانی صاحب نے یہ ۔کہا ھے آئندہ ایڈیشن میں فلان چیز نکال دی جائے گی ۔ لیکن ھمیں (زہیر کو) لکھے کہ میری تو چہرہ درخشان کی پانچویں جلد چھپنے کے بعد علی ربانی سے ملاقات ھی نہیں ھوئی ھے ۔
    ھمارا خیال ھے کہ جھوٹ کے حوالے سے اتنا ھی کافی ھے ۔ میرا خیال ھے کہ آگر آپ تھوڑی عقل سے کام لیں تو آئیندہ جھوٹ سچ کی بات نہیں لکھیں گے کیونکہ آپ ھی کیلئے مشکل ہو گا جو بھی اس ویبلاگ کو پڑھے گا وہ تو نور الدین وغیرہ کو تو جانتا نھیں اور انہیں اس جھان سے گئے سالھا سال بیت گئے ھیں لیکن آپ کو تو زندہ و سلامت جھوٹ بولتے لکھتے ہوئے دیکھ کر آپ کے احترام کا مزید قائل ھو گا ۔ فتدبر جیدا ان کنتم تشعرون ۔
    دوسرا مسئلہ:
    جس کی جانب جناب نے اشارہ فرمایا کہ نور الدین وغیرہ پاکستان میں لوگوں کے پیر طریقت ھیں اور لوگ نذرو نیاز دیتے ھیں
    دوسرے مسئلے کا جواب :

    جو لوگ نور الدین کی قبر کا احترام کرتے وہ آپ کی نسبت تو بہتر ھیں کیونکہ نور الدین نے ان پر جو احسان کیا وہ اسے ساری زندگی نہیں بھلا سکتے یعنی نور الدین نے انہیں بتایا کہ وہ عون بن یعلی کی اولاد میں سے ھیں لہذا وہ سادہ لوح عوام کبھی احسان کو نہیں بھلاتے اور اسکی قبر پہ جا کر اسکے لئے استغفار و فاتحہ پڑھتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ھیں بار الہا ! اس سے جو کوتاھی ہوئی اس سے در گذر فرما اور اسکے درجات میں مزید اضافہ فرما ۔ افسوس اور صد افسوس تو ان احسان فراموشوں پر ھے کہ جو مطالب تو نور الدین کی کتاب سے نقل کرکے اسے فارسی میں ترجمہ کرتے ھیں لیکن اس بیچارے کا نام بھی نہیں لکھتے ھیں پھر اسی ظلم پہ اکتفا نہیں کرتے ھیں بلکہ بعض تو اسی ویبلاگ پہ بڑے فخر سے لکھتے ھیں کہ علی ربانی نے اپنی کتاب “چہرہ درخشان۔۔۔۔” میں زاد الاعوان اور باب جیسی کتابوں کا نام تک نہیں لیا ۔
    تیسرا مسئلہ
    وزیر صاحب نے ھمین کہا :آپ (یعنی زہیر )نے اچھوتے ، جھوٹ کے بل بوتے انداز میں لکھا: کہ نسب الاعوان یا برادری کےشجرہ نامے اس وقت موجود نہیں تھے تو پھر نسب الاعوان اور شجرہ ناموں کا ذکر کتاب باب الاعوان میں کیسے آ گیا ہے؟

    تیسرے مسئلے کا جواب
    وزیر صاحب کی نسبت ھماری اصلی مشکل :
    ھمیں وزیر صاحب سے ھمکلام ہوئے عرصہ ھو گیا ھم پہلے ھی دن سے ایک اساسی مشکل کا شکار ھیں وہ یہ کہ ھمیں ان کی باتوں کا صرف جواب ھی نہیں دینا ھوتا بلکہ جواب دینے سے پہلے انھیں سمجھانا ھوتا ھے کہ انھوں نے کیا لکھا ھے پھر اس کے بعد جواب دینے کی باری آتی ہے اور یہ مشکل صرف وزیر صاحب سے نہیں بلکہ وہ علی علوی بھی کی نسبت ھمیں دو دو کام کرنے پڑتے ھیں پہلے انھیں سمجھاتے ھیں آپ نے جو لکھا ھے اس کا یہ مطلب ھے اور پھر جواب دیتے ھیں ۔ اب یہیں اس میسج میں ھی دیکھ لیجئے
    ھم نے لکھا تھا کہ نور الدین نے اپنی پہلی تالیف “زاد الاعوان” کی تالیف میں کہیں یہ نہیں کہا کہ اسکے پاس حسام الدین کی نسب الاعوان موجود ھے اور نہ ھی اس نے یہ کہا ھے کہ میرے پاس اس علاقے کے اعوانوں کے شجرے موجود ھیں بلکہ اس نے اس بات کے برعکس اپنی کتاب زاد الاعوان کی تالیف کے سبب میں کہا ھے : “ایک روز لوگوں نے مجھ سے تذکرۂ نسب نامہ اور تواریخ اعوان کا استفسار کیا اور عوام نے خواہش ظاہر کی کہ میں کتابوں سے اعوانوں کا نسب نامہ نکال کر اردو میں علیحدہ مستقل ایک کتاب میں لکھوں”اور اسی طرح نور الدین نے زاد الاعوان کتاب کی تالیف میں جن کتابوں یا ماخذوں کو ذکر کیا اس کی فھرست میں بھی اس علاقے کے شجرے نامے کے موجود ھونے کا تذکرہ نہیں اور نہ نسب الاعوان کو ذکر کیا ۔
    وزیر صاحب کی فھم و فراست کو داد تحسین دیجئے کہ ھم نے نور الدین سے یہ باتیں نقل کی ھیں اور وزیر صاحب ھمیں کہتے ھیں کہ زھیر نے جھوٹ لکھا ھے ۔
    چوتھا مسئلہ
    کہ باب الاعوان میں برادی کے شجرے کیسے آگئے ۔۔۔۔۔۔
    چوتھے کا جواب
