<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: Blogger Template for Urdu blogs</title>
	<atom:link href="http://www.urduweb.org/blog/2005/02/19/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urduweb.org/blog/2005/02/19/</link>
	<description>UrduWeb Blog</description>
	<lastBuildDate>Sat, 04 Sep 2010 10:31:58 -0700</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.8.6</generator>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
		<item>
		<title>By: elamworld.com</title>
		<link>http://www.urduweb.org/blog/2005/02/19/comment-page-1/#comment-92734</link>
		<dc:creator>elamworld.com</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 10 Aug 2010 11:16:07 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urduweb.org/blog/?p=19#comment-92734</guid>
		<description>urdu test kahan hain ??</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>urdu test kahan hain ??</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: Urdu Digest</title>
		<link>http://www.urduweb.org/blog/2005/02/19/comment-page-1/#comment-92729</link>
		<dc:creator>Urdu Digest</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Jul 2010 09:41:44 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urduweb.org/blog/?p=19#comment-92729</guid>
		<description>urdu afsanay, urdu column urdu kahaniyan, urdu shairy all in unicode format.......urdu fonts download, urdu inpage to unicode and unicode to inpage conveter download here free</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>urdu afsanay, urdu column urdu kahaniyan, urdu shairy all in unicode format&#8230;....urdu fonts download, urdu inpage to unicode and unicode to inpage conveter download here free</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: viagra</title>
		<link>http://www.urduweb.org/blog/2005/02/19/comment-page-1/#comment-92722</link>
		<dc:creator>viagra</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 30 Jun 2010 16:58:29 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urduweb.org/blog/?p=19#comment-92722</guid>
		<description>es un gran cartel, yo siempre como el amor  para leer lo que encreve, en mi blog  también ha UMS artículos  y algunas noticias interesante. besos , http://sensuaisegatas.blogspot.com</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>es un gran cartel, yo siempre como el amor  para leer lo que encreve, en mi blog  también ha UMS artículos  y algunas noticias interesante. besos , <a href="http://sensuaisegatas.blogspot.com" rel="nofollow">http://sensuaisegatas.blogspot.com</a></p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: rehan</title>
		<link>http://www.urduweb.org/blog/2005/02/19/comment-page-1/#comment-92599</link>
		<dc:creator>rehan</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2009 08:12:03 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urduweb.org/blog/?p=19#comment-92599</guid>
		<description>وکیپیڈیا سے
 بلیک واٹر 
 
زی یا بلیک واٹر کا نیا شارہ (لوگو)
زی (Xe ) یا ایکس ای یا زی سروسز ایل ایل سی (Xe Services LLC ) جس کے پرانے نام بلیک واٹر یا بلیک واٹر ورلڈ وائڈ یا بلیک واٹر یو ایس اے تھے، نجی شعبہ کی ایک فوج ہے جو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں 1997ء میں وجود میں آئی۔ یہ بلیک واٹر کے نام سے مشہور ہے۔ اب اس کا نام بدل کر زی یا ایکس ای رکھا گیا ہے۔ 1997ء میں اس کا نام بلیک واٹر یو ایس اے تھا جو اکتوبر 2007ء میں بدل کر بلیک واٹر ورلڈ وائڈ رکھا گیا۔ یہ عراق جنگ کی ایک بدنام تنظیم ہے جس نے عراق میں فلوجہ، نجف اور بغداد میں غیر قانونی طور پر عام افراد کو قتل کیا جس کا مقدمہ آج کل ریاستہائے متحدہ امریکہ میں زیرِ سماعت ہے۔ بظاہر اس کا مقصد امریکی سفارت کاروں اور دیگر افراد کا تحفظ ہے مگر تیسری دنیا اور ترقی یافتہ دنیا کے مختلف دانشوروں کے مطابق یہ تنظیم ایسے کاموں میں استعمال ہوتی ہے جو ریاستہائے متحدہ امریکہ قانونی وجوہات سے خود نہیں کرنا چاہتا۔ 29 اکتوبر 2007ء کو امریکی شعبۂ ریاست (ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹ) نے اس تنظیم کو کسی بھی عدالت میں لانے سے استثناء کر دیا تاکہ اس پر کوئی مقدمہ کامیاب نہ ہو سکے۔ 19 اگست 2009ء کو نیویارک ٹائمز میں مارک مانزیتی نے لکھا کہ سی آئی اے نے زی کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ القاعدہ کے افراد کو دنیا کے مختلف حصوں میں قتل کیا جائے۔ [1]۔ البتہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حکومت کسی ایسے تعلق سے انکار کرتی ہے اور بلیک 

