اردو سیارہ واپس اور قوائد و ضوابط
اردو سیارہ اب واپس آنلائن ہے۔ اس میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
پہلی تبدیلی یہ ہے کہ اب اردو سیارہ میں اپنا اردو بلاگ شامل کرنے کا صرف ایک طریقہ ہے اور وہ یہ کہ آپ یہ فارم پر کریں۔ ابھی تک بہت سارے مختلف طریقوں سے بلاگ شامل کئے جاتے تھے۔ اب ایمیل کے ذریعہ بلاگ سیارہ میں شامل نہیں کئے جائیں گے نہ ہی ہم خود سے بلاگ سیارہ پر شامل کریں گے۔
شمولیت کے صفحے پر آپ کو کچھ قوائد و ضوابط بھی نظر آئیں گے۔ بلاگ شامل کرنے کی معلومات فارم کے ذریعہ ارسال کرتے ہوئے آپ کو ان قوائد و ضوابط پر عمل کرنے کا اقرار کرنا لازمی ہے۔ آپ سب کی آسانی کے لئے یہ قوائد و ضوابط میں یہاں نقل کر رہا ہوں۔
- اپنی تحریر میں دوسروں کی دلآزاری نہیں کریں گے۔
- لغو گفتگو، دھمکی آمیز پیغامات اور گالی گلوچ کی قطعی اجازت نہیں۔
- کسی پر تنقید کرتے ہوئے ذاتی حملوں سے پرہیز کریں گے۔
- اردو سیارہ تمام مذاہب، عقیدوں اور علاقوں کے لوگوں کے لئے ہے۔ آپ کوشش کریں گے کہ آپ کی تحریر سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ ہر کسی کو اخلاق کے دائرے میں یہاں کسی بھی مذہب پر گفتگو کی آزادی ہے۔
- نفرت اور تعصب والی تحریریں بالکل قابل قبول نہیں ہوں گی۔
- کاپیرائٹ کے قوانین کے خلاف مواد اپنے بلاگ پر پوسٹ نہیں کریں گے۔
- اردو سیارہ کی انتظامیہ کو کسی پوسٹ کو حذف کرنے یا بلاگر کو بین کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
اس کے علاوہ ہمیں محسوس ہوا ہے کہ اردو سیارہ کے باے میں کچھ وضاحت کی بھی ضرورت ہے۔
چونکہ اردو سیارہ صرف مختلف بلاگز سے تحریریں جمع کرتا ہے اس لئے ان تحریروں کے مواد پر سیارہ کا کوئی زور نہیں اور نہ اردو سیارہ کی انتظامیہ کسی بھی بلاگ پر تحریر کی ذمہدار ہے۔ اگر آپ کو کسی تحریر پر اعتراض ہے تو اس بلاگ کے مالک سے بات کریں۔
اردو سیارہ پر تمام بلاگ پوسٹس ان بلاگرز کی ملکیت ہیں جنہوں نے وہ لکھیں۔ اگر ان بلاگرز کی تحریر سے کسی قانون کی خلافورزی ہوتی ہے تو اس کا ذمہدار بلاگر ہے نہ کہ اردوویب یا اردو سیارہ کی انتظامیہ۔
اگر آپ کو کسی تحریر میں اردو سیارہ کے قوائد و ضوابط کی خلافورزی نظر آئے تو آپ بذریعہ ایمیل اردو سیارہ کی انتظامیہ کو مطلع کر سکتے ہیں۔ وہ آپ کی بات پر غور کرے گی اور ان کا فیصلہ حتمی ہو گا۔
اگرچہ اردو سیارہ کی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ سیارہ کو اچھے طریقے سے چلایا جائے، اس میں تمام اردو بلاگز کو شامل کیا جائے اور قوائد و ضوابط کا خیال رکھا جائے مگر یہ سارا کام رضاکارانہ بنیادوں پر ہو رہا ہے۔ اس لئے ان میں سے کسی بھی بات کی انتظامیہ گارنٹی نہیں دے سکتی۔
اردو سیارہ تمام مذاہب، نظریات اور علاقوں کے لوگوں اور بلاگرز کو خوشآمدید کہتا ہے اور سب کو برابر نظر سے دیکھتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سیارہ سے وابستہ منتظمین کا کوئی مذہب یا نظریہ نہیں۔ سیارہ اور اس کے منتظمین کو کنفیوز نہ کریں۔
اس وقت جو بلاگز اردو سیارہ میں شامل ہیں وہ بھی ان قوائد و ضوابط کے پابند ہیں۔ ان قوائد کی خلافورزی کرنے والوں کو انتظامیہ کی صوابدید پر اردو سیارہ سے نکالا جا سکتا ہے۔