    آپ ہی پہلے دن سے یہ کہہ رھے کہ نور الدین ایک دیندار، امام جمعہ، متدین شخص تھا، اس کے بارے میں وہاں کے لوگوں نے کوئی غیر اخلاقی بات نقل نہیں کی اور اسے کیا پڑی ھے جھوٹ بولنے کی وغیرہ وغیرہ یعنی آپ کی نگاہ میں یہ ساری صفات اس میں پائی جاتی ہیں ۔ اب جو آپ کے بقول امام جمعہ ،دیندار ،متدین اور جھوٹ نہ بولنے والا 1315 ھجری قمری میں زاد الاعوان میں یہ کہے کہ 1315ھجری قمری میں اس علاقے کے لوگوں کے پاس مرتب شجرے موجود نہیں تھے لہذا وہ نور الدین زاد الاعوان لکھ دے اور اس میں شجرے ہی لکھے اور اب دوبارہ ٹھیک چوتھے سال وہی امام جمعہ ،دیندار، متدین یہ کہے کہ اب میرے پاس اس علاقے کے 100(سو) قلمی شجرے ہیں یا 50 (پچاس)عدد شجرے ھیں۔ آپ کو اس سے کیا سمجھ آتا ھے اگر سمجھ آجائے تو ٹھیک ورنہ کسی اور سے پوچھ لیجئے گا ۔
    (یہاں یہ کہنا صحیح ھے : لوگ دوسروں کو پھنسانے کیلئے حیلے کرتے ھیں لیکن اسی حیلے میں خود پھنس جاتے
    وزیر صاحب کا 18 ستمبر کا پیغام حقیقت میں ھمارے 25 ستمبر کے پیغام کا جواب ھے تاریخون کے آگے پیچھے ہونے کی وجہ یہ ھے کہ 25 ستمبر کا پیغام انہیں 18 ستمبر سے پہلے میل کیا تھا وہ انہیں مل گیا لیکن جب ھم اس پیغام کو ویبلاگ پہ ایڈ کرنے لگے تو نیٹ پرابلم کی وجہ سے ایڈ نہیں ۔ لہذا وزیر صاحب نے ہماری میل پڑھ کر 18 کو اس کا جواب دینے کی کوشش کی ھے ۔ ھمارا پیغام 25 ستمبرکو ویبلاگ پہ ایڈ ہوا ھے ۔اب ھم اسی 18 ستمبر 2013 کے پیغام کے جواب کی طرف آتے ھیں ۔
    Zohair92110
    وزیر صاحب !
    آپ نے ھمارے مذھب پہ اس طرح تنقید کی ھے کہ سنی مذھب کے علماء جھوٹ بولتے ھیں اور ھم سے سوال کیا ھے کہ کیا ھمارے مذھب میں جھوٹ بولنا جائز ھے ۔
    جوابا عرض ھے کہ اولا
    محترم جھوٹ جھوٹ ھی ہوتا ھے چاھے وہ اھل سنت بولے یا شیعہ بولے یا وہ بولنے یا لکھنے والے وزیر حسین یا سید علی علوی ھی کیوں نہ ھوں اور وہ حق کے سامنے سر کو تسلیم کرنے کی بجائے یہ جھوٹ بولیں:
    (1) بہت سے علمائے انساب نے کتاب “خلاصة الانساب” کے حوالے سے بھی پاک و ہند میں حضرت عباس علمدار× کی اولاد کا ہونا ذکر کیا ہے۔
    (2) “میزان ہاشمی” کے مصنف ملا سیدمحمد ہاشم علوی متوفی ١٢٨١ء کو بھی علمی حلقوں میں ایک معتبر نسب شناس تسلیم کیا ہے ۔
    (3)بہت سے علمائے انساب نے خلاصہ الانساب کو معتبر کہا ھے ۔
    (4)
    ھادی منش کہتا ھے کہ عون بن یعلی کی نسل پاکستان میں موجود ھے ۔
    (5)
    محبت حسین کو تو خط میں لکھے کہ میری(چہرہ درخشان کی جلد 5 چھپنے کے بعد) علی ربانی سے ملاقات ہوئی اور ربانی صاحب نے یہ ۔کہا ھے آئندہ ایڈیشن میں فلان چیز نکال دی جائے گی ۔ لیکن ھمیں (زہیر کو) لکھے کہ میری تو چہرہ درخشان کی پانچویں جلد چھپنے کے بعد علی ربانی سے ملاقات ھی نہیں ھوئی ھے ۔
    ھمارا خیال ھے کہ جھوٹ کے حوالے سے اتنا ھی کافی ھے ۔ میرا خیال ھے کہ آگر آپ تھوڑی عقل سے کام لیں تو آئیندہ جھوٹ سچ کی بات نہیں لکھیں گے کیونکہ آپ ھی کیلئے مشکل ہو گا جو بھی اس ویبلاگ کو پڑھے گا وہ تو نور الدین وغیرہ کو تو جانتا نھیں اور انہیں اس جھان سے گئے سالھا سال بیت گئے ھیں لیکن آپ کو تو زندہ و سلامت جھوٹ بولتے لکھتے ہوئے دیکھ کر آپ کے احترام کا مزید قائل ھو گا ۔ فتدبر جیدا ان کنتم تشعرون ۔
    دوسرا مسئلہ:
    جس کی جانب جناب نے اشارہ فرمایا کہ نور الدین وغیرہ پاکستان میں لوگوں کے پیر طریقت ھیں اور لوگ نذرو نیاز دیتے ھیں
    دوسرے مسئلے کا جواب :

    جو لوگ نور الدین کی قبر کا احترام کرتے وہ آپ کی نسبت تو بہتر ھیں کیونکہ نور الدین نے ان پر جو احسان کیا وہ اسے ساری زندگی نہیں بھلا سکتے یعنی نور الدین نے انہیں بتایا کہ وہ عون بن یعلی کی اولاد میں سے ھیں لہذا وہ سادہ لوح عوام کبھی احسان کو نہیں بھلاتے اور اسکی قبر پہ جا کر اسکے لئے استغفار و فاتحہ پڑھتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ھیں بار الہا ! اس سے جو کوتاھی ہوئی اس سے در گذر فرما اور اسکے درجات میں مزید اضافہ فرما ۔ افسوس اور صد افسوس تو ان احسان فراموشوں پر ھے کہ جو مطالب تو نور الدین کی کتاب سے نقل کرکے اسے فارسی میں ترجمہ کرتے ھیں لیکن اس بیچارے کا نام بھی نہیں لکھتے ھیں پھر اسی ظلم پہ اکتفا نہیں کرتے ھیں بلکہ بعض تو اسی ویبلاگ پہ بڑے فخر سے لکھتے ھیں کہ علی ربانی نے اپنی کتاب “چہرہ درخشان۔۔۔۔” میں زاد الاعوان اور باب جیسی کتابوں کا نام تک نہیں لیا ۔
