مکمل بلاگ فیڈ
اکثر اردو بلاگ اپنے بلاگ کی فیڈ پر غور نہیں کرتے حالانکہ اب بلاگ فیڈ ایک انتہائی اہم چیز بنتی جا رہی ہے۔
فیڈ کا مقصد بلاگز اور ایسے ویب سائٹ جو کافی اپڈیٹ ہوتے رہتے ہیں ان کا مواد قارئین تک آسانی سے پہنچانا ہے۔ آجکل تمام بلاگ سافٹویر فیڈ جنریٹ کرتی ہیں۔ فیڈ پڑھنے کے لئے قارئین فیڈ ریڈر استعمال کرتے ہیں۔ بہت سارے فیڈ ریڈر مقبول ہیں جن میں سے کچھ آپ کے کمپیوٹر پر استعمال ہوتے ہیں اور کچھ آنلائن استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ میں گوگل ریڈر استعمال کرتا ہوں جس کے ذریعہ میں اپنے فون پر بھی اپنی سبسکرائبشدہ فیڈز پڑھ سکتا ہوں۔
فیڈ کے دو سٹینڈرڈ ہیں: ایٹم اور رسس۔ میرے خیال میں ایٹم بہتر ہے کہ وہ ایک باقاعدہ سٹینڈرڈ ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔ ایٹم کے لئے بھی ضروری ہے کہ آپ اس کی ورژن 1.0 جنریٹ کریں۔ بلاگ سافٹویر کی موجودہ ورژن یہی کرتی ہیں مگر اگر آپ ورڈپریس کی ورژن 2.2 سے پرانی ورژن استعمال کر رہے ہیں تو اس میں ایٹم 0.3 ہے جو ایک ڈرافٹ تھا اور اسے اب استعمال کرنا اچھا آئیڈیا نہیں۔ اس لئے یا تو آپ اپنی ورڈپریس کو اپگریڈ کر لیں یا یہ پلگان انسٹال کر لیں۔
جس طرح ویب صفحات کو ویلیڈیٹ کرنے کے لئے سروس موجود ہے اسی طرح آپ یہ بھی چیک کر سکتے ہیں کہ آپ کی فیڈ ویلڈ ہے یا نہیں۔ کوشش کریں کہ آپ کی فڈ ویلڈ رہے کیونکہ اس طرح یہ چانس زیادہ ہے کہ فیڈ ریڈر پر وہ صحیح نظر آئے گی۔
ایک اور بات جو میں نے نوٹ کی ہے وہ یہ کہ بہت سے اردو بلاگ اپنی فیڈ میں صرف اقتباس ہی شامل کرتے ہیں نہ کہ پوری پوسٹ۔ شاید ان کا خیال ہے کہ اس طرح قارئین صرف فیڈ ریڈر سے پوسٹس پڑھنے کی بجائے ان کے بلاگ پر بھی آئیں گے۔ لیکن یہ خیال کچھ صحیح نہیں۔ اس بارے میں یہ آرٹیکل ضرور پڑھیں۔ مختصر یہ کہ اگر آپ کے بلاگ کی فیڈ میں صرف اقتباس ہے تو آپ اپنے قاری کی زندگی مشکل بنا رہے ہیں کہ اسے اپنے فیڈ ریڈر میں کلک کرنا پڑے گا اور نیا صفحہ کھول کر پڑھنا پڑے گا۔ اس سے پڑھنے کا تسلسل بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ دوسرے باقاعدگی سے بلاگ پڑھنے والے صرف آپ کا بلاگ نہیں پڑھتے بلکہ بہت سے بلاگز پڑھتے ہیں اور فیڈ ریڈر اس کام کو کافی آسان بناتے ہیں مگر آپ اقتباسات کے ذریعہ اسے پھر سے مشکل بنا دیتے ہیں۔ جتنا آپ اپنے باقاعدگی سے پڑھنے والوں کے لئے آسانی پیدا کریں گے اتنا وہ آپ کو باقاعدگی سے پڑھیں گے اور آپ کی پوسٹس کو دوسروں تک پہنچائیں گے۔ یہ بات تو طے ہے کہ فیڈ ریڈر کے ذریعہ پڑھنے والے اقتباسات والی فیڈ کو ناپسند کرتے ہیں۔ میں کسی ایسے بلاگ کو سبسکرائب نہیں کرتا جس کی فیڈ مکمل نہ ہو۔
