اردو ویب اور اسکے منتظمین کے متعلق ایک ضروری وضاحت

جہاں مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اردو سیارہ اور اردو محفل کے علاوہ اردو کے دوسرے فیڈ ایگریگیٹر اور فورم وجود میں آرہے ہیں، وہیں اس بات کا افسوس بھی ہے کہ اردو سیارہ کے چند کرم فرما ان نئی سہولیات کے وجود کے جواز میں زکریا اجمل کو اپنی تنقید اور غم و غصہ کا نشانہ ضرور بناتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں ان نئی ویب سائٹس کے ذریعے اردو کی ترویج و ترقی پر خوشی ہے اور عین اسی مقصد کا حصول اردو ویب کی تشکیل کی بنیاد ہے۔ دوسری اور بہت اہم بات یہ ہے کہ ان نئی سائٹوں کی تشکیل کے جواز میں آپ کو اردو ویب یا اردو سیارہ کے دوسرے قارئین کو وضاحتیں پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں آپ کے بلاگ اردو ویب کا حصہ ہیں وہیں ان نئی سائٹس کو بھی اردو ویب اپنے حریف کے طور پر نہیں دیکھتا۔

اس کے علاوہ یہ کہ اردو ویب کے اس وقت تین منتظمین ہیں۔ نبیل، زکریا، اور راقم۔ یہاں یہ گوش گذار کرنا مقصود ہے کہ اردو ویب کے تمام فیصلہ جات منجملہ اردو سیارہ کی بندش اور اس کا دوبارہ چالو کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ اراکین کو بین کرنا یا نہ کرنا، یہ تمام امور منتظمین کے مابین باہمی مشورہ جات سے طے پاتے ہیں۔ اس وقت ان فیصلوں کا دفاع میرے پیش نظر نہیں ہے کیونکہ اس پر پہلے ہی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے ۔ صرف یہ بتانا ہے کہ ان تمام معاملات میں زکریا اجمل کے بجائے اردو ویب کی انتظامیہ کو مخاطب کیا جائے۔

اگر آپ ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی اپنا ذاتی معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کیجئے۔ بے شک اپنے بلاگ پر لکھئیے یا کسی بھی اور جگہ پر۔ لیکن براہ مہربانی اردو ویب اور ذاتی رنجشوں کو خلط ملط نہ کیجئیے۔ یہ بھی بتلانا مقصود ہے کہ اردو ویب ہم میں سے کسی کی بھی جاگیر نہیں ہے بلکہ اس سال سے تو اس کے اخراجات بھی معزز قارئین کے عطیات سے ادا ہو رہے ہیں۔ البتہ اس کی بہترین کارکردگی کو یقینی بنانے کیلئے ہم کچھ ذمہ داریوں کے مکلف ضرور ہیں جن کو سر انجام دینے کیلئے انتظامی اختیارات کا بروئے کار لانا ناگزیر ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں تحسین اور تنقید کے جذبات کا پیدا ہونا طبعی امر ہے اور اس صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے اردو ویب ہمیشہ سے تیارہے۔

9 Responses to “اردو ویب اور اسکے منتظمین کے متعلق ایک ضروری وضاحت”

  1. اجمل Says:

    آپ نے اچھا کيا وضاحت کر دی ۔ ميری سمجھ ميں جو بات نہيں آ رہی وہ يہ ہے کہ ہر آدمی اپنی ڈيڑھ اينٹ کی مسجد الگ کيوں بنانا چاہتا ہے ۔ جھگڑے تو سگے بھائيوں ميں بھی ہو جاتے ہيں پھر جو بيوقوف ہوتے ہيں وہ ہميشہ کيلئے قطع تعلق کر ليتے ہيں اور جو عقلمند ہوتے ہيں وہ کچھ لے دے کر صلح کر ليتے ہيں ۔ فريقين ميں سے کسی کو تو اپنا شملہ نيچا کرنا ہی پڑتا ہے ۔ اس ميں جو پہل کرے اُس کا درجہ بلند ہوتا ہے ۔

  2. شیخو Says:

    محترم منتظمین اردو ویب اور محترم اجمل صاحب
    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اردو کی ترویج میں اردو ویب کا کردار اور خصوصاً زکریا کی کاوشوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
    مگر بات یہاں اصولوں اور نظریات کی تھی۔کوئی تو اپنے اصولوں اور نظریات کو وقتی مصلحت یا جان بوجھ کر نظر انداز کرتا ہے اور کوئی کلیتہً رد کرتا ہے۔
    یہاں بات انتظامیہ کی طرف سے نظریات کے رد کی تھی۔یہ صحیح ہے کہ ہر کسی کے نظریات ایک سے نہی ہو سکتے مگر ان نظریات کا احترام تو کرنا چاہئے۔ایک بندہ اسلام کا مذاق اُڑاتا رہے اور انتظامیہ لوگوں کے توجہ دلانے پر یہ کہہ کر خاموش کر دے کہ سب کو اظہار رائے کی آزادی ہے۔
    اگر یہی اظہار رائے کی آزادی تھی تو ہماری باتیں بھی برداشت کرنی چاہئے تھیں۔
    ہر بندے کی ایک عمر ہوتی ہے اور عمر کے لحاظ سے اُس میں جذباتی پن بھی ہوتا ہے اور اس جذباتی پن میں علم اور عقل کا عمل دخل کم ہو جاتا ہے اور جہاں بات اسلام کی ہو تو ہم مسلمانوں میں جو مذہبی گھرانوں سے بھی تعلق رکھتے ہوں چاہے اُن کے خود کے اعمال کیسے ہی کیوں نہ ہوں ، مگر بات جب اور جہاں اسلام کی آجائے جذبات میں شدت آ جاتی ہے۔اور اسی شدت کی وجہ سے ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں اس کا اظہار بھی کرتا ہے۔
    یہ بھی صحیح ہے کہ جذبات میں اسلامی تعلیمات اور تہذیب کو مدِ نظر رکھنا چاہئے تھا۔مگر ایسا نہیں ہوا، اس کی صرف ایک وجہ تھی وہ یہ کہ ، لاوا کافی عرصہ سے اُبل رہا تھا۔انتظامیہ کو پہلے ہی چاہئے تھا کہ شروع میں ہی ایسی باتوں کو روک لگاتی جس سے ہم مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہو تاکہ یہ نوبت آنے ہی نہ پاتی۔
    اب جبکہ سب کچھ ہو چکا تو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد پہ اعتراض بھی نہیں ہونا چاہئے
    محترم اجمل صاحب ، جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو آپ سے اور دوسرے محترم بزرگ بلاگروں سے درخواست کی گئی تھی کہ آگے بڑھ کر یہ سارے معاملات سلجھائیں۔تب آپ سب خاموش رہے تھے اگر تب آپ محترم بزرگ آگے آتے تو شاید یہ نوبت نہ آنے پاتی۔
    اب آپ کی یہ تجویز یہ ہے کہ سب کو اکھٹا رہنا چاہئے ، اور کسی ایک تو اپنا شملہ نیچا کرنا چاہئے۔ہمیں اب بھی کوئی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ہم اب بھی یہی کہتے ہیں کہ آپ آگے بڑھیں اور انصاف سے فیصلہ کریں۔انصاف کے فیصلے مشکل ضرور ہوتے ہیں مگر ناممکن نہیں۔
    نوٹ۔ یہی تحریر میں اپنے بلاگ پر بھی پیش کر رہا ہوں تاکہ دوسرے محترم بلاگر بھی اس پر اپنے تبصرے کا اظہار کر سکیں۔

  3. منیراحمدطاہر Says:

    بہت خوب، ذہن ٹھنڈے ہو چکے ہیں، اللہ کے کرم سے پیار و محبت کی باتیں پھر سے شروع ہو چکی ہیں، میں تو ہر وقت یہی دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ اردو بلاگرز کو نظرِ بد سے بچائے۔ آمین
    اب جب صلح صفائی اور محترم اجمل صاحب اور دیگر بزرگ بلاگرز کو بیچ میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں تو مجھے دلی خوشی محسوس ہو رہی ہے، مگر میں سوچ رہا ہوں کہ صلح کن نکات یا شرائط پر ہو گی کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہر کسی کے اپنے تحفظات ہوتے ہیں، اس سلسلے میں میری ناقص رائے تو یہ ہے کہ تمام ممبر بلاگرز سے رائے مانگی جائے یا پول بنا کر ممبران کی رائے معلوم کی جائے یہ زیادہ بہتر ہیں اس سے ممبران کی رائے بھی معلوم ہو جائے گی اور ممبران کو اپنی اہمیت کا احساس بھی ہو گا۔

  4. bdtmz Says:

    salam
    declartion is kind of formal/political
    dont kno anythin abt u but most of us r now against ur decesion rather than in favor
    reconsideration is a gud idea
    sorry cudnt write in urdu

  5. اجمل Says:

    اُردو سيّارہ ميں ہفتہ عشرہ سے دو قسم کی گڑبڑ محسسوس کی ہے ۔ ايک تو تمام عبرت اور شعر بھی ايک جُڑا ہو لمبا مضمون بن جاتا ہے ۔ دوسرے جو رابطہ يرنی لينک ديا جاتا ہے وہ ںير مؤثر ہو جاتا ہے ۔

    يہ سيّرہ ميں کوئی فنّی جرابی ہے يا ميری بياض يعنی بلاگ ميں ؟

  6. Zack Says:

    یہ گڑبڑ نہیں ہے بلکہ جب سے سیارہ پر اقتباسات شروع ہوئے ہیں تو تمام ایچ‌ٹی‌ایم‌ایل پوسٹس میں سے حذف کر دی جاتی ہے چونکہ اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

  7. Nabeel Says:

    I don’t think there is need for any kind of reconsideration and the decision to ban certain bloggers was quite justified. This decision was well thought over and even the involvement of any senior blogger is not going to change that. Those who don’t respect the freedom of expression of others dont deserve any respect themselves.

  8. rizwan Says:

    کیا کوئی یہ بتائے گا کہ اردو “او سی آر” سافٹ ویئر، جو سکین کئے گئے الفاظ/ تحریر کو ٹیکسٹ میں بدلے، کیسے مل پائے گا؟۔ شکریہ

  9. ثقلین مہدی Says:

    Mr. Rizwan
    Center of Excellence for Urdu Informatics is developing urdu OCR, so wait it will time. Plz do visit http://www.nlauit.gov.pk for latest information.
    Bye

Leave a Reply