    تیسرا مسئلہ
    وزیر صاحب نے ھمین کہا :آپ (یعنی زہیر )نے اچھوتے ، جھوٹ کے بل بوتے انداز میں لکھا: کہ نسب الاعوان یا برادری کےشجرہ نامے اس وقت موجود نہیں تھے تو پھر نسب الاعوان اور شجرہ ناموں کا ذکر کتاب باب الاعوان میں کیسے آ گیا ہے؟

    تیسرے مسئلے کا جواب
    وزیر صاحب کی نسبت ھماری اصلی مشکل :
    ھمیں وزیر صاحب سے ھمکلام ہوئے عرصہ ھو گیا ھم پہلے ھی دن سے ایک اساسی مشکل کا شکار ھیں وہ یہ کہ ھمیں ان کی باتوں کا صرف جواب ھی نہیں دینا ھوتا بلکہ جواب دینے سے پہلے انھیں سمجھانا ھوتا ھے کہ انھوں نے کیا لکھا ھے پھر اس کے بعد جواب دینے کی باری آتی ہے اور یہ مشکل صرف وزیر صاحب سے نہیں بلکہ وہ علی علوی بھی کی نسبت ھمیں دو دو کام کرنے پڑتے ھیں پہلے انھیں سمجھاتے ھیں آپ نے جو لکھا ھے اس کا یہ مطلب ھے اور پھر جواب دیتے ھیں ۔ اب یہیں اس میسج میں ھی دیکھ لیجئے
    ھم نے لکھا تھا کہ نور الدین نے اپنی پہلی تالیف “زاد الاعوان” کی تالیف میں کہیں یہ نہیں کہا کہ اسکے پاس حسام الدین کی نسب الاعوان موجود ھے اور نہ ھی اس نے یہ کہا ھے کہ میرے پاس اس علاقے کے اعوانوں کے شجرے موجود ھیں بلکہ اس نے اس بات کے برعکس اپنی کتاب زاد الاعوان کی تالیف کے سبب میں کہا ھے : “ایک روز لوگوں نے مجھ سے تذکرۂ نسب نامہ اور تواریخ اعوان کا استفسار کیا اور عوام نے خواہش ظاہر کی کہ میں کتابوں سے اعوانوں کا نسب نامہ نکال کر اردو میں علیحدہ مستقل ایک کتاب میں لکھوں”اور اسی طرح نور الدین نے زاد الاعوان کتاب کی تالیف میں جن کتابوں یا ماخذوں کو ذکر کیا اس کی فھرست میں بھی اس علاقے کے شجرے نامے کے موجود ھونے کا تذکرہ نہیں اور نہ نسب الاعوان کو ذکر کیا ۔
    وزیر صاحب کی فھم و فراست کو داد تحسین دیجئے کہ ھم نے نور الدین سے یہ باتیں نقل کی ھیں اور وزیر صاحب ھمیں کہتے ھیں کہ زھیر نے جھوٹ لکھا ھے ۔
    چوتھا مسئلہ
    کہ باب الاعوان میں برادی کے شجرے کیسے آگئے ۔۔۔۔۔۔
    چوتھے کا جواب
    آپ ہی پہلے دن سے یہ کہہ رھے کہ نور الدین ایک دیندار، امام جمعہ، متدین شخص تھا، اس کے بارے میں وہاں کے لوگوں نے کوئی غیر اخلاقی بات نقل نہیں کی اور اسے کیا پڑی ھے جھوٹ بولنے کی وغیرہ وغیرہ یعنی آپ کی نگاہ میں یہ ساری صفات اس میں پائی جاتی ہیں ۔ اب جو آپ کے بقول امام جمعہ ،دیندار ،متدین اور جھوٹ نہ بولنے والا 1315 ھجری قمری میں زاد الاعوان میں یہ کہے کہ 1315ھجری قمری میں اس علاقے کے لوگوں کے پاس مرتب شجرے موجود نہیں تھے لہذا وہ نور الدین زاد الاعوان لکھ دے اور اس میں شجرے ہی لکھے اور اب دوبارہ ٹھیک چوتھے سال وہی امام جمعہ ،دیندار، متدین یہ کہے کہ اب میرے پاس اس علاقے کے 100(سو) قلمی شجرے ہیں یا 50 (پچاس)عدد شجرے ھیں۔ آپ کو اس سے کیا سمجھ آتا ھے اگر سمجھ آجائے تو ٹھیک ورنہ کسی اور سے پوچھ لیجئے گا ۔
    (یہاں یہ کہنا صحیح ھے : لوگ دوسروں کو پھنسانے کیلئے حیلے کرتے ھیں لیکن اسی حیلے میں خود پھنس جاتے
    وزیر صاحب کا 18 ستمبر کا پیغام حقیقت میں ھمارے 25 ستمبر کے پیغام کا جواب ھے تاریخون کے آگے پیچھے ہونے کی وجہ یہ ھے کہ 25 ستمبر کا پیغام انہیں 18 ستمبر سے پہلے میل کیا تھا وہ انہیں مل گیا لیکن جب ھم اس پیغام کو ویبلاگ پہ ایڈ کرنے لگے تو نیٹ پرابلم کی وجہ سے ایڈ نہیں ۔ لہذا وزیر صاحب نے ہماری میل پڑھ کر 18 کو اس کا جواب دینے کی کوشش کی ھے ۔ ھمارا پیغام 25 ستمبرکو ویبلاگ پہ ایڈ ہوا ھے ۔اب ھم اسی 18 ستمبر 2013 کے پیغام کے جواب کی طرف آتے ھیں ۔
    Zohair92110
    وزیر صاحب !