ایک آخری بات جس کا ہمیں کافی دکھ ہے اور ہماری پوری کوشش تھی کہ ہمیں ایسا کوئی قدم نہ اٹھانا پڑے مگر پچھلے دنوں کچھ لوگوں کی وجہ سے اردو سیارہ کا ماحول بہت خراب ہو گیا تھا۔ اس وجہ سے ہم نے چار بلاگرز کو سیارہ سے نکال دیا ہے۔
July 24th, 2006 at 5:09 am
سلام
آپ کے اس انتہائی قدم پر افسوس ہوا۔ ان لوگوں کو ایک وارننگ دی جانی چاہئے تھی۔ ان کے دھمکی آمیز بیانات کو اگنور کرنا چاہئے تھا۔ اس طرح تو آپ نے انکو مزید شہہ دے دی اور ان کے آپ کے بارے میں جو خیالات تھے ان پر مہرثبت کر دی۔ ان کو لگے گا کہ جو کچھ انہوں نے کیا وہ صیح تھا۔
ویسے اردو سیارہ کی انتظامیہ کا تعارف نہیں کرایا گیا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمیں پتا ہو کہ کون کون صاحبان شامل ہیں۔
July 24th, 2006 at 10:59 am
انتظامیہ نے جو بھی کیا بالکل صحیح فیصلہ لیا ۔ اور جہاں تک انتظامیہ کو میری طرف سے پریشانی ہوئی اسکے لئے صرف Sorry کہوں گا ۔ ویسے بھی میری تحریریں اردو سیارہ کے قابل نہیں، اپنا بلاگ تو بس آن لان ڈائری کی طرح ہے اپنے دل کے بات لکھنے کیلئے ۔ اور مجھے سیارہ سے باہر کرنے کیلئے انتظامیہ کا شکریہ ۔ امید ہے اردو سیارہ پر تعصب اور نفرت سے پاک تحریریں پڑھنے کو ملیں گی ۔
July 24th, 2006 at 11:47 am
یہ کیسے پتہ چلے گا کہ کسی تحریر کا مقصد دل آزاری ہی تھا؟ میرا مطلب ہے یہاں ایسا بہت سا مجمع ہے جو اسلام کے بارے میں کوئی بات سننے کے روادار نہیں ایسی ہر پوسٹ جس میں مسلمانوں کے عمومی رویوں پر نکتہ چینی کی گئی ہو یا امریکہ اسرائیل کی ذرا سی طرفداری کی گئی ہو وہ ان کی دل آزادی کا سبب بن جاتی ہے۔ چاہے لکھنے والا کا ایسا کوئی مقصد نہ بھی ہو۔
July 24th, 2006 at 3:33 pm
بہت بہت شکریہ۔ ہم تو ہیں ہی جاہل اور تنگ نظر، میں نے وہ سب اسلام کے نام پر نہیں کیا تھا لیکن بات پھر وہی آپ کی کسی عزیز ہستی کے ساتھ ایسا کیا جائے تو کیا رد عمل ہوگا؟
نعمان کی تو بات میں کرنا چاہتا ہی نہیں لیکن زکریا نے حقیقتا اپنی اصلیت دکھا ہی دی۔ اردو سیارہ روشن خیالوں اور
یہودوہنود نصاریٰ کے چمچوں کو مبارک
ہم الگ سے اپنا سیارہ بھی کھول سکتے ہیں جہاں ہمیں مکمل آزادی ہوگی نہ صرف ہمیں بلکہ روشن خیالوں کو بھی اردو سیارہ کی نسبت وہاں صرف اسلام پسندوں پر پابندی نہیں ہوگی۔۔۔
آکخر پر بتانا چاہوں گا کہ میں نے دھمکی ہی دی تھی گالیاں نہیں لیکن کاش میں وہاں ہوتا، شیعب نے مجھے جع میل کی ہے وہ یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔۔
http://pakiblog.com/?p=33
اب ایسی ہی زبان اگر میں وہاں لکھتا تو کیسا لگتا؟ ایک اور بات ہندوستانی کسی حقیر کیڑے سے زیادہ اوقات نہیں رکھتے کے کسی پاکستانی کو ایسی دھمکیاں لگائیں لیکن ہمارے اپنے غداروں کی وجہ سے جو ہر جگہ کی طرح سیارہ پر بھی موجود ہیں نے انہیں شہ دی۔۔
July 24th, 2006 at 7:22 pm
بہت اچھے بلکہ بہت زیادہ ہی اچھے ، آپ نے جو یہ قوانین تشکیل دیے ہیں واقعی میں ضروری تھے ، اور آپ نے جو چار بلاگرز کو بلیک لسٹ کیا ہے وہ بھی ٹھیک کیا ، آپ نے جو بھی کیا ہے ٹھیک کیا ہے ۔۔۔ ابھی میری دعا ہے دوبارہ کوئی اردو سیارہ کا ماحول خراب نا کرے ۔
