اردو سیارہ، مذہب اور نظریات
اردو سیارہ تمام اردو بلاگز کے لئے ہے۔
اردو سیارہ کا کوئی مذہب یا عقیدہ نہیں ہے۔ یہاں مسلمان، ہندو، سکھ، یہودی، عیسائی، atheist، احمدی، مورمن، بہائی، agnostic، وکا (wicca) یا کسی اور مذہب یا نظریے کے پیروکار سب welcome ہیں۔ تمیز اور اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر کوئی اپنے عقیدے اور مذہب پر یہاں بات کر سکتا ہے۔
چونکہ اردو سیارہ پر عموماً اظہارِ رائے کی آزادی ہے اور یہ صرف اردو بلاگرز کی تحریروں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے اس لئے یہاں پوسٹ ہونے والے نظریات کو اردوویب کے نظریات نہ سمجھیں بلکہ صرف اس بلاگر کے جس نے وہ پوسٹ کی ہو۔ اگر آپ کو کسی پوسٹ پر اعتراض ہو تو بلاگر ہی سے بات کریں۔
امید ہے کہ آپ لوگ اپنے سے مختلف عقائد رکھنے والوں کو تنگ نہیں کریں گے اور ان کی بات تحمل اور خوشاسلوبی سے سنیں گے۔ کسی سے اختلاف ضرور کریں مگر اخلاق کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ اور کسی مذہب یا بلاگر کے خلاف مہمیں نہ شروع کریں۔
July 18th, 2006 at 9:38 pm
آپ نے یہ پوسٹ ہی کی تھی کہ شیخو نے آپ کو دہریہ بھی قرار دے دیا ہے اور کھلی جنگ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ بڑا جنگ جو قسم کا آدمی ہے بھئی۔
July 18th, 2006 at 9:43 pm
حال ہی میں جس طرح چند بلاگرز نے احمدی مذہب کے ماننے والوں کے بارے میں لکھا ہے مجھے اس پر سخت اعتراض ہے۔ لیکن میں ان بلاگرز کی تحریروں کے سیارے پر شامل نہ ہونے کی بھی حمایت نہ کروں گا۔ بس یہ ہے کہ ایسی تحریریں پڑھ کر مجھے دکھ ہوتا ہے اور افسوس کے سیارے پر زیادہ تر تحریریں ایسی ہی ہوتی ہیں۔
July 19th, 2006 at 1:32 am
يہ تو ٹھيک ہے کہ اُردو سيارہ مذہبی سيارہ نہيں ۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ھر لکھنے والے کو صرف حقائق لکھنا چاہئيں اپنی تحارير ميں دوسروں کے مذہبی يا دينی احساسات کو ٹھٹہ مذاق نہيں بنانا چاہئيے ۔
اس کے لئے اگر تمام نہيں تو اُردو لکھنے والوں کی اکثريت کو کوشش کرنا ہو گی ليکن جذبات سے نہيں تدبير سے ۔ يہاں تو ايسے لوگ بھی ہيں جو دوسروں کے اُسی عمل کو بُرا کہتے ہيں جو وہ خود بھی کرتے رہتے ہيں ۔ اُردو سيارہ ميں ميں وہ بھی ہيں جنہوں نے اپنی کشادہ دلی جتانے کيلئے اسلام کے اصولوں کی دھجياں اُڑائيں ۔
آخر ضابطہ اخلاق کچھ تو ہونا چاہئيے ۔
July 19th, 2006 at 9:58 am
اردو سیارہ کی پالیسی پر مجھے سخت اعتراض ہے اور مجھ سے اس کی قبولیت کے دستخط کہیں نہیں لیے گئے۔
اردو سیارہ کا اگر کوئی مذہب نہیں تو بلاگرز کا مذہب ضرور ہے۔
شعیب نے جو بکواسیات شروع کر رکھی ہیں میں اس کی سخت مذمت کرتا ہوں۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ را کی پراپگنڈا مہم ہے۔
اگر آپ یہی پالیسی رکھنے پر مصر ہیں تو میری رکنیت ختم کی جائے۔
آزادی رائے کے نام پر بدتہذیبی نامنظور
July 19th, 2006 at 1:29 pm
Ohh Finally Raja has asked to be unsubscribed from the planet. Admins, take the hint, this is a golden oppurtunity to get rid of him.
Ajmal Sahab thats the essense of blogging, there are no real zabta-e-akhlaq anywhere on the blogsphere and you can not really implement rules because it would take the spirit out of the blogging. If we don’t like someone’s writing we should go to their post and express our views on that matter, condemn them on our blogs, or carry our case to a broader audience for debate but asking for rules to shut such things down is wrong aswell as useless.