    آپ نے ھمارے مذھب پہ اس طرح تنقید کی ھے کہ سنی مذھب کے علماء جھوٹ بولتے ھیں اور ھم سے سوال کیا ھے کہ کیا ھمارے مذھب میں جھوٹ بولنا جائز ھے ۔
    جوابا عرض ھے کہ اولا
    محترم جھوٹ جھوٹ ھی ہوتا ھے چاھے وہ اھل سنت بولے یا شیعہ بولے یا وہ بولنے یا لکھنے والے وزیر حسین یا سید علی علوی ھی کیوں نہ ھوں اور وہ حق کے سامنے سر کو تسلیم کرنے کی بجائے یہ جھوٹ بولیں:
    (1) بہت سے علمائے انساب نے کتاب “خلاصة الانساب” کے حوالے سے بھی پاک و ہند میں حضرت عباس علمدار× کی اولاد کا ہونا ذکر کیا ہے۔
    (2) “میزان ہاشمی” کے مصنف ملا سیدمحمد ہاشم علوی متوفی ١٢٨١ء کو بھی علمی حلقوں میں ایک معتبر نسب شناس تسلیم کیا ہے ۔
    (3)بہت سے علمائے انساب نے خلاصہ الانساب کو معتبر کہا ھے ۔
    (4)
    ھادی منش کہتا ھے کہ عون بن یعلی کی نسل پاکستان میں موجود ھے ۔
    (5)
    محبت حسین کو تو خط میں لکھے کہ میری(چہرہ درخشان کی جلد 5 چھپنے کے بعد) علی ربانی سے ملاقات ہوئی اور ربانی صاحب نے یہ ۔کہا ھے آئندہ ایڈیشن میں فلان چیز نکال دی جائے گی ۔ لیکن ھمیں (زہیر کو) لکھے کہ میری تو چہرہ درخشان کی پانچویں جلد چھپنے کے بعد علی ربانی سے ملاقات ھی نہیں ھوئی ھے ۔
    ھمارا خیال ھے کہ جھوٹ کے حوالے سے اتنا ھی کافی ھے ۔ میرا خیال ھے کہ آگر آپ تھوڑی عقل سے کام لیں تو آئیندہ جھوٹ سچ کی بات نہیں لکھیں گے کیونکہ آپ ھی کیلئے مشکل ہو گا جو بھی اس ویبلاگ کو پڑھے گا وہ تو نور الدین وغیرہ کو تو جانتا نھیں اور انہیں اس جھان سے گئے سالھا سال بیت گئے ھیں لیکن آپ کو تو زندہ و سلامت جھوٹ بولتے لکھتے ہوئے دیکھ کر آپ کے احترام کا مزید قائل ھو گا ۔ فتدبر جیدا ان کنتم تشعرون ۔
    دوسرا مسئلہ:
    جس کی جانب جناب نے اشارہ فرمایا کہ نور الدین وغیرہ پاکستان میں لوگوں کے پیر طریقت ھیں اور لوگ نذرو نیاز دیتے ھیں
    دوسرے مسئلے کا جواب :

    جو لوگ نور الدین کی قبر کا احترام کرتے وہ آپ کی نسبت تو بہتر ھیں کیونکہ نور الدین نے ان پر جو احسان کیا وہ اسے ساری زندگی نہیں بھلا سکتے یعنی نور الدین نے انہیں بتایا کہ وہ عون بن یعلی کی اولاد میں سے ھیں لہذا وہ سادہ لوح عوام کبھی احسان کو نہیں بھلاتے اور اسکی قبر پہ جا کر اسکے لئے استغفار و فاتحہ پڑھتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ھیں بار الہا ! اس سے جو کوتاھی ہوئی اس سے در گذر فرما اور اسکے درجات میں مزید اضافہ فرما ۔ افسوس اور صد افسوس تو ان احسان فراموشوں پر ھے کہ جو مطالب تو نور الدین کی کتاب سے نقل کرکے اسے فارسی میں ترجمہ کرتے ھیں لیکن اس بیچارے کا نام بھی نہیں لکھتے ھیں پھر اسی ظلم پہ اکتفا نہیں کرتے ھیں بلکہ بعض تو اسی ویبلاگ پہ بڑے فخر سے لکھتے ھیں کہ علی ربانی نے اپنی کتاب “چہرہ درخشان۔۔۔۔” میں زاد الاعوان اور باب جیسی کتابوں کا نام تک نہیں لیا ۔
    تیسرا مسئلہ
    وزیر صاحب نے ھمین کہا :آپ (یعنی زہیر )نے اچھوتے ، جھوٹ کے بل بوتے انداز میں لکھا: کہ نسب الاعوان یا برادری کےشجرہ نامے اس وقت موجود نہیں تھے تو پھر نسب الاعوان اور شجرہ ناموں کا ذکر کتاب باب الاعوان میں کیسے آ گیا ہے؟

    تیسرے مسئلے کا جواب
    وزیر صاحب کی نسبت ھماری اصلی مشکل :
    ھمیں وزیر صاحب سے ھمکلام ہوئے عرصہ ھو گیا ھم پہلے ھی دن سے ایک اساسی مشکل کا شکار ھیں وہ یہ کہ ھمیں ان کی باتوں کا صرف جواب ھی نہیں دینا ھوتا بلکہ جواب دینے سے پہلے انھیں سمجھانا ھوتا ھے کہ انھوں نے کیا لکھا ھے پھر اس کے بعد جواب دینے کی باری آتی ہے اور یہ مشکل صرف وزیر صاحب سے نہیں بلکہ وہ علی علوی بھی کی نسبت ھمیں دو دو کام کرنے پڑتے ھیں پہلے انھیں سمجھاتے ھیں آپ نے جو لکھا ھے اس کا یہ مطلب ھے اور پھر جواب دیتے ھیں ۔ اب یہیں اس میسج میں ھی دیکھ لیجئے