اردو سیارہ پر البتہ ہم بلاگز کے اقتباسات ہی پیش کرتے ہیں کہ اس سے سیارہ کے صفحے کا سائز بھی چھوٹا رہتا ہے اور قارئین اردو بلاگز کا ایک ٹیسٹ بھی لے لیتے ہیں۔ مگر سیارہ کو بھی مکمل پوسٹس والی فیڈ کا فائدہ ہے۔ وہ ایسے کہ سیارہ کے کوڈ میں اقتباس بنانے کا کوڈ موجود ہے جو ڈیفالٹ فیڈ والے ایک لائن کے اقتباس سے لمبا ہوتا ہے اور اس طرح آپ کی تحریر کا قاری کو کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔ دوسرے سیارہ کا ایک فیچر میمز کا ہے جسے آپ سیارہ کے صفحے پر اوپر بائیں طرف دیکھ سکتے ہیں۔ یہ فیچر پچھلے ہفتے میں تمام پوسٹس میں سے لنک ڈھونڈتا ہے اور پھر سب سے مقبول لنکس دکھاتا ہے۔ مگر اقتباسات والی فیڈز میں لنک نہیں ہوتے بلکہ وہ سادہ ٹیکسٹ ہوتا ہے۔ اس سے یاد آیا کہ اقتباسات کی فیڈ کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ صرف سادہ ٹیکسٹ ہی فیڈ ریڈر میں نظر آئے گا۔
October 25th, 2007 at 6:15 am
سلام
اچھا یہ آپ ہیں جو گوگل ریڈر سے آتے ہیں۔ میرا خیال تھا کہ شمیل ہیں۔
لیکن اگر سمری والے بلاگ آپ سبسکرائب نہیں کرتے تو شمیل ہی ہونگے۔
گوگل ریڈر مجے اس لئے نہیں پسند تھا کہ اس پر ہر بلاگ کو دیکھنا پڑتا ہے۔ سیارہ کی طرٰح یہ سب کو ایک جگہ اکٹھا نہیں کرتا۔
مگر سیارہ کو بھی مکمل پوسٹس والی فیڈ کا فائدہ ہے۔ وہ ایسے کہ سیارہ کے کوڈ میں اقتباس بنانے کا کوڈ موجود ہے جو ڈیفالٹ فیڈ والے ایک لائن کے اقتباس سے لمبا ہوتا ہے اور اس طرح آپ کی تحریر کا قاری کو کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔
اس پر مزید روشنی ڈالیں اگر ڈال سکیں۔ اس کی سمجھ نہیں لگی۔
October 25th, 2007 at 7:11 am
شکریہ زکریا
اردو بلاگز اور بلاگرز کی راہ میں ابھی کافی رکاوٹیں ہیں اور شاید سب سے بڑی رکاوٹ ریڈرز تک رسائی والی ہے اگر ریڈر شپ بڑھی تو بلاگرز کی تعداد اور معیار بھی یقینًا بڑھے گا۔
فیڈ کی آپ نے درست نشاندھی کی ایک اور بات فونٹ کی بھی ہے کہ مختلف بلاگرز مختلف فونٹس استعمال کر رہے ہیں جس سے نیا تو نیا پرانا قاری بھی ڈبے ڈبے دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے اور تحریر کو کاپی پیسٹ کرنا پڑتا ہے ۔ آپ کے تبصرے والے پیچ پر بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔
October 26th, 2007 at 5:12 am
بدتمیز: نہیں میں آپ کے بلاگ پر گوگل ریڈر سے نہیں آتا۔
وینس سافٹویر میں ایک اقتباس کا فلٹر ہے excerpt.py کے نام سے۔ ہم اسے استعمال کر رہے ہیں۔ عام بلاگنگ سافٹویر سمری صرف 40 الفاظ یا 255 حروف وغیرہ کی بناتی ہے جو ایک ڈیڑھ لائن کی ہوتی ہے۔ سیارہ پر ہم اپنی مرضی سے اقتباس کا سائز سیٹ کر سکتے ہیں۔ ڈیفالٹ سمری مجھے بالکل پسند نہیں کہ وہ اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ تحریر کس بارے میں ہے۔ اس کا ایک حل تو وہ ہے جو جہانزیب استعمال کر رہا ہے کہ خود سے اقتباس لکھیں۔ یہی کام میں اپنے بلاگ پر کرتا ہوں۔ مگر پھر بھی مکمل فیڈ فراہم کرتا ہوں۔ سیارہ اس مکمل فیڈ سے اپنی مرضی کے سائز کا اقتباس بنا لیتا ہے۔
رضوان: آپ کو اس صفحے پر کہاں ڈبے نظر آ رہے ہیں؟ دوسرے آپ کے کمپیوٹر کا اپریٹنگ سسٹم کونسا ہے؟ اور اس پر اردو کے کوئی فونٹ انسٹال ہیں یا نہیں؟ آپ اگر یہ معلومات فراہم کریں تو اس مسئلے کو حل کرنے میں آسانی ہو۔