July 19th, 2006 at 11:34 pm
آپ کي پاليسي سے ہميں مکمل اتفاق ہے اميد ہے جن جن مزاہب کا نام آپ نے گن گن کر ليا ہے ان کے پيروکار اس پاليسي پر ضرور عمل کريں گے۔
آپ کي بات بلکل درست ہے کہ اپنے اپنے خيالات کا اظہار کريں مگر تہزيب کے دائرے ميں رہتے ہوۓ۔
اچھا ہوتا اگر آپ اپني پاليسي ميںيہ بھي شامل کرديتے کہ کوئي بھي دوسرے کے مزہب کو اس طرح تضہيق کا نشانہ نہيں بناۓ گا جس سے اس کي دلاآزاري ہو۔ مثلأ خدا کا نام منفي انداز ميں استعمال کرنا، دوسروں کے مزہب کا مزاق اڑانا وغيرہ۔
July 20th, 2006 at 4:14 pm
نبیل: اب تو عادت سی ہو گئی ہے دہریہ کہلانے کی۔ معلوم نہیں کیوں یہ لوگ ایسا کہتے ہیں۔
ابو: بات پھر وہیں آتی ہے کہ صرف مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھنا ہو گا کہ سب کا (خیال رہے کہ سب میں دہریے، یہودی، ہندو اور احمدی بھی شامل ہیں)۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ ضابطہ کون نافذ کرے گا؟ کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ سب بلاگرز کی پوسٹس پڑھتا رہے اور پھر ضابطہ اخلاق کا نفاذ کرے؟ بہتر ہے کہ ہر بلاگر خود سوچے کہ وہ جو لکھ رہا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں اور اخلاق کے دائرے میں ہے یا نہیں۔
ہماری پالیسی یہی ہے۔ آپ کو جن بلاگز سے اختلاف ہے وہ آپ اپنے بلاگ پر لکھ سکتے ہیں۔ ہر بات میں آپ کو را کیوں نظر آتی ہے؟
میرا پاکستان: کچھ حد تک یہ اخلاق کے دائرے میں آتا ہے کہ دوسرے کے عقیدے کی تضحیک نہ کی جائے۔ مگر اس کی بھی کچھ حدود ہیں۔ مثال کے طور پر اقبال کی نظم “شکوہ” سے اس زمانے میں کئی مسلمانوں کی دلآزاری ہوئی مگر آج کون اس پر اعتراض کرتا ہے؟ ایک صاحب نے اردو محفل پر ایک احمدی ویب سائٹ کا ربط دیا۔ ایک مسلمان نے کہا کہ یہ ربط مسلمانوں کی دلآزاری کا باعث ہے۔ اس لاجک پر عمل کیا جائے تو دوسرے مذاہب کا ذکر بھی منع کرنا پڑے گا۔
پچھلے دنوں احمدیوں کے مذہب اور بانی کا جس طرح مذاق اڑایا گیا اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یہودیوں اور ہندووں کو بہت دفعہ برا بھلا کہا جاتا ہے یہاں تک کہ لوگ 6 ملین یہودیوں کے نازیوں کے ہاتھوں قتل سے بھی منکر ہیں۔ کیا اس سے ہولوکاسٹ میں مرنے والوں کی اولاد کی دلآزاری نہیں ہوتی؟ بات پھر وہیں آ جاتی ہے کہ میری دلآزاری نہ کرو مگر میں جس مرضی کی کروں۔
July 20th, 2006 at 4:16 pm
شعیب بھی احمدی ہوگا۔ اور میں راجا اور شیخو کے ساتھ ہوں اگر شعیب نے اپنی بکواس بند نہ کی تو۔۔۔ میں سب سے بڑے احمدی مشرف کو اس کی رپورٹ کروں گا۔ نعمان اور نبیل کی لیتا ہوں کیونکہ میں لاہور سے واپس آ گیا ہوں اب خوب لونگا ان کی ۔۔۔ خبر اور شعیب کی بھی۔۔
اگر یہاں انگریزوں کے چمچہ ہونا رعشن خیالی ہے تو مجھے نکال دیا جائے لعت ہے تف ہے
July 20th, 2006 at 4:24 pm
لعنت ہے دہریوں پر اور شعیب نعمان اور نبیل تم لوگوں کی بھی لیتا ہوں۔۔۔۔۔ خبر
July 22nd, 2006 at 4:27 am
بدتمیز: آپ کے دھمکیآمیز تبصرے یہاں ویلکم نہیں ہیں۔
July 23rd, 2006 at 7:08 pm
معاشا اللہ
July 23rd, 2006 at 7:15 pm
اردو سيارہ کي باتيں بجا ہيں۔ واقعي ہميں دوسروں کے مزہب کا مزاق نہيں اٹانا چاہيۓ۔ ہمارے نبي کا قول ہے کہ کسي کے خدا کو برا نہ کہو کہيں وہ تمہارے خدا کو برا نہ کہنا شروع کرديں۔
بات وہي ہے کہ ہميں لڑائي اگر کرني ہي ہے تو خيالات پر مہزب طريقے سے کرني چاہيۓ نہ کہ ذاتيات پر کيچڑ اچھالنے کا کام شروع کرديں
July 23rd, 2006 at 7:18 pm
a true muslim should not be like that … we have to stay in peace and calm our self because by just typing bad words we just infact our self .. we cant change any thing by just abusing