    ھم نے لکھا تھا کہ نور الدین نے اپنی پہلی تالیف “زاد الاعوان” کی تالیف میں کہیں یہ نہیں کہا کہ اسکے پاس حسام الدین کی نسب الاعوان موجود ھے اور نہ ھی اس نے یہ کہا ھے کہ میرے پاس اس علاقے کے اعوانوں کے شجرے موجود ھیں بلکہ اس نے اس بات کے برعکس اپنی کتاب زاد الاعوان کی تالیف کے سبب میں کہا ھے : “ایک روز لوگوں نے مجھ سے تذکرۂ نسب نامہ اور تواریخ اعوان کا استفسار کیا اور عوام نے خواہش ظاہر کی کہ میں کتابوں سے اعوانوں کا نسب نامہ نکال کر اردو میں علیحدہ مستقل ایک کتاب میں لکھوں”اور اسی طرح نور الدین نے زاد الاعوان کتاب کی تالیف میں جن کتابوں یا ماخذوں کو ذکر کیا اس کی فھرست میں بھی اس علاقے کے شجرے نامے کے موجود ھونے کا تذکرہ نہیں اور نہ نسب الاعوان کو ذکر کیا ۔
    وزیر صاحب کی فھم و فراست کو داد تحسین دیجئے کہ ھم نے نور الدین سے یہ باتیں نقل کی ھیں اور وزیر صاحب ھمیں کہتے ھیں کہ زھیر نے جھوٹ لکھا ھے ۔
    چوتھا مسئلہ
    کہ باب الاعوان میں برادی کے شجرے کیسے آگئے ۔۔۔۔۔۔
    چوتھے کا جواب
    آپ ہی پہلے دن سے یہ کہہ رھے کہ نور الدین ایک دیندار، امام جمعہ، متدین شخص تھا، اس کے بارے میں وہاں کے لوگوں نے کوئی غیر اخلاقی بات نقل نہیں کی اور اسے کیا پڑی ھے جھوٹ بولنے کی وغیرہ وغیرہ یعنی آپ کی نگاہ میں یہ ساری صفات اس میں پائی جاتی ہیں ۔ اب جو آپ کے بقول امام جمعہ ،دیندار ،متدین اور جھوٹ نہ بولنے والا 1315 ھجری قمری میں زاد الاعوان میں یہ کہے کہ 1315ھجری قمری میں اس علاقے کے لوگوں کے پاس مرتب شجرے موجود نہیں تھے لہذا وہ نور الدین زاد الاعوان لکھ دے اور اس میں شجرے ہی لکھے اور اب دوبارہ ٹھیک چوتھے سال وہی امام جمعہ ،دیندار، متدین یہ کہے کہ اب میرے پاس اس علاقے کے 100(سو) قلمی شجرے ہیں یا 50 (پچاس)عدد شجرے ھیں۔ آپ کو اس سے کیا سمجھ آتا ھے اگر سمجھ آجائے تو ٹھیک ورنہ کسی اور سے پوچھ لیجئے گا ۔
    (یہاں یہ کہنا صحیح ھے : لوگ دوسروں کو پھنسانے کیلئے حیلے کرتے ھیں لیکن اسی حیلے میں خود پھنس جاتے

  26. zohair92110 says:

    سلام
    سوری میسیج ایکسے زیادہ مرتبہ ایڈ ہو گیا ۔

  27. zohair92110 says:

    slam :
    اسے غور سے پڑھیں ۔
    وزیر صاحب آپ کے 16 اگست کے میسج کے کچھ حصے کا جواب عرض کرنے کیلئے حاضر ہیں ۔ آپ نے اپنے میسج میں یہ لکھا :
    البتہ تقریبا ً صدی پہلے کی بات ہے کہ وادی سون ، قصبہ کفری کے امام جمعہ و جماعت مولوی نور الدین
    مرحوم نے مولوی حسام الدین کی تالیف نسب الاعوان اور وہاں کے علوی سادات کے شجرہ ناموں کے پیش نظر ” کتاب زاد الاعون اور باب الاعوان”، مولوی سید شریف احمد شرافت نوشاہی نے “تاریخ عباسی” ، ایک بزرگوار نے ” انوار الاعوان” اور… وغیرہ لکھ دیں۔
    Zohair92110
    محترم وزیر صاحب آپ نے حسب سابق یہاں بھی وہی کچھ کیا جو اس سے پہلے کرتے آئیں ہیں یعنی اشتباہ اور اگر برا نہ منائیں تو کہا جا سکتا ہے کہ حقیقت کے خلاف بیان کیا ھے ۔ محترم آپ صرف جملے لکھنا جانتے ہیں اور ان کے مفہوم اور معنی کو سمجھتے نہیں ہیں یا سمجھتے تو ہیں لیکن دنیا کو حقیقت بتانا نہیں چاہتے ہیں ۔بہرحال آپ نے جو جملے (البتہ صدی پہلے …..وغیرہ لکھ دیں ) لکھے ہیں ان کا مطلب یہ ہے :
    (1)
    ایک صدی پہلے نور الدین نے جب زاد الاعوان اور باب الاعوان کتابیں لکھیں تو ان کتابوں سے پہلے حسام الدین نے نسب الاعوان لکھی ہوئی تھی اور نور الدین نے علوی سادات کے شجرے ناموں کو دیکھتے ہوئے اپنی دونوں کتابیں لکھیں ۔مولوی نورالدین نے ….سے لے کرباب الاعوان تک کا تو یقینی مطلب یہی ہے
    (2)
    سید شریف احمد شرافت نوشاہی نے “تاریخ عباسی” ، ایک بزرگوار نے ” انوار الاعوان” اور… وغیرہ لکھ دیں۔ ان جملوں سے بھی ظاہری معنی یہی سمجھا جاتا ہے ۔