واٹر کو ایک نجی شعبہ کا ادارہ سمجھتی ہے۔

 

 

زی (بلیک واٹر) کی پاکستان میں سرگرمیاں

زی یا بلیک واٹر کی سرگرمیاں پاکستان میں مشکوک ہیں۔ اخبارات و جرائد متواتر ایسے واقعات بیان کر رہے ہیں جس میں زی یا بلیک واٹر ملوث ہے مگر امریکی سفارت خانے اور پاکستان کی سرکاری سطح پر ان کی پاکستان میں موجودگی کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اگرچہ امریکی سفارت خانے نے تسلیم کیا کہ انہوں نے 200 گھر اسلام آباد میں کرایے پر لے رکھے ہیں اور سفارت خانہ میں ایسی توسیع ہو رہی ہے جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی [4] مگر سفارت خانہ وہ حکومت پاکستان اس بات کو بلیک واٹر یا زی سے علیحدہ سمجھتے ہیں۔ چین کے سفیر نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے مگر وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ ہم چین کی تشویش دور کریں گے۔[5] اس تنظیم کے مسلح امریکی افراد اسلام آباد میں کھلے عام گھومتے ہیں جن کا ٹریفک پولیس نے 6 ستمبر 2009ء کو تیز رفتاری کی بنیاد پر چالان بھی کیا۔ اس کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ تھانے جاکر تو ان امریکیوں کو چھڑا لیا جاتا ہے اس لیے وہ یہیں ان کا چالان کرے گا۔ ان مسلح افراد نے اردگرد کھڑے عوام سے ڈر کر یہ چالان کروا لیا۔ [6]۔ ایک اور واقعہ میں چار امریکی افراد کو کالے شیشوں کی جیپ میں آٹومیٹک ہتھیاروں سمیت ایک ناکے پر روکا گیا تو انہوں نے اپنا تعارف بلیک واٹر کے تعلق سے کروایا۔ جب انہیں تھانے لے جایا گیا تو وہاں امریکی سفارت خانے کے افراد پہنچ گئے جن کے ساتھ فوج کے ایک کیپٹن اور پولیس کے ایک ایس پی آفتاب ناصر تھے جنہوں نے پولیس والوں کو ڈرا دھمکا کر ان چاروں کو رہا کروالیا۔ [7] ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ زی پاکستان کے چھ شہروں میں ڈیرہ ڈالنے لگی ہے۔ [8] امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق زی کے اہلکار امریکی سی آئی اے کے اہلکاروں کی جگہ پاکستان اور افغانستان میں موجودہ خفیہ اڈوں پر ڈرون طیاروں پر ’ہیل فائر‘ میزائل اور پانچ سو پونڈ وزنی لیز گائیڈڈ میزائل لگانے کا کام کرتے رہے ہیں۔ یہ کام ماضی میں سی آئی اے کے اپنے ماہر انجام دیتے تھے۔[9]۔ امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ اس قسم کی کہانیوں میں کوئی حقیقت نہیں اور نہ تو ہزار میرینز پاکستان آ رہے ہیں اور نہ ہی زی یا بلیک واٹر پاکستان میں کوئی کام کر رہی ہے۔ [10]