July 24th, 2006 at 8:35 pm
Will u please Delete my BLOGGSPOT blog from the Planet List and please change the url of my Yahoo Blog from
(http://blog.360.yahoo.com/blog-d0wVbLU5bquQvfFAIRhAOXU-?cq=1)
to
(http://360.yahoo.com/humanalii)
This is the URL of my BLOG
Thankio Once Again for the help full hand to promot urdu on the Internet
July 26th, 2006 at 6:45 am
ان کو بات سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں یہ خود کو ہم سے زیادہ محب وطن لوگ سمجھتے ہیں۔۔ اسلام یا پاکستان کے خلاف جو بھی تحریک چلے گی ہم اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔ میں اس سائٹ پر واپس نہیں آنا چاہتا صرف اس لیے آیا ہوں کے لوگوں کو اس جھوٹی آزادی اظہار کے نعروں کا علم ہو سکے۔ یہ سائٹ صرف روشن خیالوںکے لیے ہے۔ جو بھی اسلام اور پاکستان کی بات کرے گا لوگ اس کو انتہا پسند کا نام دے کر بلیک لسٹ یا دوسرے لفظوں میں کالعدم کر دیں گے۔ یہ سائٹ ہندو نواز لوگوں کی ہے۔ گھٹیا ہندو اور بیغیرت لوگوں کو سر آنکھوں پر چڑہایا جاتا ہے۔ امریکہ میں اپنا ویزہ لمبا کرانے کے لیے امریکی، اسرائیلی اور ہندوؤں کے تلوے چاٹنا ہی پڑتے ہیں تاکہ القائدہ ڈال کر باہر نہ نکال پائیں اس لیے انہیں امریکی کتے بن کر رہنا منظور ہے۔باقی میں تھوکتا ہوں ان پہ جو خود کو اعتدال پسند روشن خیال سمجھتے ہیں
زکریا۔ نبیل اور نعمان اور ان جیسے دوسرے لوگ اعتدال پسند ہیں یہ ہمیں پسند نہیں کرتے کیوں کہ ہم انتہا پسند ہیں۔ ان سے یہ کہوں گا کہ روشن خیالی میں اس قدر آگے مت بڑہ جاؤ کے واپسی کا راستہ نہ رہے۔ وہ مثال یاد رکھنا کے دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔
میں جانتا ہوں کہ میرا تبصرہ حزف کر دیا جائے گا سچ کڑوا ہوتا ہے امید ہے کل کو کوئی انصاف پسند الگ سے سیارہ بنائے گا جہاں سب کو آزادی ہوگی۔ میں خود اس سیارہ کو چھوڑ چکا ہوں جیسا کہ میں نے لکھ دیا تھا لیکن شیخو اور بدتمیز کو کیوں نکالا گیا؟ انہوں نے تو بدتمیزی نہیں کی تھی بس زکریا کو اصلیت دکھائی تھی جس پر اس نے غصہ میں ان کو خارج کر دیا۔۔ کوئی انصاف پسند نہیں یہاں جو ان کو دوبارہ یہاں بلائے؟ میرا مطالبہ ہے کہ سب سے ایک جیسا سلوک کیا جائے شیعب نے گالی شیخو اور بدتمیز کو ہی نہیں بلکہ دوسرے الفاظ میں پورے پاکستان کو دی ہے کیا ضرورت تھی اسے اپنی گندی قومیت کا نام لینے کی آخر ہندوستانی کس کھیت کی مولی ہیں جو اس نے یہ کہا “ایک ہندوستانی کے الفاظ ہیں جو کہا کر دکھاتا ہے“؟ گالیاں اس نے پہلے دیں تھیں اس کا جواب میں نے دے دیا شیخو یا بدتمیز نے نہیں ان کو بحال کیا جائے۔۔ ورنہ کل کو یہاں صرف کمیونسٹ ہی آیا کریں گے۔ ویسے مان گئے ہندو کتوں کو آخر ہم سب کی کمیونٹی کو توڑ ہی گیا خود تو گیا ہی دوسروں کو بھی ساتھ لےگیا۔
باقی میں میرے عزیز بلاگرز جیسے انکل اجمل۔ میرا پاکستان۔ شیخو۔ عادل چوہدری۔شیعب صفدر۔ ریحان مرزا عتیق الرحمان۔ اظہر الحق اور منیر احمد طاہر صاحب سے معزرت چاہتا ہوں کیوں کے میں نے آخری پوسٹ میں بدتمیزی کا مظاہرہ کیا لیکن مجھے اس ہندو کتے سے بدلہ پورا کرنا تھا میرا کوئی بھی جملہ ان لوگوں کے لیے نہیں تھا ان کی میں بہت عزت کرتا ہوں۔