    آپ کے جملوں کا خلاصہ یہ ھے کہ نورالدین کی کتابوں سے پہلے نسب الاعوان، تاریخ عباسی، انوار الاعوان اور دیگر کتابیں لکھی جا چکی تھیں ۔
    نورالدین کی کتابوں سے پہلے ان مذکورہ کتابوں کا موجود ہونا یا لکھا جانا کسی طور بھی صحیح نہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے وزیر صاحب یہاں مطلب بیان کرتے ہوئے یا تو مطلب کو درست بیان نہیں کر پائے یا بیان نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن ھم یہاں اسے بیان کرتے ہیں ۔ دیکھئے کہیں بھی آپ کو کتابوں کے تقدم اور تاخر کو جاننا ہوتو آپ وہاں اس کتاب کی تاریخ طباعت یا تاریخ کتابت کے ذریعے جان سکتے ہیں کہ کونسی کتاب پہلے چھپی یا لکھی گئی ہے ۔ اب یہاں ان کتابوں کی تاریخ طباعت کو ملاحظہ کیجئے :
    زاد الاعوان اور اسکی تاریخ تالیف :
    زاد الاعوان کے مصنف “مولوی نور الدین سلیمانی” نے اپنی اس کتاب کی تاریخ تالیف باب الاعوان اور زاد الاعوان کے ابتدائی صفحوں میں “تیرہ سو پندرہ ھجری(1315)” لکھی ہے جواس فرض کے مطابق کہ 1315 کے بارھویں مہینے کی اگر آخری تاریخ ہو تو عیسوی تاریخ کے مطابق اکیس یا بائیس(21 یا 22) مئی اٹھارہ سو اٹھانوے عیسوی (1898) بنتی ہے ۔ نیز مصنف نے کہا ہے کہ اس کتاب کی تالیف کے وقت اسکی عمر پچیس (25) سال تھی ۔
    باب الاعوان اور اسکی تاریخ تالیف:
    اس کتاب کے مصنف نور الدین نے اس کی تاریخ تالیف کے متعلق یوں کہا ہے کہ باب الاعوان دقیق چوتھے (4) سال تیرہ سو انیس ھجری (یعنی اگر ھجری سال کا باھواں مہینہ فرض کیا جائے توعیسوی سال کے انیس سو دو(1902) کے چوتھے مہینے ) میں لکھی گئی ہے ۔ اسکا دوسرا ایڈیشن انیس سو تئیس (1923ء) سن عیسوی میں چھپا ہے ۔ یہاں یہ یاد رہے کہ مولوی حیدر علی کی تاریخ علوی زاد الاعوان اور باب الاعوان سے پہلے چھپ چکی تھی جس میں قطب شاہی اعوانوں کو حضرت محمد حنفیہ کی اولاد قراردیا گیا تھا۔ یہ کتاب حکیم غلام نبی نے مفت تقسیم کروائی تھی ۔ پھر بعد میں اسی طرح زاد الاعوان اور باب الاعوان بھی اسی حکیم صاحب نے چھپوا کر مفت تقسیم کروائی تھیں نیز قابل غور بات یہ ھے کہ بعد میں باب الاعوان کتاب کو اس کے بیٹے نے دوبارہ1923 میں چھپوایا ۔ سب سے زیادہ مھم یہ بات ھے کہ ہماری معلومات کے مطابق کتابوں کی دنیا میں ان دو “زاد الاعوان اور باب الاعوان” کتابوں میں ھی سب سے پہلے “اعوان قطب شاہی” کو مجہول الحال کتابوں کے ذکر کے ذریعے حضرت عباس کی اولاد کہا گیا ہے ۔
    سید شریف احمد شرافت نوشاہی کی “تاریخ عباسی” اور اسکی تاریخ تالیف :
    اس مصنف کی تاریخ پیدائش سے ھی مسئلہ ہو جائے گا کیونہ یہ مصنف پاکستان کے شہر گجرات میں اٹھائیس ستمبر، انیس سو سات(28/09/1907) کو پیدا ہوئے ۔ اب ظاہر ھے کہ انہوں اپنی تالیفات اپنے پیدا ہونے کے دس پندرہ سال بعد ھی ہی لکھی ہو نگی ۔ادھر زاد الاعوان تو تیرہ سو پندرہ ھجری یعنی اٹھارہ سو اٹھانوے عیسوی میں اور “باب الاعوان” کا پہلا ایڈیشن انیس سو دو یا تین (1902ء یا 1903ء) میں اور دوسرا ایڈیشن انیس سو تئیس (1923ء) میں چھپ کر مفت تقسیم ہو چکا تھا۔ پس ثابت ہوا کہ شریف نوشاھی کی کتاب تاریخ عباسی باب الاعوان کے کئی سال بعد چھپے گی ۔ ھمارے پاس تاریخ عباسی نہیں ہے اس لئے تاریخ پیدائش مصنف سے ہی حل کیا ھے البتہ علی علوی اور وزیر حسین صاحب کو اسکی تاریخ طباعت کا علم ھے اب پتہ نہیں وہ اسے لکھنا گوارا کریں گے یا نہیں ۔
    انوار الاعوان اور اسکی تالیف کی تاریخ :
    یہ کتاب پاکستان کے شہر جہلم کے مولوی محمد نور عالم(بشیر) نے لکھی ہے ۔اسکی تاریخ طباعت کے سامنے ” 1323ھ(تیرہ سو تئیس ھجری) یا1353ھ (تیرہ سو ترپن ھجری) لکھا ہے اور ساتھ لکھا ھے “مطابق 1934 ء” (انیس سو چونتیس عیسوی) لکھا ھے۔