 شرعی حیثیت
پاکستان کے سیاسی و مذہبی رہنماء مولانا فضل الرحمٰن نے فتویٰ دیا ہے کہ چونکہ یہ تنظیم ایک قاتلوں کا گروہ (ڈیتھ سکواڈ) ہے اس لیے اس میں شامل ہونا اور اس کے لیے کام کرنا شرعاً حرام ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>وکیپیڈیا سے<br />
 بلیک واٹر </p>
<p>زی یا بلیک واٹر کا نیا شارہ (لوگو)<br />
زی (Xe ) یا ایکس ای یا زی سروسز ایل ایل سی (Xe Services LLC ) جس کے پرانے نام بلیک واٹر یا بلیک واٹر ورلڈ وائڈ یا بلیک واٹر یو ایس اے تھے، نجی شعبہ کی ایک فوج ہے جو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں 1997ء میں وجود میں آئی۔ یہ بلیک واٹر کے نام سے مشہور ہے۔ اب اس کا نام بدل کر زی یا ایکس ای رکھا گیا ہے۔ 1997ء میں اس کا نام بلیک واٹر یو ایس اے تھا جو اکتوبر 2007ء میں بدل کر بلیک واٹر ورلڈ وائڈ رکھا گیا۔ یہ عراق جنگ کی ایک بدنام تنظیم ہے جس نے عراق میں فلوجہ، نجف اور بغداد میں غیر قانونی طور پر عام افراد کو قتل کیا جس کا مقدمہ آج کل ریاستہائے متحدہ امریکہ میں زیرِ سماعت ہے۔ بظاہر اس کا مقصد امریکی سفارت کاروں اور دیگر افراد کا تحفظ ہے مگر تیسری دنیا اور ترقی یافتہ دنیا کے مختلف دانشوروں کے مطابق یہ تنظیم ایسے کاموں میں استعمال ہوتی ہے جو ریاستہائے متحدہ امریکہ قانونی وجوہات سے خود نہیں کرنا چاہتا۔ 29 اکتوبر 2007ء کو امریکی شعبۂ ریاست (ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹ) نے اس تنظیم کو کسی بھی عدالت میں لانے سے استثناء کر دیا تاکہ اس پر کوئی مقدمہ کامیاب نہ ہو سکے۔ 19 اگست 2009ء کو نیویارک ٹائمز میں مارک مانزیتی نے لکھا کہ سی آئی اے نے زی کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ القاعدہ کے افراد کو دنیا کے مختلف حصوں میں قتل کیا جائے۔ [1]۔ البتہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حکومت کسی ایسے تعلق سے انکار کرتی ہے اور بلیک </p>
<p>واٹر کو ایک نجی شعبہ کا ادارہ سمجھتی ہے۔</p>
<p>زی (بلیک واٹر) کی پاکستان میں سرگرمیاں</p>
<p>زی یا بلیک واٹر کی سرگرمیاں پاکستان میں مشکوک ہیں۔ اخبارات و جرائد متواتر ایسے واقعات بیان کر رہے ہیں جس میں زی یا بلیک واٹر ملوث ہے مگر امریکی سفارت خانے اور پاکستان کی سرکاری سطح پر ان کی پاکستان میں موجودگی کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اگرچہ امریکی سفارت خانے نے تسلیم کیا کہ انہوں نے 200 گھر اسلام آباد میں کرایے پر لے رکھے ہیں اور سفارت خانہ میں ایسی توسیع ہو رہی ہے جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی [4] مگر سفارت خانہ وہ حکومت پاکستان اس بات کو بلیک واٹر یا زی سے علیحدہ سمجھتے ہیں۔ چین کے سفیر نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے مگر وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ ہم چین کی تشویش دور کریں گے۔[5] اس تنظیم کے مسلح امریکی افراد اسلام آباد میں کھلے عام گھومتے ہیں جن کا ٹریفک پولیس نے 6 ستمبر 2009ء کو تیز رفتاری کی بنیاد پر چالان بھی کیا۔ اس کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ تھانے جاکر تو ان امریکیوں کو چھڑا لیا جاتا ہے اس لیے وہ یہیں ان کا چالان کرے گا۔ ان مسلح افراد نے اردگرد کھڑے عوام سے ڈر کر یہ چالان کروا لیا۔ [6]۔ ایک اور واقعہ میں چار امریکی افراد کو کالے شیشوں کی جیپ میں آٹومیٹک ہتھیاروں سمیت ایک ناکے پر روکا گیا تو انہوں نے اپنا تعارف بلیک واٹر کے تعلق سے کروایا۔ جب انہیں تھانے لے جایا گیا تو وہاں امریکی سفارت خانے کے افراد پہنچ گئے جن کے ساتھ فوج کے ایک کیپٹن اور پولیس کے ایک ایس پی آفتاب ناصر تھے جنہوں نے پولیس والوں کو ڈرا دھمکا کر ان چاروں کو رہا کروالیا۔ [7] ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ زی پاکستان کے چھ شہروں میں ڈیرہ ڈالنے لگی ہے۔ [8] امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق زی کے اہلکار امریکی سی آئی اے کے اہلکاروں کی جگہ پاکستان اور افغانستان میں موجودہ خفیہ اڈوں پر ڈرون طیاروں پر ’ہیل فائر‘ میزائل اور پانچ سو پونڈ وزنی لیز گائیڈڈ میزائل لگانے کا کام کرتے رہے ہیں۔ یہ کام ماضی میں سی آئی اے کے اپنے ماہر انجام دیتے تھے۔[9]۔ امریکی سفارت خانے نے کہا ہے کہ اس قسم کی کہانیوں میں کوئی حقیقت نہیں اور نہ تو ہزار میرینز پاکستان آ رہے ہیں اور نہ ہی زی یا بلیک واٹر پاکستان میں کوئی کام کر رہی ہے۔ [10]</p>
<p> شرعی حیثیت<br />
پاکستان کے سیاسی و مذہبی رہنماء مولانا فضل الرحمٰن نے فتویٰ دیا ہے کہ چونکہ یہ تنظیم ایک قاتلوں کا گروہ (ڈیتھ سکواڈ) ہے اس لیے اس میں شامل ہونا اور اس کے لیے کام کرنا شرعاً حرام ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: Aaqil</title>
		<link>http://www.urduweb.org/blog/2005/02/19/comment-page-1/#comment-92559</link>
		<dc:creator>Aaqil</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 04 Aug 2009 16:56:39 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urduweb.org/blog/?p=19#comment-92559</guid>
		<description>دشواری ہو رہی ہے، کہاں ہیں اردو ٹمپلیٹ۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>دشواری ہو رہی ہے، کہاں ہیں اردو ٹمپلیٹ۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: Umera Ahmed</title>
		<link>http://www.urduweb.org/blog/2005/02/19/comment-page-1/#comment-92542</link>
		<dc:creator>Umera Ahmed</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 15 Jul 2009 10:45:21 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urduweb.org/blog/?p=19#comment-92542</guid>
		<description>The blog is is really nice so for.It is a very good opportunity for the blogger that you have provide the template for Urdu blog.Now definitely i have download the Urdu blog template for my own blog.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>The blog is is really nice so for.It is a very good opportunity for the blogger that you have provide the template for Urdu blog.Now definitely i have download the Urdu blog template for my own blog.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: laalay ki jaan</title>
		<link>http://www.urduweb.org/blog/2005/02/19/comment-page-1/#comment-92537</link>
		<dc:creator>laalay ki jaan</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 12 Jul 2009 07:06:54 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urduweb.org/blog/?p=19#comment-92537</guid>
		<description>جان جگر
جان وفا
جان من
جان تمنا
کبھی تو میرے پاس آ
میں تیریاں ہڈیاں پناں
بولو
آؤ گے نا۔۔۔۔۔۔۔؟
انتخاب: لالے کی جان

