بارے کچھ قواعد اردو
درج ذیل بحث “اردو ویب سائٹس” یا “اردو ویب سائٹ” میں سے کسی ایک کے اردو قواعد کے مطابق ہونے سے متعلق ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ اوپر دیے گئے مرکبات کا ویب سائٹس کے مجموعہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ بحث کے آغاز سے آگاہی کیلئے اس صفحہ پر دیئے گئے تبصرہ جات سے رجوع کریں۔
اردو میں جمع کا مفہوم دینے کیلئے فقط اسم میں ہی تبدیلی کافی نہیں بلکہ اس سے پہلے آنے والے حروف جار (کا، کے، کی وغیرہ) بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ مثلا آپ کی مثال میں “آم کا باغ”واحد ہوگا اور جمع کیلئے “آم کے باغات” (لیکن قواعد کے قریب ترین “آموں کے باغات” ہے۔) استعمال ہوگا۔ اگر کسی وجہ سے باغات نہ بھی استعمال کیا جائے (جس کی وجہ سوائے عوام الناس کے زبان زد عام ہونے کے، میرے لئے ناقابل فہم ہے) تو “آم کے باغ” میں “کے” کی موجودگی جمع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ہمارے معاملہ میں “کے” نا پید ہے۔ براہ مہربانی اس بات کا نوٹس لیا جائے۔ دوسرا اہم معاملہ ہماری اس خآص مثال میں “اردو ویب سائٹس” کا بیک وقت مرکب اضافی اور توصیفی ہونا ہے۔ “اردو” یہاں بحثیت صفت کے بھی استعمال ہورہی ہے اور مضاف الیہ کے بھی۔ سائٹس موصوف بھی ہے اور
مضاف بھی۔ اردو کے قواعد کی رو سے صفت اور موصوف جنس، تعدار (واحد یا جمع) اور حالت (مرفوع، منصوب وغیرہ) میں ایک دوسرے سے مطابقت رکھیں گے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اردو میں صفات اکٹر واحد بمنزلہ جمع بھی پائی جاتی ہیں مٹلا عمر رفتہ اور ایام رفتہ میں رفتہ۔ اگرچہ عمر اور ایام تعداد میں مختلف ہیں۔ میری گزارش ہے کہ اگر سائٹس ناگوار گزرتا ہے تو اس کا اردو نعم البدل استعمال کیا جائے ، یا سائٹ کو اردو میں بطور “جمع” بھی داخل کیا جائے، یا قواعد تبدیل کئے جائیں، اور یا اسے استعمال کرلیا جائے۔
یہاں ایک اور بات کرنے کو بھی میرا جی چاہ رہا ہے۔ وہ یہ کہ اگرچہ انگریزی نے دنیا کی تمام زبانوں کو متاثر کیا ہے لیکن ہمارے ہاں لوگ بھی متاثر ہوگئے ہیں۔ میں نے خود ملاحظہ کیا ہے کہ عربی اور فارسی وغیرہ میں اگرچہ عام استعمال میں بہت سے نئے الفاظ آ چکے ہیں لیکن لکھنے میں بہت خالص زبان استعمال کی جاتی ہے۔ اور قواعد سے بالکل بھی انحراف نہیں کیا جاتا۔ ہمارے ہاں لوگ چاہتے ہیں کہ جو بازار میں استعمال ہورہا ہے، قواعد اردو میں بھی وہی لکھ دیا جائے۔ اگر کوئی قواعد اور اصول کی بات کرے تو اسے نکو بنایا جاتا ہے۔ جو سمجھ سے بالاتر نہیں ہے اگر ہم دیکھیں کہ آئین پاکستان (جو سلسلہ روز و شب امور حکومت کے قواعد کا مجموعہ ہی تو ہے!) کے بارے میں ہمارے حکمران کیا نظریہ رکھتے ہیں۔ اللہ مولوی عبدالحق کو غریق رحمت کریں۔ مجھے اندازہ ہے انہیں کیا کچھ نہیں کرنا پڑا ہوگا۔
February 8th, 2005 at 8:39 am
براہ مہربانی یہ ذہن میں رہے کہ آخری پیرا میں میرا اشارہ کسی خاص فرد کی طرف نہیں ہے بلکہ جو مجھے عام زندگی میں اردو سے متعلق بات کرنے پر برداشت کرنا پڑتا ہے، اس کا منطقی نتیجہ ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان میں ایک خاص قسم کے تعلیمی اداروں سے ایسی نسل فارغ ہو رہی ہے جو اپنی قومی زبان میں چند سطور بھی نہیں لکھ سکتی، صحیح قواعد و ضوابط اور زبان سے محبت وغیرہ کا تو کیا کہیے۔
February 8th, 2005 at 5:35 pm
آصف بھائی میں معذرت خواہ ہوں کہ میں نے یہ غلطی کی اور شکر گزار بھی کہ آپ نے تصحیح کردی۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ ہم اس موقع پر جب کہ اردو کو ویب پر مقبول بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں قواعد پر بھی بحث کرتے رہیں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس اہم کام کے دوران اغلاط کو فروغ دے بیٹھیں اور آئندہ دیگر لوگ بھی انہیں استعمال کرنے لگیں۔
February 9th, 2005 at 6:30 am
ارے دانیال بھائی معذرت وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھیں۔
اور یہ کہ میں نے آپکا ورڈپریس 1.5 دیکھا ہے۔ زبردست ہے۔ میں نے بتانا یہ تھا کہ کل رات میں نے بھی اسے ڈاؤن لوڈ کیا ہے اور اردو کیلئے ایک چھوٹا سا پلگ ان بھی لکھا ہے جو پوسٹ، پوسٹ کے ٹائٹل، اور تبصرہ جات کو اردو کے سٹائل میں کردیتا ہے۔ جلد انشاءاللہ اردو وکی پر پوسٹ کردوں گا۔
February 9th, 2005 at 8:06 pm
آصف بھائی میں ایک ایسا ہی پلگ ان لکھنے کا سوچ رہا تھا مگر اب نہیں لکھوں گا۔ ویسے ورڈپریس کے لوکلائزیشین پروجیکٹ میں شرکت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ذرا یہ صفحہ دیکھیئے:
August 3rd, 2005 at 8:44 pm
I want to know how can I create my own urdu blog? reply on email will be more helpful. Thanks
August 4th, 2005 at 1:10 am
MqPasta: Please take a look at our Urdu Wiki. It has the information you need.
March 19th, 2006 at 9:37 am
dear brother
i got this website bofor some daies it’s very nice for thoes who want to learan urdu grammar so i want to learn the urdu grammar please can you help me in it?