    اگریہ کہا جائے کہ طباعت کی تاریخ “1323 ھ” ھے تو بھی وہ “1905″(انیس سو پانچ عیسوی) بنتا ہے اور اگر” 1353 ھ” ھو تو 1934 ء بنتا ھے جو اس کتاب پر درج تاریخ طباعت کے عین مطابق ھے ۔اسکے علاوہ مصنف نے خود اس کتاب میں زاد الاعوان اور باب الاعوان کے حوالے ذکر کئے ھیں جو اس کے بیان گر ھیں یہ ان دو کتابوں کے بعد لکھی گئی ھے ۔
    نسب الاعوان اور اسکی تاریخ تالیف:
    اس کتاب کے مصنف کا نام جیسا کہ وزیر صاحب نے بتایا کہ “حسام الدین” ھے ۔ اس نے نسب الاعوان نامی کتاب لکھی ھے ۔ لیکن نہایت معذرت کے ساتھ ھمیں نہ تو اسکی تاریخ پیدائش کا پتہ ھے اور نہ ھی اس کتاب کی تاریخ تالیف کا پتہ ھے لیکن چند قرائن سے یہی ظاھر ھوتا ھے کہ یہ بھی زاد الاعوان اور باب الاعوان کے بعد ہی کی ھو گی ۔ کیونکہ
    (1)
    ابھی تک ھماری معلومات کے مطابق پاکستان میں حضرت ابو الفضل کی اولاد کے پہلے ماخذ کے طور پر ابھی تک کسی نے اس کتاب کا نام نھیں لیا ۔اور اسکی تائید خود وزیر صاحب کی تمام تحریریں کرتی ھیں یعنی ابھی تک وزیر صاحب نے بھی اس کتاب کو اسے پہلے کتاب کے ماخذ کے طور پر دلیل نہیں بنایا ھے ۔
    (2)
    پاکستان میں اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں بھی اسے اس عنوان سے ذکر نھیں کیا گیا بلکہ اب تک نور الدین کی کتاب زاد الاعوان کو ھی ذکر کیا جاتا ھے ۔
    (3)
    حکیم غلام نبی صاحب کا حیدر علی کی تاریخ علوی اور نور الدین کی زاد الاعوان اور باب الاعوان کو چھپوا کر مفت تقسیم کرنا بھی اسے ھی بیان کرتا ھے کہ یہ پہلے موجود نہ تھی اگر حسام الدین کی نسب الاعوان نورالدین کی کتابوں سے پہلے موجود ھوتی تو حکیم صاحب “نسب الاعوان” کو ترجیح دیتے اور اسے مفت تقسیم کرواتے ۔
    (4)
    اگر اس فرض بعید کو مان بھی لیا جائے کہ یہ کتاب نور الدین کی کتابوں سے پہلے موجود تھی تو مسئلہ اور بدتر ہو جاتا ھے کہ کتاب کے ھوتے ھوئے اس پر کسی کا یا حکیم غلام نبی کا توجہ نہ کرنا اس کتاب کے ضعف یا اسکے مصنف کے ضعف کو بیان کرتا ھے مگر یہ کہ کہا جائے کہ کتاب پہلے تھی مگر انہیں معلوم نہیں تھا اس لئے یہ تمام مفروضے غلط ھیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
    یہا نتک یہ بیان ہوا کہ نور الدین کی کتابوں سے پہلے وزیر صاحب کی ذکر کردہ کتابوں میں سے پہلے کوئی کتاب موجود نہ تھی بلکہ ان تمام کتابوں سے پہلے نور الدین کی کتابیں موجود تھیں ۔
    وزیر صاحب کا قول :
    نور الدین نے حسام الدین کی نسب الاعوان اور اس علاقے میں پہلے سے موجود نسب ناموں کودیکھتے ہوئے اپنی کتابیں تصنیف کیں۔
    زہیر کا جواب :
    یہ بات بھی کاملا غلط ھیں۔ پہلی بات تو یہ ھے کہ نور الدین نے اپنی زاد الاعوان کے سبب تالیف میں نہ تو یہ کہا ھے کہ حسام الدین کی نسب الاعوان کی وجہ سے میں زاد الاعوان کو تصنیف کر رہا ہوں اور نہ ہی یہ کہا ھے کہ میرے پاس اس علاقے کے نسب نامے موجود ہیں اور میں ان کی وجہ سے زاد الاعوان لکھ رہا ھوں ۔ ھم وزیر صاحب اور لوگوں کی تشفی خاطر کیلئے زاد الاعوان کا سبب تالیف لکھتے ہیں ۔
    زاد الاعوان کی تالیف کا سبب:
    نور الدین نے زاد الاعوان کی تالیف کا سبب یوں صفحہ 2 پر یوں بیان کیا ھے : “ایک روز لوگوں نے مجھ سے تذکرۂ نسب نامہ اور تواریخ اعوان کا استفسار کیا اور عوام نے خواہش ظاہر کی کہ میں کتابوں سے اعوانوں کا نسب نامہ نکال کر اردو میں علیحدہ مستقل ایک کتاب میں لکھوں لیکن میں نے کوئی توجہ نہ کی اور اسکے پہلے محرک ملک اللہ یار وغیرہ ھوئے ۔ پھر حکیم غلام نبی اعوان نے اسرار کیا تو یہ کتاب لکھی” ۔ اس وجہ تالیف سے تو یہ پتہ چلتا ھے کہ اس وقت تک وھاں کے اعوانوں کے پاس کوئی مرتب نسب نامہ موجود نہیں تھا ۔ لیکن وزیر صاحب کا اس ویبلاگ پر بیان دیکھئے انہوں نے کہا ھے کہ نور الدین نے “حسام الدین کی نسب الاعوان اور موجود نسب ناموں” کی وجہ سے کتابیں لکھی ھیں ۔
    دوسری بات