Labels: بو لو آؤ گے نا۔۔۔۔۔۔؟

Writter: syber net at 9:23 AM 2 comments    

Wednesday, July 1, 2009
نہلے پہ دیہلا

زندگی میں جب تم کو کوئی راستہ دکھائی نہ دے

کوئی منزل دکھائی نہ دے
کوئی اپنا دکھائی نہ دے
کوئی پیار کرنے والا دکھائی نہ دے
اور
جب یہ دیس سُونا سُونا لاگے رے
تو میرے پاس چلے آنا میں تمھیں
آئی اسپیشلسٹ
کے پاس لے چلوں گی
بولو
آؤ گے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
انتخاب: کرن خان۔ مردان</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جان جگر<br />
جان وفا<br />
جان من<br />
جان تمنا<br />
کبھی تو میرے پاس آ<br />
میں تیریاں ہڈیاں پناں<br />
بولو<br />
آؤ گے نا۔۔۔۔۔۔۔؟<br />
انتخاب: لالے کی جان</p>
<p>Labels: بو لو آؤ گے نا۔۔۔۔۔۔؟</p>
<p>Writter: syber net at 9:23 AM 2 comments    </p>
<p>Wednesday, July 1, 2009<br />
نہلے پہ دیہلا</p>
<p>زندگی میں جب تم کو کوئی راستہ دکھائی نہ دے</p>
<p>کوئی منزل دکھائی نہ دے<br />
کوئی اپنا دکھائی نہ دے<br />
کوئی پیار کرنے والا دکھائی نہ دے<br />
اور<br />
جب یہ دیس سُونا سُونا لاگے رے<br />
تو میرے پاس چلے آنا میں تمھیں<br />
آئی اسپیشلسٹ<br />
کے پاس لے چلوں گی<br />
بولو<br />
آؤ گے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟<br />
انتخاب: کرن خان۔ مردان</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: Irfan Mahmood</title>
		<link>http://www.urduweb.org/blog/2005/02/19/comment-page-1/#comment-92531</link>
		<dc:creator>Irfan Mahmood</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 30 Jun 2009 08:22:34 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urduweb.org/blog/?p=19#comment-92531</guid>
		<description>Very good achievement. I am interested and want to use it later.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>Very good achievement. I am interested and want to use it later.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: تتلیوں کی خواہش تو</title>
		<link>http://www.urduweb.org/blog/2005/02/19/comment-page-1/#comment-92517</link>
		<dc:creator>تتلیوں کی خواہش تو</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 24 May 2009 13:59:45 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urduweb.org/blog/?p=19#comment-92517</guid>
		<description>shakila &lt;a href=&quot;http://www.urduweb.org/blog/&quot; rel=&quot;nofollow&quot;&gt;اردوویب بلاگ&lt;/a&gt; ki tamplet k barry mein app ki kya ray ha actually mein sumjh naee paya k app kehna kya chati ho

thanks</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>shakila <a href="http://www.urduweb.org/blog/" rel="nofollow">اردوویب بلاگ</a> ki tamplet k barry mein app ki kya ray ha actually mein sumjh naee paya k app kehna kya chati ho</p>
<p>thanks</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: تتلیوں کی خواہش تو</title>
		<link>http://www.urduweb.org/blog/2005/02/19/comment-page-1/#comment-92516</link>
		<dc:creator>تتلیوں کی خواہش تو</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 24 May 2009 13:53:05 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://www.urduweb.org/blog/?p=19#comment-92516</guid>
		<description>تتلیوں کی خواہش تو

تتلیوں سے نازک ہے

اس طرح کی خواہش کا

رنگ روپ ڈھلنے میں

دیر اتنی لگتی ہے ۔۔۔۔

تتلیوں کے دل آویز

نرم نرم پنکھوں سے

دلکشی اترنے میں

دیر ِجتنی لگتی ہے

http://www.poetak.blogspot.com</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>تتلیوں کی خواہش تو</p>
<p>تتلیوں سے نازک ہے</p>
<p>اس طرح کی خواہش کا</p>
<p>رنگ روپ ڈھلنے میں</p>
<p>دیر اتنی لگتی ہے ۔۔۔۔</p>
<p>تتلیوں کے دل آویز</p>
<p>نرم نرم پنکھوں سے</p>
<p>دلکشی اترنے میں</p>
<p>دیر ِجتنی لگتی ہے</p>
<p><a href="http://www.poetak.blogspot.com" rel="nofollow">http://www.poetak.blogspot.com</a></p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