دوسرے والے بدتمیز نے بھی اچھی بات لکھی ہے پہلے انہیں وارننگ دی جانی چاہیے تھی۔
شیخو اور بدتمیز(سیالکوٹی) میں آپ کے ساتھ ہوں ہر کام میں۔ اسلام زندہ باد پاکستان پائندہ باد۔ (انشاءاللہ)
July 26th, 2006 at 7:44 pm
السلام علیکم پیارے دوستو۔ بلاگ کے بارے میں میں کچھ زیادہ نہیں جانتا، لیکن اتنا پتہ ہے کہ یہ ایک لحاظ سے ذاتی ڈآئری کہلائی جا سکتی ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ ڈآئری میں وہ بات لکھی جائے جو ہم کسی بھی طرح سے دوسروں کو دکھا سکیں۔ اگر وہ ہماری ذاتی رائے ہے جس سے کسی کی دل آزاری ہو تو اسے سامنے مت لائیں۔ اس بلاگ کو یا اس سیارہ کو پڑھنے کے لیے ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بھی آتی ہیں۔ کیا ہماری ہر تحریر اس قابل ہے کہ ہم اس کو اپنی حقیقی ماں، بہن یا بیٹی کے سامنے رکھ سکیں؟ اگر ہم کسی وجہ سے اپنا نام سامنے نہیں لانا چاہتے، تو کیا تحریر کو بھی سامنے لانا ضروری ہے؟
بلاگ میں آپ اپنی ذاتی رائے دیتے ہیں۔ جس میں آپ کسی کی ذات پر کچھ بھی کہ اور پھر بدلے میں سن بھی سکتے ہیں۔ تو کیا ایسی بات لازمی لکھنی ہے کہ جو فساد پیدا کرے؟ یا آپ کے بارے میں بری رائے چھوڑے؟ یا جیسے کچھ دن پہلے تک بات ہوئی تھی، ایک دوسرے کی ماں تک پہنچا جائے؟
اللہ پاک کہتے ہیں کہ ہر کام میں اعتدال سے کام لیا جائے۔ کچھ دوست جذباتیت کی ایک انتہا تک چلے جاتے ہیں اور بدلے میں دوسرا دوست دوسری انتہا۔ بات اسلام کی خدمت سے شروع ہوتی ہے اور دوسرے کی ماں پر جا کر رکتی ہے۔ یہ کیسی صحافت ہے؟ یہ کیسی اسلام کی خدمت ہے؟ یہ کیسی آزادی اظہار رائے ہے؟ یہ ہم لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اسلام کے بارے میں یہ کیا تائثر چھوڑا جا رہا ہے؟
کیا کوئی بھائی یا کوئی بزرگ میری باتوں کا جواب دے سکتے ہیں؟
July 31st, 2006 at 10:20 pm
تمیز والے بدتمیز: معذرت کہ آپ کی امیدوں پر پورا نہیں اترے مگر معاملات حد سے بڑھ رہے تھے اور بات گالی گلوچ سے دھمکیوں تک آ گئی تھی۔ اسے اگنور کرنا کافی مشکل ہوتا جا رہا تھا۔
شعیب: سوری کہنے کا شکریہ۔
نعمان: آپ نے پوچھا ہے کہ “یہ کیسے پتہ چلے گا کہ کسی تحریر کا مقصد دل آزاری ہی تھا؟” تو اس کا جواب ایک جج نے فحاشی سے متعلق کہا تھا:
I’ll know it when I see it.
بدتمیز: آپ بے شک اپنا سیارہ کھولیں۔ مگر مجھے امید نہیں کہ وہاں کوئی آزادی ہو گی کہ آزادی اظہار ہی پر آپ نے یہاں اعتراض کیا تھا۔ آپ کا باقی کا تبصرہ اس قابل نہیں کہ اس کا جواب دیا جائے۔
ریحان: شکریہ۔ آپ کے بلاگ کا یوآرایل سیارہ اس کی فیڈ سے لیتا ہے۔ آپ کی فیڈ میں یہی ایڈریس ہے۔
پاکی منڈا: میں نے روشن خیال ہونے کا کبھی دعوٰی نہیں کیا۔ آپ کا خیال تھا کہ آپ کا تبصرہ حذف ہو گا مگر وہ موجود ہے۔ باقی میں ساری کہانی دہرانا نہیں چاہتا مگر شیخو اور بدتمیز کی تحریریں سب کے سامنے ہیں لوگ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان لوگوں نے کیا غلط کیا اور انہیں سیارہ سے کیوں نکالا گیا۔
منصور: تبصرے کا شکریہ۔