    نور الدین کے بقول اسنے جن کتابوں کی مدد سے زاد الاعوان کو لکھا انکی فہرست خود ذکر کی ھے اس میں بھی علاقے کے نسب ناموں کا تذکرہ نہیں ھے اور نہ ھی حسام الدین کی نسب الاعوان کا تذکرہ ھے ۔
    باب الاعوان کی تالیف کا سبب:
    یہاں پہلے یہ بات یاد رکھئے کہ “باب الاعوان” زادالاعوان کے بعد چوتھے سال میں لکھی گئی ۔ اس کتاب کی تالیف کے سبب میں بھی نور الدین نے حسام الدین کی کتاب “نسب الاعوان” کا نام نہیں لیا بلکہ پہلے زاد الاعوان کی تالیف کا سبب وہ ہی پہلے والا(جسے ھم نقل کرچکے ہیں) بیان کیا اور پھر مزید کہا کہ حکیم غلام نبی صاحب نے کہا کہ جو باقی تاریخ اعوان بچ گئی اسے مرتب کرو ۔ میں نے اس کا نام تاریخ باب الاعوان رکھا ھے ۔ البتہ یہاں جن کتابوں کی مدد سے یہ کتاب مرتب ہوئی اس کی فہرست میں آخری ماخذ کے طور پر سو (100) قلمی نسب ناموں کا ذکر کیا ھے جبکہ کچھ سطروں بعد خود ھی لکھتے ہیں کہ “میرے پاس پچاس پورے (50) عدد قلمی شجرے موجود ھیں لیکن میں نے کتاب کی تالیف میں انہیں دوسرے درجے میں رکھا ھے اور پہلے درجے میں کتابوں کو ذکر کیا ھے”۔ یہ دونوں بیان بھی آپس میں متعارض ہیں ۔ ان نسب ناموں کا تذکرہ پہلی کتاب زاد الاعوان میں نہیں ھے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چار سال میں لوگوں نے انہیں اپنے نسب نامے دئے ۔ اس بات کا پتہ نہیں کہ پہلی کتاب چھپنے کے بعد اسی کتاب کی روشنی میں شجرے نامے مرتب ہوئے یا نہیں البتہ پہلی کتاب کی تالیف کے وقت مصنف نے خود یہ بیان کیا کہ علاقے کے لوگوں کے پاس نسب نامے مرتب نہیں تھے جیسا کہ اوپر ھم مصنف کی عبارت نقل کر آئے ھیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
    خلاصہ :
    ابھی تک یہ کا خلاصہ یہ ھوا کہ نور الدین نے اپنی دونوں کتابوں “زاد الاعوان اور باب الاعوان” میں حسام الدین کی کتاب نسب الاعوان تذکرہ نہیں کیا ھے ۔ اس سے پتہ چلا کہ وزیر حیسن صاحب کا یہ بیان کہ “نور الدین نے حسام الدین کی نسب الاعوان کے پیش نظر دونوں کتابیں لکھی یہ کاملا ٖغلط ھے اور اسی طرح وزیر صاحب کا یہ کہنا کہ نور الدین نے وہاں کے اعوانوں کے نسب ناموں کو دیکھتے ہوئے کتابیں مرتب کیں یہ بھی غلط ھے کیونکہ زاد الاعوان کے تالیف کے سبب میں نور الدین نے وہاں نسب ناموں کے مرتب نہ ہونے کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ھے جبکہ دوسری کتاب باب الاعوان کی تالیف کا سبب، اعوانوں کی باقی رہ گئی تاریخ کو مرتب کرنا تھا اگرچہ اس کتاب کی تالیف کے وقت وہاں کے اعوانوں کے شجرے موجود تھے ۔
    آج کیلئے اتنا ھی کافی سمجھتے ھیں ۔ وزیر صاحب کے 16 اگست 2013 کے میسج کے کچھ حصے کا یہ جواب ذکر کیا ھے ۔باقی حصے کا جواب بھی انشاء اللہ جلد ہی عرض کریں گے ۔ آخر میں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ آج جو کچھ لکھا گیا وہ وزیر صاحب کے لکھے ہوئے کے جواب میں لکھا ھے اور یہ ساری بحث کتابوں کی تاریخ طباعت کے متعلق ھے اور کسی کے نسب کی تائید یا تکذیب کرنا قطعا مقصود نہیں ہے ۔ اگر اس تحریر میں کسی مقام پر بندے (زہیر)نے غلط بیانی یا اشتباہ کیا ہو تو کسی تکلف کے بغیر اسکی نشاندہی کی جا سکتی ھے ۔ ہم نہایت ادب و احترام سے اسے قبول کریں گے اور آئندہ میسج میں اس پر قارئیں اور وزیر صاحب سے عذر خواہی سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ والسلام علیکم علی من اتبع الھدی و الحق ۔
    آخر میں اس بات کی توضیح کر دوں کہ دو تین پہلے ھم اس میسک کو ایڈ کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن یہ ایڈ نہیں ہوا ۔آج جب یہ میسج ایڈ کرنے لگے تو وزیر صاحب کی جانب سے ایک نیا پیغام آیا ہوا تھا ۔وہ کیا لکھا اس میں اپنی عقل کا جنازہ نکالا ھے ۔باقی پھر لکھیں گے ۔

  28. Alvi Nastaleeq Update – ??????????????

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>